عاطف توقیر

کوئی چودہ برس پہلے کی بات ہے میں اپنے ناول کے لیے مواد جمع کرنے بہت سے سائنس دانوں اور طبعیات کے پروفیسروں سے ملاقاتیں کر رہا تھا۔ مانچسٹر یونیورسٹی میں میری ملاقات وہاں ایک طبعیات کے پروفیسر سے ہوئی۔ مگر اس ملاقات کی خاص بات وہ چند ابتدائی لمحات تھے، جو ہمیشہ میرے اندر کسی بے انتہا فخر کی طرح گونجتے رہتے ہیں۔

وہ پروفیسر کہنے لگے کہ آپ نے ملاقات کو وقت لیا ہے، تو یہ بتائیے کہ آپ طبعیات کے کون سے شعبے میں تحقیق کر رہے ہیں۔ میں نے کہا میں طبعیات میں دلچسپی تو لیتا ہوں، کتب بھی پڑھتا ہوں مگر باقاعدہ طالب علم نہیں ہوں۔ کہنے لگے آپ کیا کرتے ہیں، میں نے کہا میں شاعر ہوں اور پیشے کے اعتبار سے سیاسی ابلاغیات کے شعبے میں تحقیق کرتا ہوں اور صحافت سے بھی تعلق ہے۔ کہنے لگے، تو پھر طبیعات کیوں؟ میں نے کہا کیوں کہ میرے ناول میں میرا مرکزی کردار ایک طبیعات دان ہے۔ کہنے لگے مگر سوال یہ ہے کہ آپ نے اپنے ناول میں کسی طبعیات دان ہی کو اپنا مرکزی کردار کیوں بنایا؟ اس سوال کا جواب میرے پاس نہیں تھا۔ وہ پروفیسر میری طرف دیکھتے رہے، پھر اچانک بولے آپ کا تعلق کس ملک سے ہے؟ میں نے کہا، پاکستان سے ہے۔ ان کے چہرے پر اچانک سکون اور مسکراہٹ پیدا ہو گئے، جیسے کوئی معمہ حل ہو گیا ہو۔ کہنے لگے، ’’اوہ اچھا۔ ظاہر ہے عبدالسلام کی مٹی سے تو تم جیسے بچے ہی پیدا ہوں گے۔‘‘

یہ جملہ سن کر میرا سر فخر سے بلند ہو گیا تھا اور میں اچانک روح کے اندر تک سرافراز محسوس کرنے لگا تھا۔

یہاں میں بہت زیادہ سائنسی بات نہیں کرنا چاہتا کہ عام افراد کو سمجھ ہی نہ آئے، مگر یہ بتانا بے حد ضروری ہے کہ ڈاکٹر عبدالسلام نے فزکس کے میدان میں واقعی کارہائے نمایاں انجام دیے اور پھر انہیں نوبل انعام دیا گیا، یا یہ سب ایک ’بین الاقوامی سازش‘ کا حصہ تھا؟

ڈاکٹر عبدالسلام کی جدید طبعیات میں خدمات ہر وہ شخص اچھی طرح سے جانتا ہے، جو جدید طبعیات پڑھ رہا ہو۔ ایسا ممکن ہی نہیں ہے کہ آپ کوانٹم مکینکس اور کاسمولوجی پڑھیں اور آپ کو کائنات کی چار بنیادی قوتوں پر کام نہ کرنا پڑے اور جوں ہی آپ کو ان قوتوں پر تحقیق کرنا پڑی، ڈاکٹر عبدالسلام اپنے ساتھی سائنس دانوں کے ساتھ (جن کے ساتھ انہوں نے مشترکہ طور پر کام کیا) اپنے گرینڈ یونیفائیڈ نظریے (الیکٹروویک یونیفیکیشن تھیوری) کے ساتھ کھڑے ملیں  گے۔ طبعیات میں سپر سیمیٹری یعنی کائنات کی تخلیق سے متعلق اب تک کے نظریات کو ایک آہنگ میں ہونے کے حوالے سے ڈاکٹر صاحب کا نظریہ کلیدی بلکہ بنیادی نوعیت کا ہے یا یوں سمجھ لیجیے کہ بگ بینگ سے قبل کائنات کی ان چاروں قوت کا یک جا ہونا اور پھر بگ بینگ کے بعد ان قوتوں کا ایک ایک کر کے ایک دوسرے سے الگ ہونا، اسی گرینڈ یونیفائیڈ نظریے کا حصہ ہے اور کائنات کی تخلیق سمجھنے کے لیے آپ کوُ یہ نظریہ پڑھناُ ہی پڑے گا۔

