ماہ زاد، جرمنی

جو معاشرے سہل پسند ہونا شروع ہو جائیں، وہاں عموماﹰ فرسودہ معاشرتی روایات پھلتی پھولتی ہیں۔ فرسودہ سوچ اور رواج ایک طرف تو انفرادیت کو مکمل طور پر ختم کر دیتے ہیں اور دوسری طرف اطاعت کے نام پر ہر طرح کی سوچ پر پہرے لگا دے جاتے ہیں۔ سست قومیں ایسی بندشوں کو بہ خوشی قبول کرتی ہیں کیونکہ زندگی کا سب سے کٹھن اور جان جوکھوں میں ڈالنے دینے والا عمل ’’سوچنا‘‘ ہے۔

جیسے ہی انسان سوچ و فہم کی ذمہ داری  سے دستبردار ہوتا ہے، اب وہاں ایک طرف تو زندگی آسان ہوتی ہے مگر اس کے ساتھ ہی دنیا میں بے کیفی اورخزاں کے رنگ نمودار ہونا شروع جاتے ہیں۔ اب الجھن میں گرفتار انسان یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ پیدائش سے لے کر  آخرت تک ہر چیز کی منصوبہ بندی تو ہو گئی، مگر  زندگی کے رنگ کیوں ماند پڑ گئے ہیں۔ خوشی مسرت اور سکون کیوں غائب ہے، اب شراب وشباب سے لے کرمحبت کے تمام ذائقوں پر تو سماجی بندشوں نے پابندی لگا دی ہے، مگر اب کیوں بےرنگی ہے؟ بقول شاعر:

واعظ کی زبان پر تو وہ کلمے ہیں کہ گویا 

بخشے ہی نہ جائیں گے گنہگار محبت

سوچ پر پڑے قفل شعورِ حیات ، تفکر اور تخلیق و تحقیق کو گرفت میں لیے ہوئے ہیں تو مسرت کا فقدان ہونا تو ایک امرِ یقینی ہے ایک عاجزانہ سا مشورہ ہے ان تمام حضرات کے لیے،  جو اشخاص زندگی سے بھرپور لطف اندوز ہونے کے خواہاں ہیں، جن میں ایک خوبصورت زندگی کی تمنا اب بھی بیدار ہے، جو خواہش کرتے ہیں کہ ان کے احساسات میں ایک فطری شگفتگی پیدا ہو جائے۔ چہرے پر مسکراہٹ دوڑے تو آنکھوں میں ہیرے اور جواہرات سے بھی زیادہ تیز اور دلکش چمک پیدا ہو جائے۔ احساسات میں  بے ساختگی پیدا ہو پرمسرت لمحات نہ صرف بھرپور ہوں بلکہ دیرپا کیفیتوں کے بھی حامل ہوں، تو ان کے لیے دو بنیادی نکات کا سمجھنا بہت ضروری ہے۔

شرط اول یہ کہ خوشی صرف اپنے اندروں پائی جاتی ہیں لہٰذا چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہونے والے لوگوں کو مسرت پانے کی اتنی سعی نہیں کرنا پڑتی۔ یہ رویہ عموماً چھوٹے بچوں میں پایا جاتا ہے کیونکہ ان کے جذبات میں بے ساختگی اور سادہ پن ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو ان کے چہروں پر ہمیشہ آسودگی اور طمانیت نظر آتی ہے۔

دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ جو حضرات گہرا شعور پانے کو اپنی زندگی کانصب العین بنا لیں، اپنی زندگی کو تخلیقی، تعمیری اور تحقیقی سرگرمیوں میں مصروف کرلیں، معقولات، علم و حکمت اور منطق و فلسفہ کو اپنا اوڑھنا بچھونا جانیں تو وہ حقیقی مسرت سے سر شار ہو سکتے ہیں۔ 

مگر اس رتبہ کو پانے کے لیے بہت ضروری ہے کہ انسان  اپنے آپ کو روایات کے زنداں سے آزاد کرے۔ اپنی زندگی کا اعلیٰ مقصد محض روح کی ترقی جانے اور روح کی نشوونما کے لیے کائنات کے تمام اسرار و رموز کو جاننے کے لیے  پر تجسس اور کوشاں ہو۔ فلا تینوس اپنے جسد خاکی کے مقابلے میں روح کواتنی اہمیت دیتا تھا کہ بقول اس کے شاگرد فرفورس  اس نے ایک مصور کو محض اس بات سے اپنی تصویر بنانے سے روک دیا کہ وہ اس کے وجود کا حقیر ترین حصہ ہے۔

زندگی کے ہر پہلو پر گہرا شعور رکھنا اور کسی بھی خارجی دباؤ سے متاثر ہوئے بغیرزندگی کے معقولات پر تحقیق کرنے سے شخصیت میں توافق اور صلابت پیدا ہوتی ہے، جو کہ کردار میں پختگی پیدا کرتی ہے  نتیجتاً انسان خود بہ خود اچھے اورنیک کام کرنے پر آمادہ ہوجاتا ہے۔ روجرز لفظ نیکی کی وضاحت ان الفاظ میں کرتے ہیں، ’’بہترین قابل حصول مقاصد تک پہنچنے کے لیے مسلسل شعوری طورپرکوشش کرنے کا نام نیکی ہے۔‘‘

 خود اچھے اور نیک فیصلے کرنے کی صلاحیت انسان کو خوشی سے سرشار کر دیتی ہے۔ یہ وہ مسرت ہے کہ جو نہ تو سماجی روایات کی روک ٹوک سے پیدا ہو سکتی ہے اور نہ ہی معاشرے کی قدغن لگانے سے۔ جس معاشرے میں تخلیقی، تحقیقی اور تعمیری اقدامات کو سراہا جائے اور آزادی رائے کا تقدس ملحوظ خاطر رکھا جائے، وہ قومیں کبھی بھی مسرت کی دولت سے محروم نہیں ہو سکتیں اور اخلاقی اور صالح قدریں بھی انہی میں پنپ سکتی ہیں۔

 حاصل مضمون یہ ہے کہ تف ہے ایسی زندگی پر جو محبت اور خوشی سے خالی ہو۔ سچی مسکراہٹ سے خوبصورت کوئی زیور نہیں ہو سکتا ہے۔ یہ جذبہ ایک ایسی سگند ہے، جسکی بھینی بھینی خوشبو روح میں داخل ہو کر حواس کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اور زیست کو حسین تربنا دیتی ہے اور ایسی زندگیاں رکھنے والے افراد ہی ایک  صحت مند معاشرے کی بنیاد بنتے ہیں اور ایسے معاشروں میں ہی ترقی یافتہ قومیں جنم لیتی ہیں۔ 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here