عاطف توقیر

سیاست دان اگر کرپٹ نہ ہوتے، اگر وہ عوام کی خدمت کرتے، اگر وہ اپنی جیب بھرنے کی بجائے قوم کے مسائل کا حل سوچتے تو آج حالات مختلف ہوتے۔ یہ جملہ آپ شاید دن میں کئی بار سنتے ہیں۔ ٹی وی چینلز پر بھی ہمارے ’دانش ور‘ حضرات بھاری تنخواہیں لے کر یہی بات زور و شور سے کرتے اور سیاست دانوں کو گالیاں دیتے نظر آتے ہیں۔

ایک میوزک کانسرٹ ہو رہا تھا، لوگوں نے اچھے خاصے پیسے دے کر اس کانسرٹ کا ٹکٹ لیا۔ وہاں اسٹیج پر ایک نہایت بے سرا شخص چڑھ آیا اور گانا گانے لگا۔ ایسے میں مہنگا ٹکٹ خرید کر کانسرٹ میں شریک ایک شخص غصے سے کھڑا ہوا، تو گانا گانے والا ڈر کر خاموش ہو گیا۔ وہ شخص کہنے لگا، بھائی صاحب آپ گائیں، مجھے اس بندے کا نام بتائیں، جو آپ کو لے کر آیا ہے۔

کچھ ایسا ہی معاملہ ملکی سیاست کا بھی ہے۔ یہاں جو جو شخص سیاست دانوں کو گالیاں دیتا نظر آتا ہے، ٹھیک وہی شخص کسی حقیقی عوامی نمائندے کے راستے میں بھی سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔

پچھلے ستر سال میں ہوا یہ ہے کہ جب جب کسی عوامی نمائندے نے عوام کے حقوق اور ملک میں دستور کی بالادستی کی بات کی، اس کو غدار، غیرملکی ایجنٹ اور ملک دشمن قرار دے کر سیاسی دھارے سے باہر پھینک دیا گیا۔

اس ملک پر ایک خاص طبقے کی گرفت کا اندازہ اس بات سے لگائیے پوری قوم عجیب دو رنگی میں ڈھل چکی ہے۔ جسے ہم آج مادرِ ملت کہتے ہیں وہ ایوب خان کے ساتھ تھی، تو ملک کے گلی کوچوں میں اسے انڈین ایجنٹ کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ فاطمہ جناح کے ساتھ جو شخص کھڑا تھا، وہ مجیب الرحمان تھا۔ دوسری جانب ایوب خان کے ساتھ جو شخص کھڑا تھا وہ ذوالفقار علی بھٹو تھا۔

انجام یہ ہوا کہ مجیب الرحمان جیسے عوامی رہنما کو بھی غدار اور ایجنٹ قرار دے دیا گیا اور اپنی ہٹ دھرمی سے باز آنے اور سیاست سے دور رہنے کی بجائے، اپنے ہی ملک کے شہریوں کا قتل عام اور انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزیاں درست سمجھی گئیں اور اقتدار کی خاطر ملک کے دو ٹکڑے برداشت کر لیے گئے۔

ذوالفقار علی بھٹو جمہوریت کے راستے پر کچھ آگے بڑھے اور رفتہ رفتہ عوامی مقبولیت حاصل کی، تو ان کے مقابلے میں اسلامی جماعتوں کو لا کھڑا کیا گیا اور پورے زور و شور سے تحریک پیدا کر دی گئی۔ عدالتوں کا پھر سے استعمال کر کے بھٹو کو غدار اور ملک دشمن قرار دے کر پھانسی دے دی گئی اور ملک پر قومی سلامتی کے پہرے داروں نے قبضہ کر لیا۔

آگے چلے تو بے نظیر بھٹو کے مقابلے میں آئی جے آئی بنا کر نواز شریف صاحب کو لاکھڑا کیا گیا۔ اس وقت پورے ملک میں بے نظیر بھٹو کو ملک دشمن اور انڈین ایجنٹ بنا کر پیش کرنے کی زبردست مہم جاری رکھی گئی۔

تاریخ کے ان صفحات کو تیزی سے پلٹیں، تو اس وقت حالت یہ ہے کہ نواز شریف جو خود اسی نظام اور اقتدار پر قابض جرنیلوں کی آشیرباد سے سیاسی منظرنامے پر جب ان کی جانب سے اقتدار سویلین ہاتھوں میں لینے کی کوشش کی گئی، تو قومی سلامتی کے نعرے بیچنے والوں نے ماضی کے وہی گھسے پٹے نعرے بلند کر کے ہر طرف کرپشن کرپشن کا شور مچا دیا۔

سوال یہ ہے کہ اگر کرپشن کے یہ معاملات تھے، تو مشرف دور میں نیب کی پوری کارروائیوں کے باوجود سزائیں کیوں نہ دی گئیں؟

ایک طرف جب نون لیگ کے خلاف مقدمات تیزی سے چل رہے ہیں اور ایک کے بعد ایک رہنما کو نااہل قرار دے کر پھر سے ماضی کی طرح اپنی من مانی پارٹی کو اقتدار میں لانے کے لیے راہ ہم وار کی جا رہی ہے، ایسے میں اگر واقعی کرپشن ہی بنیادی معاملہ تھا تو زرداری، ