عاطف توقیر

کہتے ہیں کسی جنگل میں ایک کینگرو ہر روز جنگل بھر کے جانوروں کو تنگ کرتا، کبھی کسی بچے سے کچھ چھین لیتا، کبھی کوئل کے انڈے اِدھر اُدھر کر دیتا، کبھی مگر مچھ کی دم کھینچ کر دوڑ جاتا، کبھی بندر کے بچے کو لات رسید کر کے چلتا بنتا اور کبھی کسی جگہ جانور جمع ہوتے تو وہ شور وغل مچا کر ساری تقریب کا بیڑا غرق کر دیتا۔ جنگل کے تمام جانور اس سے تنگ تھے اور جب رہا نہ گیا، تو سبھی بادشاہ سلامت ببر شیر کے پاس پہنچ گئے۔

طے یہ پایا کہ کینگرو کو قید کر دیا جائے گا۔ جنگل کے بیچ و بیچ ایک کمرہ تیار کیا گیا، تمام جانوروں نے مل کر کینگرو کو پکڑا اور اسے کمرے میں لا چھوڑا۔ مگر کینگرو کمرے سے فرار ہو کر پھر اپنی کارروائیاں مصروف ہو گیا اور جانوروں کی زندگیوں کو اور بھی زیادہ بری طرح متاثر کرنے لگا۔ جانور پھر جمع ہوئے اور طے پایا کہ شاید کینگرو اونچی چھلانگ لگا لیتا ہے، اس لیے کمرے کی دیواروں کو اور اونچا کر دیا جائے۔ کمرے کی دیواریں اور اونچی کر دی گئیں، کینگرو کو پھر پکڑا گیا اور اس کمرہ میں لا چھوڑا گیا۔ نتیجہ پھر بھی مختلف نہ نکلا، کینگرو پھر جنگل بھر میں آزاد پھرتا رہا اور جانوروں کو تنگ کرتا رہا۔ پھر دیواریں اور اونچی بنائی گئی، نتیجہ پھر وہی۔

جب دیواریں جنگل کے سب سے اونچے درخت سے بھی بلند ہو گئیں اور کینگرو اس کے باوجود اس کمرے سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا، تو آخرکار ببر شیر کے حکم پر اس کینگرو کو پکڑ کر دربار میں لایا گیا۔ ببر شیر نے پوچھا کہ تم اتنی بلند دیواروں کے باوجود کمرے سے کیسے نکل جاتے ہو، تو کینگرو نے حیرت زدہ انداز سے  پہلے تو ببر شیر اور تمام جانوروں کو دیکھا پھر کہا کہ تم دیواریں چاہے جتنی بھی اونچی بنا لو، جب تک دروازہ بند نہیں کرو گے میں فرار ہوتا رہوں گا۔

پاکستان کے مختلف علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشنز کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ ہم نے پچھے دس برسوں میں ملک کے مختلف علاقوں میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کے خاتمے کے لیے مختلف عسکری کارروائیوں کا آغاز کیا۔ مشرف نے آپریشن راہ راست شروع کیا، جنرل کیانی نے آپریشن راہ نجات، راحیل شریف نے ضرب عضب اور اب قمر باجوہ صاحب نے ردالفساد، یعنی ہر نئے جنرل کے دور میں ایک نیا آپریشن۔ ملکی فوج اور خفیہ اداروں کا ایک بہت بڑا حصہ ان عسکری کارروائیوں میں شامل ہے اور بار بار ہمیں سننے کو ملتا ہے کہ دہشت گردوں کے تمام تر نیٹ ورکس توڑے جا چکے ہیں اور وہ کسی بھی علاقے میں منظم نہیں ہیں، تاہم ان دہشت گردوں کی جانب سے اس کے باوجود کبھی کوئٹہ، کبھی سیہون، کبھی پشاور، کبھی چارسدہ اور کبھی کوئی اور شہر، قصبہ یا علاقہ، جامعہ یا بازار، مسجد یا گرجا، بس یا بس اڈہ نشانہ بنتے رہتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ ان تمام تر اقدامات اور پورے ملک میں دہشت گردی کے خلاف گزشتہ دس برسوں سے جاری عسکری آپریشنز کے باوجود دہشت گرد کس طرح اب تک موجود ہیں اور ہمارے شہریوں، پولیس اہلکاروں اور فوجیوں کو نشانہ بنا لیتے ہیں؟

جواب یہ ہے کہ ہم مسلسل دیواریں اونچی کرتے جا رہے ہیں اور کمرے کا دروازہ بند کرنا ہر بار بھول جاتے ہیں۔ دہشت گردی بیماری نہیں علامت ہے، دہشت گردی پروڈکٹ نہیں بائی پروڈکٹ ہے۔ اس کی جڑیں ہمارے معاشرے میں پھیلی شدت پسندی، جہالت، غربت اور انصاف کی عدم دستیابی تک جاتی ہیں۔ نصابی کتب میں مسخ شدہ تاریخ ہو یا مساجد کے لاؤڈ اسپیکروں سے دیگر مسالک اور مذاہب کے تیئں نفرت انگیز تقاریر، نوجوانوں میں بےروزگاری کی ہوش ربا شرح ہو یا نشریاتی اداروں پر بیٹھے مذہبی پنڈتوں کی جذباتی للکاریں، ہمارے ہاں شدت پسندی کو ہوا دینا اور جذباتی جملوں کے ذریعے مذہبی حساسیت کو استعمال کرنا ایک معمول بن چکا ہے۔

