جاوید قریشی، بارسلونا

سائنس کے مذہب پر اثرات اتنے غیر محسوس انداز میں پڑتے ہیں لوگوں کو اس کا علم بھی نہیں ہوتا۔ وہ دھیرے دھیرے مذھب کو خیرآباد کہہ رہے ھوتے ہیں لیکن انہیں یہ بات رتی بھر محسوس نہیں ہوتی۔ لیکن جب آپ لوگوں کو سائنس کے ان حقائق سے آگاہ کرو تو وہ آگ بگولا ہو جاتے ہیں، بے تکی بحث شروع کر دیتے ہیں کہ سائنس نے مذہب کے بطن سے ہی جنم لیا ہے اور بحث کی ایسی کھچڑی بنا دیتے ہیں کہ بندہ ان کی شکل ہی دیکھتا رہ جاتا ہے۔

یہ افراد دنیا کی ہر ایجاد کو مذہب سے ثابت کرتے ہیں، یعنی بحث ہوتی ہے اثرات کی مگر انہیں اس بحث اور موضوع گفت گو کی کوئی پرواہ نہیں رہتی۔

چلیں آئیں اس مسئلے کو میں اپنے ذاتی مشاہدے کے ذریعے سمجھاتا ہوں کہ کس طرح سائنسی ٹیکنالوجی آنے پر لوگوں نے متعدد مذہبی رسومات کو خیر آباد کہہ دیا۔

یہ ساٹھ کی دھائی کے اوائل کی بات ھے میرا جانا سرائیکی علاقے کے ایک گاؤں میں ہوا۔ اپریل کا آخری ہفتہ تھا۔ ہر طرف کھیتوں میں سنہرے رنگ کی جیسے چادر بچھی ہوئی تھی اور سبزہ بہت ھی کم نظر آرھا تھا۔ گندم کی کٹائی شروع ہو چکی تھی۔ دیہات میں بہت گہما گہمی تھی۔ ہر کسی کے چہرے پر رونق تھی اور فصل کی کٹائی مرد اور عورتیں مل کر گروپوں کی شکل میں کر رہے تھے لیکن دوپہر کو ہی گھنے بادلوں نے ان کی یہ مسکراہٹیں چھین لیں۔

یک دم بادلوں نے آہستہ آہستہ گرجنا برسنا شروع کر دیا، لوگ بہت پریشان ہو گئے اور دعائیں مانگنے کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا لیکن ہم تمام بچے خوش تھے اور ہماری خواہش تھی کہ خوب بارش ہو تو کچے پکے آم بھی کھائیں گے بچوں کے چہروں پر خوشی اور بڑوں کے چہروں پر اداسی صاف نظر آ رہی تھی۔

بارش دھیرے دھیرے بڑھتی جا رہی تھی اور شام کو تو موسلا دھار بارش شروع ہو گئی۔ لوگ مساجد کی طرف دوڑ پڑے اور دعائیں مانگنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

بارش کسی بھی صورت تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ مغرب کی نماز میں تو دعا کے لیے پورا گاؤں امنڈ آیا۔ بارش کبھی تیز اور کبھی ہلکی ہو جاتی لیکن رک نہیں رہی تھی اب تو بارش رکنے کے لیے رات کو تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد مسجد میں اذان تک دی جاتی رہی اور اگلے دن دو گھنٹے کے وقفے کے بعد پھر بارش جاری رہی۔ ایک بزرگ نے اپنے کھیتوں میں جاکر بکرے کا صدقہ دیا لیکن بہت سے بزرگوں نے اس بات کا برا منایا کہ یہ ھندؤانا رسم ہے۔ ایک بزرگ کے گھر عورتوں کی محفل میلاد سج گئی اور بارش تھمنے کی دعائیں مانگی جانے لگیں۔ بعض لوگ تو اپنے گھروں کی چھتوں پر کھڑے ہو کر اذانیں دینے لگے۔ ایک اور بزرگ نے گاؤں کے بچوں کو اکٹھا کیا، سب کا وضو کرایا، سب کو گجک اور ریوڑیاں دیں اور سب سے بارش رکنے کی دعائیں منگوائیں۔ بہرحال اس عرصے میں پورے کا پورا گاؤں سچا اور کھرا مسلمان ہو چکا تھا۔ ایک بندہ بھی ایسا نہیں تھا، جو دعا میں شامل نہ ہوا ہو۔ ایک انتہائی خاص قسم کا مذھبی ماحول ہر طرف نظر آرہا تھا۔

اب میں انیس سو اسی کے وسط کی بات کرتا ہوں۔ اسی گاؤں میں دوبارہ میرا جانا ہوا۔ ہفتے کے روز میرے پہنچنے ہی  وہاں گھنے گہرے بادل آگئے اور بارش کا سماں بن گیا۔ میں تو اسی وقت اپنے بچپن کی یادوں میں کھو گیا اور بارش برسنے کا وہ واقعہ آنکھوں کے سامنے آگیا، لیکن جیسے ہی بارش تیز برسنے لگی، لوگ ایک دوسرے کے ساتھ صلح مشورے کرنے لگ گئے کہ ایسے کرتے ہیں میری فصل خاصی کٹ چکی ہے اور کھلے میدان میں پڑی ھے چار ٹریکٹر ٹرالی جلدی جلدی پہلے میری فصل کو اٹھا لیتے ہیں اور پھر ھم مل کر اگلے کھیت کو ہاتھ لگاتے ہیں۔ سب نے مل کر فوری طور پر رقم جمع کی اور ایک ٹریکٹر کو فوری طور پر دو ڈرم ڈیزل لینے کے لیے شہر روانہ کر دیا۔ دو بندے ٹریکٹر پر ترپال ڈالنے والی لینے کے لیے علیحدہ روانہ ہو گئے۔ ویلڈنگ کرنے والوں کی دوکانوں سے رابطہ کیا گیا کہ بارش تھمنے کی صورت میں ساری رات کام ہوگا اس لیے دوکانوں پر کوئی مستری لازمی ہونا چاہیے۔ گروپ تشکیل دیے جانے لگے کہ کونسے ایکٹر کو پہلے ہاتھ  لگے اور کون سے کو بعد میں۔ مغرب کی نماز میں بارش تھمنے کی نارمل سی دعا بھی مانگی گئی کچھ لوگوں نے بڑے زمین دار کے گھر میٹنگ بھی کی کہ فیصل آباد میں گندم کاٹنے کی ایک نئی مشین آئی ہے، جو صرف ایک گھنٹہ میں ایک مربع زمین پر گندم کی فصل کی کٹائی اور صفائی کر دیتی ہے۔ اس لیے ایک آدمی وہاں جاکر اس کے متعلق معلومات لے کر آئے۔

میں یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا اور دل میں سوچ رہا تھا کہ دیکھو سائنس کی ٹیکنالوجی نے لوگوں کے مذھب پر کتنا اثر ڈالا ہے۔ ان لوگوں کے شعور میں بھی نہیں ہے کہ آج سے 24 سال پہلے اس بارش کے وقت کتنا مذھبی ماحول تھا اور اس جدید سائنس نے اب اس کی جگہ لے لی ہے۔ لوگ اب مسئلے کا حل دعاؤں کی بجائے ٹیکنالوجی میں تلاش کر رہے ہیں۔ حالاں کہ مسئلہ وہی ہے، گاؤں وہی۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here