عاطف توقیر

ڈاکٹر روتھ فاؤ بھی یورپی مسیحی نن تھیں اور ٹیریسا بھی۔ ٹیریسا بھارت چلی گئیں اور ڈاکٹر فاؤ کو بھی اصل میں ہندوستان ہی جانا تھا مگر وہ کراچی میں کوڑھ کے مریضوں کی حالت زار اور نواحی علاقوں میں اپنوں کے ہاتھوں الگ تھلگ کر دیے جانے والے مریضوں کے حالات دیکھ کر ہندوستان جانے کا حوصلہ نہ کر پائیں اور کراچی ہی میں ٹھہر گئیں۔

کوڑھ زدہ لوگوں کے زخم دھوتے، ان سے ملتے، انہیں گلے لگاتی یہ خاتون آخر چل بسی۔ دوسری جانب ٹیریسا وہاں ہندوستانی شہر کولکتہ میں اپنی خدمات دیتے دیتے گزر گئیں۔ وفات کے بعد ان میں سے ایک بھارت میں ’دیوی‘ اور ’خدا کا بہ روپ‘ سمجھ کر پُوجی جانے لگیں اور دوسری پاکستان میں ’جنت کے مشورے‘ قبول نہ کرنے پر جہنم سدھار گئیں۔

ہم بھی عجیب لوگ ہیں، جو مسلمان ہیں انہیں کسی بھی اختلاف پر ’کافر‘ سمجھتے ہیں اور جو غیرمسلم ہیں انہیں مسلمان ہونے کے مشورے دیتے نہیں تھکتے۔

میں کل یہی سوچ رہا تھا کہ ہم پاکستانیوں کی نگاہ میں جو جو لوگ جہنم میں ہوں گے، وہ جہنم کا نقشہ کیا بنا دیں گے؟ جہنم کے ایک گوشے میں گیلیلیو، نیوٹن اور آئن اسٹائن تجاذبی قوتوں پر بحث کرتے نظر آئیں گے۔ ڈاکٹرعبدالسلام ہبل کے ساتھ کائناتی پھیلاؤ کی اصل وجوہات اور عظیم دھماکے (بِگ بینگ) کے وقت بنیادی قوتوں کے وجود پر دلائل دیتے ملیں گے۔

سیاہ و سفید کے درمیان فرق پر مبنی قوانین کے خلاف لڑنے والا مارٹن لوتھر کنگ نیلسن منڈیلا کے ساتھ ایک نکڑ پر جلتی سلاخوں والی سرخ بھٹی میں پگھلتے ہوئے، کسی گہری گفت گو میں مگن ہو گا۔ کارل مارکس اور امانویل کانٹ موجود اور لاموجود کی تفصیلی بحث میں سر کھپا رہے ہوں گے۔
فروئڈ اپنی جلتی جھلستی پیشانی پر بل رکھے شعور اور لاشعور کے درمیان موت کے بعد کے فرق کا نقشہ کھینچ رہا ہو گا۔
مائیکل اینجلو اور پکاسو تجریدیت اور تکونیت کے حصار میں بھسم ہوتے دائروں کو چھو چھو کر اشکال بناتے ملیں گے۔
ایدھی صاحب مدر ٹیریسا اور ڈاکٹر فاؤ کے ساتھ مل کر اس فکر میں ہوں گے کہ جہنم میں جھلستے راکھ ہوتے جسموں کو راحت کیسے پہنچائی جا سکتی ہے۔ ادھر جنت میں مولوی صاحب اپنے مسلک سے تعلق رکھنے والے دیگر زاہدوں کے ساتھ بیٹھ کر کسی فروحی معاملے پر بحث و تکرار میں مست ہوں گے۔

