حیدر راجپر

یقیناًیہ بات قارئین کے علم میں ہوگی کہ ملکی دستور ہر شہری کو فری ٹرائیل کا حق دیتا ہے اور ہر شیروانی پہننے والا جمہوری حکمران اپنے منصب کا حلف اٹھاتے ہوئے یہ قسم کھاتا ہے کہ وہ ملکی دستور کا تحفظ یقینی بنائے گا۔ دوسری جانب وردی پہننے والا ہر افسر بھی یہ قسم کھاتا ہے کہ وہ سیاست میں مداخلت اور دستور کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔

گذشتہ دنوں سے وردی والوں پر دستور کی خلاف ورزی کرنے پر تو ہر شخص تنقید کرتے دکھائی دے رہا ہے اور یہ لوگوں کا جمہوری حق بھی ہے ، مگر شیروانی پہنے سیاستدانوں کو فرشتے سمجھتے ہوئے ان پر کوئی تنقید نہیں کی جاتی ۔ حالانکہ جب کوئی شہری لاپتہ ہوجائے تو یہ جمہوری حکمرانوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ اسے بازیاب کرائیں ۔ مگر ان کو کیا غرض انہیں تو اقتدار کے نشے میں دھت رہنا ، اپنی مدت پوری کرنا اور پھر دوبارہ عوام کو بیوقوف بنانا ہوتا ہے ۔ میں سابقہ حکمرانوں کی بات کررہا ہوں جو خود کو بے اختیار سمجھ کر اپنی مدت پوری کرگئے ، اس وقت تو نگران حکومت ہے جس کا کام صرف انتخابات کروانا ہے۔

جب لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے کراچی پریس کلب پر احتجاج ہوا تو شہریوں پر لاٹھیاں برسائی گئیں ۔ اس موقع پر ایک قوم پرست دوست نے مجھے غم و غصے کی حالت میں آ کر بتایا کہ کراچی میں سندھی بیٹیوں پر تشدد ہوا ہے۔ میں نے اپنا فرض سمجھتے ہوئے اس موضوع پر ایک مضمون بھی لکھا ، بعد میں مجھے 13 اپریل کو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک خبر یاد آئی کہ ” صوفی کانفرنس سے سندھ کی بیٹی سسئی لوہر کو لاپتہ افراد کے پمفلٹس تقسیم کرنے کی وجہ سے دھکے دے کر نکالا گیا “۔

اس کانفرنس کا انعقاد اس وقت کے محکمہٴ ثقافت، سیاحت اور نوادرات کے وزیر سردار شاہ کی جانب سے کیا گیا تھا ، اور اس کانفرنس کی خصوصی مہمان محترمہ فریال تالپر تھی۔

سندھ صوفیوں کی دھرتی ہے اس بات کا علم اور ساتھ ساتھ قومپرستوں کی غیرت کا بھی پتا چل گیا تھا ۔
بدقسمتی سے کسی بھی قومپرست نے اس جمہوری صوفی کانفرنس کے خلاف احتجاج نہیں کیا چونکہ سندھ کی بیٹی کو جمہوری دھکے مارے گئے تھے “آمری ٹھڈے” نہیں۔

چند روز قبل ایک دوست نے میرے فیس بک صفحے پر کمینٹ کیا کہ “پیپلزپارٹی ایک قوم پرست پارٹی ہے” ، اس بات سے انکار نہیں کہ پیپلزپارٹی اور قوم پرستوں کے تعلقات جبرل ضیاالحق کے آمری دور میں “ایم آر ڈی” تحریک کے دوران بھی مضبوط تھے ، موجودہ دور میں پیپلزپارٹی کی قوم پرستوں اور سندھیوں سے کتنی محبت ہے یہ تو صاف ظاہر ہے ، مگر آج بھی سندھی لوگ پیپلزپارٹی کو قوم پرستی کی بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں اور کہتے ہیں ووٹ تو شہید رانی کی امانت ہے۔