عاطف توقیر

حال ہی میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ان کا مقابلہ ایک خلائی مخلوق سے ہے۔ یہ بات تاہم الگ ہے کہ ماضی میں یہی خلائی مخلوق انہیں غیبی مدد لگتی تھی اور اس سے بھی زیادہ مزے کی بات یہ ہے کہ اِس وقت یہ خلائی مخلوق عمران خان صاحب کو غیبی مدد محسوس ہو رہی ہے۔

زیادہ پیچھے جانے کی بھی ضرورت نہیں، ابھی پچھلے سال کے وسط تک نواز شریف ملک کے وزیراعظم تھے تاہم یہ خلائی مخلوق ملک سے لوگوں کو لاپتا کر کر کے اپنے سیارے پر پہنچا رہی تھی۔ اس خلائی مخلوق نے لوگوں کو غائب کرنے کا سلسلہ پچھلے قریب سترہ اٹھارہ سال سے شروع کر رکھا ہے، مگر مجال ہے کہ نواز شریف صاحب کی جانب سے اس کے تدارک کے لیے کوئی اقدام یا کم از کم کوئی مذمتی بیان ہی سامنے آیا ہو۔

مشرف کے دور میں کچھ عرصے تک اپوزیشن کی بینچوں میں بیٹھنے پر اس خلائی مخلوق کی نشاندہی مسلم لیگ ن کی جانب سے جاوید ہاشمی نے کی تھی، انہیں باغی باغی کہا جانے لگا تھا تاہم اسی جاوید ہاشمی نے جب اپنی یہ دریافت عمران خان صاحب کو بتائی، تو یہی بھول گئے کہ پی ٹی آئی فیصلہ کرنے سے پہلے کندھے انگلیوں سے جھاڑتی ہے، تب سے انہیں داغی داغی پکارا جانے لگا۔ وہ یہی بھول بیٹھے تھے کہ پی ٹی آئی کے رہنما جب اوپر کی طرف دیکھتے ہیں، تو لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید خدا سے مخاطب ہیں، حالاں کہ ان کی مراد خلائی مخلوق ہی ہوتی ہے۔ عمران خان صاحب جب “ایّاکَ نَعْبُدُ وَ ایّاکَ نَسْتَعین” فرماتے ہیں تو لوگ سمجھتے ہیں ان کی مراد خدائے زمان و مکان ہے، حالاں کہ عمران خان صاحب کا رویہ اور اعمال بتاتے ہیں کہ بات کس کی ہو رہی ہو گی۔

نواز شریف ہی کی پارٹی سے اپوزیشن بینچوں پر بیٹھے خواجہ آصف صاحب نے بھی ایک بار اس خلائی مخلوق سے ٹکر لی تھی۔ اس دن جان بوجھ کر وہ سفید قمیض (شرٹ) کچھ اس انداز کی پہن کر ایوان میں آئے تھے کہ ان کی چھاتی کا مکمل ادراک ہو سکے، اس روز انہیں بلوچستان اور وزیرستان میں اس خلائی مخلوق کی کارروائیوں، مسخ شدہ لاشوں، تباہ حالی، ہلاکتوں، مسمار گھروں اور بے بس آنکھوں کا اس قدر دکھ تھا کہ لگتا تھا آج پنجاب سے وہ خود کسی اڑن طشتری پر بیٹھ کر متاثرہ علاقوں میں تبرک بانٹنے نکلنے والے ہیں۔ اس کے بعد وہ ملک کے وزیر دفاع اور وزیر خارجہ کے عہدوں پر فائز ہو گئے، تاہم انہوں نے کبھی دوبارہ چوڑی چھاتی والی قمیض نہ پہنی، نہ ہی انہیں بلوچستان یا وزیرستان کے دکھ کی کوئی کسک محسوس ہوئی۔ یہ عجیب خلائی مخلوق ہے جو صرف تب دکھائی دیتی ہے جب اقتدار ہاتھ سے چلا جائے۔

