ڈاکٹر نازش امین، کراچی

 جیسے جیسے میرے قدم ان بند گلیوں سے گزرتے  ہوئے اس کے گھر کے نزدیک ہوتے جاتے  تھے، ویسے ویسے ڈھول کی تھاپ اونچی ہوتی جا رہی تھی، یوں لگتا تھا گویا ڈھول کی اس تھاپ کے ساتھ  دل کی دھڑکن بڑھتی جا رہی ہو۔  

 میں سر جھکائے بہت افسردہ سی ان تنگ اور کیچڑ آلود گلیوں سے گزرتی  جاتی تھی۔ ہماری رہنمائی کے لیے دو ڈاکٹر صاحبان   آگے آگے چل رہے تھے۔ 

ایک سال قبل تک میں نے اپنے ڈپارٹمنٹ میں اسے روز دیکھا۔ وہ جناح ہسپتال کے ایک  ذیلی ادارے میں خاکروب تھی۔ 

جب بھی کسی ایمرجنسی میں صفائی ستھرائی کی ضرورت ہوتی ہم شیوانی کو آواز دیا  کرتے تھے۔ کبھی چپ چاپ اور کبھی ناز نخرے دکھاتی وہ ہمارا کام کر  ہی دیا کرتی۔ یہ وہ زمانہ تھا، جب ہم وہاں اپنی پوسٹ گریجویشن کی تربیت  لے رہے تھے۔  

 ہر وقت گھٹکا پان اس کے منہ میں موجود ہوتا۔ ایک روز وہ ای این ٹی کی او پی  ڈی سے واپس آئی تو کافی پریشان تھی۔ ڈاکٹر نے اسے بتایا تھا کہ اسے پان اور گھٹکا کھانے کی وجہ سے Oral Submucous Fibrosis

ہو گئی ہے۔ یہ ایک ایسی بیماری ہوتی ہے، جس میں زبان کے نچلے حصّے میں خاص طور پر اور زبان کےآس  پاس کے حصّوں میں فائبروسس ہو جاتی ہے یعنی کہ وہ حصے سخت ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور ایک وقت آتا ہے کہ منہ کھلنے سے ہی قاصر ہو جاتا ہے۔ اس بیماری کی اہم وجہ پان، سپاری اور گھٹکے کا استمعال ہے۔ تحقیق سے یہ  بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس  بیماری میں  پاکستان اور ہندوستان میں  بہت تیزی سے اضافہ  ہو رہا ہے۔ ہم نے شیوانی کو بہت سمجھایا کہ اسے اپنی اس عادت سے نجات حاصل کرنی چاہیے۔ اپنا نہیں تو اپنے چھوٹے بچوں کا ہی خیال ہونا چاہیے اسے۔

مگر اس نے پان کھانا نہیں چھوڑا، نہ اس کے اپنے شوہر سے لڑائی جھگڑے ختم ہوئے۔ محبت کی شادی کے باوجود کوئی دن ایسا نہیں جاتا تھا کہ جب ان کے گھر میں جھگڑا نہ ہوتا ہو۔ وجہ کبھی ساس کا ظلم ہوتا تو کبھی شوہر کی بے مروتی۔

عورت بے وقوف ہوتی ہے، وہ یہی سمجھتی ہے کہ شادی کے بعد بھی زندگی وہی رہے گی، جو شادی سے پہلے ہوتی ہے، ایک یوٹوپیا ہوتا ہے، جہاں زندگی میں سوائے محبت، خوشبو ، رنگوں اور خوشی کے علاوہ کچھ اور ہوتا ہی نہیں۔ بڑی تکلیف ہوتی ہے، جب یہ خیالوں کی خوبصورت دنیا اپنا اصلی چہرہ دکھاتی ہے۔ انسان کبھی کبھی زندگی سے بھی خوفزدہ ہو جاتا ہے۔ رشتوں کے چہرے بدل لینے کا دکھ کچھ کم تو نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ ان تلخیوں کو اپنے اندر جذب کرکے پتھر بن جاتے ہیں، کچھ  اپنے ظاہر کو خوبصورت شکل دے کر دوسروں کو ان دکھوں سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں، کچھ زندگی سے مایوس ہو کر یا تو ڈپریشن کے مریض بن جاتے ہیں یا پھر کچھ سر پھرے زندگی سے بھاگنے  کے لیے اس سے جان چھڑانے کے طریقے آزمانے لگتے ہیں۔ 