ہمارے ایک قریبی عزیز ڈاک یارڈ میں کام کیا کرتے تھے۔ ان دونوں پاکستان فرانسیسی انجینیئروں کی مدد سے آبدوزوں کی تیاری میں مصروف تھا۔ سو جب فرانسیسی انجینئر کچھ عرصے کراچی میں رکے، تو ان کی سچائی، حق گوئی، وقت کی پابندی، بھرپور جذبے کے ساتھ کام اور دیگر افراد کے ساتھ محبت اور شفقت کا رویہ دیکھ کر ہمارے عزیز نے ان میں سے ایک سے کہہ ہی ڈالا کہ بھائی صاحب آپ ہر لحاظ سے اچھے ہیں، مگر کتنے دکھ کی بات ہے کہ آپ جہنم میں جائیں گے اور ہم جھوٹ بولنے، ملاوٹ کرنے، اپنا کام ٹھیک سے نہ کرنے، لوگوں کا خیال نہ رکھنے، حقوق العباد کی دھجیاں اڑانے اور ہر اعتبار سے کم ترین کردار کے باوجود جنت میں۔
تو فرانسیسی انجینیئر کا ہمارے عزیز سے کہنا تھا کہ خدا نے تو آپ کو پہلے ہی ایک جنت جیسا ملک دیا ہے۔ جہاں دھوپ ہے، جہاں خوبصورتی ہے، رنگ ہیں اور فطرت کی جانب سے زمین کے سینے میں بے پناہ وسائل ہیں اور ہم ایک جہنم نما خطے سے تعلق رکھتے ہیں، جہاں سردی ہے، پھلوں میں مٹھاس نہیں، پھولوں میں خوشبو نہیں، جہاں قدرتی وسائل بھی انتہائی محدود ہیں، مگر ہم نے اس جہنم کی سی سرزمین کو جنت میں تبدیل کر دیا ہے اور آپ نے اپنی جنت نظیر دھرتی کو جہنم بنا رکھا ہے۔ اگلی دنیا کی تو خیر کس کو خبر کہ کس کو کیا ملے گا، مگر ہمیں جہنم بھی ملی، تو ہم محنت کر کے اسے جنت بنا دیں گے اور آپ کو جنت بھی ملے گی، تو آپ اسے جہنم ہی بنا کر چھوڑیں گے۔ اس بات پر میرے عزیز کو کوئی اور بات نہ سوجھ پائی۔

مجھےکل یونہی سوچتے ہوئے یہ خیال آ رہا تھا کہ اگر یہ عظیم لوگ واقعی جہنم میں ہوئے، تو جہنم کا ماحول کتنا علمی ہو گا۔ جنت کا ماحول کیسا ہو گا؟ ظاہر ہے یہ مولوی صاحب کو خبر ہو گی۔

اپنی پوری زندگی پاکستانی قوم کے لیے وقف کرنے والی جرمن ڈاکٹر روتھ فاؤ کے انتقال کو ایک برس مکمل ہو چکا ہے۔ کراچی میں لیپروسی یا جذام (کوڑھ) کے مریضوں کے ساتھ اپنے شب و روز گزارنے اور جرمنی کی پرتعیش زندگی چھوڑ کر پاکستان میں کوڑھ کے مریضوں کو زندگی کی نوید سنانی والی یہ عظیم عورت کم از کم تعریف کے اعتبار سے میرے الفاظ کے بس کی نہیں۔

یہ عورت ان سینکڑوں ڈاکٹروں کے لیے بھی ایک مثالیہ تھیں، جو سفید کوٹ پہنتے ہوئے یہ قسم کھاتے ہیں کہ کسی بھی مریض کو زندگی لوٹانے کے لیے وہ اپنی تمام تر کوشش کر دیکھیں گے۔

ہمارے ہاں چوں کے لوگوں کے ایمان سے متعلق رائے اور کسی فرد کی آخرت سے متعلق اپنی اسناد دینا ایک قومی ریت بن چکا ہے، تو سوشل میڈیا پر بھی ڈاکٹر فاؤ کی خدمات کا اعتراف کرنے اور اس عظیم عورت کو خراج عقیدت پیش کرنے یا قوم کی طرف سے ان کے احسانات کا اعتراف کرنے کی بجائے، یہ جملے تک دیکھنے کو ملے کہ کاش کہ یہ عظیم عورت مسلمان ہوتی، تو اس کی آخرت سنور جاتی یا اتنے اچھے کام کرنے کے باوجود یہ عورت جہنم میں جائے گی۔

