عاطف توقیر

میری عمر کوئی دس بارہ برس ہو گی کہ امی نے دہی لینا بھیجا۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ میرے ہاتھ میں دس روپے کا نوٹ تھا اور دہی کوئی دو تین روپے سے زیادہ کا غالباﹰ نہیں تھا۔ دہی والے کی دکان پر کام کرنے والے لڑکے کی عمر مجھ سے کوئی دو چار برس ہی زیادہ ہو گی۔ ویسے تو مالک خود گَلے پر بیٹھتا تھا اور اس لڑکے کا کام دودھ یا دہی تھیلی میں ’باندھ کر دینے‘ کا ہوتا تھا، مگر اس روز مالک تھا نہیں اور لکڑے کے اس پیسے رکھنے والے گَلے کا کام بھی اس لڑکے کے ہاتھ تھا۔ مجھ سے دس کا نوٹ وصول کرنے اور بقایا لوٹانے کے لیے جب اس نے وہ لکڑی کا ڈبہ کھولا تو اس پر سبز رنگ کے چمکتے اسٹیکر پر لکھا تھا، ’’اللہ دیکھ رہا ہے۔‘‘
دس بارہ برس کی عمر کے کچے دماغ کے مسائل الگ ہی ہوتے ہیں۔ میں دیر تک اس ڈبے پر اس جملے کی وجہ سوچتا رہا۔ کیا خدا فقط اسے ڈبے کو دیکھ رہا ہے؟ اگر نہیں تو پھر یہیں لکھے جانے کی وجہ کیا ہے؟ خدا گھر کا کچرہ گلی میں پھینکنے والے کو کیوں نہیں دیکھ رہا؟ اس لڑکے کو اس عمر میں اسکول بھیجنے کی بجائے دودھ دہی کی دکان پر بھیجنے والا کو خدا کیوں نہیں دیکھ رہا؟ مسجد سے نمازیوں کے جوتے چرانے والے کو کیوں نہیں دیکھ رہا؟

وقت گزرتا رہا اور یہ سوال اور یہ جملہ بھی وقفے وقفے سے مختلف رنگوں میں سامنے آتے رہے۔ میں نے اپنی پوری زندگی میں یہ جملہ جب بھی سنا، ایک طرف تو میرے دھیان میں وہ دودھ دہی والے کا یہ پیسے والا ڈبہ گھومنے لگا یا پھر جب کہیں معاملہ پیسے کا ہوا اور پیسے کے اصل مالک کو یہ محسوس ہوا کہ اب اس کا پیسہ کسی اور کے رحم و کرم پر ہے۔

جب میں پڑھائی کے لیے پہلے آسٹریلیا اور پھر انگلینڈ گیا، تو وہاں مجھے یہ جملہ سننے کو نہیں ملا۔ وجہ یہ تھی کہ وہاں ہر ’دودھ دہی والے‘ کے پیسوں والے ڈبے کے عین اوپر ایک کیمرہ لگا ہوتا تھا، جو براہ راست تمام معاملے پر نگاہ رکھتا تھا اور مزے کی بات ہے۔

ابھی سوشل میڈیا پر آسٹریلوی کھلاڑی جنوبی افریقہ کے خلاف سرخ بال پر جیب سے پیلے رنگ کی ’پَتری‘ سے خراشیں کھینچنے کی ویڈیوز دکھائی دیں۔ ان کے ہاتھ میں بال دیتے ہوئے کرکٹ کے ضوابط کے مطابق اخلاقی طور پر انہیں بتا دیا گیا تھا کہ بے ایمانی نہ کرنا ’خدا دیکھ رہا ہے‘ تاہم جیب سے یہ باریک دھاتی ٹکڑے سے بال کو خراب کرنے والے نے خدا کی فکر نہیں کی۔ کرکٹ کی تاریخ میں، ایسا اس سے قبل بھی جانے کب سے ہو رہا ہے، مگر جب سے کیمروں نے کھلاڑیوں پر نگاہ رکھنا شروع کی ہے، خدا سے نہ ڈرنے والے ان کھلاڑیوں کو کیمرے کے خوف نے خاصا محدود کیا ہے۔

جرمنی میں برلن شہر کے کئی ٹرین اسٹیشنز میں اب وہ کیمرے نصب کیے جا چکے ہیں، جو ٹرین اڈے پر آنے والے ہر شخص کے چہرے کو نہ صرف بائیومیٹرک طریقے سے جانچتے ہیں، بلکہ اپنے وسیع ڈیٹا میں موجود جرائم پیشہ عناصر کی معلومات سے مسلسل موازنہ کرتے ہیں اور کوئی مجرم دندناتا پھر رہا ہو، تو ایک طرف تو حکام کو آگاہ کر دیتے ہیں اور دوسری جانب اس پورے علاقے کے کیمروں کو اپنے ساتھ ہم آہنگ کر کے اس شخص کو کہیں نہیں جانے دیتے۔

چین میں تو کئی عوامی مقامات پر اب کیمرہ ایک ایک شخص کی چھان پھٹک کر رہا ہے۔ میں آج آسٹریلوی ٹیم کے کرکٹ کی اخلاقیات کے پرخچے اڑانے والے مناظر اور ساتھ ہی اس میں ملوث کھلاڑی کے اعترافی بیان اور عوامی معذرت دیکھ رہا تھا، تو میرے ذہن میں پھر وہی ’اللہ دیکھ رہا ہے‘‘ والا ڈبہ امڈ آیا۔ اس کھلاڑی کا یہ اعترافی بیان اصل میں اعترافی نہیں۔ کیوں کہ کیمرے کی آنکھ نہایت قریب سے اس کھلاڑی کی حرکات اور گیند پر پڑنے والے اثرات کا احاطہ کر چکے تھے۔ یہ کھلاڑی اصل میں فقط شرمندہ ہو رہا تھا۔ اگر کیمرہ یہ مناظر نہ دکھاتا، تو اس کھلاڑی نے کہاں ماننا تھا، ہم اسے ’روز محشر کے واسطے‘ دینے سے تو رہے۔

دوسری بات یہ دیگر کھلاڑیوں کے لیے بھی ایک پیغام تھا کہ اخلاقیات کے دائرہ میں رہیں اور ضوابط کا خیال رکھیں، کیوں کہ اب فقط خدا ہی نہیں کیمرہ بھی دیکھ رہا ہے۔ خدا تو معاف کرنے والا ہے مگر کیمرہ معاف نہیں کرتا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here