ڈاکٹرنازش امین، کراچی

میں ایک حساس اور  کمزور دل ڈاکٹر ہوں، میں  کسی مریض کو  مرتا ہوا نہیں  دیکھ پاتی، خاص طور پر بچوں کو۔ کراچی کے ایک مشنری اسکول کی ایک معصوم پری کو اسکول سے اغوا   اور پھر  تاوان کا مطالبہ کر کے اسے مار دینے والے  درندہ صفت انسان اس کے اپنے رشتے دار تھے۔ یہ وہ واقعہ تھا، جس نے میری راتوں کی نیند اڑا دی تھی اور جس کے بعد میں نے اپنی  بچی کو یہ  سبق دیا تھا کہ اسے اپنے ماں باپ کے سوا کسی کے ساتھ کہیں نہیں جانا۔ پشاور اے پی ایس  سانحہ وہ دوسرا دل شکن واقعہ تھا، جس نے میری نیند چھین لی تھی اور میں بہت روز بے سبب روتی رہی تھی، وہ بچے ہمارے اپنے تھے بالکل  ویسے جیسے زینب  اپنی تھی۔  کوئی ظلم سا ظلم ہوا ہے اور ہم  اب بھی قیامت کے منتظر ہیں؟

چند سال پلے تک جب اپنی ذاتی گاڑی نہ ہونے کی وجہ سے مجھے پبلک ٹرانسپورٹ میں سفرکرنے کی روحانی اذیت سہنا پڑتی تھی، جب بہت سی گندی نظریں میرے وجود کو چھلنی کیا کرتی تھیں، میں بے قرار ہو کر یہ دعا مانگتی تھی کہ اے الله مجھے پھر کسی ایسی اذیت سے نہ گزارنا ، مجھے اس قابل کر دے کہ میرے پاس اپنی گاڑی  ہو۔ لیکن کیا یہ اس مسئلے کا حل تھا ؟ بے شمار لڑکیاں اور خواتین ہر روز صبح شام اس تکلیف سے گزرتی ہیں اور خاموش رہتی ہیں۔

کولون جرمنی کا دو سال قبل  کیا جانے والا سفر میری زندگی کا پہلا تنہا سفر تھا۔ یہاں پاکستان میں محفوظ خاندانی حصار میں رہتے ہوئے، میں تنہا سفر سے کچھ خوف زدہ  بھی تھی۔ ایک اجنبی ملک جہاں کی زبان بھی انجان ہو، بے شمار حفاظتی ہدایات کے ساتھ مجھے کراچی سے گھر والوں نے رخصت کیا تھا۔

انٹرنشنل اکادمی آف پیتھالوجی کی کانفرنس کا پہلی تقریب شام کو تھی، واپسی کے سفر میں شب کے نو بج چکے تھے، میرے ساتھ ٹرام سے ہوٹل تک سفر کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ میں کچھ گھبراہٹ میں ایک اسٹیشن پہلے اتر چکی تھی۔ جب ٹرام آگے بڑھ گئی تب احساس ہوا کہ یہ مطلوبہ اسٹاپ نہیں تھا۔ گھپ اندھیرا تھا اور اس خاموشی میں دور صرف ایک شخص بیٹھا، اپنے موبائل فون میں مصروف تھا۔ اچانک بارش برسنے لگی اور میں بھیگنے سے بچنے کے لیے  اسی شیلٹر کے نیچے چلی گئی، جہاں وہ شخص موجود تھا اور جس سے شدید خوف محسوس ہو رہا تھا۔ اس نے سر اٹھا کر مجھے دیکھنے کی زحمت بھی نہ کی۔ بہت ڈرتے ہوئے میں نے اس سے پوچھا کہ کیا وہ انگریزی جانتا ہے اور میری کچھ مددکر سکتا ہے۔

اس نے میپ کی مدد سے مجھے بتایا کہ میں ایک اسٹاپ پہلے اتر چکی ہوں اور یہ کہ اگلے سٹشن کی ٹرم آیا ہی چاہتی ہے۔ اس کی بے نیاز نظروں نے مجھے پھر سے بہادر بنا دیا تھا،  میں شکریہ کہہ کر آگے بڑھ چکی تھی۔

میں یہ نہیں کہتی کہ مغرب میں عورت محفوظ ہے، لیکن یقین جانیں وہ ہمارے شہروں اور دیہاتوں سے زیادہ محفوظ ضرور ہے۔کیوں؟ کیوں کہ وہاں کے مردوں کی آنکھوں میں مجھے وہ درندگی نہیں دکھائی دی، جو یہاں چلتے پھرتے یا ڈرائیو کرتے ہوئے یا دفتروں میں موجود لوگوں کی آنکھوں میں ہمہ وقت موجود ہوتی ہے۔ اس  کا سبب کیا ہے؟ کیوں ایک عورت گھر سے باہر پیر رکھتے ہوئے بے شمار خدشے ساتھ لیے نکلتی ہے؟ کیوں ایک ماں اپنے بچوں کو اسکول بھیجتے وقت دھڑکتے دل کے ساتھ آیت الکرسی کا حصار باندھ دیتی ہے؟  کیوں ایک نانی یا دادی بھری دوپہر میں بچوں کو گھر سے باہر نکلنے سےروکتی ہے؟ کیوں ایک باپ اپنی بیٹی کو کسی دوست کے گھر شب بسری کی اجازت نہیں دیتا؟

ہم جتنا بھی  انکار کریں، ہم درندوں کے درمیان زندہ ہیں، جنہوں نے ہمارے ہنستے بستے شہروں کو جنگل بنا دیا ہے۔ ہم اخلاق سے نابلد قوم میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ ہم بچوں کے جسموں کو روندنے والے سفاک وحشی ہیں، ہم انسانیت کے دشمن ہیں۔ درندے بھی اپنے گھروں پر حملہ نہیں کیا کرتے، ہمارا ان سے کیسا موازنہ؟

اسکولوں  اور یونیورسٹیوں میں علم کے ساتھ ساتھ اگر اخلاقیات بھی سکھائی جاتی تو آج شاید حالات  کسی حد تک مختلف ہوتے۔ پھر کوئی تیز رفتار ٹرالرکسی انسان کی جان نہ لیتا۔ پھر کوئی ڈاکٹر کسی مریض کو مرتے ہوئے نہ دیکھ پاتا۔ پھر کسی مرد کی نگاہ میں  درندگی یوں نہ ہوتی۔ پھر شاید کوئی زینب یوں مجروح نہ کی جاتی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here