ان جملوں کو احسان فراموشی اور ہٹ دھرمی یا واہیات اور گھٹیا سوچ کے علاوہ تو کچھ تعبیر نہیں کیا جا سکتا، کیوں کہ اس سے واضح ہے کہ بہ حیثیت قوم ہم نے لوگوں کی تربیت کیا کی ہے اور کس قسم کی فکر کے حامل لوگ ہماری زبوں حالی کی تصویر بن چکے ہیں۔ یعنی وہ کام جو سراسر خدا نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے کہ آخرت میں کس کے ساتھ کیا معاملہ ہو گا اور کیسے ہو گا یا کسی انسانی کے دل میں کیا ہے، یا اس کی نیت کیا ہے اور دوسری جانب جو کام خدا نے سراسر ہمیں تفویض کیا ہے، اس کی حالت بھی ہمارے سامنے ہے۔ معاشرتی رویہ یہ ہے کہ یہاں ہر کوئی خدا بنا بیٹھا ہے اور انسان ہونے کو تیار نہیں۔ بیماری، بھوک، افلاس اور غربت سے مرنے والوں کو ہم بچا سکتے تھے اور رزق کی مساوی تقسیم کی ذمہ داری خدا نے ہمارے ہاتھ میں رکھی تھی، بچوں کو تعلیم دینا اور تمام انسانوں کے ساتھ بہتر اور پرامن تعلق خدا نے ہمیں تفویض کیا تھا، تاہم اس جانب ہم کسی صورت غور کرنے پر مائل نہیں۔ یعنی جو کام خدا نے اپنے ہاتھ میں لیے ہیں، وہ ہم اپنے ہاتھ میں لے رہے ہیں اور جو کام خدا نے ہمارے سپرد کیے ہیں، وہ ہم ’اللہ کرے گا‘ یا ’خدا کی یہی مرضی تھی‘ کے نعرے کے ساتھ خدا پر ڈال دیتے ہیں۔ ڈاکٹر فاؤ نے وہ کام کیا، جو خدا نے انسانوں کے سپرد کیا تھا اور ہم ڈاکٹر صاحبہ کو اسی کام سے جانتے اور پہچانتے ہیں۔ باقی کام ہمارا نہیں۔

بھارت میں ٹریسا نے اپنی زندگی بھارتی قوم کو دی، حالاں کہ ٹریسا کے افکار اور وہاں ان کے کام پر بے شمار سوالات بھی موجود ہیں اور ناقدین ان پر کڑی تنقید بھی کرتے ہیں، مگر بھارتی قوم نے اس کے جواب میں اس عورت کو ایک طرح سے دیوی سمجھ کر ’ماں‘ پکارنا شروع کر دیا۔ کسی نے سوال نہیں پوچھا کہ اس عورت کا مذہب کیا تھا یا یہ عورت ’سورگ‘ میں جائے گی یا نہیں۔ بھارتی قوم نے مدر ٹیریسا کے انتقال پر ماتم کیا اور ان کے احسانات کا اعتراف کیا۔

کوئی شخص جنت میں جائے گا یا نہیں یہ خدائے کائنات کا کام ہے۔ اس میں کسی انسان کا دخل کب آیا اور خصوصاﹰ کم علم اور نچلی سوچ کے حامل افراد کو یہ کس نے بتایا کہ انہیں خدا کے اختیارات میں شرکت کا حق ہے؟ یہ معاملہ خدا کے ہاتھ سے کب ہم نے اپنے ہاتھ میں لے لیا؟

مگر ہمارے ہاں احسان فراموشی کے ساتھ ساتھ انسانوں کے اعمال کی بجائے ان کے اعتقادات کو جانچنا ایک قومی فریضہ سا بنتا نظر آتا ہے۔ سارا سارا دن جھوٹ بولنے والے، غیبت کرنے والے، ملاوٹ کرنے والے، دوسروں کا مال پل میں ہڑپ کر جانے والے، چغلی کرنے والے، منافقت کرنے والے اور دوسروں کی عزت، جان اور مال پر نگاہ رکھنے والے ایسے مواقع پر ایک نہایت واہیات اور منافقت کے بھرپور رنگ میں نظر آتے ہیں اور یہ بہ طور قوم ہمیں آئینے میں اپنا گھناؤنا چہرہ دکھائی دینے کو کافی ہے۔

ڈاکٹر روتھ فاؤ جنت میں جائیں گی یا نہیں، یہ ان کا اور خدا کا معاملہ ہے۔ بہ طور انسان ہم صرف کسی شخص کے کام کا ذکر کر سکتے ہیں اور میں بہ طور پاکستان ڈاکٹر فاؤ کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اپنی زندگی میری قوم کے لیے وقف کی اور کوڑھ کے مریض جنہیں ان کے قریبی رشتے دار تک بھی ہاتھ لگانے سے کتراتے ہیں انہیں دست شفقت سے زندگی دی۔

ڈاکٹر فاؤ آپ عظیم ہیں اور آپ جیسے افراد کی ہماری زمین کو شدید ضرورت ہے۔ میں اپنی قوم کی جانب سے ایسے گھناؤنے جملوں پر شرمندہ ہوں جو آپ کی تکریم کے منافی ہیں مگر ان لوگوں کو بھی دماغی طور پر کوڑھ زدہ سمجھ کر معاف کر دیجیے۔ آپ ہی نے کوڑھ کا علاج شفقت اور محبت سے کرنا سکھایا ہے۔

آپ ہی کے دیس سے ڈاکٹریٹ کرنے والے علامہ اقبال کا شعر آپ کہ نذر

خدا کے بندے تو ہیں ہزاروں بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہو گا

ڈاکٹر فاؤ آپ کو سلام!