مہناز اختر

ہدایت اللہ لوہار، سورٹ لوہار اور سسّی لوہار , دوستوں آپ اگر ان تین ناموں سے واقفیت رکھتے ہیں تو پھر یہ اچھی بات ہے کہ آپ پاکستان کے حالات جاننے کے لیۓ صرف اور صرف پاکستانی مین اسٹریم میڈیا پر انحصار نہیں کرتے اور اگر آپ کو بالکل بھی اندازہ نہیں ہے کہ یہ افراد کون ہیں تو پھر میرا یہ مضمون خاص طور پر آپ کے لیۓ ہے۔

فرض کریں کہ آپکے گھر کا کوٸی فرد کل رات سے گھر نہیں آیا، یا صبح سویرے چند نامعلوم افراد آپکے بھاٸی یا والد کو کچھ بتاۓ بغیر اپنے ساتھ زبردستی لے گٸے ہوں تو آپ کی کیا کیفیت ہوگی؟

بے انتہا تشویش کے ساتھ آپکی پہلی کوشش یہی ہوگی کہ اس واقعے کی رپورٹ تھانے میں درج کرواٸی جاۓ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے اپنے عزیز کی تلاش کا آغاز کیا جاۓ لیکن اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے آپکی رپورٹ لکھنے سے انکار کردیں اور یہ بھی بتادیں کہ آپ کے عزیز کو ”اوپروالوں“ نے اٹھایا ہے تو آپ کس سے فریاد کریں گے۔ گمشدگی کا یہ دورانیہ دنوں،ہفتوں، مہینوں کو عبور کرکے سالوں پرمحیط ہوجاۓ اور ریاست بھی آپ سے آنکھیں پھیر لے تو پھر ایسی صورت میں آپ کے پاس صرف ایک راستہ رہ جاتا ہے۔ وہ راستہ ہے احتجاج یا احتجاجی تحریک کا راستہ۔

دوستوں پاکستان کی ایک بیٹی سسّی لوہار کم و بیش دو سالوں سے خوف وانتظار کے اسی پل صراط پر کھڑی اپنے والد ہیڈ ماسٹر ہدایت اللہ لوہار کی بازیابی کے لیے ریاست کے آگے فریاد کررہی ہے۔ سسّی لوہار اور انکی بہن سورٹ لوہار VMP ”واٸس فار مسنگ پرسنز آف سندھ“ کے پلیٹ فارم سے اپنے والد سمیت دیگر سندھی قوم پرست اور ترقی پسند پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے اہل خانہ کے ساتھ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیۓ آواز بلند کررہی ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ اداروں نے بے گناہ لوگوں کو غاٸب کروایا ہے اگر لاپتہ افراد واقعی میں مجرم ہیں تو انکا فری ٹراٸل کیوں نہیں کیا جاتا اور اگر انکے عزیز ریاستی اداروں کے پاس نہیں ہیں تو ریاست انہیں تلاش کیوں نہیں کرتی؟

میں نے کچھ روز قبل سسّی لوہار سے سندھی لاپتہ افراد کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی، سّسی کا کہنا ہے کہ ان پر بے انتہا دباٶ ہے۔ انکا ساتھ دینے والوں کو دھمکیاں دی جاتیں ہیں کہ VMP کا ساتھ نہ دیا جاۓ ورنہ دوسرے قوم پرست کارکنوں کی طرح ساتھ دینے والوں کے اہلِ خانہ کو بھی اذیت دے کر انکی آنکھوں کے سامنے انجام کو پہنچا دیا جاۓ گا۔ اسی وجہ سے لوگ لاپتہ افراد کے حوالے سے بات کرنے میں خوف محسوس کرتے ہیں۔ میں نے سسّی سے پوچھا کہ کیا آپ کے والد کی کسی ایسی تنظیم سے کسی قسم کی وابستگی تھی جو ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہو تو سسّی نے اس بات کی سختی سے تردید کی اور بتایا کہ وہ ایک سلجھے ہوۓ تعلیم یافتہ خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ انکے والد, چچا اور خاندان کے دیگر افراد تعلیم کے شعبے سے وابستہ ہیں اور انکا یا انکے خاندان کے کسی فرد کا ایسی کسی سرگرمی سے کوٸی تعلق نہیں ہے جو غیر قانونی یا قابل گرفت ہو۔ سسّی کو سندھ کی نماٸندہ جماعت کہلانے والی پیپلز پارٹی سے بھی شکایت ہے کہ سندھ میں سندھیوں کے استحصال کی ذمہ دار سندھ کی یہی نماٸندہ جماعت ہے۔ جس نے کبھی سندھ کے لاپتہ افراد کے حوالے سے اعلی ایوانوں میں بات نہیں کی ۔ مزید یہ کہ پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر سندھ کی ترقی پسند اور قوم پرست جماعتوں کے خلاف کریک ڈاٶن میں ہمیشہ برابر کی شریک رہی ہے۔

پاکستان میں چاروں اطراف سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے مطالبے کی بازگشت سناٸی دے رہی ہے۔ ماضی میں ہم مہاجر لاپتہ افراد اور مہاجروں کے ماوراۓ عدالت قتل کی آوازیں سنتے تھے لیکن ان آوازوں کو ریاست نے طاقت کے ساتھ کچل دیا اور پاکستان کی دیگر اقوام نے اس بات پر مہاجروں کا ساتھ دینے کے بجاۓ یہ یقین کرلیا کہ مہاجر ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہیں اس لیۓ انکے ساتھ جو ہورہا ہے وہ ٹھیک ہے۔ اسکے بعد بلوچ لاپتہ افراد اور ماوراۓ عدالت قتل کا شور اٹھنے لگا پھر پختون اور اب سندھی لاپتہ افراد اور ماوراۓ عدالت قتل کے حوالے سے آوازیں اٹھ رہی ہیں۔

