وقاص احمد

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک ملک کا بادشاہ مر گیا۔ بادشاہ کی کوئی اولاد نہیں تھی نا کوئی رشتہ دار اس لئے ملک میں ایک بحرانی صورتحال پیدا ہو گئی۔ ملک کا سپہ سالار جو فطرتاً ایک لالچی اور سازشی بندہ تھا وہ اس سے قبل کئی بار بادشاہ کے خلاف اقتدار پر قبضے کے لیے سازشوں میں ملوث رہا تھا لیکن اتنا عیار تھا کہ پکڑا نہیں جاتا تھا۔ اس نے اس موقع کو غنیمت جانا اور اپنی تخت نشینی کے حق میں لابنگ شروع کر دی۔ لابنگ کچھ اتنی موثر ثابت نا ہو سکی۔ سو سپہ سالار نے ایک نیا پلان بنایا۔ اس نے دربار میں یہ تجویز دی کہ مفاہمت غیر جانبداری اور صلح صفائی سے اس معاملے کو حل کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم یہ فیصلہ کر لیں کہ کل صبح جو بھی شخص شہر کی فصیل میں داخل ہوگا اسے ہم اپنا بادشاہ بنا لیں گے۔

سپہ سالار کا پلان یہ تھا کہ رات رات میں ہی اپنا کوئی خاص بندہ فصیل کے ساتھ کھڑا کر دیا جائے جو صبح فصیل میں داخل ہو، بادشاہ بنے اور پھر اس کے بادشاہت کی آڑ میں خود حکومت چلائی جائے (خواتین و حضرات! اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ پراکسیوں کے ذریعے حکومت کرنے کا آئیڈیا کافی پرانا ہے۔

خیر سپہ سالار نے اپنے جاسوس ونگ کے سربراہ کو حکم دیا کہ فوری طور پر ایسے بندے کو ڈھونڈا جائے جس کو ہم اپنی مرضی سے چلا سکیں۔ سپہ سالار کے اچانک حکم سے جاسوس ونگ کے سربراہ کو بہت پریشانی ہوئی کہ فوری طور پر ایسے بندے کی ڈھونڈ کیسے کی جائے۔ اس نے اپنے بندے دوڑائے اور وہ بندے اپنی اپنی سمجھ کے مطابق کچھ لوگوں کو پکڑ لائے۔ جاسوس ونگ کا سربراہ ان سب کو سپہ سالار کے پاس لے گیا۔ سپہ سالار نے ان سب سے تھوڑی تھوڑی گفتگو کی تو اس کو ایک ذہنی معذور فقیر بہت پسند آیا جو شہر کی فصیل کے باہر کوڑے کے ڈھیر پر بیٹھا رہتا تھا۔ جاسوس ونگ کے سربراہ نے بھی کہا کہ جناب آپ کی پسند زبردست ہے، جو بندہ سوچ نہیں سکتا، فیصلہ نہیں کر سکتا، خود سے بول نہیں سکتا اگر یہ بادشاہ بن جائے تو ہمارے اشاروں پر ناچے گا۔

اگلی صبح فیصلے کی صبح تھی، رات ہی رات میں لاکھوں کی فوج نے شہر کو غیر مرئی طور پر گھیرے میں لیا، آنے جانے کے راستے بلاک کیے اور پورا اہتمام کیا کہ صبح یہی مجہول فقیر ہی شہر میں داخل ہو۔ پلان کے مطابق فقیر شہر میں داخل ہوا، لوگوں نے اگلے بادشاہ کو دیکھ کر خوشی کے شادیانے بجائے، خوب ناچے گائے، فقیر کو کندھوں پر اٹھایا اور شاہی محل میں لے گئے۔ وہاں بادشاہ کے خادمین نے نئے بادشاہ کو عطر ملے پانیوں سے نہلایا، اس کی برسوں کی میل کھرچ کھرچ کر اتاری، شاہی خلعت پہنائی اور بادشاہ کا دربار سج گیا۔

بادشاہ سلامت دربار میں داخل ہوئے، سپہ سالار ایک قدم پیچھے مؤدب طریقے سے چل رہا تھا۔ بادشاہ اتنے وزیروں مشیروں اور محافظوں کو دیکھ کر گھبرا گیا مگر سپہ سالار نے اس کے کان میں سرگوشی کی کہ بادشاہ ایسے ہی ہوتے ہیں اس لیے گھبراؤ مت اور اقتدار کا مزہ لو۔ بادشاہ سلامت تخت پر براجمان ہوئے، وزیر اعظم اور تمام وزراء کورنش بجا لائے۔ شاہی قصیدہ خواں نے نئے بادشاہ کی شان میں قصیدہ پڑھا اور پھر وزیراعظم نے دربار کے باقاعدہ آغاز کی اجازت طلب کی۔ بادشاہ نے اجازت دے دی۔ ہر وزارت کے وزیر نے اپنے معاملات اور مسائل پیش کیے، پچھلے بادشاہ کے مرنے کے بعد بہت سے حل طلب مسائل تھے جو شاہی فرمان کے منتظر تھے، شہریوں کی ایک بڑی تعداد بھی اپنی فریاد لیے شاہی محل کے نیچے جمع تھی۔ تمام مسائل گوش گزار کر دیے گئے تو وزیراعظم نے پہلے شاہی فرمان کی درخواست کی، شاہی کاتب کو بلوایا گیا اور پورا دربار دم بخود بیٹھا تھا کہ بادشاہ کا پہلا فرمان کیا ہوگا۔ بادشاہ نے گھبرا کر ادھر ادھر سپہ سالار کو ڈھونڈا کہ ہدایات لے سکے مگر شاید وہ کہیں اور مصروف تھا۔ بادشاہ کو کچھ اور نا سوجھا تو اس نے شاہی فرمان لکھوایا “حلوہ بنوا کر میرے حضور پیش کیا جائے اور تمام شہریوں کو بھی کھلایا جائے”۔ دربار میں واہ واہ کی آواز گونجنے لگی، ہر وزیر بڑھ چڑھ کر بادشاہ کی فراست، ذہانت اور فہم کے قصیدے پڑھنے لگا۔ شہریوں تک بات پہنچی تو وہ خوب خوش ہوئے ناچے گائے اور اپنے گھروں کی طرف روانہ ہو گئے۔

