عابد حسین

محترمہ شہید بینظیر بھٹو صاحبہ نے عملی سیاست کا آغاز اپنے والد صاحب کے عدالتی قتل کے بعد نہایت تکلیف دہ حالات کا سامنا کرتے ہوئے کیا تب ان کی عمر صرف پچیس برس تھی جب ان کے کاندھوں پر اہم ذمہ داریوں کا بوجھ آیا۔ ـ
ملکی منظر نامہ اور حالات یکسر بدل چکے تھے نئے مارشل لا میں نئی قسم کے پیچیدہ مسائل اور چیلنجز کا سامنا تھا یہ وہ دور تھا کہ جب وطن عزیز میں جبری زباں بندی کا موسم اپنے اوج پر تھا ـ حکمران سستا مذہبی چورن بنانے اور پھر اسے عالمی منڈی میں بیچنے کےلیے خود بولیاں لگوا رہے تھے ـ حوروں کے سہانے خواب اور سستی تعبیریں گلی گلی عام ہو رہیں تھیں ـ
عوام نفاذِ شریعت کے جھوٹے جالوں میں اچھی طرح پھنس چکے تھے حاکمِ وقت کے خلاف بات کرنے پر دس کوڑوں کی شرعی تعزیر نافذ تھی جبر کا موسم اپنے شباب پر تھا اور اختلاف کرنے کا مطلب اپنی عزت ـ ایمان اور جان سے ہاتھ دھونا تھا۔
ایسے مشکل حالات میں عملی طور پر سیاست کرنا اور سیاسی عمل کےلیے راہ ہموار کرنا ہرگز آسان کام نہ تھا بقول شورش کاشمیری صاحب کہ

ہم نے اس وقت سیاست میں قدم رکھا تھا
جب سیاست کا صلہ آہنی زنجیریں تھیں
بے گناہوں کا لہو عام تھا بازاروں میں
سرفروشوں کےلیے دار و رسن قائم تھے
از افق تا بہ افق خوف کا سناٹا تھا
رات کی قید میں خورشید کی تنویریں تھیں
رہنماؤں کےلیے حکمِ زباں بندی تھا
سرِ توحید کی برطانوی تفسیریں تھیں