پاکستان میں معاشرہ چوں کے ہر معاملے کو کھینچ کھونچ کے مذہب کی جانب لے آتا ہے اور  وہاں طبعیات ہو کہ حیاتیات، سوشیالوجی ہو کہ زولوجی، نفسیات ہو کہ فلکیات کسی بھی معاملے پر چوں کہ بنیادی علم کی کمی ہے، تو ہر بات کو اٹھا کر اس میدان میں لاپٹخا جاتا ہے، جس میں تھوڑی بہت معلومات موجود ہو، تاکہ گفت گو میں مسالہ پیدا کیا جا سکے اور ایسی صورت میں مذہب کے علاوہ کوئی اچھا میدان ہمیں مل نہیں سکتا۔ گھر ہو کہ اسکول، مسجد ہو کہ نکڑ ہر مقام پر دنیا کے ہر موضوع کو پہلے مذہبی میدان میں رکھا جاتا ہے اور پھر اس پر طبع آزمائی شروع کر دی جاتی ہے، حالاں کہ مذہب انسانی اخلاقیات اور نفس کی صفائی سے عبارت ہے اور دیگر علوم خالصتاﹰ انسان اور کائنات کے مابین تعلق اور ابلاغ سے جڑے ہیں۔ آسان سا تجربہ ہے آپ کسی بھی موضوع پر بحث چھیڑیے تیسرے یا چوتھے جملے کے بعد آپ مذہب پر بات کر رہے ہوں گے۔

عبدالسلام کے معاملے میں بھی یہی کچھ ہمیں درپیش رہا ہے۔ اس بابت کچھ غلط فہمیاں ہیں بلکہ کئی نادرست باتیں ہیں، جنہیں سمجھنا ضروری ہے۔ پہلی بات غلط فہمی اور من گھڑت بات یہ ہے کہ 1974ء میں احمدیوں کو پاکستانی پارلیمان کی جانب سے ’غیرمسلم‘ قرار دیے جانے پر ڈاکٹرعبدالسلام نے ’پاکستان پر لعنت بھیجتے ہوئے‘ اسے چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ڈاکٹر عبدالسلام کو نوبل انعام سن 1979 میں ملا۔ اس انعام سے قبل وہ پاکستانی شہریت چھوڑنے پر غور کر رہے تھے، تاہم جب انہیں معلوم ہوا کہ انہیں نوبل انعام مل سکتا ہے، تو انہیں نے غیرملکی شہریت چھوڑنے کی بجائے پاکستانی شہریت اس لیے رکھے رکھی، تاکہ یہ نوبل انعام پاکستان کے حصے میں آئے۔

دوسری بات جو مجھے سوشل میڈیا پر ڈاکٹر صاحب کے حوالے سے دکھائی دی وہ یہ تھی کہ ڈاکٹر عبدالسلام نے پاکستان کے جوہری پروگرام سے متعلق خفیہ معلومات امریکا کو پہنچائیں۔ یہ بات جانے کس نے گھڑی یہ کوئی نہیں جانتا، مگر حقائق یہ ہیں کہ پاکستان میں جوہری پروگرام کو شروع کرنے والے ڈاکٹر عبدالسلام تھے۔ جوہری طبعیات میں ڈاکٹر صاحب کی نگرانی میں ہونے والی تحقیق اور ایٹومک انرجی کمیشن کا قیام اور ڈاکٹر صاحب کی خدمات پاکستان کے لیے خراج تحسین کا مطالبہ کرتی ہیں اور یہ بات باعث شرم ہے کہ ان کی ان خدمات کو فراموش کر دیا گیا۔ ڈاکٹر صاحب نے ساٹھ کی دہائی میں آمر جرنیل ایوب خان کو ایک منصوبہ پیش کیا تھا کہ کس طرح پاکستان جوہری ہتھیار تیار کر سکتا ہے، تاہم وہ منصوبہ فیلڈ مارشل ایوب خان نے معاشی بنیادوں پر مسترد کر دیا تھا۔ 1971 میں بھٹو صاحب سے ملاقات کے بعد ڈاکٹر عبدالسلام امریکا گئے اور ذاتی اثرورسوخ کی بنیاد پر امریکی جوہری پروگرام ’’مین ہیٹن پروجیکٹ‘‘ کی معلومات پاکستان لائے۔ یعنی عبدالسلام نے پاکستان کی خفیہ معلومات امریکا کو نہیں دیں بلکہ امریکا کی خفیہ معلومات پاکستان تک پہنچائیں۔

ہماری قوم کی یہ بدقسمتی رہی ہے کہ اس قوم کے لیے جس شخص نے بھی اپنی زندگی، اپنے کریئر، اپنی آسائشوں، اپنی جوانی، اپنے خواب سب کچھ قربان کیے، اسے اس قوم کی جانب سے پیار، خلوص، عقیدت یا محبت ملنے کی بجائے انتہائی گھٹیا طعنے اور دشنام ہی ملے۔

