مہناز اختر

آپ نے پاکستان میں مذہبی حلقوں کو اکثر یہ کہتے سنا ہوگا کہ “پاکستان میں اسلامی نظام نافذ کیا جائے” اس قسم کے بیانیوں سے ایسا ثاثر ملتا ہے کہ گویا پاکستان کا نظام غیر اسلامی ہے۔ مذہبی حلقوں کی جانب سے خلافت کے قیام کی جدوجہد کا اشارہ بھی دیا جاتا ہے اور جب داعش یا طالبان جیسی سفاک تنظیمیں قبضہ شدہ علاقوں میں خلافت کے نفاذ کا اعلان کرتیں ہیں تو عام مسلمانوں کے دل میں خلافت سے متعلق خوف اور بد گمانیاں بڑھنے لگتی ہے۔

خلافت کے معنی خدا کے دیے ہوئے اختیارات کا حامل ہونا ہے۔ خدا نے زمین پرانسان کو اپنا نائب/خلیفہ مقرر کیا ہے تاکہ وہ زمین پر موجود اس کے عیال پر نگران ہو۔اسلامی عقائد کے مطابق زمین، اس پر موجود وسائل اور مخلوقات خدا کی ملکیت ہیں اور خلیفہ خدا کا نائب ہے۔ خلافت میں مقتدر اعلی اللہ کی ذات ہے۔ خلافت کا نظام شوری(مشاورت) پر قائم ہوتا ہے۔خلیفہ کے انتخاب سے لے کر ریاستی امور تک خلیفہ مشاورت کے ذریعے معاملات طے کرتا ہے۔

خلافت میں عوام کو اختلاف کی آزادی ہوتی ہے۔ عہد نبوی میں مدینہ کی اسلامی ریاست قائم ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ وسلم کی حیثیت اسلامی ریاست کے خلیفہ کی تھی۔ کئی بار ریاستی معاملات کے لیے آپ پر وحی کا نزول نہیں ہوا بلکہ آپ نے باہمی مشاورت سے مسائل حل کیے جیسے نماز کے بلاوے (اذان) کا طریقہ مشاورت سے طے پایا، میثاق مدینہ مہاجرین، انصار، یہودی، نصرانی اور دیگر قبائل سے باہمی مشاورت اور رضامندی کے بعد طے پایا، جنگ خندق کی پوری دفاعی حکمت عملی مشاورت سے تیار کی گئی حتیٰ کے اگر عام افراد کسی معاملے پر ذرا بھی مغالطے کا شکار ہوتے تو براہ راست آپ صلی اللہ وسلم سے سوال کرتے تھے۔ اس دور میں مجلس شوریٰ کے زیادہ تر ارکان اپنے قبائل کے سردار اور معززین ہوا کرتے تھے اور انہیں اپنے قبیلے کی حمایت حاصل ہوا کرتی تھی۔ حمایت اور اطاعت کی یقین دہانی کے لیے بیعت کا طریقہ رائج تھا۔ ایسی ہی مثالیں عہد فاروقی میں بھی ملتی ہیں . لوگ عمر فاروق سے جواب طلبی کیا کرتے تھے. ایک مرتبہ خواتین کے حوالے سے قوانین بنائے گئے اور جب آپ نے منبر سے اسکا اعلان کیا تو خواتین نے اس پر احتجاج کیا ان میں سے ایک معاملہ مہر کی حد متعین کرنے کا تھا اور جب خواتین نے آپکو دلائل دیئے تو آپ نے وہ فیصلے واپس لے لیے۔

خلافت راشدہ میں عہد عثمانی تک مسلمانوں کے اموال میں ذاتی و تجارتی املاک کی کوئی تخصیص نہیں تھی۔ سرکاری عاملین زکوۃ گھروں اور تجارتی مقامات میں داخل ہوکر املاک کی مالیت کا اندازہ لگاتے اور اس پر زکوۃ وصول کرتے تھے. اس وقت مسلمانوں نے یہ محسوس کیا کہ عاملین زکوۃ کے اس عمل سے چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال ہوتا ہے . اسی مسئلے کا ادراک کرتے ہوئے عثمان غنی نے یہ فیصلہ صادر فرمایا کہ مکان , دکان اور گودام وغیرہ کی تلاشی لینے سے فرد کے نجی مقامات کی نجی حیثیت مجروح ہوتی ہے لہذا سرکاری طور پر صرف مویشیوں اور زراعت پر زکوۃ وصول کی جائے اور باقی اموال پر زکوۃ کی ادائیگی کی ذمہ داری مالکان کی ہوگی کہ وہ خود بیت المال آکر زکوۃ جمع کرائیں یا کسی کو براہ راست زکوۃ ادا کردیں. خلافت میں علماء اکرام اور دانشور حضرات پریشر گروپس یا حزب اختلاف کا کردار ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

