عبدالرؤف، لاہور

 

سن جنوری دو ہزار گیارہ میں پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو قتل کردیا گیا تھا، کیوں قتل کیا گیا تھا اور کس نے کیا تھا، یہ مدعا بہت باربیان ہو چکا او ہمارے ملک کے سیاسی و مزہبی منظر نامے میں یہ کچھ حوالوں سے بیان ہوتا بھی رہے گا کیونکہ کچھ سانحے ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے نوحے تاریخ خود لکھتی ہے اور خود ہی مٹاتی ہے ۔

کل نوازشریف کو جامعہ نعیمیہ لاہور میں پڑنے والے جوتے کی خبر جب سامنے آئی تو، اس پر میرا پہلا ردِّعمل یہ تھا کہ یہ انہونی نہیں ہوئی۔ ہاں البتہ ایک افسوسناک واقعہ ضرور ہے۔ لیکن یہاں جس پہلو پر غورو فکر کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ یہ قطعاَ نہیں کہ اس بات پر افسوس کیا جائے کہ قوم کی اخلاقی حالت اس قدر گِرگئی کہ اپنے بزرگ سیاستدانوں کی توہین پر اتر آئی ہے وغیرہ وغیرہ۔ بلکہ ضروری امر یہ ہے کہ تاریخ میں بہت دور جانے کی بجاۓ پچھلے چند سالوں کا تجزیہ کر لیا جائے تو بخوبی اندازہ ہوجائے گا کہ مزہبی اختلاف کو اپنے فائدے کیلئے کس جماعت نے کتنا استعمال کیا۔ بارہا ایسے مواقع آئے جہاں یہ ضروری تھا کہ دوررس اجتماعی ملکی مفاد کیلئے اپنے سیاسی حریف کے ساتھ کھڑا ہوا جاتا، اسے اکیلے اس طرح سے مجرم بنا دیا گیا کہ میڈیا ہو یا نجی محفلیں اسے بے پناہ صفائیاں پیش کرنا پڑیں جو بے سود ٹھریں اور انہی میں سے ایک مثال اس شخص کی ہے جس کیلیے جنوری دوہزار گیارہ کو اسلام آباد کی کوہسار مارکیٹ مقتل گاہ قرار پائی۔

ٹھہرئے، اس بات کا یہ مطلب نہیں کہ ہم نو ن لیگی قیادت کو براہِ راست اس کا ذمہ دار سمجھتے ہیں، بلکہ ہم یہ ضرور سمجتھے ہیں کہ اس وقت کے گورنر سلمان تاثیر کی پنجاب میں شہباز حکومت کے ساتھ جاری سیاسی کشمکش کی وجہ سے نون لیگی قیادت نے مجرمانہ حد تک پیپلزپارٹی کو بالعموم اور سلمان تاثیر کو بالخصوص ایک ایسی بحث کے دھانے پر پہنچا دیا یا پہنچنے دیا جہاں سلمان تاثیر اور شہباز بھٹی جیسی قدآور شخصیات کو اپنی جان گنوانا پڑی۔ لیکن اب اسے تاریخ کی ستم ظریفی کہیے کہ مکافات عمل اسی اسلام آباد شہر کی سڑکوں پر جہاں تاثیرو شہباز کا خون بکھرا تھا، چند ماہ قبل نون لیگی وزیر زید حامد کو استعفی دینا پڑا، دوسرے بڑے وزیر احسن اقبال کا اقبال فیض آباد پل سے اوندھے منہ گرادیا گیا، پھر اسی وزیر کو جوتے کا سائز بھی ماپنا پڑا اور اب سابق وزیراعظم اور تاحیات قائد کو بھی ایسی ہی رسوائی کا سامنا کرنا پڑا، اور وجہ کیا ہوئی اس سارے المیے کی، سیاسی اختلاف؟ یا ذاتی رنجش یاکچھ اور؟ کوئی بتلائے کہ ہمیں بتلائیں کیا۔ عوامی مجالس میں جس ہتک آمیز رویے کا آج نون لیگی سیاسی قیادت کو سامنا ہے اس کی تخلیق میں خود نون لیگی قیادت نے بھرپور کردار ادا کیا ہے۔