ڈاکٹر صاحب کا تعلق احمدی گھرانے سے تھا سو وہ احمدی تھے، مگر پاکستان کے لیے ان کی خدمات کسی بھی دوسرے پاکستانی سے بے حد زیادہ تھیں اور رہیں۔ ڈاکٹر صاحب کے مذہبی نظریے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر ڈاکٹر صاحب کے سائنسی نظریے سے اختلاف کے لیے ان سے بہتر ریاضی سیکھنے کی کوشش کی کیجیے۔

میں سوچتا ہوں کہ اگر میں ڈاکٹر عبدالسلام سے کبھی ملتا، تو میرے اور ان کے درمیان بات چیت کیا ہوتی؟ کیا میں ان سے یہ پوچھتا کہ غلام احمد صاحب خدا کے نبی تھے یا نہیں؟ یا احمدیت کوئی درست نظریہ ہے یا نہیں؟ یا پیمبر آخر الرزماں محمد عربی کے ساتھ نبوت کے دروازے ہر انسان پر بند ہو گئے تھے یا نہیں؟ یا میری ان سے گفت گو اس بات پر صرف ہوتی کہ کوانٹم مکینکس میں الیکٹران کے ایک ہی وقت میں کئی جگہ ہونے کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟ جوہر کے اندر خالی جگہ جہاں کوئی قوت نہیں، کوئی گریوٹی نہیں، کوئی ریڈی ایشن نہیں، کوئی زمان و مکاں نہیں، وہاں توانائی کیسے پیدا اور فنا ہو رہی ہے؟ یا بلیک ہول کسی دوسرے کائنات کے لیے دروازہ کیسے بن سکتا ہے؟ یا زمان و مکان کا منجدھار کیسے ختم کیا جا سکتا ہے؟ یا کیا وقت میں سفر کرنے کے لیے ہمیں کوئی مصنوعی بلیک ہول بنانا پڑے گا؟ یا ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی کو کس طرح جانچا جائے؟

میرے خیال میں ڈاکٹر صاحب سے میری بیٹھک ہوتی، تو ان کے مذہبی نظریات سے میرا کوئی لینا دینا نہ ہوتا، بلکہ ان کے ساتھ کی بیٹھک کے ایک ایک لمحے کو میں اپنے سائنسی تجسس اور اپنے اندر کائنات سے جڑے سوالوں کو سمجھنے میں صرف کرتا۔ ڈاکٹر عبدالسلام پاکستان کی اصل پہچان ہیں۔ وہ اس امید کا نام ہیں، جو ہمیں بتا رہی ہے کہ اس مٹی سے آئن اسٹائن پیدا ہو سکتے ہیں۔ وہ اس خیال کا نام ہیں، جو یہ بتا سکتے ہیں کہ اگر ہم اپنا تعلیمی نظام درست کریں اور باتیں کرتی کائنات کی سرگوشیاں سنیں تو شاید اس مٹی کے بیٹے اور بیٹیاں دنیا ہر ہر شعبے میں ملک کا نام روشن کر سکتے ہیں۔

تاہم ریاست کی جانب سے بے شرمی اور ہٹ دھرمی پوری رفتار سے جاری ہے۔ اس محسن کی خدمات کو مان دینے کی بجائے، اس کے مذہبی نظریات کو بنیاد بنا کر اس کا قد ناپنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ سیاسی اور فکری بونے ڈاکٹر عبدالسلام کے خیالات کی پرواز کے عشر عشیر تک نہیں۔ پاکستان کی جامعات میں یہ درس دینے کی ضرورت ہے کہ اس ملک میں مزید ڈاکٹر عبدالسلام کیسے پیدا کیے جائیں۔ وہ ڈاکٹر عبدالسلام جن سے طلبہ ملیں تو معاملہ مذہب نہیں سائنس ہو۔ معاملہ ایمان نہیں سوال ہو۔ ایمان اور اعتقاد ہم اپنے اپنے گھروں میں سیکھ لیتے ہیں۔ سائنس دانوں سے مذہب نہیں سائنس سیکھی جاتی ہے۔ کیا ڈاکٹر صاحب سائنسی لیبارٹری میں طبعیات کی گتھیاں سلجھاتے ہوئے یہ سوچتے ہوں گے کہ احمدیت درست ہے یہ نہیں؟ یہ وہ بگ بینگ سے جڑے کسی معمے کو ریاضیاتی طور پر مساوات کی صورت میں ظاہر کرنے کے لیے اس بات پر غور کرتے ہوں گے کہ ختم نبوت کیا ہوتی ہے؟ سائنس کا کوئی مذہب اور مسلک نہیں ہوتا، سائنس دان مسلمان، غیرمسلم، مسیحی، ہندو یا احمدی ہو سکتا ہے، سائنس ہندو، مسیحی یا قادیانی نہیں ہوتی۔ سائنس سائنس ہوتی ہے۔