اس کے برعکس ملوکیت (بادشاہت) اور آمریت شخصی ، نسلی، گروہی یا خاندانی حکومت کا دوسرا نام ہے۔ ملوکیت میں حکمران خود کو مالک یا بادشاہ تصور کرتا ہے اور رعایا اور ریاستی وسائل اس کی ملکیت ہوتے ہیں۔ ملوکیت میں حکمران مطلق العنان ہوتا ہے وہ کسی کو جوابدہ نہیں ہوتا اور ملوکیت میں حزب اختلاف کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا. موجودہ زمانے میں ملوکیت اور آمریت جبری طرزحکومت کی مثالیں ہیں دونوں نظاموں میں طاقت کے ذریعے اقتدار پر قابض رہا جاتا ہے. اختلاف رائے کو غداری اور بغاوت سے تعبیر کیا جاتا ہے. اس طرز حکومت میں عوامی حقوق حکمران کے رحم وکرم پر ہوتے ہیں. داعش اور طالبان کی نام نہاد خلافت بھی آمریت کی بدترین مثالیں ہیں۔

نظام جمہوریت جمہور یعنی عوام کی حکومت کا نظام ہے. اس نظام میں عوام ووٹ کے ذریعے ریاستی امور کی انجام دہی کے لیئے اپنے پسندیدہ نمائندوں کا انتخاب کرکے انہیں دستورساز اسمبلیوں تک پہنچاتی ہے. اس نظام میں اکثریت کی رائے کے مطابق فیصلے کیئے جاتے ہیں. یہاں حاکم اعلٰی کی حیثیت نگران اور عوام کے خادم کی سی ہوتی ہے. ریاستی وسائل پر ریاست اور عوام کا حق ہوتا ہے. جمہوریت میں دستور کی حکمرانی ہوتی ہے. نظام جمہوریت کی کئی اقسام ہیں مگرہم اسے دو بنیادی طرز جمہوریت میں تقسیم کرسکتے ہیں پہلی سیکولر(لبرل) جمہوریت اور دوسری مذہبی جمہوریت۔ سیکولر(لبرل) جمہوریت میں ریاست کسی بھی مذہب کی سرکاری سرپرستی نہیں کرتی لیکن ریاست کے ہر شہری کو فکری اور عملی آزادی حاصل ہوتی ہے. ہر شہری اپنی زندگی اپنے عقائد کے مطابق گزارنے کے لیئے آزاد ہوتا ہے. اس طرز حکومت میں ریاست کے ہر شہری پر دستور کی پابندی لازم ہوتی ہے. مذہبی جمہوریت میں بھی حکومت عوامی نمائندوں کے ذریعے ہی چلائی جاتی ہے مگر ملک کا دستور مخصوص مذہب کا تابع ہوتا ہے . اس طرز حکومت میں عوام کی اکثریت کا مذہب ہی ریاست کا مذہب قرار پاتا ہے۔ اس طرز حکومت کی بہترین مثال اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔

یہ بہت زیادہ حوصلہ افزا بات ہے کہ پاکستان میں نمایاں مذہبی و سیاسی جماعتیں جمہوریت کے حق میں نظر آتی ہیں اور اسے کلاسیکی خلافت کی جدید شکل یا قریب ترین نظام قرار دیتی ہیں۔ دوسری جانب بہت ساری مذہبی جماعتیں اور علماء کا ایک گروہ جمہوریت کو کفر یا باطل کا نظام قرار دیتے ہیں. اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیئے اس گروہ کی طرف سے یہ دلیل دی جاتی ہے کہ اسلامی عقائد کے مطابق اسلامی حکومت میں اقتدار اعلٰی اللہ کے پاس ہے اور تمام فیصلے قران و سنۃ کی روشنی میں کیئے جاتے ہیں. اسکے برعکس جمہوریت میں اقتدار اعلی عوام کے پاس ہوتا ہے اور عوام اکثریت کی طاقت سے کسی بھی قسم کا قانون بنانے کی قوت رکھتی ہے اس لیئے یہ شرک کا نظام ہے۔

اگر ہم اس اعتراض کا بغور جائزہ لیں تو یہ اعتراض سطحی ہے کیونکہ خلافت میں قانون سازی کے حوالے سے وہی لچک پائی جاتی ہے جو جمہوریت میں موجود ہے۔ خلافت نبوی اور خلافت راشدہ میں مشاورت اور اتفاق رائے سے فیصلے کیئے جاتے تھے اور دلیل پر مبنی اعتراض آنے پر فیصلے واپس لے لیے جاتے تھے۔ عہد خلافت نبوی میں مدینہ میں ایک اسلامی فلاحی ریاست قائم کی گئی جسکا مقصد فروغ اسلام اور فلاح عوام تھا بلکل ایسے ہی اسلامی جمہوریت کا مقصد بھی اسلامی شعار کی ترویج اور عوامی فلاح و بہبود ہے۔ آپ صلی اللہ وسلم اور خلفاء راشدین نے کئی بار عوام کی شکایات پر گورنروں کی سرزنش کی اور انہیں لوگوں پر سختی سے منع فرمایا. میثاق مدینہ کسی بھی جمہوری ریاست کے جمہوری معاہدے کی بہترین مثال ہے. یعنی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جمہوریت دراصل خلافت کی جدید اور ارتقائی شکل ہے۔