عفاف اظہر

چھٹی کا دن تھا ناشتے میں ہاتھ بٹانے سے فارغ ہوئی تھی کہ دادی نے سبھی کمروں کی بے ترتیبی دورکرنے کی ذمہ داری بھی ندرت کے نازک کندھوں پر ڈال دی۔ جسے نبھانے کی کوشش میں لگی باری باری سبھی کے کمروں میں جاتی، ادھر ادھر بکھری چیزوں کو سمیٹتی ہوئی چچاؤں کے کمرے میں گئی۔ انتہا کی بے ترتیبی کے سبب اس سے چیزوں کی ترتیب کو سمجھنا بھی خاصا مشکل ہو رہا تھا۔ الماریوں سے کپڑے باہر تو گندے انڈر ویرز کا بدبو دار ڈھیر بیڈ کے نیچے چھپایا گیا تھا۔ میز کی کھلی درازیں تو الماریوں کے کھلے منہ۔کدھر سے سرا پکڑے اسی سوچ میں دادی سے مدد مانگنے بھر کو لپکی کہ میز پر پڑے کاغذات کا ڈھیر اس کا ہاتھ لگتے ہی زمین پر آ رہا۔ جلدی اٹھایا واپس رکھا کہ ایک خاکی لفافے میں سے تصویروں کے نیگیٹوز اسکے ہاتھوں سے پھسلتے ہوئے زمین پر بکھر گئے۔ کس کی تصویریں ہیں ایک تجسس سا تھا نیگیٹوز اٹھائے اور وہیں بیٹھ کر شوق میں دیکھ کر پہچاننے کی کوشش کرنے لگی، مگر یہ کیا اس کا رنگ فق ہوگیا تھا۔ سبھی نیگٹوز میں جو چچا فاروق کا حلیہ جانا پہچانا سا تھا باقی انہی کے ہم عمر نوجوان لڑکوں کا گروہ تھا۔ جن کے جسموں پر ایک بھی کپڑا نہ تھا۔ ہر تصویر اور نیگٹو میں ننگا پن تھا، جہاں ہر نوجوان لڑکے نے دوسرے کے مردانہ عضو کو ہاتھوں میں تھام رکھا تھا، جن میں جگہ کا تناظر کسی مسجد کا سا محسوس ہو رہا تھا اور نجانے کیا تھا آنکھوں کے آگے اندھیرا سا چھانے لگا جسم سرد لہروں کی تاب نہ سکا اور اس سے مزید دیکھا نہ گیا، تصویریں اور سبھی نیگیٹوز وہیں چھوڑ کر دوڑتی ہوئی واپس اپنے کمرے میں آ چھپی۔

 اور پھر یونہی دن گزرتے جا رہے تھے کہ ایک دن موسم کی تبدیلی سے ندرت کو طبیعت کچھ سست سی محسوس ہوئی۔ ابھی واپس آ کر اسکول کا یونیفارم بھی نہ اتارا تھا کہ آنکھیں نیند سے بوجھل ہونے لگیں۔ ایسے ہی ذرا سستانے کو سر تکیے پر رکھا تھا کہ نجانے کب آنکھ لگ گئی اور جب ہڑبڑا کر اٹھی تو دادا کے ہاتھ میں پکڑی نیم کی چھڑی اس کے نازک بدن پر اپنے نشان چھوڑ چکی تھی۔ عصر کی نماز آج اس سے بھی قضا ہو گئی تھی۔ درد سے نڈھال ہونے کے باوجود مغرب کی نماز ادا کی اور پھر کسی بھیانک مجرم کی طرح سبھی کی خوں خوار نظروں سے بچتی ادھر ادھر منہ چھپاتی، اپنے اماں اباکو یاد کر کے رات کے کھانے کی جگہ بہتے ہوئے آنسو پینے میں لگ گئی۔ بھوک سے بلبلاتے معدے سے کہیں زیادہ چھڑی کے درد سے جسم نڈھال ہو رہا تھا۔ خود کو گھسیٹتی ہوئی گھر کے پرانے سامان سے بھرے ایک ویران سے کمرے کے ننگے فرش پر جا لیٹی اور یونہی روتے روتے پھر سے اس کی آنکھ لگ گئی۔ مگر اب کہ اس کی آنکھ قیامت کے بجتے بگل کی مانند دادا کے ہاتھ میں پکڑی نیم کی چھڑی سے نہیں بلکہ جسم میں اٹھتی ایک سرد سی لہر سے کھلی تھی۔ ایک بار پھر وہی اجنبی سا احساس اس پر غالب تھا۔ چاروں طرف چھائے ہلکے ہلکے اندھیرے کے باوجود فاروق چچا کو اپنے اتنے قریب دیکھ کر وہ بہت گھبرا گئی تھی مگر کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھی حیرانگی سے چچا کو دیکھتے ہوئے فرش سے اٹھنے کی کوشش میں جسم سے نکلتی درد سے کراہ اٹھی۔ فاروق چچا نے فوراﹰ اس کا ہاتھ پکڑ کر واپس فرش پر لٹا دیا اور عجیب سی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے گہری سانسیں لیتے اپنے ہاتھوں سے ندرت کی کمر سے قمیض اوپر اٹھاتے اس کے جسم پر ایسے ہاتھ پھیرنے لگے کہ ندرت کے لیے پھوپھا اور چچا کے درمیان فرق محسوس کرنا نا ممکن سا ہو گیا۔ 

