مہاز اختر

( پہلا حصّہ)

آج سے تقریباً پچاس سال قبل امریکا سے تعلق رکھنے والے ماہر نفسیات پروفیسر والٹرمشئل نے انسانی نفسیات پر delayed gratification کا دلچسپ تجربہ کیا۔ یہ تجربہ دنیائے علم میں marshmallow experiment کے نام سے مشہور ہوا۔ یہ علم نفسیات اور سماجی سائنس کا مشہور ترین تجربہ ہے ۔ میں اس تجربہ کو ” صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے” کہ مصداق صبر کے امتحان کا تجربہ کہتی ہوں۔ اس امتحان میں اشتہا کے خلاف مزاحمت،مضبوط قوت ارادی یا ضبط نفس،صبر اور یقین کا امتحان لیا گیا۔ اس تجربہ میں پانچ سے چھ سال تک کے بچوں کو کھانے کے لیے ایک مارش میلو دیا گیا مگر ساتھ میں یہ بھی کہا گیا کہ آپ چاہیں تو مارش میلو ابھی کھالیں لیکن اگر آپ ہماری واپسی تک تھوڑا سا انتظار کرلیں اور اسے نا کھائیں تو پھر آپکو تحفہ کے طور پر ایک مارش میلو مزید ملے گا۔ یہ کہہ کر بچوں کو ایک مارش میلو کے ساتھ چند منٹوں کے لیے اکیلا چھوڑ دیا گیا اور اس دوران بچوں کی حرکات و سکنات کا انتہائی باریک بینی سے مشاہدہ کیا گیا۔ کچھ بچوں نے صبر سے کام لیا اور اپنے اندر اٹھنے والی مارش میلو کی اشتہا کے خلاف کامیابی سے مزاحمت کی اور وقتی فائدہ کے بجائے مستقبل میں حاصل ہونے والی بڑی کامیابی پر توجہ مرکوز رکھی۔ دوسری طرف کچھ بچے اپنی اشتہا کے خلاف مزاحمت میں ناکام رہے اور وقتی فائدہ کو ترجیح دی۔

اس تجربے سے کئی نتائج اخذ کیئے گئے لیکن سب سے اہم نتیجہ یہ نکلا کہ صبر کرنے والوں بچوں کی سماجی تربیت بےصبرے بچوں سے بہترہوئی تھی۔ اسی طرح صبر والے بچے کھیل کود، پڑھائی اور اخلاقیات میں دوسرے بچوں سے بہتر پائے گئے۔

مغرب میں شکر سے بنائی گئی مصنوعات کے زیادہ استعمال پر ایک تحقیق کی گئی اور ان سوالوں کے جوابات تلاش کیئے گئے کہ کیوں دوسری عالمی جنگ کے بعد سے موجودہ صدی تک شکر سے بنی ہوئی اشیاء کے استعمال میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے حالانکہ ہم یہ جانتے ہیں کہ اضافی شکر کا استعمال صحت کے لیے انتہائی مضر ہے۔ سوال یہ بھی تھا کہ قرون وسطی اور زمانہ قدیم میں کیوں شکر کا استعمال کم کیا جاتا تھا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ پرانے وقتوں کے مقابلے میں آج گنّے کی کاشت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے کیونکہ شکر کی طلب میں پرانے وقتوں کے مقابلے میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے۔

میٹھی چیزوں کے لیے تیزی سے بڑھتی ہوئی اشتہا کے پیچھے مارکیٹ میں موجود رنگ برنگی اور مزیدار اشیاء کی موجودگی اور انکا ہماری پہنچ میں ہونا ہے پھر شکر سے بنی ہوئی مصنوعات لذّت کے ساتھ ساتھ فوری توانائی اور تسکین کا باعث بھی بنتی ہیں اسی لیے شکر سے بنی ہوئی مصنوعات کے خلاف مزاحمت مشکل کام ہے خاص طور پر انکے لیے کہ جنہیں اسکی عادت ہو یا وہ افراد جن میں قدرتی طور پر میٹھے ذائقے کی طلب دوسروں کے مقابلے میں زیادہ ہو۔ ایسے ماحول میں جہاں مختلف اشتہاری مہم اور گلی کے ہر نکڑ پر دکانوں میں سجی میٹھی اشیاء آپ کو ترغیب دے کر آپ کی اشتہا میں اضافہ کریں تو یہ بہت مشکل ہے کہ خود کو شکر کے استعمال سے روکا جائے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ کچھ لوگ شکر کے استعمال کے نقصانات سے واقفیت کے باوجود اسکے خلاف مزاحمت نہیں کرپاتے اور اسکا بے دریغ استعمال کرتے ہیں کیونکہ انہیں اسکے استعمال سے تسکین حاصل ہوتی ہے۔ اسکے برعکس دوسری طرف ایسے بھی افراد موجود ہیں جو شکر کی لذت کے بجائے اسکی ضرر رسانیوں پر نظر رکھتے ہیں اور اپنی مضبوط قوت ارادی کے ذریعے اسکا غیر ضروری استعمال ترک کردیتے ہیں۔