محترمہ کی زندگی کی کتاب کا ہر صفحہ غم آلود ہر اگلا قدم ایک نئے دکھ اور نئی اذیت میں اضافہ کرتا نظر آتا ہے انہوں نے اپنی زندگی میں والد صاحب کے ساتھ انصاف کے نام پر ہونے والے ظلم کو سہا ـ اپنے دوپٹے سے اپنی والدہ کی پیشانی سے لہو صاف کرتی رہیں دو بھائیوں کی پراسرار موت کے اندوہ گین واقعات نے بھی دل گرفتہ کیا ـ کارکنان ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنا دئیے گئے جو بچ گئے تو انہیں جیل بھیج کر محترمہ کو کمزور کر دیا گیا ـ محترمہ کی زندگی میں یہ ایسے جاں گداز رنج تھے کہ جنہیں پڑھ کر آج بھی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں ـ مگر تاریخ گواہ ہے کہ یہ تمام سانحات ایک بہادر خاتون کے بلند حوصلے اور مصمم عزائم میں کمی نہ لا سکے اور وہ اپنی ہر آزمائش میں فیروزمند اور ظفریاب رہیں۔
10اپریل 1986 کو جب محترمہ طویل جلا وطنی کے بعد وطن عزیز واپس لوٹیں تو لاہور میں ان کا استقبال بیس لاکھ افراد نے کیا جو کہ ملکی تاریخ میں کسی سیاسی شخصیت کا سب سے بڑا عوامی استقبال سمجھا جاتا ہے ـ محترمہ نومبر 1988 کے الیکشن میں پہلی مسلمان خاتون وزیر اعظم منتخب ہوئیں ـ تب ملک میں مذہبی شدت پسندی کا سکہ رائج تھا جس پر شاہی مہر کندہ ہو چکی تھی اور دستور العمل زندگیوں میں شر پسند گروہوں کی من پسند مذہبی ہانڈی کا استعمال لازم تھا جس کے عِوض خوب ڈالر / ریال خوری ہو رہی تھی۔
محترمہ کے وزیراعظم منتخب ہوتے ہی سعودی عرب کے ایک نابینا عالم دین نے فتویٰ جاری کر دیا کہ کسی مسلمان ملک پر عورت کی سربراہی کرنا غیر اسلامی فعل ہے۔
جبکہ نامعلوم (معلوم) دشمن اپنے دستِ خفیہ سے محترمہ پر وار کرنے اور نقصان پہنچانے کی بدنیتی لیے اُس دور میں بھی مناسب موقع کی تلاش میں رہا ـ محترمہ کے پہلے دورِ حکومت کے پہلے ہفتے میں راستے پر پھولوں کے گملوں سے بم برآمد ہوئے اسی دور میں ان پر پیرس سے بیش قیمت دوپٹے خریدنے اور کرپشن کے بے بنیاد الزامات بھی لگے یوں ان کا پہلا دورِ حکومت محض اٹھارہ ماہ بعد اگست 1990 میں غصب کر لیا گیا۔
دوسری مرتبہ اکتوبر 1993 میں دوبارہ وزیراعظم منتخب ہوئیں اس دفعہ محترمہ کو ایک خفیہ رپورٹ بھی پیش کی گئی کہ افغان رہنما گلبدین حکمت یار نے آپ کو قتل کرنے کےلیے چند آدمی اسلام آباد بھیج دیے ہیں محترمہ نے اس وقت کے وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر کے ذریعہ حکمت یار سے اس بابت معلوم کرا لیا جس سے واضح ہوگیا کہ پیش کی گئی رپورٹ جھوٹ پر مبنی تھی ـ دوسرے دورِ حکومت میں پھر ان پر سابقہ کرپشن کے الزامات دہرائے جاتے ہیں جبکہ ان تمام الزامات کو عالمی ادارے محض سیاسی الزامات کہہ رہے تھے لیکن اڑھائی برس بعد نومبر 1996 میں ان سے پھر اقتدار کا حق چھین لیا جاتا ہے ـ یوں دیکھا جائے تو محترمہ کی وزارتِ عظمیٰ کا کل دورانیہ چار سال آٹھ ماہ اور کچھ دن بنتا ہے۔
اس کے بعد 1998میں محترمہ جلا وطنی اختیار کر لیتی ہیں اور دس برس بعد 18 اکتوبر 2007 کو وطن واپس آتی ہیں کراچی میں ان کی استقبالیہ ریلی میں دھماکے ہوتے ہیں 140 افراد شہید 500 سے زائد زخمی ہو جاتے ہیں محترمہ حکومت سے ناقص سیکورٹی کے ساتھ سنگین خدشات کا اظہار بھی کرتی ہیں مگر حاکمِ وقت کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ـ
اس بار بیت اللہ محسود کی دھمکی کا ڈرامہ رچایا جاتا ہے محترمہ بابصیرت خاتون تھیں انہوں نے حقائق جاننے کےلیے محسود بیان کی تصدیق سینیٹر صالح شاہ کے ذریعہ کرا لی ـ اس کے بعد جب دست قاتل اور خفیہ معاملات محترمہ پر مزید واضح ہو جاتے ہیں تو محترمہ سی این این کے معروف صحافی دوست کو ایک ای میل کرتی ہیں جس میں اُن سے یہ وعدہ لیتی ہیں کہ یہ انکشافات تب منظرِ عام پر لائے جائیں جب وہ اس دنیا میں نہ رہیں اسی ای میل میں سیکورٹی خدشات سمیت اپنے قتل کے اصل زمہ داروں کا ذکر بھی کرتی ہیں ـ
ستائیس دسمبر کا دن جمہوری رہنماؤں کےلیے کڑا دن تھا ایک طرف میاں نواز شریف کی استقبالیہ ریلی پر ایک معروف گھر سے آئے مسلح افراد ریلی میں شریک لوگوں پر فائرنگ کرتے ہیں جس سے مسلم لیگ نون کے آٹھ سے دس کارکنان جان گنوا جاتے ہیں حفاظتی اداروں کے اہلکاران مجبور اور بے بس کھڑے رہتے ہیں جبکہ میڈیا کے نمائندگان کوریج کرنے سے بھی قاصر نظر آتے ہیں ـ دوسری طرف محترمہ کا لیاقت باغ میں جلسہ منعقد ہوتا ہے یہ وہی لیاقت باغ ہے جہاں ملک کے پہلے وزیراعظم نواب لیاقت علی خان کی چھاتی پر گولیاں برسا کر انہیں قتل کیا گیا تھا ـ ملکی حالات حساس ہونے کے باوجود صرف ایک انسپکٹر اور چند اہلکار ڈیوٹی پر تعینات کیے جاتے ہیں ـ محترمہ آخری جلسہ میں اس بات کا اظہار بھی کرتی ہیں کہ جنرل مشرف کے افسران میرے امیدواروں کو خوف زدہ کر رہے ہیں۔
روشن قندیل گل کر دی جاتی ہے اور برسوں سے موقع کی تلاش میں دست قاتل کو آخرکار آسان موقع میسر آتا ہے یوں وہ جمہوریت کے سینے میں ایک اور خنجر گھونپ دیتا ہے ـ
اس سانحے کے رونما ہونے کے بعد میڈیا پر مختلف بریکنک نیوز چلوا کر شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے محترمہ خود کش حملے میں شہید ہو گئیں ـ خوفناک دھماکے سے حرکتِ قلب بند ہوئی ـ گولی کا نشانہ بنا دیا گیا ـ لینڈ کروزر کا لیور لگا ہے ـ اور ایک خبر تو سر پر آہنی راڈ کے وار کی بھی چلائی گئی ـ ایک وقت تھا کہ مشرف صاحب خود پر ہونے والے ایسے حملے کہ جنہیں ان کے اپنے قریبی جنرل خودساختہ حملے کہہ چکے ہیں ان کے شواہد اکٹھے کرنے کےلیے تین تین ماہ تک سڑکیں سیل کر دیا کرتے تھے اور امریکی سی آئی اے سے مل کر مشترکہ تحقیقات ہوا کرتی تھیں مگر اس بار جائے حادثہ سے ثبوت و شواہد پہلے ہی گھنٹے میں دھو کر سڑک صاف کر دی جاتی ہے ـ سی آئی اے کی اس بابت تحقیقات کےلیے خود کو پیش کرنے کی آفر بھی ٹھکرا دی جاتی ہے ـ حالانکہ سی آئی اے اُس وقت پاکستانی ایجنسیز کے ساتھ مل کر مغربی سرحد پر پاکستان کے اندر دہشتگردوں کے خلاف کام بھی کر رہی تھی ـ اب تو جنرل مشرف کی اس سانحے کی نسبت ایک خاص ویڈیو بھی گردش کرتی رہتی ہے کہ جس میں موصوف ایک توجیہہ پیش کرتے ہیں کہ ،اس قتل سےآخر فائدہ کس کو ہوا، اُن کی اس احمقانہ دلیل کی رو سے پھر ضیا الحق کی ہلاکت کا ذمہ دار کس کو ٹھہرایا جائے؟ آخر بیس جرنیلوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کا اصل فائدہ کس کو ہوا۔