شیوانی بھی ان بزدلوں میں سے تھی، جو زندگی سے اپنا چہرہ ہمیشہ کے لیے چھپا لینا چاہتے ہیں۔ اس نے نیند کی گولیاں کھا کر ہمیشگی کی نیند سو جانے کی کوشش کی۔ اس کی قسمت تھی کہ اسے بچا لیا گیا، کیوں کہ وہ ہسپتال سے متصل کالونی کے ایک چھوٹے سے کمرہ نما گھر میں رہتی تھی، اس لیے بر وقت طبی امداد ملنے پر وہ نہ چاہتے ہوئے بھی زندگی کی طرف واپس لوٹ آئی۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم اپنی پوسٹ گریجویشن تربیت مکمل کر کے جناح ہسپتال سے فارغ ہو چکے تھے کہ ایک دن اطلا ع  ملی کہ شیوانی مر گئی۔ 

میں اپنی جگہ پر سن ہو کر بیٹھی رہی، ابھی تو اس کے بچے بہت چھوٹے تھے، ابھی اس کی عمر ہی کیا تھی۔ مجھے اس کی وہ بیماری یاد آئی جو اسے گھٹکا کھانے کی وجہ سے ہو گئی تھی۔ کیا اسے منہ یا گلے کا سرطان ہو گیا تھا؟ ایک پتھولوجسٹ ہونے کے ناطے پہلی سوچ یہ ہو سکتی تھی۔

مگر معلوم ہوا کے ہر روز کی طرح اس روز بھی اس کے شوہر سے اس کا جھگڑا ہوا تھا اور اس نے نا  امیدی کے عالم میں پنکھے سے لٹک کر اپنی جان دے دی تھی۔

ہم جیسے جیسے اس کے گھرکے  نزدیک ہوتے  جاتے تھے ڈھول کی آواز بلند ہوتی جاتی  تھی۔ میں اس کو مردہ حالت میں کیسے دیکھ پاتی کہ میں نے ہمیشہ اس کو مسکراتے، ہنستےاور  شور مچاتے ہوئے دیکھا تھا۔ خاموش شیوانی کیسی  دکھائی  دیتی؟

ایک چھوٹے سے کمرہ نما گھر کے آگے آ کر ہم ٹھہر گئے، ہم خواتین اندر داخل ہوئیں، کمرے میں رکھی اکلوتی چارپائی پر دلہن بنی شیوا لیٹی  ہوئی تھی۔ وہ رخصت ہو کر اپنے نیے  سفر پر نکل چکی تھی۔ اس کے چہرے پر بلا کا سکون  تھا۔ شاید دنیا کے غموں نے واقعی اسےتھکا  دیا تھا، چارپائی کے سرہانے بیٹھا اس کا چھوٹا بچا اپنی ماں کے جاگنے کا منتظر تھا، جس نے اب کبھی نہیں جاگنا تھا۔ 

 کیا یہ پان اور گھٹکے کی  بری عادت تھی ، یا ساس کا بے حساب ظلم جس نے شیوانی کو یہ فیصلہ لینے پر مجبور کیا تھا ؟ یا محبت کی شادی کر کے اسے اپنے گھر میں اس کا جائز مقام نہ دلوا سکنے والے اس کے شوہر کی بے رخی  تھی جس نے اسے نا امیدی کی آخری سیڑھی پر لا کھڑا کیا تھا ؟ کس کے پاس جواب تھا؟ 

میں تو صرف اتنا جانتی ہوں، عورت کو کچھ اور نہ ملے صرف اس کا مقام اور تھوڑی سی محبت مل جائے ، وہ کبھی اپنے معصوم  بچوں کو چھوڑ کر اس دنیا سے دور ہونے کی کوشش نہیں کرے گی۔

1 COMMENT

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here