خیر نواز شریف کی اپنی ہی جماعت کے سینیئر ترین رہنما اور سابق وزیرِداخلہ چوہدری نثار کا تازہ بیان اس خلائی مخلوق کی اقتدار پر گرفت اور نزاکتوں کا آئینہ دار ہے۔ پریس کانفرنس میں فرمانے لگے کہ انہیں نواز شریف کی جانب سے خلائی مخلوق کو خلائی مخلوق کہنے پر نہایت دکھ ہوا ہے۔ پھر پوری تمکنت سے بولے اقتدار پر اس خلائی مخلوق کا قبضہ پاکستان کی پوری تاریخ میں بالواسطہ یا بلاواسطہ رہا ہے، تاہم اس خلائی مخلوق کی نشان دہی عوامی سطح پر کر کے انہوں نے کوئی زیادہ اچھا کام نہیں کیا۔ کہنے لگے اس خلائی مخلوق کو ساری دنیا کے سامنے اس طرح جھاڑنا تو خطرناک ہوسکتا ہے۔ پھر انہیں خیال آیا کہ ملک چاروں جانب سے خطرے میں ہے اور دوسرے ممالک کی خلائی مخلوقات نے اس ملک کو گھیرے میں لے رکھا ہے، اس لیے اپنے ملک میں خلائی مخلوق کی موجودگی ضروری ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ خلائی مخلوق اگر اپنے ہی لوگوں کا خون پی رہی ہو، لوگ لاپتا کر کے اپنے سیارے پر لے جا رہی ہو، ملکی دستور پامال کر کے رکھ دے، عوام کے ووٹ کی عزت خاک میں ملا دے، سپریم کورٹ کو ربر اسٹیمپ بنا دے اور میڈیا کو اپاہج کرُ دےُ تو بھی یو ایف اوز یعنی نامعلوم اڑتی پھرتی چیزوں کو نامعلوم رہنا چاہیے کیوں کہ ان کا نام لینے سے اس عظیم خلائی مخلوق کا وقار مجروح ہوتا ہے اور مورال ڈاؤن ہو جاتا ہے۔ مورال ہی ڈاؤن ہو گیا تو انہیں اپنے ملک کے دستور پر چلنا پڑ جائے گا، لاپتا افراد کو دوبارہ اپنے سیارے سے واپس لانا پڑے گا، مسخ شدہ لاشوں کا حساب دینا پڑے گا، دوسرے ملک کی خلائی مخلوق کو ڈالر لے کر بیچے جانے والے شہریوں کی تفصیلات دینا پڑیں گی، سیاست میں مداخلت سے باز رہنا پڑے گا، عام زمینی انسانوں کی عزت کرنا پڑے گی اور زمینی انسانوں جیسی فضول اور کرپٹ مخلوق کو جو بریانی کی ایک پلیٹ کے بدلے ووٹ بیچ دیتی ہے، کے نمائندوں کو باس سمجھنا پڑے گا۔ اب خلائی مخلوق تو افضل ہوتی ہے وہ کیوں انسانوں کو باس سمجھے۔

