عاطف توقیر

 

چھوٹی سی بچی زینب کی خوب صورت آنکھوں اور معصوم چہرے والی تصویر اور ساتھ ہی ایک کوڑے کے ڈھیر پر پڑی اسی زینب کا مرد جسم ہم جیسے مردہ ضمیر لوگوں کے دلوں کی دھڑکن تیز اور جسم میں ایک کرب ناک ٹیس اٹھانے کے لیے کافی تھا۔ سوشل میڈیا پر یہ تصاویر اچانک ہی گردش کرنے لگیں اور پھر چند ہی گھنٹوں میں پاکستان بھر کے قریب ہر سوشل میڈیا صارف تک نہ صرف اس مظلوم اور معصوم بچی کی یہ تصاویر پہنچ گئیں بلکہ اس کے ساتھ پیش آنے والے اس بھیانک سانحے کی خبر بھی زباں زدعام ہو گئی۔

شور اس قدر تھا کہ روایاتی میڈیا کو فورا اس جلتے انگارے کے شعلوں سے پیسے بنانے کی سوجھی اور پھر شام کو ہر ٹی وی چینل پر دکان لگانے والوں نے بھی اپنی اپنی دکانوں پر دکھوں کے گجرے سجا کر چہروں پر افسردگی طاری کر لی۔ اس طرح اس بچی کے قتل پر میڈیا نے پیسے تو بنا لیے مگر کم از کم اس شور سے ہمارے آرام دہ بستروں میں سوتے حکم رانوں کو بھی عوامی دباؤ کے سامنے اپنی خواب گاہیں چھوڑنا پڑیں۔ وزیراعلیٰ  صاحب نہایت دکھ چہرے پر سجائے قصور میں متاثرہ خاندان کے گھر پہنچ گئے اور انتظامیہ بھی حرکت میں آگئی، سپہ سالار نے بھی اپنی مدد کا یقین دلادیا اور سپریم کورٹ نے بھی ازخود نوٹس لے لیا۔ اپوزیشن کے سیاست دانوں نے موقع غنیمت سمجھ کر سیاسی دکان کھول لی اور ہر انداز سے اس سے اپناُ فائدہ لینے کا بندوبست کر لیا۔ 

پولیس نے ڈی این اے ٹیسٹ کیے تو معلوم چلا کہ یہی ڈی این اے اس سے قبل ایسے ہی واقعات کی شکار ہونے والی دیگرمعصوم بچیوں کے جسموں پر بھی موجود تھا۔ مگر اس سے پہلے زینب جیسی ہی ہماری بیٹیوں اور بہنوں کی سوشل میڈیا پر تصاویر وائرل نہیں ہوئی تھیں اور نہ ہی روایتی میڈیا کی دکانوں پر وہ دکھ سجا کر بیچے گئے تھے۔ ان بچیوں کے لیے نہ وزیراعلیٰ صاحب کی خواب گاہ میں دہائی ہوئی، نہ سپہ سالار صاحب کی مدد کے فون آن پہنچے اور نہ سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا۔ وہ بچیاں دیگر ہزاروں بچیوں کی طرح رزق خاک ہو کر رائیگاں چلی گئی۔ انکی رائے گانے پر اپوزیشن کے سیاست دان بھی اپنے روز کرہ کے جملوں میں مصروف رہے اور انہیں ان معصوم بچیوں کے دکھوں سے عوامیت مقبولیت کے رنگ دکھائی نہ دیے۔

اس شور سے تاہم کچھ چیزیں سوچنے لائق ضرور ملتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ اگر ہم عوام کسی موضوع پر یک زبان ہو کر کھڑے ہو جائیں، تو پھر حکم رانوں کو اپنی اپنی آسائش گاہوں سے باہر نکلنا پڑتا ہے۔ ایک ہزار سے زائد افراد کے ڈین این اے ٹیسٹ کر کے ملزم تک پہنچا جا سکتا ہے (یہاں میں جان بوجھ کر زینب کے مقدمے میں گرفتار مرکزی ملزم کو قاتل یا مجرم نہیں لکھ رہا، کیوں کہ جب تک اسے کوئی عدالت مجرم قرار نہیں دیتی اسے بے قصور ہی سمجھا جائے گا اور چوں کہ اس پر الزام عائد ہے اس لیے اسے ملزم لکھا جا رہا ہے)۔

