وقاص احمد

دسمبر کی ایک خوشگوار رات، میں اپنی فیملی کے ساتھ اپنی سابقہ کمپنی کے ایک سینئر مینجر کے گھر مدعو تھا۔ اس دعوت کو الوداعی ڈنر ٹائپ کچھ سمجھ لیں کیونکہ میں اپنی اس کمپنی کو چھوڑ کر جا رہا تھا۔ میرے میزبان نے اعلیٰ انتظامات کے ساتھ ساتھ شہر کی ایک متمول اور مشہور شخصیت اور ان کی بیگم کو بھی مدعو کر رکھا تھا۔ 80 کے پیٹے کے یہ دونوں میاں بیوی انتہائی نفیس، خوش گفتار اور بھلے لوگ تھے۔ کچھ ہی دیر میں میں ان کے اخلاق اور وہ میرے گرویدہ ہوگئے۔

بخدا اس میں میری اپنی شخصی صلاحیتوں سے زیادہ میرے میزبان کے میری تعریفوں میں قصیدوں کا بہت ہاتھ تھا۔ رسمی سلام دعا ہوئی، گفتگو شروع ہوئی اور حسب معمول پھسلتی پھسلتی سیاست پر نکل گئی۔ میرے میزبان اور وہ میاں بیوی خوشحال، کھاتے پیتے تعلیم یافتہ اور اونچی سوسائٹی میں اٹھنے بیٹھنے والے لوگ تھے اور جیسا کے ہمیں معلوم ہے کہ کچھ عرصہ سے زیادہ تر اونچی سوسائٹی کے لوگوں کو “تبدیلی” کی طلب بہت شدت سے ہو رہی ہے۔ میں نے حتی المقدور بزرگوں اور میزبان کے احترام میں گفتگو میں حصہ لینے سے گریز کیا لیکن کب تک؟ ان حضرات نے نا صرف زبردستی میرے سیاسی خیالات جاننے پر اصرار کیا بلکہ “آزادی اظہار رائے” کے حق میں اتنی شدومد سے پرچار کیا کہ میں واقعی آزادی اظہارِ رائے کا استعمال کر بیٹھا۔

چند سیکنڈ کے لیے تو وہ مہمان معمر خاتون سکتے میں چلی گئیں، جیسے کہ ابھی اس صدمے سے نکلنے کی کوشش کر رہی ہوں کہ جس جوان کو ابھی چند لمحے پہلے اس کے اخلاق، اس کی گفتار، اس کے تعلیم و کیریئر اور اس کی شخصیت کی وجہ سے وہ سند پسندیدگی بخش چکی ہیں کیا وہ “اینٹی تبدیلی” بھی ہو سکتا ہے۔ پھر سنبھلیں تو جیسے برس ہی پڑیں “آپ ہمیں بالکل پسند نہیں آئے، آپ کو تبدیلی پسند نہیں؟” اور ظاہر ہے میں اپنا منہ اور اپنے اظہارِ آزادی رائے کی غلط فہمی لے کر سکون سے بیٹھ گیا۔

آج برسوں بعد بیٹھے بٹھائے یہ واقعہ یاد آیا تو میں نے لاشعوری طور پر اپنی سماجی سوچ کا تجزیہ کرنا شروع کر دیا جس کے چند موٹے موٹے نتائج پیش خدمت ہیں۔ یہ نتائج ہماری اجتماعی ذہنیت کی عکاسی ہیں۔

نمبر ایک، سچ وہ ہے جو میں جانتا، سمجھتا اور بولتا ہوں۔ نمبر دو، آپ جھوٹے، کرپٹ، بکاؤ، ضمیر فروش اور جاہل ہیں۔ نمبر تین، آزادی اظہار رائے کا مطلب یہ ہے کہ آپ پوری آزادی کے ساتھ میرے خیالات کے مطابق اظہارِ رائے کریں۔ نمبر چار، انصاف کی بات وہ ہے جو میرے مقصد اور میرے نظریے کو تقویت دے۔ نمبر پانچ، ایک ہی جیسا فعل آپ کے نامہ اعمال کی “تیرگی” اور میری پیشانی کا “چمکتا سورج” ہے۔ نمبر چھ، محاورے، قول اور حکایات آپ کو سچائی سے روشناس کروانے کے لیے ایجاد کیے گئے ہیں، جبکہ میں تو پہلے ہی مقام ولایت پر فائز ہوں۔ نمبر سات، پاکستان میں بلیک اور وائٹ ہی ہوتا ہے، گرے رنگ نہیں ہوتا۔ ہم فرشتوں اور ابلیسوں میں بٹی قوم ہیں، ہمارے ہاں انسان نہیں ہوتے۔

نمبر آٹھ، میرے ساتھ کھڑے ہونا آپ کی حق پسندی کی ضمانت اور میرے مخالف کھڑا ہونا آپ کی جہالت اور بدی کی قوتوں کا آلہ کار ہونے کا ثبوت ہے۔ نمبر نو، میں ٹھیک ہوں، آپ کب ٹھیک ہوں گے؟ نمبر دس، اگر آپ میرے “مہاتما” کے مخالف ہیں تو آپ غدار وطن، کرپٹ، دشمن دین، جاہل، گنوار اور ناسمجھ انسان ہیں۔ نمبر گیار، ہر بات، ہر واقعے، ہر فعل کی تاویل دی جاسکتی ہے، یہاں تک کہ ابلیس کے پاس بھی انسان کو سجدہ نا کرنے کا جواز موجود تھا۔ نمبر بارہ، آمریت، جمہوریت سے بہت بہتر چیز ہے کیونکہ اس میں خیالات کے تنوع، جدت پسندی، آزادی اظہار، اجتماعی دانش، علمی بحث و برداشت اور بھانت بھانت کے افکار جیسی خرافات کی گنجائش نہیں ہوتی۔

نمبر تیرہ، حیرت ہے آپ کو تبدیلی پسند نہیں؟ پھر یقیناً آپ ایک جاہل پٹواری یا غلام جیالے ہیں۔ یقیناً آپ اپنا ضمیر ڈیزل کے پرمٹس یا سینیٹ کی سیٹ پر بیچتے ہیں، یقیناً آپ کے تعلقات اور مفادات دشمنوں کے ساتھ ہیں۔ یقیناً آپ ایک سکیورٹی رسک ہیں۔ کیونکہ ’’آپ کو تبدیلی پسند نہیں۔‘‘

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here