حیدر راجپر

یوں تو طویل عرصے سے مختلف قومپرست تنظیموں سے تعلق رکھنے والے سندھی لوگ لاپتہ ہوتے رہے ہیں، جن کی بازیابی کے لئے ان کی اپنی تنظیموں کے لوگ بھی خوف کی وجہ سے آواز نہیں اٹھاتے ، اگر چند لوگ سڑکوں پر نکلنے کی کوشش بھی کرتے ہیں تو میڈیا کی جانب سے انہیں کوئی کوریج نہیں ملتی ، بالآخر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان لاپتہ افراد کے گھر والوں کو ایک مسخ شدہ لاش ملتی ہے یا پھر کبھی کبھار وہ لاپتہ افراد خاموشی کی قسم کھا کر واپس بھی لوٹ آتے ہیں اور دوبارہ کسی سیاسی سرگرمی میں ملوث نظر نہیں آتے۔

مگر حال ہی میں جو چند لوگ لاپتہ ہوئے ہیں ان کی بہادر بیٹیوں کو سلام جو ان افراد کی بازیابی کے لئے کراچی کے سڑکوں پر نکل آئیں اور پرامن طریقے سے احتجاج کیا، حالانکہ ریاستی اداروں نے ان پر تشدد کیا اور کپڑے پھاڑ کر ان کی تذلیل بھی کی ؛ لیکن وہ بیٹیاں اب بھی سراپا احتجاج ہیں۔

کراچی کے بعد اسلام آباد میں بھی سندھی نوجوانوں نے پرامن طریقے سے کیمپ لگا کر بھوک ہڑتال کی ،جس میں (پشتون تحفظ مومنٹ) کے سربراہ منظور پشتین بھی شریک ہوئے ، لیکن اسلام آباد والوں کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا گیا ان پر بھی ڈنڈے برسائے گئے ، بھوک ہڑتال حیدرآباد میں بھی جاری ہے ۔
لگتا تو یوں ہے کہ

اب ٹوٹ گریں گی زنجیریں
اب زندانوں کی خیر نہیں
سوشل میڈیا پر ہر اہل شعور نے ان مظاہرین کے حق میں آواز بلند کی ہے ، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ اشرفیہ کے کتوں کی خبریں شائع کرنے والے ٹی وی چینلز پر ان مظاہرین کے بارے کوئی خبر نہیں۔

صبح ایک دوست کے ساتھ اس موضوع پر گفتگو ہورہی تھی جس نے کہا کہ یہ قومپرست آخر چاہتے کیا ہیں؟
میں نے جواب میں کہا کہ میں نظریاتی طور پر تو ان قوم پرست لوگوں کے ساتھ بہت سے اختلافات رکھتا ہوں ، مگر دیکھنا یہ ہے کہ سڑکوں پر بیٹھے نوجوان قومپرست آخر چاہتے کیا ہیں۔

یہ نوجوان قومپرست مملکت پاکستان کے دستور پر عملدرآمد کرانے کے لیئے جبری طور پر گمشدہ افراد کی بازیابی اور آئین کے آرٹیکل دس اے (10-A )کے تحت اگر ان کے خلاف کوئی الزامات ہیں تو ان کا فیئر ٹرائل ہی تو چاہتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ جنہوں نے بھی دستور پاکستان کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ، جبری گمشدگییوں کے ذریعے ، ملک کے باشندوں کے خلاف قانون حبس بے جا میں رکھا ہوا ہے ، ان کا بھی مملکت پاکستان کے دستور کی خلاف ورزی کرنے پر ملکی قانوں کے تحت ٹرائل ہی تو چاہتے ہیں ۔ میرے بھائی ، اگر آپ دستور پاکستان پر عملدرآمد کا مطالبہ کرنے والوں کو غدار اور دستور کی خلاف ورزی کرنے والوں کو محب وطن سمجھتے ہیں تو میں بھی ایک غدار ہوں۔