محمد نعیم

منظور سیدھی بات کرتا ہے۔ سیدھا سا مطالبہ۔ مشکل بات آسان لفظوں میں۔ منظور کہتا ہے کہ ریاست اسے تحفظ دے۔ گھر کا تحفظ، زندگی کاتحفظ، تعلیم کا تحفظ، آزادی سے سانس لینے کا تحفظ، آزادی سے بات کر نے کا تحفظ۔

منظور کے سوال سادہ ہیں۔ منظور اپنے خانوادے کے گمشدہ لوگوں کی گم نامی کی وجہ پوچھتا ہے۔ منظور ریاست کے بے نام عقوبت خانوں میں دھرے ہزاروں پشتونوں کی گمشدگی کا جواب مانگتا ہے۔منظور ریاست سے پشتوتون کی شناخت تار تار کرنے جواب چاہتا ہے۔ ایک عشرے پر محیط وہ ننھی پشتون نسلیں جو درس گاہ کا دروازہ تک نہ دیکھ سکیں ان کی محرومیوں کا ازالہ چاہتا ہے۔ اپنی مسمار دھرتی پہ جمے بے گوروکفن خون کا حساب چاہتا ہے۔ وہ چاردیواری جو تلاشی کے نام پر ڈھا دی گئی اور لوگ اٹھا لئے گئے ان کی واپسی کا انتظار ہے منظور کو۔

پنجاب میں نقیب اللہ جیسے ہزاروں پشتونوں کو دہشت گرد قرار دے کر ان کو جعلی مقابلوں میں مارنے کا جواب چاہتاہے۔ جس جنگ کی نفی منظور کے بڑوں نے کی، باچا خان نے کی، اسے جہاد کے غلاف میں اوڑھ کر پشتونوں کی دھر تی پہ کیوں مسلط کیا گیا، منظور یہی تو پوچھتا ہے۔

کچھ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ منظور کا لہجہ کڑوا ہے۔علی وزیر کے بھائی قتل ہوئے۔ ایک نہیں، دو نہیں، تین نہیں ، چودہ لاشیں یکے بعد دیگرے علی وزیر کے کمزور کندھوں نے لحد میں اتاریں۔ شاید آپ نے پشاور اور سوات کا جلسہ دیکھا نہیں اور اگر دیکھا ہے اور دل رویا نہیں تو مبارک ہو۔ لفظ انسانیت سے ناآشنا ہو چکے آپ۔

پشاور جلسے میں آنے والی ایک دس سالہ بچی اپنے کم سن بھائی کو لاغر کندھوں پر اٹھائے کہتی ہم اسکول نہیں جاتے کیونکہ ہمیں اسکول چھوڑنے والے بابا صدیوں سے گھر لوٹے نہیں۔ ایک دکھیاری ماں پانچ لاپتہ بیٹوں کے پوسٹر لئے اپنے جگر گوشوں کی منتظر ہے آج تک ۔ایک بوڑھا باپ موتیے بھری آنکھوں میں اپنے جوان بیٹے کا چہرہ سجائے اسی امید سے منظور کو سنتا اور دیکھتا ہے کہ شاید منظور کی زبان سے بہتا دکھ ہی زمیں پر بسے خداؤں کے دل پگلا ڈالے۔ سکے کا رخ بدلئیےحضور، سکے کا رخ بدلئیے اب۔منظور کالہجہ نہیں مگر باتیں ضرور کڑویں ہیں کیو نکہ حقیقت پر مبنی ہیں۔ آئی ڈی پیز پر کیا گزری۔ بھاری کپڑے کی دو گز چھترویوں میں زندگی کیسے گزرتی رہی۔

بچے صبح اسکول جاتے ہیں تو جماعت ملبہ کیسے بنی ۔گھر ڈھونڈیں تو اینٹوں کی کچھ سطریں اور سو کھی ہوئی مٹی ملتی ہے۔بچہ بڑا ہوکر ماں سے اپنے والد کے گمنام وجود کا استفسار کرے تو جواب آۓ کہ بیچنے والے تیرے باپ کو امریکی ڈالروں کے عوض بیچ آئے۔نقیب اللہ کی بیوہ اپنے کم سن بیٹوں کو کیا بتائے کہ ان کا بابا گمنام راہوں میں کیسے مارا گیا۔ بیوہ گمشدہ خاوند کے لئے عدالت جائے تو جواب ملے تمھارے پاس تو وطن کارڈ ہے، یہ قاضی تو یہاں صرف شناختی کارڈ والوں کے ملازم ہیں۔

وہاں میران شاہ میں عالم زیب فوجی بمباری کی بھینٹ چڑھنے والے باپ کی قبر پر مٹی ملتا ہے یہاں اخباری بتاتے ہیں کہ فوجی اداروں نے ایک دہشت گردجہنم واصل کر دیا۔جناب آپ نے صرف اخباروں اور رنگ برنگے پردوں پر من گھڑت باتیں سنی ہیں اور منظور پر بیتاہے یہ دکھ تو اس لئیے ذرا سی تلخی ہے۔

منظور جو کہتا ہے ، قارئین کے سامنے رکھتا ہوں، میری پکڑ کیجیے،اگر اس میں کچھ غلط ہو۔