ان دنوں نواز شریف کی پارٹی کے کسی رہنما کی میڈیا پر کوریج نہیں ہوتی، جیو نے خلائی مخلوق سے لڑنے کی کوشش کی مگر اس کے جواب میں خلائی مخلوق نے اپنے سیارے سے خصوصی طور پر منگوائی گئی پلازمہ گن کا رخ اس کی طرف کر دیا۔ پورے ملک سے رفتہ رفتہ جیو کے سنگل غائب ہو گئے، کیبل آپریٹرز کو کسی دوسرے سیاست سے فون کالز آنے لگیں، کال کرنے والوں کا سراغ یوں نہیں لگایا جا سکا کیوں کہ کال جب دوسرے سیارے سے آتی ہے تو اس میں نمبر نظر نہیں آتا، صرف لکھا ہوتا ہے کال اٹھا لو۔ کیبل آپریٹرز بچارے کیا کرتے، انہیں کوئی شوق نہیں زمین چھوڑ کر کسی دوسرے سیارے پر جانے کا۔ خیر جیو کا رفتہ رفتہ دم گھٹنے لگا تو خود خلائی مخلوق کے دربار میں پہنچا اور اپنا سر اور قلم دونوں پیروں میں رکھ کر “ایّاکَ نَعْبُدُ وَ ایّاکَ نَسْتَعین” کہہ دیا۔ خلائی مخلوق نے اس تاکید کے ساتھ جیو کے تمام کرتوت معاف کر دیے کہ آئندہ سر سجدے سے نہ اٹھے اور قلم فقط وہی کچھ لکھے جو ہدایات دی جائیں، جیو نے یس باس کہا تو اگلے ہی روز عمران خان جیو پر نمودار ہو گئے اور اپنے پورے دل اور دماغ کے ساتھ بولے ایّاکَ نَعْبُدُ وَ ایّاکَ نَسْتَعین۔ انہوں نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ وہ خلائی مخلوق کو، جسے وہ غیبی مدد کہتے ہیں، رپٹ کروا کر جیو کو مزہ چکھا دیں گے۔ انہوں نے اپنی بات درست ثابت کروا دی۔ ایسے میں یہ غیبی طاقت ہی تو ہے جو ن لیگ پر لگی اس غیر اعلانیہ اور اعلانیہ میڈیا پابندی کے باوجود چوہدری نثار کی پوری پریس کانفرنس آغاز سے انجام تک تمام ٹی وی چینلز نے نشر کی۔

نواز شریف آخر کار گھوم پھر کر اور پوری زندگی ایّاکَ نَعْبُدُ وَ ایّاکَ نَسْتَعین پڑھنے کے بعد اب کہیں جا کر “خلائی مخلوق” کو پہچان پائے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ انہوں نے ابھی “خواجہ آصف” کی چوڑے سینے والی قمیض نہیں پہنی نہ ہی اس خلائی مخلوق کے اصل سیارے اور طریقہ واردات کی بابت باغی جاوید ہاشمی کی طرح بات کی۔

ہالی وڈ کی فلموں میں دکھاتے ہیں کہ جب کوئی خلائی مخلوق زمیں پر حملہ آور ہوتی ہے تو ایک تو اس کو کڑا وقت صرف امریکا سے ملتا ہے، جیسے امریکا کے علاوہ دنیا پر کوئی دوسرا ملک ہی نہ ہو اور دوسرا اس خلائی مخلوق کا مقابلہ سب مل کر کرتے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ آخری بم ہیرو ہی برساتا ہے۔ تب تک خلائی مخلوق ہر طرف تباہی مچا چکی ہوتی ہے، بڑی بڑی عمارتیں خاک ہو چکی ہوتی ہے، لاکھوں کی تعداد میں لوگ جان کھو چکے ہوتے ہیں اور شہروں کے شہر اجڑ جاتے ہیں۔ شہر اجڑنے سے پہلے ہالی وڈ والے ہمیشہ دور سے ایک منظر دکھاتے ہیں جس میں شہر کی بتی جاتی نظر آتی ہے اور اندھیرا ہو جاتا ہے۔ خلائی مخلوق تباہی سے پہلے اندھیرا کرنا ضروری سمجھتی ہے تاکہ کوئی دیکھ نہ لے۔ تاہم اس خلائی مخلوق کی بابت کم از کم تمام لوگوں کو ایک بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ مخلوق کوئی ٹھیک شے نہیں ہے۔