ندرت ذرا اپنے دادا کو پانی کا گلاس دینا ندرت، کہاں جا مری ہو،  ندرت، دادی کی چیختی ہوئی آواز کانوں کے پردے پھاڑ گئی مگر اس لمحے وہ ترش آواز بھی رحمت کے کسی فرشتے سے کم نہ تھی۔ فاروق چچا سنبھلتے ادھر ادھر دیکھتے دروازے سے باہر کو لپکے تو ندرت بھی دادا کے کمرے کی طرف بھاگ کھڑی ہوئی۔ آخر وہ رات ندرت کے لیے اس قدر سیاہ کیوں تھی؟ اتنی تاریک اور اتنی اندھیری نجانے کیسے ہو گئی تھی وہ رات  کہ اس کی چاروں طرف پھیلی اس سیاہی ہی سیاہی کے خوف نے ندرت کو لمحہ بھر بھی آنکھ موندنے نہ دی تھی۔ اگلا دن چڑھا اسکول کے لیے نکلی تو سیدھی ہم سائے میں رہتی ساتھ مل کر اسکول جاتی سہیلی لبنیٰ کے گھر جا پہنچی۔ لبنیٰ کے والد نے کہا کہ لبنیٰ اسکول کے لیے تیار ہو رہی ہےمگر اس دوران انہوں نے اسے جن نظروں سے دیکھا، وہ نظریں اُس کے لیے اب انجانی تو نہیں تھیں لیکن پھر بھی وہ اُن نظروں کی تاب نہ لا سکی۔ لبنیٰ کے تیار ہونے کے بعد وہ اُس کے ساتھ اسکول کے لیے نکل پڑی۔ راستے میں اُس نے لبنیٰ کو اپنے پھوپھا اور چچا والے واقعات کی روداد سُنائی اس دوران وہ اسکول کے مرکزی دروازے تک پہنچ چکی تھی،  جس پر لبنیٰ نے اسکول کے وقفے میں مزید بات کرنے کا کہا۔ وہ اپنی کلاس میں بے دلی کے ساتھ شامل رہی اور اُس کا ذہن مسلسل الجھا ہوا تھا۔ وقفے میں وہ جب لبنیٰ سے ملی تو اُس نے پھر سے اُن واقعات کا ذکر کیا جس پر لبنیٰ نے قدرے رازدارانہ انداز میں اُسے اُس کی عُمر سے بڑی باتیں بتانا شروع کیں۔ اُنہی باتوں کے دوران لبنیٰ کے ایک انکشاف نے اُس کے دماغ کو حیرت اور پریشانی میں ڈال دیا کہ اُ س کے فاروق چچا کا تعلق لبنیٰ کے ساتھ ایسی ہی حرکتوں پر استوار ہے۔ اور ستم بالائے ستم یہ بھی کہ لبنیٰ بھی اس تعلق کے لطف لیتی ہے اور اس کے مطابق ندرت کو بھی چچا سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ 