گزشتہ دنوں کراچی میں ایک بار پھر ایک معصوم بچی کائنات کو کئی دنوں تک جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کہ بعد گلا گھونٹ کر قتل کردیا گیا۔ پوسٹمارٹم کی رپورٹ کے مطابق بچی کے جسم کو کئی جگہ سگریٹ سے داغا گیا تھا۔ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں بار بار ایک بات سامنے آرہی ہے اور وہ ہے ان پر ہونے والا بدترین تشدد ایسے کیسسز اس بات کی نشاندہی کررہے ہیں کہ ان تمام واقعات کے پیچھے صرف جنسی بھوک کا محرک کارفرما نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے شدید جنسی تشدد کا نفسیاتی رجحان بھی موجود ہے اور ایسے واقعات سے یہ نکتہ بھی سامنے آتا ہے کہ ایسے شخص کے نزدیک وہ بچہ یا بچی اس لمحے کسی انسان کے بجائے ایک Disposable Sex object میں تبدیل ہوجاتا ہے جسے وہ ہر طرح سے توڑ مڑور کر کچل کر لذت حاصل کرنے کے بعد ضائع کردیتا ہے۔ یہ ایک غیر معمولی جنسی رویہ ہے جو ہمارے سماج میں پرورش پارہا ہے۔ ایسے شخص کا آسان ترین شکار عموماً چھوٹے بچے ہوتے ہیں کیونکہ انکی طاقت اور مزاحمت کسی بھی بالغ مرد یا عورت کے مقابلے میں انتہائی کم ہوتی ہے ۔جب کبھی ہمارے آس پاس ایسا واقعہ رونما ہوتا ہے تو چاروں طرف سے ایسے واقعات کے تدارک کے طور پر حفاظتی تدابیر اور بچوں کو Sex education دینے کی ضرورت پر زور دیا جانے لگتا ہے ۔ حالانکہ جنسی تعلیم و تربیت کی ضرورت ہمارے ملک میں بالغان کو ہے ۔ بچوں کو صرف یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ وہ کس طرح کسی ایسے خطرے کو محسوس کرنے بعد اپنی حفاظت کرسکتے ہیں یا کسی سے مدد طلب کرسکتے ہیں۔ آپ چاہیں بچوں کو کتنی معیاری سیکس ایجوکیشن دلا دیں مگر اپنے بچوں کو ان شکاریوں سے نہیں بچاسکتے کیونکہ بچے تو بچے ہی ہیں ایک مضبوط اور شاطر کھلاڑی سے اپنا دفاع نہیں کرپائیں گے۔

تو پھر اپنے معاشرے کو محفوظ بنانے کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

عام طور پر کسی بھی واقعہ کے پیچھے ایک عامل اور ایک معمول ہوتا ہے اور واقعہ کے وقوع پذیر ہونے کے پیچھے کئی سماجی اور نفسیاتی عوامل ہوتے ہیں۔ معاملہ یہ ہے کہ ایسے کسی بھی واقعے بعد ہماری تمام تر توجہ معمول پر ہوتی ہے اور عامل اور عوامل پر غور کرنا ہم ضروری نہیں سمجھتے ۔ حالانکہ ہمیں نا صرف اپنے بچوں کو شکار بننے سے بچانا ہے بلکہ انہیں شکاری بننے سے بھی روکنا ہے۔

آج ہم انفارمیشن ٹیکنالوجی ،انسٹنٹ کافی اور ٹچ اسکرین موبائل فون کے دور میں جی رہے ہیں جہاں ہمیں ہر شئے بلا تاخیر چاہیے ہماری معلومات کا دائرہ ماضی کے مقابلے میں انتہائی وسیع ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ماضی کے مقابلے میں آج جنسیات صرف ایک ضرورت یا بقائے نسل کا موضوع نہیں رہا بلکہ اب جنسیات کا موضوع ایڈونچر میں تبدیل ہو چکا ہے۔ سماجی گھٹن، طبقاتی فاصلوں اور معاشی عدم مساوات نے معاشرے کے اندر جنسی گھٹن میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ برصغیر پاک و ہند میں جنسیات کا موضوع کبھی بھی Taboo نہیں رہا جیسا کہ آج بنا دیا گیا ہے۔

اس سے اچھی کیا بات ہوسکتی ہے کی اس خطے میں موجود دو بڑے مذاہب نے اس موضوع پر کھل کر بات کی ہے اور جنسی تربیت اور تزکیہ نفس پر زور دیا ہے لیکن اسکے باوجود بھی آج پورے خطے میں غیر معمولی اور تشدد آمیز جنسی رویے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ آج ہمارے معاشرے میں جنسی ترغیب یا اشتعال کا سامان تو موجود ہے مگر جنسی تربیت کے ادارے موجود نہیں ہیں۔ ماہرین سماجیات ہمیشہ سے انسان کی انفرادی اور اجتماعی تربیت کے لیے مذاہب و ادیان کی حکمت عملی کی قدر کرتے آئے ہیں کچھ ایسا ہی مشاہدہ پروفیسر والٹر مشئل نے delayed gratification کے تجربے میں بھی کیا تھا جہاں انہوں نے مشاہدہ کیا تھا کہ جن بچوں کی سماجی تربیت بہتر ماحول میں ہوئی ہے ان میں اپنی خواہشات سے مزاحمت کرنے اور نظم وضبط کی پیروی کرنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے اور وہ ہمیشہ وقتی فوائد کے بجائے دورس ثمرات و مضمرات پر نظر رکھتے ہیں۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ آج ہم نے پاکستان میں جنسی تعلیم تربیت کی ذمہ داری نیم حکیموں ، نیم ملاؤں اور پورن فلم انڈسٹری کو دے رکھی ہے۔ آج لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ جنسی دریافتوں اور بیماری میں شمار غیر معمولی جنسی رویے میں کیا فرق ہے اور اگر وہ اپنے اندر ایسا کوئی بھی غیر معمولی رجحان پرورش پاتا ہوا محسوس کررہے ہیں تو انہیں علاج یا رہنمائی کی ضرورت ہے۔

آج ہمارے لیے ان عوامل کو تلاش کرنا نہایت ضروری ہے کہ جن کی بناء پر ہمارے بچے کبھی شکار ی اور کبھی شکاری بن جاتے ہیں۔