صہیب حسن

“جو چیز رمضان میں بنتی ہے سب مزے لے کر کھاتے ہیں پاکستان بھی رمضان میں بنا تھا”۔اس ملک کا سفر شروع ہوتا ہے سن 1947 سے، پہلے گورنر جنرل قائدِ اعظم بنے اور ملک کا وزیرِ اعظم لیاقت علی خان کو منتخب کیا گیا۔ دونوں نے اپنے دورِ ِحکومت میں ملک کے لئے بہت کام کیا، اسٹیٹ بینک اوف پاکستان کا قیام عمل میں آیا، پاکستان اقوامِ متحدہ کا ممبر بن گیا، پاکستانی کرنسی عام ہونے لگی، مہاجرین کے مسائل بھی حل ہونے لگے، گویا وہ تمام مسائل جو اس وقت موجود تھے ان دونوں رہنماؤں کی بدولت کافی حد تک کم ہوئے۔

پھر ستمبر کا وہ مہینہ آیا جس دن بابائے قوم “قدرتی موت” سے اس دنیاِ فانی سے چل بسے، خواجہ ناظم الدین گورنر جنرل کی گدّی پہ براج مان ہوگئے، ابھی قوم اس سوگ سے بہار ہی نہ آئی تھی کے لیاقت علی خان کو راولپنڈی میں جلسہِ عام سے خطاب کے دوران شہید کر دیا گیا (قاتلوں کی کوئی خیر خبر نہ ہوئی)، خواجہ ناظم الدین وزیرِ اعظم اور مسٹر غلام محمّد گورنر کے عہدے پہ فائز ہوگئے۔ حالات اسی طرح چلتے رہے اسی دوران قانونی اسمبلی بھی کبھی بنتی اور کبھی ٹوٹ جاتی۔

اس ملک کا یہ المیہ رہا ہے کے ہر دور میں ہر حکمران جماعت آتی، وہ ایک موقع مانگتی اور پھر بحرانوں میں ملک کو دھکیل کے واپس چلی جاتی، پھر دوسری جماعت اس بات کا دعوہ کرتی کے وہ اس ملک کو بحران سے نکال سکتی ہے اور اسے ایک موقع دیا جائے، گویا یہ معصوم عوام واپس کشکول تھامے اپنے وطن کا مقدّر ان ضمیر فروشوں کے حوالے کر دیتی، آیے ذرا نظر دوڑائیں ان باریاں لینے والوں کے مثالی کارناموں پر بھی۔

اس وقت تک سب نے ملک کو آہستہ آہستہ کھانا شروع کر دیا گیا تھا، پھر اچانک آوازیں اٹھنے لگیں کہ، “مسلم لیگ کو تو اپنا کے دیکھ لیا، ذرا عوامی لیگ کو بھی اپنا کے دیکھ لو” لیکن عوامی لیگ کے “ملک دشمن” عزائم کی وجہ سے گورنر نے ایک بار پھر منتخب نمائندوں کو برطرف کر دیا، وقت گزرتا گیا پھر آوازیں اٹھنے لگیں کہ، “مسلم لیگ اور عوامی لیگ کو تو اپنا لیا اب ذرا فیلڈ مارشل ایوب خان صاحب کو بھی ایک موقع دو”، لہذا انہوں نے انتخابات لڑے، فاطمہ جناح ان کے مخالف تھیں، اور مجال ہے کہ ایوب خان ہارتے، لہذا ملک کے پہلے “منتخب صدر” بن گئے۔ 1965 کی جنگ کے بعد تحریکِ استقلال جیسی مزید تحریکیں ان کے خلاف اٹھنے لگیں شاید انہیں احساس ہوگیا تھا کے موقع غلط دے دیا ہے، اور بلآخر ایوب خان مستعفی ہو کر ملک کی بھاگ ڈور یحییٰ خان کے حوالے کر دی، واپس وہی آوازیں آنے لگیں کہ، “جہاں سب کو آزمایا ہے وہیں ایک بار یحییٰ خان کو بھی آزما لیں”۔ لہذا عوام پھر غفلت میں بیٹھ گئی۔

پھر سن 1971 کا وہ قیامت خیز وقت آیا جب یہ ملکِ خداد دو لخت ہوگیا واپس آوازیں آنے لگیں کہ، “جہاں پچھلے 24 سال سے سب کو باریاں دے رہے ہو وہیں ایک بار بھٹو کو بھی آزما لو”، بھٹو صاحب آئیں حکمرانی کے جوہر دیکھائیں اور پھر ضیاء الحق صاحب بھٹو کو برطرف کر کے خود برسرِ اقتدار آگئے، واپس وہی آوازیں آنے لگیں کہ، “جہاں سب نے ملک کی بربادی کر ہی دی ہے تو ایک موقع ضیاء الحق کو بھی دے دیا جائے”۔ پھر بےنظیر تصویر میں آئیں آواز آئی کہ، “ایک موقع بی بی کو دینا چاہیے وہ حقیقی تور پہ ملک کے لئے کچھ کرنا چاہتی ہیں”۔ پھر میاں صاحب آئے، وہیں آوازیں طاقت پکڑنے لگیں کہ، “جہاں سب کو ایک موقع دیا ہے وہیں میاں صاحب کو بھی دے دیجئے”۔ اسی مواقع فراہم کرنے میں ملک میں حشر برپا کردیا گیا اور “اب واپس آوازیں اٹھ رہیں ہیں کہ خان صاحب کو بھی ایک موقع دیں وہ یقیناً ملک کے لئے کچھ ضرور کرینگے”، اب تو مزاحقہ خیز بات لگتی ہے جب کوئی کہے کہ اس آدمی کو موقع دو وہ کچھ ضرور کرے گا۔

اس ملک کی 71 سالہ تاریخ میں ہمیشہ یہی مذاق کیا گیا ہے جمہوریت کے ساتھ، ہمارے سروں پہ چند نام نہاد لوگ بٹھا دیے جاتے ہیں پھر ان کو موقع فراہم کرنے کی بات کی جاتی ہے، اور یہی ہماری بربادی کی اصل وجہ ہے، اور ہماری معصوم عوام اس فریب میں ہر بار بڑی آسانی سے آجاتی ہے۔