شیزا نذیر

بالی ووڈ فلم ’’جگا جاسوس‘‘ آرٹ فلم ہونے کے ساتھ ساتھ سمبولک فلم ہے۔ رنبھیر کپور کے ساتھ کترینہ کیف نے بھی اداکاری کے جوہر دیکھائیں۔ اِس فلم میں عقل والوں کے لئے بہت سی عملی باتیں ہیں جیسے کہ جب جگا (رنبھیر کپور) کا باپ اُسے بورڈنگ ہاوس میں چھوڑ کر چلا جاتا ہے تو ہر سال اُس کی سالگرہ پر ایک ویڈیو کلپ بنا کر بھیجتا ہے۔ چند سال وہ اُس کے سکول کی فیس بھی بھیجتا رہتا ہے لیکن ایک بار وہ کہتا ہے اب سے جگا کو خود اپنی فیس کا بندوبست کرنا ہو گا اور ساتھ ہی پیسے کمانے کا طریقہ بھی بتا دیتا ہے کہ جگا مچھلی پکڑے اور بازار میں جا کر بیچ دے۔

میں جب کبھی بھی غریب خاندانوں سے تعلق رکھنے والے کامیاب انسانوں کے بارے میں پڑھتی ہوں تو اُن میں ایک بات مشترک پاتی ہوں کہ اُنہوں نے پیسے کمانے کے لئے ابتدائی عمر میں چھوٹا سا کاروبار شروع کیا تھا۔ اِس تعلق سے ایک دِن سوشل میڈیا پر ایک تحریر پڑھنے کو ملی کہ ترقی یافتہ ممالک کے برعکس پاکستان میں زیادہ آسانی سے کاروبار شروع کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر عرب یا یورپین ترقی یافتہ ممالک میں آپ بیچ بازار میں (خوردونوش) ٹھیلا لگا کر نہیں بیٹھ سکتے۔ وہاں آپ کو اِس کے لئے باقاعدہ اجازت لینا ہو گی اور پھر فوڈ اتھارٹی سے بھی اپروول لینا ہو گا۔ اِس کے بعد آپ کو مناسب سا ٹیکس بھی دینا پڑے گا۔ زیادہ بڑا کاروبار شروع کرنے کا عمل اَور بھی زیادہ پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ لیکن پاکستان میں آپ کہیں بھی ٹھیلا لگا کر یا گلی گلی گھوم کر اپنی مصنوعات فروخت کر سکتے ہیں۔

فلم ’’جگا جاسوس‘‘ کا ایک سین یہ ہے کہ جگا اپنی دوست (کترینہ) کے ساتھ ایک پارٹی میں جاتا ہے۔ رات کافی ہو جاتی ہے اور پارٹی ابھی شروع ہوتی ہے۔ سوسائٹی والے آتے ہیں تو پارٹی والے کمرے کی بتیاں بجھا دی جاتی ہیں۔ میزبان باہر جاتا ہے اور کہتا ہے کہ پارٹی تھی لیکن اب ختم ہو گئی ہے اور ’’سب کھانا کھا کے دارو پی کے چلے گئے‘‘۔ اُن کے چلے جانے کے بعد پارٹی پھر سے شروع ہو جاتی ہے اور بالی ووڈ فلموں کی روایت برقرار رکھتے ہوئے ایک گانا گایا جاتا ہے کہ ’’سب کھانا کھا کے دارو پی کے چلے گے‘‘ اِس جملے کو مختلف الاپ سے مختلف لوگ ادا کرتے ہیں کہ مجھے گمان ہوا کہ ٹھمری گائی جا رہی ہے۔ لیکن اگر کوئی کلاسیکل سنگر سُن لیں تو اُن کی روح کانپ اُٹھے۔ خیر ماڈرن ٹھمری کے اِس ایک مصرعے سے مجھے اپنی سیاسی جماعتوں کے بھگوڑے یاد آ گئے۔

ویسے تو پاکستان میں سایسی جماعتوں کسی منشور، پارٹی سیاسی فلسفے کی ضرورت نہیں ہوتی بس موروثیت کلیدی لیڈرشپ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن پھر بھی ہر پارٹی کا نام نہاد ہی صحیح منشور تو ہے۔ اب بیس پچیس سال سے آپ جس منشور سے متاثر ہو کر کسی پارٹی میں شامل رہے آج کیسے اُس کا منشور غلط ہو گیا کہ پارٹی تبدیل کی جا رہی ہے۔ امریکہ یا برطانیہ یا دیگر ترقی یافتہ ممالک میں پارٹی تبدیل کرنے کا مطلب سیاسی کیرئیر ختم لیکن ہمارے ہاں ایسا نہیں ہے، بلکہ یہاں تو ’’ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے‘‘ والا سین ہوتا ہے۔

یہاں چند سالوں سے ایک عجیب پریکٹس شروع ہو گئی ہے کہ جس پارٹی میں آپ نے سالوں گزار دیئے اب اچانک اُس کو چھوڑا جا رہا ہے۔ چلو یہ بھی مان لیتے ہیں کہ سابقہ پارٹی کے منشور سے اختلاف نہیں تھا بلکہ کلیدی لیڈرشپ سے تھا اِس لئے پارٹی تبدیل کی گئی۔ پر میرا سوال تو وہیں رہتا ہے کہ اِتنے سالوں میں آپ نے اُس پارٹی میں رہ کر کیا معرکہ مارا ہے، یا ایسا کون سا ڈھنگ کا کام تھا جو آپ وہاں نہیں کر سکے تو یہاں آ کر کریں گے؟ مجھے تو ایک ہی وجہ نظر آتی ہے کہ پہلی پارٹی میں زرا ڈٹ کے کرپشن نہیں ہو سکی تو اب یہاں قسمت آزمائی کرتے ہیں یا پھر چڑھتے سورج کو سلام والی بات ہے کہ رات کی رہی سہی کسر دِن دیہاڑے پوری کرتے ہیں۔

جتنے بھی سیاسی راہنما ایک پارٹی سے دوسری میں شیلف ہو رہے ہیں اُن سب کے سابقہ کام کو ہر کوئی جانتا ہے کہ جنہوں نے بیس پچیس سال عوام کی بھلائی کے لئے کچھ نہیں کیا تو اب کیوں کر کریں گے۔ اور پھر ہمیں کس بات پر بے وقوف بنایا جا رہا ہے کہ نظام بدلے گا جبکہ اِس نعرے تلے پرانے ناسوروں کو شامل کیا جا رہا ہے۔

کبھی کبھی مجھے سیاسی پارٹیوں کے سربراہوں پر بڑا ترس آتا ہے کہ جن لوگوں کو اُنہوں نے سال ہا سال کھلایا پلایا اب ضرورت پڑنے پر ’’سب کھانا کھا کے دارو پی کے چلے گئے‘‘۔