سو یہ عوامی دباؤ ہی تھا کہ پولیس اور تحقیقاتی اداروں نے پوری جان ماری اور بالاخر کامیابی کا دعویٰ  کرتے ہمارے سامنے سینہ تان کر آن موجود ہوئے جیسے کوئی ان ہونا کام کر بیٹھے ہیں۔ اس ملزم کو گرفتار کر کے ایک دوسرے کو شاباشیاں دینے اور واقعے کی تعزیت اور دکھ کی گردان ایک طرف رکھ کر مسکراہٹیں بٹنے لگیں اور ملزم کی گرفتاری کی خبر یوں دی گئی جیسے کوئی معجزہ ہو چکا ہے اور اب جشن بنتا ہے۔

خیر اس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ اگر حکم ران چاہیں تو کسی بھی جرم میں ملوث مشتبہ ملزم کو حراست میں لے سکتے ہیں۔

دوسری بات ہمارے سمجھنے کی ہے اور وہ یہ کہ اس وقت یہ تحریر پڑھنے والے کتنے افراد ہیں، جو اپنے ماضی اور بچپنے کی یادداشتوں کی پگڈنڈیوں پر ایک لمحہ چلیں اور ان کے بچپن میں ان کے ساتھ کسی قسم کا کوئی جنسی حملے سے متعلق کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا؟ اس جنسی حملے کی سطح اور شدت مختلف ہو سکتی ہے، مگر شاید ایسے افراد کم کم ہی ہوں جو ہمارے معاشرے میں پھیلی اس گندگی سے مکمل طور پر بچے ہوں۔

دوسری بات زینب کے واقعے پر قومی سطح کا رنج اور غصہ تھا۔ میں اب تک یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ہمیں یہ غصہ کیا اس چھوٹی سی سات سالہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی پر تھا، قتل پر تھا یا جنسی زیادتی کے بعد قتل پر؟

اگر جنسی زیادتی پر تھا، تو یہ حملے ہمارے مدرسوں، اسکولوں اور حتیٰ  کے گھروں تک میں ان بچوں پر ہو رہے ہیں، ہم اس سے قبل کب بولے؟

اگر غصہ زینب کے قتل پر تھا، تو ابھی چند روز ہوئے سوشل میڈیا پر ایک بچے کی تصویر دیکھنے کو ملی، جس میں ایک مدرسے کے مولوی نے ایک بچے کو مار مار کر ہلاک کر دیا، ہم اس پر کیوں زینب جیسا شور نہیں کر پائے؟

اگر غصہ زینب کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد قل کر دینے پر تھا، تو چند روز ہوئے سوشل میڈیا پر ہی کسی نے ایک اور بچے کی تصویر شیئر کی تھی، جس میں ذکر تھا کہ ایک مولوی نے بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد اسے مدرسے کی چھت سے نیچے پھینک دیا اور وہ بچہ مارا گیا، مگر ہم زینب جیسا شور اس پر بھی کب مچا پائے؟

مجھے لگتا ہے کہ اگر پیاری بیٹی زینب کی یہ معصوم آنکھوں والی تصویر اس معصوم بچی کے چہرے کی دلفریبی اور زندگی زندگی کرتی نگاہیں، ہمارے سامنے نہ آتیں، اگر زینب تصاویر میں ایسی پیاری اور معصوم دکھائی نہ دیتی، اگر زینب کم خوب صورت یا بدصورت  ہوتی، تو ہم بہ طور فرد بلکہ بہ طور قوم اسے شاید صرف نظر کر کے آگے بڑھ جاتے اور ہمارے حکم ران اپنی اپنی خواب گاہوں میں آرام کرتے۔ ہماری پولیس تھانے کی حدود حدود کھیلتی رہتی اور خود ہم بھی زیادہ سے زیادہ ایک لمبی سانس لیتے ’’بڑے افسوس کی بات ہے‘‘ کہتے آگے بڑھ جاتے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here