دو ہزار گیارہ کے بعد پنجاب میں دو لوگوں کا ظہور ہوا ایک شہاز شریف اور دوسرے رانا ثنااللہ، کہتے ہیں جب سورج غروب ہوتا ہے تو چھوٹے درختوں کے قد بھی لمبے ہوجاتے ہیں۔ تاریخی تناظر میں جب بھی پنجاب کی حالیہ سیاست کی بات ہوگی، پہلے دوہزار آٹھ کے الیکشن میں پنجاب میں ایک سو سے زیادہ سیٹیں لینے والی پاکستان پیپلز پارٹی اور پنجاب میں سلمان تاثیر جیسے گورنر کی بات ہوگی پھر اگر شہباز شریف کے میگا پراجیکٹس کی بات آۓ گی تو وہاں دو ہزار گیارہ کے بعد ملے پنجاب کے خالی میدان کی بات بھی آئے گی۔ سوچنے اور غور کرنے کی بات یہ ہے کہ آج جو تے اور سیاہی آپ کی طرف اچھالی جارہی ہے، اچھالنے والے کیا نعرہ لگا رہے ہیں اور کس بات پر آپ کو تعن وتشنیع کا سامنا ہے، یہ وہی نعرہ ہے جناب جب کسی اور کے خلاف لگا تو آپ نہ صرف خاموش رہے بلکہ آپ کے سیاسی حریفوں کے بقول آپ نے ایک مخصوص انداز میں اس کو بےحد بڑھاوا دیا اور اس حد تک چلے گئے کہ آپ کے وزرا اس مخالفت کو اپنے تئیں تجدید ایمان شمار کرنے لگے ۔

یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ اپنا اصول واضح کریں اور اسی موقع پر آپ کے سیاسی حریف بھی ایک اصول وضع کریں، اگر مزہبی انتشار کو کسی نے بھی سیاسی مقاصد کیلیے استعمال کیا اور وقتی طور پر خاموشی کو اپنا فائدہ گردانا تو پاکستانی زمین، آب و ہوا اور سیاسی دانش میں بس اتنی گہرائی ہے کہ محض چھ سالوں میں آپ کو کٹہرے میں لا کھڑا کرے گی اور سیاہی بھی وہی ہوگی اور جوتے کا سائز بھی وہی ہوگا جبکہ چہرہ بد ل جائے گا، اور وہ چہرہ کونسا ہوگا، آج اس کی شناخت کرنا کسی بھی صاحبِ بصیرت کیلئے مشکل نہیں ہے۔ اس مرحلے پر جہاں تمام سیاسی قائدین پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مزہبی عوامل کو بھڑکانے سے اجتناب کریں وہاں ان پر یہ ذمہ داری دگنا ہے کہ آئندہ ہونے والے عام انتخابات کے تناظر میں تمام جلسوں ، کارنرمیٹنگز اور دیگر اجتماعات عوامی و نجی میں ایسی مزہبی بحث سے گریز کریں جس سے ایسا تاثر جائے گویا آپ کا حریف کافر ہے اور آپ ہی وہ بندہِ مومن ہیں جس کے ہاتھ میں ملک وقوم کی نجات لکھی ہیے۔ خواجہ آصف اور نوازشریف پر سیاہی اور جوتا پھینکنا ایک خبر ضرور ہے، لیکن پھینکنے والوں نے جو نسبت ظاہر کی ہے وہ ایک اعلان ہے ایک سوچ کی پختگی اور راہِ عمل پر قدم رکھنے کی پہلی سیڑھی ہے ۔ محض پھیکی مزمت اور سرزنش سے آپ اپنا وقت ضائع کریں گے اگرسیاسی قیادت نے ان مزہبی اختلافات کو اپنی سیاست چمکانے کیلیئے اور خفیہ قوتوں نے اپنا پرانا حساب چکانے کیلئے اس روش کو نہ چھوڑا تو یہ الفاظ لکھ چھوڑیے آنئدہ سیاہی اور جوتا نہیں پھینکا جائے گا، کہ جو آج سیاہی اور جوتے پہ مائل ہیں کل ان کے ہاتھ میں بندوق ہو سکتی ہے، ایک خنجر ہوسکتا ہے بس ان کے ایمان کو کسی کی شرارت کا کندھا ملنے کی دیر ہے۔ باقی جو نصاب ان کے سینوں میں مچلتا ہے اس سے سیاسی قیادت بخوبی آگاہ ہے جبکہ نون لیگی قیادت تو اس میں ساجھے دار ہے اس نصاب کا دیباچہ انہوں نے خود لکھا ہے آج اسے جھٹلانا یا تحریف کرنا بہت مشکل ہے۔

 

1 COMMENT

  1. عمدہ تحریر ہے، بلاواسطہ آئینے پر نظر ڈالنے سے واضح ہو جائے گا کہ کسی داغ کا داغ آپ کے چہرے پرابھی بھی باقی ہے، ن لیگ بویا کاٹ رہی ہے اور مذیدبونے میں مصروف ہیں ۔۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here