پاکستان میں سیاسی جماعتوں اور مشہور بیانیوں کا حال یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو زرداری سائنس اور تحقیق کے لیے ایک جامعہ کے قیام کے لیے دعوت اسلامی کو ایک بڑی اراضی الاٹ کر چکے ہیں۔ دعوت اسلامی کی بہت سی ویڈیوز سوشل میڈیا پر موجود ہیں، جن میں کیلے کو رکھنے کے لیے سمت اور کھیرے کے فوائد کا میٹھا میٹھا تحقیقی حال اس قوم کو بتایا گیا ہے۔

عمران خان صاحب خیبرپختونخوا میں سائنس اور تحقیق میں خرچ کرنے، بچوں کو سائنس سے شغف دلانے کے اقدامات کرنے اور اپنے زیرحکومت صوبے میں مزید اعلیٰ تعلیم یافتہ سائنس دان اور پروفیسرز تعینات کرنے کی بجائے کروڑوں روپے مولانا سمیع الحق، جنہیں ’طالبان کا روحانی باپ‘ قرار دیا جاتا ہے، عنایت کر رہے ہیں۔

پنجاب میں مسلم لیگ مذہبی افراد کے ووٹ دینے اور خادم حسین رضوی کی جانب سے سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کو سہارا بنا کر اپنی مقبولیت بڑھانے والے کے توڑ کے لیے ختم نبوت کے نعرے کے ساتھ قائد اعظم یونیورسٹی کے طبعیات کے شعبے کا نام عبدالرحمان الخزینی کر رہے ہیں۔ اور اس بابت بھی جان بوجھ کر دھوکا دینے کے لیے قائد اعظم یونیورسٹی جس کے طبیعات کی تحقیق کے مرکز کا نام ڈاکٹر عبدالسلام سے منسوب ہے، اسی جامعہ کے طبعیات کے شعبے کا نیا نام رکھنے کے لیے قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کی گئی، تاکہ یہ تاثر دیا جائے کہ ڈاکٹر عبدالسلام کا نام اس جامعہ سے ختم کر دیا گیا ہے۔

مذہب ہر انسان کا ایک جذباتی اور ذاتی معاملہ ہے مگر ہمارے ہاں حکومتیں، سیاسی جماعتیں اور ادارے مذہب کا نام استعمال کر کے عوام میں مقبولیت کے لیے جس راستے کا انتخاب کر رہے ہیں، اسی راستے نے پچھلے چالیس سال میں ہمیں ملک میں نفرت، شدت پسندی، تشدد اور لاشوں کے سوا کچھ نہیں دیا۔

ڈاکٹر عبدالسلام، میں بہ حیثیت پاکستانی اپنی قوم کی جانب سے آپ سے بے حد شرمندہ ہوں۔ یہ بدقسمتی نہیں تو کیا ہے کہ اس ملک میں ہم اس مقام پر گر چکے ہیں کہ اب حب الوطنی کے لیے بھی آپ کے مذہب اور مسلک کو جانچا جاتا ہے اور یہ کافی نہیں ہوتا کہ آپ اس مٹی کے بیٹے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب پاکستان کی مٹی آپ پر ناز کرتی ہیں اور ہم بہ طور قوم آپ کے احسان مند ہیں کہ آپ نے دنیا کو یہ بتایا کہ سرزمینِ پاک میں علم و عقل کے ایسے باب بھی کھلتے ہیں۔

83 COMMENTS

  1. You actually make it seem really easy together with your presentation but I in finding this matter to be really something that I feel I would by no means understand. It sort of feels too complex and extremely broad for me. I’m looking forward for your next publish, Ill try to get the cling of it! bfafdekaekefcbfd

  2. بہت اچھی تحریر ۔
    ظالم حکمران کے سامنےحق بات کرنا بھی جہاد ھے۔یہاں تو آپ کو جاھل اور ظالم حکمرانوں کے ساتھ انہی خصوصیات والی پوری قوم کا بھی سامنا کرنا ہے۔
    اللہ آپ کا حامی و ناصر ھو۔

  3. بہت اچھی طرح آپ نے الگ الگ کر کے سمجھایا کہ ہم کیا غلط کر رہے ہیں۔ یقیناٗ ہمیں ہر چیز کو اس کے مطابق ہی جانچنا چاہیے۔ بھلا ساٗنسدان کے مذہب سے ہمیں کیا لینا دینا، ہمیں تو علم چاہیے جہاں سے بھی ملے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here