دوسری طرف فاروق چچا تو جیسے اب اور بھی شیر ہو گئے تھے، کبھی نماز پڑھتی سجدے میں جاتی ندرت کے پاؤں کو آ کر دبانے لگتے، تو کبھی نہا کر آتی ندرت کے گیلے بالوں میں اپنا منہ ڈال کر اسے اپنے ساتھ بھینچتے ہوئے کھینچ کھینچ کر سانسیں لیتے، ندرت کو ہوم ورک کے بہانے بلاتے اور پھر اپنے کمرے میں اپنی تالا لگی الماری سے عورتوں کی ننگی تصویروں والے رسالوں پر اپنا ہاتھ پھیرتے جاتے تو دوسرے ہاتھ میں ندرت کا ہاتھ زبردستی پکڑ کر اپنی رانوں پر مسلتے جاتے۔ ندرت عجیب دوراہے پر تھی، ہر وقت الجھے ذھن کے ساتھ اسکول جانا، گھر واپسی کے خیال سے دم نکلا جانا، دن بھر ٹیچرکی کوئی بات بھی سمجھ نہ سکنا، کسی سے بات نہ کرنا، کسی کی بات سمجھ نہ آنا، خود میں الجھے رہنا، کسی چیز میں دل نہ لگنا، کچھ بھی اچھا نہ لگنا، بس اسی طرح اب ندرت کے دن گزر رہے تھے۔ پھر وہی ہوا جو متوقعہ تھا، یعنی اسکول کے امتحان میں بری طرح فیل اور ہر طرف سے لعن طعن۔ ابو کو گاؤں سے خصوصی طور پر بلا کر سبھی نے اپنی اپنی شکایات کا پینڈورا بکس کھول دیا تھا۔ بہت ڈھیٹ ہے، یہ پڑھنے والی لڑکی نہیں، تمہیں پہلے بھی سمجھایا تھا، مت پڑھاؤ اسے، اپنی ماں کی طرح اسے بھی کسی رشتے کی عزت کا لحاظ نہیں،  یہ تو بالکل اپنی ماں پر گئی ہے، جیسے اس چنڈال کو جسے ہم  یتیم سمجھ کر ہم دردی میں بیاہ لائے تھے مگر اس کرم جلی کو تو اپنے سگے باپ کی شفقت پر بھی ہوس کا شک رہتا تھا،  اچھا ہی ہوا تھا، جو ندرت کی نانی اس کی ماں کو جنم دے کر مرگئی تھی ورنہ جیسے وہ اپنے ماموں سے نفرت کرتی ہوئی گھٹیا کردار کے الزام دیتی تھی، اگر وہ بیچاری زندہ بھی ہوتی تو جیتے جی مر ہی جاتی، وہ تو ہم ہی ہیں جو اب تک تمھاری وجہ سے خاموش ہیں، ورنہ ایسی عورت ہمارے جیسے عزت دار گھرانے کی بہو کہلائے کتنی شرم کی بات ہے، میری یہ بات پلے باندھ لو کہ یہ ندرت بھی کسی کی سگی نہیں، اس سے پہلے کہ پانی سر سے اونچا ہو میں تو کہتی ہوں، اس کا ابھی سے رشتہ ڈھونڈو اور ایک دو سال میں جوان ہوتے ہی بیاہ دینا، دادی بولے چلے جا رہیں تھیں، دادا کبھی کبھی حقارت سے ہاں میں ہاں ملا دیتے، پھوپھیاں ساتھ گردن ہلا رہی تھیں اور تینوں چچا بھی وہیں موجود تھے اور ابا خاموش تماشائی بنے کھڑے تھے۔ 

ندرت واپس ابا کے ساتھ گاؤں چلی آئی تھی اور پیچھے پیچھے آئے دن دادی کے بھیجے ہوئے عجیب و غریب سے رشتے بھی آنے لگے تھے۔ ابا بہت گم صم رہنے لگے تھے، شیشے کے سپنے ٹوٹے تھے اور ان کی کرچیاں ندرت کو اپنے والد کی آنکھوں میں واضح طور پر گڑی ہوئی دکھائی دیتی تھیں، مگر اماں پر جیسے کوئی اثر نہ تھا وہ تو ہمیشہ سے ہی مٹی کا بت تھیں، بچوں کی ہر ضرورت پوری کرتیں، سبھی کام وقت پر نبٹا دیتیں، ابا کی ہر ضرورت کا خیال رکھتیں مگر ایسے کہ ان کی اپنی کبھی کوئی ضرورت ہی نہ ہو، جیسے ان کی اپنی کبھی کوئی خواہش ہی نہ رہی ہو اور اب بھی وہ ایسے ہی تھیں، جیسے انہیں میرے دو سال بعد یوں ناکام ہو کر واپس گھر آ جانے پر کوئی بھی حیرانی نہ ہوئی ہو۔ ہاں اماں تو ہمیشہ سے ویسے کی ویسے ہی تھیں مگر اب کہ یہاں ندرت ویسی نہیں رہی تھی، ہاں اب کہ ندرت امی کے اس پتھر کی مورتی نما چلتے پھرتے وجود سے اکثر الجھتے رہنے کی بجائے سلجھنے سی لگی تھی، اپنی ممتا کی اس بہ ظاہر نظر آتی پتھر کی مورت میں احساسات کی مردگی کو بخوبی سمجھنے لگی تھی، ہاں اب کہ ندرت بھی اماں کی اس گھمبیر خاموشی کے پیچھے چھپی ایک بےبس و لاچار عورت کو خود اپنے وجود میں بھی محسوس کرنے لگی تھی، جنس نامی اس دیو کے قدموں تلے روندی، مسلی، کچلی عورت کی شخصیت ، پہچان  اور اس کی سوچ کو سسکتا تڑپ تڑپ کر مرتا ہوا تو اب وہ خود اپنے اندر بھی دیکھ رہی تھی، جس کے جنس کے پہاڑ سے اٹھتے اس بے لگام آتش فشانوں نے اس بہ ظاہر عزت دار معاشرے کے در پردہ اخلاق و کردار میں ایسا ہیجان برپا کر رکھا ہے، جس کے سامنے اب اس عورت کا باقی وجود تو کب کا نیست و نابود ہو چکا تھا۔ ہاں لیکن اب اُس نے تہیہ کرلیا تھا کہ وہ اپنی اولاد کے ساتھ ایسا کچھ بھی نہیں ہونے دے گی اور اُس کے پھول سے ذہن کو اپنے تجربے کی بنیاد پر ہرممکن طور پر بچائے گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here