مہناز اختر

خدا اور بندے کا تعلق انتہائی قریبی ہوتا ہے کہ درمیان میں کسی ایجنٹ  کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ میاں بیوی کے درمیان بھی اگر تیسرا شخص آجائے تو دونوں میں دوری یقینی ہے اور یہ دوری گھریلو نظام میں بگاڑ کا سبب بنتی ہے۔ اسی طرح  اگر صارف اور تاجر کے درمیان ایجنٹوں یا دلالوں کی تعداد بڑھنے لگے تو  دونوں کے باہمی روابط میں فاصلہ بڑھنے لگتا ہے اور مارکیٹ کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ بالکل ایسے ہی اگر کسی مذہبی معاشرے میں افراد اور خدا کے درمیان  دین کے غیر ضروری  ٹھیکے دار آجائیں تو  دین سے دوری، تصور خدا و دین سے متعلق غلط فہمیاں اور معاشرے میں بگاڑ پیدا ہونے لگتا ہے۔

رواں سال 2018  رمضان کے مہینے میں ہم پاکستانیوں نے خیرات و صدقات کرنے میں پچھلے تمام  ریکارڈ توڑ ڈالے۔ اس سال  رمضان المبارک کے دوران پاکستان میں خیرات کی جانے والی رقم کا حجم  173  بلین ہے ۔ شاید لوگوں کے لیے یہ اطلاع باعث فخر ہو مگر درحقیقت یہ  ہمارے لیے مقام فکر ہے کہ اس حد تک صدقات و خیرات کرنے والی قوم ٹیکس کیوں ادا نہیں کرتی، کیوں رشوت کو ہمارے یہاں عام سی بات سمجھا جاتا ہے ، کیوں سرمایہ دار پورا سال مزدوروں کا مالی استحصال کرتا ہے اور کیوں ہماری اشرافیہ سیاسی وابستگیوں کا فائدہ اٹھا کر بڑے بڑے قرضے معاف کروالیتی ہے ؟

اس سال بھی ملک کے سارے بڑے ٹی وی  چینلز پر رمضان ٹرانسمیشن کے بڑے بڑے سیٹ لگائے گئے ہیں اور اسپانسرز نے خزانوں کا منہ کھول دیا ہے۔ روزانہ عالم دین حضرات نفیس لباسوں میں ملبوس عوام کے سامنے جلوہ افروز ہوتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک دین کی سر بلندی ،تقوی اور اسوہ حسنہ کا درس دیتا دکھائی دے رہا ہے ۔ لیکن پھر بھی بہتری ہے کہ آکر ہی نہیں دیتی ، آخر وجہ کیا ہے ؟ وجہ یہ ہے کہ ان نام نہاد ریاکار علماؤں نے دین کو کاروبار بنا لیا ہے ۔ مسلکی اختلاف کا پرچار کرنا، بین المسالک اختلافات اور نفرت کو فروغ دینا ، لوگوں پر کفراور توہین مذہب و رسالت کے فتوے لگانا، خود کو پاکباز اور عوام کو فاسق گناہ گار ٹہرانا ، اشرافیہ کے تلوے چاٹنا اور غریب کو رسوا کرنا  اس مذہبی اشرافیہ کا شیوہ بن چکا ہے اور آج کل یہ کام منبر و محراب کے ساتھ ساتھ TV  چینلز کے ذریعے بھی کیا جارہا ہے ۔ آپ کو شاید میری بات ناگوار گزرے مگر علماء حق کا میدان عمل سے غائب ہوجانا بھی اس مذہبی اشرافیہ کا ساتھ دینے جیسا عمل ہے۔

میں شروع رمضان سے ہی ٹی وی چینلز اور خصوصاً  BOL  چینل پر ہونے والے رمضان ڈرامے کا خاموشی سے مشاہدہ کررہی تھی مگر گزشتہ ہفتے جب کراچی سمیت پورا سندھ شدید گرمی کی لپیٹ میں تھا تب BOL  چینل پر کسی کالر نے اس چینل پر موجود نام نہاد علماؤں سے درخواست کی کہ یہ اللہ کا عذاب  ہے کہ قدرتی آفات اور گرمی کی شدت میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے لہذا آپ حضرات اس سلسلے میں دعا فرمادیں۔ یہی وہ لمحہ تھا جب میں نے خود سے کچھ سوالات کیئے  اور انکے جوابات تلاش کرنے کی کوشش کی، ان میں سے  چند سوالات پیش خدمت ہیں۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ

1۔اتنے بڑے پیمانے پر صدقات و خیرات کرنے والے ملک میں اتنی غربت کیوں ہے؟

2۔ دن بہ دن ہمارے یہاں مساجد اور مدارس کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے باوجود اسکے  ہم بحیثیت معاشرہ اخلاقی لحاظ سے  زوال پذیر کیوں ہیں ؟

3۔ آج پاکستان میں آپکو ہر دوسرا شخص مذہبی اور تیسرا شخص باعمل مسلمان نظر آئے گا ، لیکن کیا ہم واقعی مذہبی ہیں؟

