عفاف اظہر

بچپن میں امی کی ایک دوست اپنا دکھ بانٹنے اکثر گھر آتی تھی .. قسمت کی ستم ظریفی کہہ لیجئے کہ انھیں میں نے ہمیشہ برے حال میں ہی دیکھا تھا۔ بلا ناغہ شرابی فارغ البال شوہر سے پٹنا۔ آئے دن گھر والوں سے رقم بٹورنے کے لئے نکھٹو بدمعاش شوہر سے بلیک میل ہونا۔ محلے بھر میں کپڑوں کی سلائی اور گھر کے کام کاج سے بچوں کو پالنا اور ساتھ ساتھ ہڈ حرام شوہر سے ہڈیاں تڑوانا اور مرہم پٹیاں کروانا ان کا معمول تھا۔ ایک دن امی سے پوچھ لیا کہ ایسا کیا دیکھا تھا انٹی کے گھر والوں نے اس مرد میں جو اپنی بیٹی یوں تل تل مرنے کے لئے اس سے بیاہ دی ؟ تو امی کا درد بھری آہ میں لپٹا روایتی سا جواب تھا کہ والدین بھی اور کیا کرتے؟انہوں نے تو استخارہ کروایا تھا کسی بزرگ سے اور خواب بھی بہت اچھی آیا تھا۔ اب آگے اس کی قسمت ہی ایسی ہو تو کوئی بھلا کیا کر سکتا ہے؟ نجانے کیوں مجھے اس بے شعوری کی عمر میں بھی ایک انسانی جان کی طرف اس رویہ میں اس طرح کی اجنبیت سے گھن آئی تھی۔

دن سالوں میں بدلے اور پھر وہ دن بھی اپنی انہی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ جب وہی آنٹی اپنی بیٹی کا رشتہ لئے استخارہ کروانے کسی بزرگ کو ڈھونڈتی پھرتی تھیں اور پھر ان کی بیٹی پر بھی ایسے ہی استخارہ الٹا پڑتے دیکھا تھا۔ بچپن سے شعور تک اپنے ارد گرد ، پڑھائی، امتحان، رشتے، نوکری الغرض یونہی عقیدت میں دھت انسانوں کو استخاروں کی انگلیوں پر زندگی بھر ناچتے ہی دیکھا۔ کسی نے اچھا خاصا دیکھا بھالا رشتہ استخارہ اچھا نہ آنے پر چھوڑ دیا تو کسی نے اسی استخارے کی بدولت بد ترین کو گلے لگا کر پھر عمر بھر اپنی قسمت کو کوسا اور زمین کے فیصلے آسمان پر ہوتے، زندوں کو یونہی مقدس مردوں کے ہاتھوں ان خوابوں ، بشارتوں کے زہریلے نوکیلے ہتھیاروں سے خوار ہوتے دیکھا

بالکل اسی طرح سرحد پار جب ایشوریہ رائے جیسی نامور شخصیت کی شادی طے ہونے کو تھی، تو یہاں کا روحانی ہتھیار استخارہ سرحد پار اپنی دھار بدل کر اپنا نام جنم کنڈلی رکھ لیتا ہے۔ابھیشک اور ایشوریہ کی جنم کنڈلی نہیں ملی، مطلب اب ان کی آپس میں شادی ہونا کوئی انہونی برپا کر سکتا تھااور اس انہونی کو ٹالنے کے لئے انہوں نے بھی یہاں کے حلالہ سے ملتا جلتا ایک نسخہ تجویز کیا، جو یہ تھا کہ پہلے ایشوریہ کی شادی ایک درخت سے کروا دی جائے لہٰذا اس ملکہ حسن کے ایک درخت کے گرد باقاعد ہ شادی کے پھیرے کروائے گئے۔ تمام تر انہونی کو بیچارے درخت کے سر مونڈہ کر دوسری شادی ابھشیک کے ساتھ دھوم دھام سے کر لی گئی۔ اب ذرا خود ہی اندازہ تو کرو اپنے خاندانوں، گھرانوں اور معاشرے میں انسانی جانوں سے ہوتے ان روحانی و آسمانی تماشوں کا۔

گویا تم ان کے لئے انسان نہیں بلکہ اس عقیدت کے ننگے بازار میں کٹھ پتلیوں کے تھیٹر لگے ہیں۔تم کوئی جیتے جاگتے انسان نہیں بلکہ انکی روحانی تسکین کے لئے محض ایک کھلونا ہو۔ یہاں صدیوں سے آج تک انسانی زندگیوں کے فیصلے آنکھ دیکھے مشاہدات، عقل، شعور کے تجربات یا پھر عمل سے نہیں بلکہ آسمانوں سے ٹپکتی مردوں کی بشارتوں ، خوابوں ، سے کروائے جاتے چلے آ رہے ہیں…. اور پھر بھی تم ورطہ حیرت میں ہو کہ یہاں کے ہر انسانی وجود کے دل و دماغ سے سکون و مسرت جیسی انمول شئے کیوں نا پید ہے؟

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here