دیکھا جاۓ تو پختون تحفظ موومنٹ اور جلیلہ حیدر کی آواز کے مقابلے میں سسّی لوہار کی آواز اتنی توانا نہیں ہے یا یہ کہہ سکتے ہیں کہ سسّی کے ساتھ توانا آوازیں اس طرح سے نہیں جڑ پارہی ہیں جیسے کہ منظور پشتین یا جلیلہ حیدر کے ساتھ جڑی ہیں۔ میرے خیال سے مسنگ پرسنز کے حوالے سے اٹھنے والی توانا آوازوں اور تحریکوں کو اتحاد کی اشد ضرورت ہے۔ ہم علیحدہ علیحدہ پختون، بلوچ، مہاجر اور سندھی لاپتہ افراد کی بات کررہے ہیں۔ کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ ہم مل جل کر صرف اور صرف مسنگ پرسنز کی بات کریں یا منظور پشتین اور جلیلہ حیدر جب پختون، ہزارہ اور بلوچ لاپتہ افراد کی بات کریں تو کبھی کبھی سندھی لاپتہ افراد کی بات بھی کریں کیونکہ سندھی لاپتہ افراد کی بازیابی کے حوالے سے اٹھنے والی آوازیں پی ٹی ایم کی بہ نسبت کم زور ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ سندھ میں بسنے والے سندھی اور مہاجر ایک پلیٹ فارم پر اکھٹے ہوکر سندھی اور مہاجر لاپتہ افراد اور ماوراۓ عدالت قتل کے خلاف احتجاج کریں۔

عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ تمام تر لاپتہ افراد ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہے ہونگے اس وجہ سے انہیں اداروں نے اپنی تحویل میں لیا ہوگا یا پھر قوم پرست اور علیحدگی پسند نظریات کے حامل افراد کا تعلق ریاست مخالف سرگرمیوں سے رہا ہوگا، یا یہ سارے لوگ بھارت کے آلہ کار کے طور پر پاکستان کے لیۓ کام کرتے ہیں اس لیۓ ان سے ایسے ہی نپٹنا چاہیے۔ ایسا سوچنے والوں سے میں یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا آزاد تحقیقات اور تفتیش ہر ملزم کا حق نہیں؟
کیا ہمیں بحیثیت انسان یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ ہم سسّی لوہار یا جلیلہ حیدر کا ساتھ حق اور انصاف کی بنیاد پردیں اور ریاست سے مطالبہ کریں کہ ایسے تمام لاپتہ افراد کو عدالتوں میں پیش کیا جاۓ اور بالفرض اگر یہ افراد ریاستی اداروں کی تحویل میں نہیں ہیں تو کیا ریاست کے لیۓ اتنی بڑی تعداد میں بے گناہ افراد کا لاپتہ ہونا تشویش کی بات نہیں ہے؟

ہوسکتا ہے کہ بلوچ یا سندھی لاپتہ افراد میں اکثریت علیحدگی پسند نظریات رکھنے والوں کی ہو، ہوسکتا ہے کہ ہمیں پی ٹی ایم کے حوالے سے شدید تحفظات ہوں لیکن اگر ہمارا نظریاتی اختلاف ہمیں ظلم کے خلاف آواز اٹھانے سےروک رہا ہے تو سمجھ لیں کہ ہم غلط کے ساتھ کھڑے ہیں۔ سسّی لوہار، جلیلہ حیدر یا میں صرف سندھ یا بلوچستان کی بیٹیاں نہیں ہیں بلکہ ہم پورے پاکستان کی بیٹیاں ہے۔ کیا ہمارا تحفظ ریاست کی ذمہ داری نہیں ہے؟ ایسا کیوں ہے کہ جب سسّی اور سورٹ لوہار یا جلیلہ حیدر اپنے لوگوں کی بازیابی کے حوالے سے کوٸی تحریک چلاتی ہیں تو انہیں غدار اور بھارتی آلہ کار سمجھا جاتا ہے؟

مجھے ریاست کے ساتھ ساتھ شکوہ پاکستان کی تعلیم یافتہ اور بااثر خواتین سے بھی ہے کہ جب ہم خواتین سنجیدہ اور اہم ترین مساٸل کی بات کرتے ہیں تو خواتین کی واضح اکثریت مارننگ شوز یا ڈیزاٸنر کپڑوں کی باتیں کرتی دکھاٸی دیتی ہے۔ یقین مانیے اگر آج صرف ماٸرہ خان، صبا قمر یا شرمین عبید جیسی خواتین سسّی لوہار کی آواز کے ساتھ آواز ملا لیں تو سسّی کی آواز کی گونج بہت دور تک سناٸی دے گی۔ اور تو اور اگر خاتون اول بشریٰ صاحبہ یا انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری صاحبہ صرف خاتون ہونے کی حیثیت سے ایک بار سسّی سے اظہار ہمدردی کرلیں تو بھی سسّی کو بے حد حوصلہ ملے پر افسوس کہ یہاں خواتین ہی خواتین کی مدد کے لیۓ آگے نہیں آرہی ہیں۔ ہم نے سندھ کی بیٹی کے نام پر بے نظیر بھٹو اور ادّی کے نام پر فریال تالپور کے بت تراش رکھے ہیں اسکے برعکس پر امن احتجاج کے دوران سسّی لوہار جیسی بیٹیوں کے کپڑے پھاڑے جارہے ہیں۔ کیا سندھ کی بیٹیوں کا کوٸی والی وارث نہیں ہے اور کیا سندھ کی بیٹیاں صرف سندھ کی بیٹیاں ہیں، پاکستان کی نہیں؟