شیزا نذیر

بچپن میں جب بھی کسی خواجہ سرا کو دیکھ لیتی تو ڈر جاتی تھی۔ میں نے کبھی اپنے اس خوف کے بارے میں کسی کو نہیں بتایا تھا۔ میں نہیں جانتی کہ ایسا کیوں ہوتا تھا حالانکہ کہ میرے گھر میں بچوں کو کسی قسم کا خوف دلا کر ڈرایا نہیں جاتا تھا کہ یہ نہ کرو ورنہ بابا یا پھر دولے شاہ کے چوہے اٹھا کر لے جائیں گے اور نہ ہی کبھی خواجہ سراہوں کے بارے میں اس قسم کی بات کی جاتی تھی۔ لیکن جب میں ٹین ایج میں آئی تو خواجہ سراہوں سے خوف کی جگہ تجسس نے لے لی۔

اِسی دوران کسی میگزین میں ایک فیچر پڑھا جو کسی طلبہ نے خواجہ سراہوں کی زندگی پر لکھا تھا۔ یہ پڑھ کر میں پہلی بار ان کی تکلیف کو جان سکی۔ ورنہ اُس سے پہلے تو یہی تاثر تھا کہ یہ دوسروں کو انٹرٹین کرنے والے لوگ اپنی زندگی میں بہت خوش ہوتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں یہ انسان ادھوری زندگی گزارتے ہیں۔ خواندہ ماں باپ بھی ان کواپنانے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ یہ ایک گھریلو زندگی گزانے کے متمنی ہوتے ہیں لیکن ایسا ممکن نہیں ہے۔ اس لئے یہ اپنے گرو خواجہ سرا کو ماں کہتے ہیں۔

گرو خواجہ سرا ایک گھر کا ماحول بنتا ہے، جس میں تہوار منانے کے ساتھ ساتھ شادیاں بھی ہوتی ہیں اور شادی کے بعد بچے بھی لیکن بچے کیسے؟ جی ہاں گھریلو لائف کا مکمل ڈرامہ کیا جاتا ہے کہ کسی نومولود خواجہ سرا کو جیسے اُس کے والدین یہاں چھوڑ جاتے ہیں اُس کی پرورش کی جاتی ہے۔ آپ اس قسم کی زندگی کے بارے میں آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ ’’یہ تو خدا کی طرف سے لعنت ہے کیسی بیہودہ زندگی گزارتے ہیں یہ لوگ۔‘‘

لیکن ایک بار اپنے بارے میں تصور کریں کہ آپ کے والدین نے آپ کو گھر سے نکال دیا ہے، آپ کے بہن بھائی آپ سے بات تو دُور کی بات اگر آپ کو دیکھ لیں تو سات گلیاں بدل لیں۔

تعلیم کے دوران بس اسٹاپ پر میری نظر ایک خواجہ سرا پر پڑی جو سواریوں کے آگے بغیر بولے ہاتھ پھیلا دیتا۔ کوئی بخشش دیتا تو ٹھیک ورنہ خاموشی سے لنگڑاتا ہوا آگے بڑھ جاتا۔ ایک دن میں نے بھی اسے بخشش دی تو اس کا معمول بن گیا کہ جب بھی وین اس اسٹاپ پر کھڑی ہوتی تو وہ سیدھا میری طرف آتا، ہاتھ پھیلاتا اور بخشش لے کر لنگڑاتا ہوا چلا جاتا۔ ایک دن ایک آنٹی نے مجھے کہا کہ اگر میں ایسے لوگوں کو بخشش دیتی ہوں تو ان کے ساتھ گناہ میں شریک ہوں۔

میں اس بات پر حیران تھی کہ کیسا گناہ؟ یہ گناہ کہ وہ اپنے پیٹ کا دوخ بھرنے کے لیے ناچ گانا کرتے ہیں کیونکہ ان کے ساتھ تو کوئی اسٹاپ پر کھڑا ہونا پسند نہیں کرتا، پبلک ٹرانسپورٹ میں ان کے ساتھ بیٹھنا گوارا نہیں تو نوکری کون دے ان کو؟ ایک خواجہ سرا جو قوت گویائی سے محروم ہے، ناجانے کس وجہ سے پاوں کٹ گیا کہ اب تو وہ ناچ بھی نہیں سکتا اور اس کو بخشش دینے والوں کو بھی منع کیا جا رہا ہے۔ ایسے گناہ میں تو میں خوشی خوشی شریک ہو جاوٴں۔

پچھلے دنوں ایک دوست حسن تیمور نے بتایا کہ کوہ نور ٹی وی پر وہ ایک بولڈ قدم اُٹھا رہے ہیں کہ ایک خواجہ سرا بنام معاویہ ملک نیوز اینکرنگ کریں گے۔ اس کے ساتھ ’’راستہ دو‘‘ کے عنوان سے ایک ہش ٹیگ بھی بنایا گیا ہے۔ ایک بہترین قدم اٹھانے پر میں کوہ نور چینل کو سلام پیش کرتی ہوں۔ خدا ہم سب کو توفیق دے کہ ہم معاشرے کے اس نظر انداز ہونے والے طبقے کو ترقی کے لئے راستہ دے سکیں۔

(مصنف نے اس مضمون میں ٹرانس جینڈرز کے لیے خواجہ سرا کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، تاہم اسے ہتک آمیز نہ سمجھا جائے۔ اردو میں ٹرانسجینڈر افراد کے لیے ہیِجڑا اور کھُسرا جیسے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم معاشرتی سطح پر انہیں گالی بنا دیا گیا ہے اور اسی تناظر میں خواجہ سرا کے لفظ کا استعمال کیا گیا ہے۔ متبادل ٹیم)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here