اب یہ روز کا معمول بن گیا، روز دربار لگتا، روز مسائل پیش ہوتے، روز “حلوہ لاؤ” کا شاہی فرمان جاری ہوتا اور روز داد و تحسین کے ڈونگرے برستے۔ یہ اطلاع اڑتے اڑتے پڑوسی ملک کے بادشاہ تک پہنچ گئی، اس نے سوچا کہ اس ملک پر قبضہ کرنے کا یہ اچھا موقع ہے۔ سو اس نے فوجوں کو تیاری کا حکم دے دیا۔

جاسوس ادارے کے سربراہ نے فوری طور پر بادشاہ کو مطلع کیا اور حکم کا طالب ہوا۔ بادشاہ نے جواب میں حلوہ لانے کا حکم دیا اور اسے چلتا کیا۔

کچھ دن گزرے، پڑوسی ملک کی فوجیں سرحدوں تک پہنچ گئیں، حکم کی درخواست ہوئی، بادشاہ نے حلوہ لانے کا حکم دیا اور دربار برخواست ہو گیا۔ غرض دشمن کے فوجیں شہروں کے شہر فتح کرتی رہیں اور بادشاہ حلوہ لانے کا حکم دیتا رہا یہاں تک کہ دشمن کی فوجیں دارالحکومت کی فصیل تک پہنچ گئیں۔ وزیراعظم گھبرایا ہوا آیا، تمام وزیر ساتھ تھے، فوج لڑنے کو تیار نہیں تھی، شہری گھبرائے ہوئے تھے۔ وزیراعظم نے درخواست کی کہ شاہی حکم صادر کیا جائے۔ بادشاہ نے پھر “حلوہ لاؤ” کا حکم دیا۔ وزیراعظم نے بے چینی سے پہلو بدلتے ہوئے شاہی خانساماں کو حلوہ بنانے کا حکم بھیجا اور بادشاہ سے درخواست کی کہ حلوے کے علاوہ کوئی اور حکم بھی صادر کیا جائے۔

بادشاہ خاموش رہا۔ حلوہ آگیا، بادشاہ نے سیر ہو کر حلوہ کھایا۔ پورا دربار دم بخود اگلے حکم کا منتظر تھا، باہر دشمن کی فوج شہر کے دروازے توڑ رہی تھی، عوام خوف میں چیخ چلا رہے تھے۔ بادشاہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا اپنی خواب گاہ میں گیا، واپس آیا تو اس نے اپنی لاٹھی اور گدڑی اٹھائی ہوئی تھی اور فقیروں والا چوغہ پہنا ہوا تھا۔ اندر آکر اس نے شاہی خلعت سپہ سالار کے سامنے پھینکی جو حیران پریشان ادھر ادھر دیکھ رہا تھا کہ وہ کیا کرے۔

بادشاہ بولا، “مجھے تو یہ لوگ اٹھا کر یہاں لے آئے تھے اور میری واحد خواہش حلوہ کھانے کی تھی جو ان کے توسط پوری ہوئی، یہ حکومت سنبھالنا اور ملک چلانا نا میرے بس کا روگ تھا نا ہی میرا یہ کام تھا۔ میں نے خوب مذیدار شاہی حلوہ کھایا، آپ کو بھی کھلایا، اب دشمن سر پر کھڑا ہے تو میرا کیا جاتا ہے۔ میں تو اس چوغے میں محل میں داخل ہوا تھا اسی چوغے میں باہر نکل جاؤں گا اور اسی کوڑے کے ڈھیر پر بیٹھ جاؤں گا جس پر بیٹھتا تھا۔ تم اپنا ملک سنبھالو۔”
یہ کہتے ہی فقیر محل سے نکلا اور یہ جا وہ جا۔ اس کے بعد تاریخ خاموش ہے کہ اس شہر کا کیا بنا، اس سپہ سالار کا کیا بنا، اس جاسوس ونگ کے سربراہ کا کیا بنا اور ان وزیروں اور شہریوں کا کیا بنا جو اس بادشاہ کے آنے پر خوشی سے بھنگڑے ڈال رہے تھے۔
حاصل تحریر: “بابر عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست”۔ باقی اللہ سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