ہمارے ہاں موجود خلائی مخلوق ہالی وڈ کی خلائی مخلوق کی طرح شہروں کے شہر ویران کر چکی، بتیاں گل ہو چکی، اسکول تباہ ہو چکے، لوگ مارے گئے تاہم لوگ اب بھی یہی سمجھ رہے ہیں کہ خلائی مخلوق سے ہمیں خلائی مخلوق ہی بچائے گی۔ اس معاملے میں ہمارے ہاں کی خلائی مخلوق ہالی وڈ کی خلائی مخلوق سے زیادہ طاقت ور اور زیادہ اسمارٹ ہے۔ اس خلائی مخلوق نے سب سے پہلے ملک کے وسائل اپنے قبضے میں لیے، پھر دستور کو رسی کاغذ کا پلندہ بنایا، پھر ایک ایک کر کے تمام ادارے اپنی گرفت میں کئے، پھر نصابی کتب کو اپنی منشا پر ڈھالا، پھر پوری تاریخ تبدیل کی، پھر اپنے مرضی کے “ایّاکَ نَعْبُدُ وَ ایّاکَ نَسْتَعین” والے سیاست دان پیدا کیے، پھر میڈیا کو پرچی پر لکھ کر بتایا کہ اس کیا کہنا ہے اور پھر ہر اس شخص کو ڈرا، دھمکا کر، لالچ دے کر، ہتھیاروں کا خوف دلا کر، حب الوطنی کا ٹانک پلا کر، ماورائے عدالت ہلاک کر کے یا لاپتا کر کے راستے سے ہٹا دیا، جو کسی ہیرو کی طرح آخری تیر چلا سکتا تھا۔ ایسا کوئی بندہ اس خلائی مخلوق کے نرغے میں پھنس جائے تو اس شخص کے ساتھ اور خلائی مخلوق کے خلاف کھڑے ہونے کی بجائے آواز آتی ہے، کچھ تو کیا ہو گا، ہمیں خلائی مخلوق کیوں نہیں اٹھاتی۔

اب حال یہ ہے کہ کوئی اس مخلوق کا نام بھی لے تو خود گھر کے افراد ہی کہہ دیتے ہیں تمہاری زندگی خطرے میں ہے۔ کوئی بولے تو کہتے ہیں مارے جاؤ گے۔ پھر اس خلائی مخلوق سے پیسے لینے والے یا اس کے سکھائے ہوئے سبق کو بغیر کوئی سوال کیے ایمان سمجھ لینے والے بھی موجود ہیں۔

اور خاص طور پر تو اس وقت جب انتخابات قریب ہیں، ایسے میں عدلیہ، ٹی وی، اخبارات، صحافی، نیب سب کے سب ادارے خلائی مخلوق کے احکامات کے تحت تعاون فرما رہے ہیں، ایسے میں پیپلز پارٹی جو اس خلائی مخلوق سے لڑائی کرنے والی ہیرو سمجھی جاتی تھی وہ بھی اڑن طشتری میں جا بیٹھی ہے۔ بے نظیر نے اس خلائی مخلوق کے خلاف خاصی لڑائی کی کوشش کی، مگر ظاہر ہے وہی ہوا جو ایسی لڑائی میں ہوتا ہے۔

ایسے میں نون لیگ کے اپنے سیاست دان خلائی مخلوق کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے ایّاکَ نَعْبُدُ وَ ایّاکَ نَسْتَعین پڑھ رہے ہیں، تو نواز شریف صاحب خلائی مخلوق سے لڑنے کی باتیں کر رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اگر وہ لڑنے نکل پڑیں تو اس خلائی مخلوق کی وجہ سے تباہ ہونے والی بستیوں کی بستیاں اور شہر کے شہر ان کے ساتھ ہوں گے اور ایسے میں پنجاب وہی کردار ادا کر سکتا ہے جو ہالی وڈ کی فلموں میں خلائی مخلوق سے دنیا کو بچانے کے لیے امریکا ادا کرتا ہے۔
راستے اب دو ہی ہیں ایک تو ہے ایّاکَ نَعْبُدُ وَ ایّاکَ نَسْتَعین اور دوسرا ہے، اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ۔

اقبال صاحب کہہ گئے تھے

وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے

ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here