4۔ حکومت، افواج ،عدلیہ ،میڈیا  اور کارپوریٹس سارے ہی ایڑی چوٹی کا زور لگا کر پاکستانیوں کو “اچھا مسلمان” بنانے اور مذہبی اشرافیہ کے ہاتھ مضبوط کرنے میں مصروف ہیں لیکن کیا آپ پاکستانی معاشرے پر کسی بھی مثبت رجحان کا اثر دیکھ رہے ہیں؟

5۔ آج پاکستان کا سب بڑا مسئلہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ ، بارشوں کے نظام میں تبدیلی  اور آبی ذخائر میں دن بدن کمی واقع ہونا ہے۔ عوام درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے بدحال نظر آتی ہے ۔ لیکن کیا آپ نے کبھی ان نام نہاد علماؤں کو  گلوبل وارمنگ، شجر کاری، عوامی مقامات پر شیڈز اور واٹر کولزر کی تنصیب کے حوالے سے کوئی مہم چلاتے یا حکومت کو سرزنش کرتے دیکھا ہے؟ جس دین میں پیاسے کتے کو پانی پلانے پر جنت کی بشارت دی گئی ہوجہاں درخت لگانا باعث ثواب  اور بلاوجہ درخت کاٹنا  گناہ تصور کیا جاتا ہو وہاں دین کی سربلندی کے لیے انکا سارا زور “قتال” پر ہوتا ہے  لیکن کیا سبز انقلاب جو وقت کی اہم ضرورت ہے اس پر ان میں سے کسی کو بات کرتے دیکھا ہے؟

6۔  دین اسلام میں نصف ایمان صفائی میں پنہاں ہے مگر شرم کی بات ہے کہ “اسلام کا قلعہ” پاکستان میں ابلتے ہوئے گٹر، اور کچرے کے ڈھیر جا بجا دکھائی دیتے ہیں ۔ ایسے میں کیا آپ نے کبھی ان نام نہاد علماؤں کو حکومت کے ساتھ مل کر اپنے رضاکاروں کی مدد سے کسی صفائی اور اس سے متعلق آگاہی کی مہم میں آگے آکر منبر و محراب کا استعمال کرتے ہوئے اس کار خیر کو انجام دیتے ہوئے دیکھا ہے؟

7۔ ہمیں کہا گیا  ہے کہ “غربت سے پناہ مانگو یہ گناہ اور جرائم کا  سبب بنتی ہے” کیا آپ نے کبھی ان نام نہاد علماؤں کو بڑھتی ہوئی غربت، مہنگائی اور بے روزگاری پر حکومت کو سرزنش کرتے  یا مہم چلاتے دیکھا ہے؟

8۔ دین اسلام کی ہر عبادت ضبط و تنظیم سے عبارت ہے تو پھر ہم بحیثیت قوم  قطار میں کھڑے ہونے سے لے کر ہر معاملے میں افراتفری اور بھیڑ چال کا شکار کیوں رہتے ہیں؟

9۔ ہمارا دین ہمیں ناپ تول میں کمی اور سود پر عذاب کی وعیدیں سناتا ہے مگر اسلامی جمہوریہ پاکستان  ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی، جھوٹی خوبیاں بتا کر غیر معیاری مال بیچنا اور زائد منافع کمانے  میں سب سے آگے کیوں ہے؟

10۔ کیا آپ نے کبھی منبر و محراب سے بندہ مزدور کے مزدوری کے اوقات ، انکی مجبوریوں ، انکی مفلسی کے حوالے سے کوئی آواز یا حکومت وقت کے لیے  انکی طرف سے کؤئی للکار سنی ہے؟

11۔ کیا آپ نے کبھی انہیں اسکولز، کالجز اور یونیورسٹیز کے قیام اور سائنسی تعلیم کی اہمیت کے حوالے سے بات کرتے دیکھا ہے؟

سوالات کی اس لمبی فہرست کو پڑھنے کے بعد آپ کو یقیناً یہ خیال آیا ہوگا کہ ان تمام برائیوں کے پیچھے قوم کی اجتماعی غفلت اور بے حسی ہے مگر میری رائے میں  ہماری تربیت کے  ادارے قوم کی تربیت میں مکمل طور پر ناکام نظر آتے ہیں ۔ آج کے  علمائے کرام  کی اکثریت  بے عمل اور عصری علوم سے ناآشنا ہے ۔ جسکی وجہ سے ان میں عصری مسائل کی  سمجھ کا فقدان ہے۔ یہ عصری مسائل کو اللہ کا عذاب  بتا کر قوم کو جہالت اور بے عملی کی طرف راغب کررہے ہیں۔  یہ لوگ آپ کو دن رات قرون اولیٰ و وسطیٰ کے قصّے سنا سنا کر آپ کا دھیان آج کے عصری مسائل سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ کہنے کو تو ہمارا ملک اسلام کا قلعہ ہے لیکن یہ قلعہ اسلام کی روح سے خالی ہے ۔اسکی وجہ یہ ہے کہ ہم ایک نام نہاد ظاہر پرست مذہبی قوم ہیں جسکی ڈوریاں نام نہاد فرقہ پرست مولویوں کےہاتھوں میں ہے۔ یہ جب چاہیں ہمیں اشتعال دلا کر کسی کے قتل یا عبادت گاہوں کی توڑ پھوڑ پر تو آمادہ کرسکتے ہیں مگر کسی تعمیری فکر کے لیے قوم کی تربیت کرنا ان کے بس کی بات نہیں۔