محمد زاہد

متبادل پر شائع ہونے والی ایک تحریر جس میں محترم نعیم میاں صاحب نے علامہ اقبال اور ان کے فلسفہ خودی پر بات کی، مجھے اس پر اپنی اختلافی دلیل دینا ہے۔

انتہائی معذرت کے ساتھ میں خودی کے فلسفے کو نہیں مانتا کیونکہ خودی یا (ذات,  divine energy, روح وغیرہ) کا کوئی وجود نہیں ہے یعنی اس کی کوئی سائنسی توجیہ سرے سے موجود ہی نہیں۔  تو جس طرح ماضی کا یہ فلسفہ اب بے بنیاد ہے،  اسی طرح اس فلسفے کے بانی اور  بعد میں پیروکاروں نے قوم کو ایک ایسی راہ پر ڈال دیا، جس کے بعد اب یہ ریاست نہ تیتر ہے نہ بٹیر۔

ہم جب بچے تھے، اسکول میں پڑھتے تھے تو معاشرتی علوم میں ہمیں یہ پڑھایا گیا تھا کہ ہندوں اور مسلمانوں کے رہن سہن کے طریقے الگ تھے، مسلمان ایک خدا کو مانتے تھے اور ہندو بے شمار دیوتاؤں کے پوجا کرتے تھے۔ وہاں ظلم، جبر، ذات پات اور اقرابا پروری کا بازار گرم تھا، اس وجہ سے ہمارا اور ان کا  )ہندوؤں کا) ایک ساتھ رہنا آگ اور پانی کو یک جا کرنا تھا۔

اس وجہ سے مسلمانوں نے ایک الگ ملک بنانے عزم کرلیا (اب یہ ایک الگ موضوع ھے کہ تحریک آزادی کی جنگ کس نے لڑی)۔ بعد میں یہ لوگ کس طرح نازل ہوئے۔ خود جاوید اقبال ولد محمد اقبال نے اقرار کیا کہ برصغیر کو اقبال نے نہیں ہندوؤں نے آزاد کیا۔

جیسے بھی ہوں ملک وجود میں آیا اس کے بعد ستم بالائے ستم دیکھو کہ ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا اور جناح کے پہلے کابینہ میں غیرمسلم وزرائے سے عبارت تھی۔

وہ نام ور ’’مسلم رہنما‘‘ یا  تحریک آزادی کے مذہبی لیڈروں میں سے کوئی اس کے قابل نہ تھا کہ انہیں ایک وزارت دے دی جاتی؟

ابھی کچھ عرصہ قبل ایک پاکستانی ٹی وی چینل پر جناح کی پہلی کابینہ میں شامل وزرأ سے متعلق ایک ویڈیو رپورٹ نشر کی گئی تھی، میں وہ رپورٹ آپ کے خدمت میں میں حاضر کرتا ہوں۔ یہ ویڈیو دیکھیے اور ملک کی بنیاد اور بعد میں اس کے ساتھ ہونے والے حال اور جناح جیسے رہنما کے نام پر بعد میں کھیلے جانے والے کھیل سے متعلق اپنی معلومات میں اضافہ کیجیے۔

ویڈیو کے آخر میں دیکھئے. پہلا اینٹ جیسا رکھ لیا اخر تک ویسا رہے گا. ہمارا پہلا اینٹ ٹیڑھا تھا.

Posted by Mohmmad Zahid on Monday, 26 February 2018

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here