منظور کہتا ہے کہ پشتون لسانی تعصب کا نشانہ بنے۔ ایک ہی وطن کے دو شہری ہیں ، ایک شنا ختی کارڈ دکھا کر آزادی سے گھومے اور نقیب اللہ وطن کارڈ کی آڑ میں مارا جائے تو آپ ہی بتائیے منظور غلط کہتا ہے؟ منظور کہتا ہے کہ دہشت گردی کے آڑمیں پشتون شناخت لہو لہان ہوئی؟ ایک کی ملک کے دو باشندے ہیں، ایک کے لئے اس کا ثفافتی لباس اس کے سر کا شملہ اور دوسری طرف پشتونوں کا لباس شیشے کے خانوں میں بند کر کے ہر چوکی پہ ٹانک دیا جائے تاکہ دہشت گرد کا فرق کرنے میں مزید آسانی ہو تو بتائیے منظور غلط کہتا ہے؟

منظور کہتا ہے ریاست ہمارے بچوں کو سوتیلا سمجھتی ہے۔ ایک ہی ملک کے دو بچے ہیں۔ آرمی پبلک سکول میں دھماکہ ہو تو پوری قوم ماتم کناں ، دوسری طرف میران شاہ میں فوجی بارود پھٹنے سے تیرہ سالہ عصمت خان مارا جائے تو ملحقہ نقصان (Collateral Damage)، بتائیے منظور غلط کہتا ہے؟۔۔۔منظور کہتا ہے ریاست کی نظر میں پشتون کا خون ارزاں ہے۔ ایک ہی دیس کے دو باسی ہیں۔ ایک طرف تو وانا کا علی وزیر ہتھکڑیاں پہن کر اپنے پیاروں کو لحد میں اتارے اور دوسری طرف نقیب اللہ کا قاتل راؤ انوار قانون اور عدالت کے منہ پر طمانچے رسید کرتاحفاظتی گاڑیوں میں کمرۂ عدالت سے بھاگ نکلے، آپ ہی بتائیے منظور غلط کہتا ہے؟ گناہ کافی ہیں ،آئینہ دیکھ کر برا تو لگے گا۔

ریاست آخر کتنی آوازیں دبائیں گی ؟کتنے مشرانوں کے سر کاٹیں گی۔ منظور جیسے کتنے مزید نوجوانوں کو غدار اور ایجنٹ کہ کر چپ کرا دیں گی۔عمار جان جیسے سچ پرست آوازوں کو کب تک خاموش رہنا ہوگا؟ کب تک جامعات میں آزادئ رائے پر ہاتھ ڈالا جاتا رہے گا؟ کب تک نشریاتی اداروں کو اس آئینِ زباں بندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کب تک عصمت شاہ جہاں جیسی وطن کی بیٹیوں کو زندان جانا ہو گا۔ اگر یہی کرنا ہے تو آئین میں موجود آزادئ رائے اور تحفظ جیسی شکوں کو اتار کر انھیں ٹوکری میں کیوں نہیں ڈال دیتے۔ ریاست میں بسنے والا شہری ریاست سے کہیں ذیادہ قیمتی اور ضروری ہے۔ ریاست نہیں بلکہ “شہری” صاحب۔

عمر خدر کی عمر صرف سولہ ہوتی ہے۔ امریکہ کی عدالت میں اعتراف جرم کرتا ہے کہ اس نے اپنے باپ کے کہنے پر ،جو القاعدہ کا سرگرم رکن تھا، امریکی فوجی پر گرنیڈ پھینکا جس سے امریکی فوجی کی موت ہوئی۔امریکہ سولہ سالہ عمر کو دس سال بدنامِ زمانہ جیل گوانتا ناموبے میں رکھتاہے۔عمر پر بد ترین ظلم کیا جاتا ہے۔ دس سال بعد اسے یہ کہ کر چھوڑ دیا جاتا ہے کہ جرم کرتے وقت وہ کم سن تھا جو کہ چائلڈ سولجر کے زمرے میں آتا ہے اس لئے اس کا جرم قابلِ معافی ہے۔عمر خدر اپنے ملک کینیڈ ا واپس لوٹتا ہے اور کینٹدا کی حکومت کو عدالت لے جاتا ہے۔ کیوں ؟ کیونکہ کینیڈین حکومت نے کینیڈا کے آزادی اور حقوق کے چارٹر کے مطابق عمر کو امریکہ کے حوالے کرکے اس کے بنیادی شہری حق کی پامالی کی۔ عمر کو امریکہ کے حوالے کیوں کیا گیا؟ شہر شہر احتجاج ہوتا ہے کہ کینڈا اپنے شہری کے حقوق کے بارے اتنا بے بس کیوں ہے۔ کوئی عمر کو غدار وطن نہیں کہتا ۔کوئی نہیں کہتا تم وطن توڑنا چاہتے ہو۔ عمر نے پچھلے سال عدالت میں کیس جیت جاتا۔ وز یرِ اعظم جسٹن ٹروڈو نے معافی مانگی عمر اور کہا کہ ریاست عمر کے کیس کے سلسلےمیں اپنی ذمہ داریاں کرنے میں نا کام رہی اور شرمندہ ہے اس پر۔ یہی نہیں عمر کو حکومت نے دس ملین ڈالر ہرجانہ بھی ادا کیا۔

ستم ظریفی دیکھئیے کہ وہ حق جس کی پامالی پر ریاست کو منظور اور اس کے پشتون بھائیوں معافی مانگنی چاہیئے تھی، اسی حق کی یاددہانی کے لیئے منظور کو دربدر ہونا پڑ رہا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here