حمزہ سلیم

ایک ہفتہ پہلے سوشل ،الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر کچھ خوبصورت تصاویر گردش کرتی نظر آئیں،ان تصاویر میں دیکھایا گیا کہ سکھ کمیونٹی کے خوبصورت لوگ مسلمانوں کے لئے افطاری کا انتظام کررہے ہیں۔پشاور کی سکھ برادری نے ہر سال کی طرح اس سال بھی مسلمان بھائیوں کے لئے افطار کا انتظام کیا ۔افطار کی تقریب کی تصاویر میں مسکراہٹیں تھی ،انسانیت ان تصاویر میں رقص کرتی نظر آئی ،سردار چرنجیت سنگھ بھی ان تقاریب میں مسلمان بھائیوں کے لئے افطار کا انتظام کرتے نظر آئے ۔

سکھ برادری کا پشاور میں افطار کے لئے اہتمام دیدنی ہوتا ہے،یہ اس کمیونٹی کی عرصے سے ایک خوبصورت روایت ہے کہ وہ بڑھ چڑھ کر افطار پارٹی کا اہتمام کرتے ہیں ،خوشی کا موقع تھا ،سب خوش تھے ۔لیکن پھر اچانک ایسا ہوا کہ ساری خوشی غم اور دکھ میں بدل گئی۔منگل کے روز سکھ برادری کے سرکردہ سماجی رہنما سردار چرنجیت سنگھ کو نامعلوم مسلح موٹر سائیکل سواروں نے گولیاں مار کر ہلاک کردیا ۔سردار چرنجیت سنگھ پشاور کوہاٹ روڈ پر اپنی دکان پر بیٹھے تھے کہ ظالموں نے گولیاں چلادی اور وہ موقع پر ہلاک ہو گئے۔

اٹک میں گزشتہ روز ان کا کریا کرم کردیا گیا ۔ان کا جنازہ پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر گردوارے میں رکھا گیا ،ہزاروں کی تعداد میں شہری آئے اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا ۔اس موقع پر سکھوں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی آنکھوں میں بھی آنسوو تھے ۔تمام انسانوں کے دل و دماغ میں سوالیہ نشان تھا کہ کیوں ایک پیارے انسان کو قتل کیا گیا؟آئی جی خیبر پختونخواہ نے فوری طور پر تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا حکم دیا تھا ،تحقیقاتی کمیٹی بنا دی گئی ہے ،اب یہ کمیٹی تحقیقات کرے گی کہ اس طرح کے پیارے انسان کو قتل کرنے کا مقصد کیا تھا ؟چرنجیت سنگھ کا تعلق کرم ایجنسی کے علاقے صدر سے تھا ،اسی کے عشرے میں چرنجیت سنگھ صدر سے خاندان سمیت پشاور میں آباد ہو گئے تھے۔وہ بین المذاہب ہم آہنگی کے بہت بڑے وکیل تھے۔ایک انتہائی تعلیم یافتہ انسان تھے جنہوں نے بین المذاہب ہم آہنگی پر تین کتابیں تحریر کی تھی ۔

خیبر پختونخواہ کے کالجز اور یونیورسٹیوں میں وہ بین المذاہب ہم آہنگی کے موضوع پر بچوں کو انسانیت سے بھرپور لیکچر دیتے تھے ۔انسانیت پرست اس انسان سے خیبر پختونخواہ کے طالبعلم بھرپور واقف تھے ۔یہ طالبعلم چرنجیت سنگھ کی باتوں کو بہت اہمیت دیتے ہیں ۔فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں ضم کرنے کے جوشیلے کارکن تھے ۔ان کا کسی سے کوئی زاتی جھگڑا نہیں تھا ،مسلمانوں اور سکھوں کے درمیان وہ ایک خوبصورت خیال تھے ،ظالموں نے اس خوبصورت خیال کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا ۔2012 سے اب تک سکھ برادی کے دس پاکستانی شہریوں کو خیبر پختونخواہ میں قتل کیا جاچکا ہے ۔کہا جاتا ہے کہ چرنجیت سنگھ کا قتل ٹار گٹ کلنگ ہے ۔بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان اس قتل میں ملوث ہو چکے ہیں ،ابھی تک کسی تنظیم نے اس قتل کی زمہ داری قبول نہیں کی۔کچھ روز پہلے بھارت سے یہ خبر آئی تھی کہ اترا کھنڈ میں ایک مسلمان کو مندر کے قریب ہندو انتہاپسندوں نے گھیر لیا ،وہ اس مسلمان کو قتل کردینا چاہتے تھے کہ اسی دوران ایک سکھ پولیس اہلکار مسلمان کے سامنے کھڑا ہو گیا اور کہا کہ کوئی مائی کا لال میرے مسلمان بھائی کو قتل نہیں کرسکتا ۔سکھ سردار نے مسلمان کی جان بچائی اور اسے محفوظ مقام پر منتقل کیا۔

اب اسی سکھ سردار کو ہندو انتہا پسند قتل کی دھمکیاں دے رہے ہیں کہ کیوں اس نے مسلمان کو قتل ہونے سے بچایا؟دوسری طرف پاکستان کے شہر پشاور میں امن اور محبت کے داعی سکھ سردار کو قتل کردیا گیا ۔ایسا سکھ سردار جو مسلمانوں کے لئے افطاری کا اہتمام کرتا تھا ،ایسا انسان جو بین المذاہب ہم آہنگی کا پرچارک تھا ،ہمیشہ محبت اور انسانیت کی بات کرتا تھا۔گزشتہ روز چرنجیت سنگھ کی آخری رسومات تو ادا کردی گئی ہیں ،لیکن سنا ہے اس مقتول کی لاش سے آخری وقت تک یہ آوازیں آتی رہی کہ ظالمو مجھے کیوں قتل کیا ؟میں تو امن ،محبت اور انسانیت کی بات کرتا تھا ،پیار اور دوستی کی بات کرتا تھا۔

سنا ہے لاش کی یہ درد بھری آوازیں سن کر مسلمان بھی سکتے میں تھے ۔سب انسان سوالیہ نشان بنے تھے ،تمام انسانوں کی آنکھوں میں آنسوو اور ہونٹوں پر سسکیاں تھی ؟سوال یہ ہے کہ ایک فاختہ قسم کے انسان کو کیوں قتل کیا گیا؟خیبر پختونخواہ حکومت کی یہ زمہ داری ہے کہ وہ سردار چرنجیت سنگھ کے قاتلوں کو گرفتار کرے اور انہیں سخت سے سخت سزا دی جائے ۔امید ہے بہت جلد سردار چرنجیت سنگھ کے قاتل گرفتار کر لئے جائیں گے ۔