دہشت گردی کی اس بلا کو قابو میں لانے کے لیے اس کی جڑ توڑنے کی ضرورت ہے، جس پر کہیں کسی بھی سطح پر کوئی ٹھوس کام ہوتا نظر نہیں آتا۔

چینی رہنما ماؤزے تنگ نے کہا تھا کہ کوئی بھی گوریلا لڑائی اس وقت تک ختم نہیں ہوتی، جب تک گوریلا کے پاس چھپنے کی جگہیں موجود ہوں۔ مصیبت یہ ہے کہ ان دہشت گردوں کے پاس چھپنے کی جگہیں موجود ہیں اور فقط عسکری آپریشنز ان کا قلع قمع نہیں کر سکتے۔

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ شدت پسندی ایک بیانیے کی بنیاد ہو قائم ہوتی ہے اور اس کا رد بھی ایک بیانیے سے ممکن ہے۔ جب کوئی دہشت گرد واقعی کسی بیانیے کی بنیاد پر ہتھیار اٹھا لے اور دہشت گرد بن جائے، تو اس کے لیے واپسی کا راستہ نہیں ہوتا، مگر جب تک وہ شدت پسند ہے، اسے دوبارہ معمول کی زندگی کی طرف لوٹایا جا سکتا ہے اور اس کے لیے عسکری نہیں بلکہ فکری اقدامات کی ضرورت ہے۔

سوال یہ ہے کہ دنیا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری ہزار ہا قربانیوں کے باوجود کیوں ماننے کو تیار نہیں کہ ہم انسدادِ دہشت گردی کے لیے مخلص ہیں؟

جواب یہ ہے کہ دنیا کو نظر یہ آتا ہے کہ ہمارے ہاں شدت پسند عناصر بلاخوف و خطر دندناتے پھرتے ہیں۔ دنیا یہی دیکھ رہی ہے کہ ایک طرف تو ہماری افواج عسکری آپریشنز میں مصروف ہیں اور دوسری جانب شدت پسندی، جو دہشت گردوں کی بھرتی کی بنیاد ہے، بڑے آرام دہ طریقے سے کام کر رہی ہے۔ دنیا یہ دیکھتی ہے کہ حقوق کے لیے احتجاج کرنے والے ٹیچر ہوں یا سیاسی کارکنان، کسان ہوں یا طلبہ ان پر باآسانی لاٹھیاں اور ڈنڈے برسائے جا سکتے ہیں مگر دوسری طرف شدت پسند نظریات کے حامل افراد سے بات چیت ہوتی ہے، مذاکرات ہوتے ہیں، معاملے کو سلجھانے کے لیے ان کے مطالبات تک تسلیم کیے جاتے ہیں۔

دنیا یہ دیکھ رہی ہے کہ جمہوریت اور دستور کی بالادستی کے لیے آواز اٹھانے والے لاپتا ہو جاتے ہیں اور ان کا ماورائے عدالت قتل ہو جاتا ہے مگر دوسری جانب شدت پسند عناصر پوری ریاستی شہ کے ساتھ کبھی مولوی عزیز کی صورت میں ریاستی عمل داری کو بلا خوف چیلنج کرتے ہیں اور کبھی خادم رضوی کی صورت میں انہیں ریاستی عناصر کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے۔

دنیا یہ دیکھتی ہے کہ ایک ریاست جہاں کوئی فوجی جرنیلوں کے خلاف بات تک نہیں مر سکتا یا تنقید تک پر مارا جاتا ہے، دھمکایا جاتا ہے یا غائب کر دیا جاتا ہے، وہاں شدت پسند پوری طاقت کے ساتھ فرقہ ورانہ اور نفرت انگیز بیانات دیتے ہیں، جلسے کرتے ہیں اور انہیں روکنے والا کوئی نہیں۔

دنیا یہ سب دیکھ کر نہ ہماری قربانیوں کا اعتراف کرنے پر آمادہ ہوتی ہے اور نہ ہی دہشت گردی کے انسداد کے لیے ہمارے دعووں پر۔ جب تک ہم یہ سمجھنے کو تیار نہیں کہ ہمارا اصل مسئلہ دہشت گردی نہیں شدت پسندی ہے، اس وقت تک ہم چاہے جتنے عسکری آپریشنز کر لیں، دہشت گردوں کی کمر فقط 95 فیصد ہی ٹوٹے گی اور باقی کے پانچ فیصد ہماری گلیاں ہمارے ہی خون سے سرخ کرتے رہیں گے۔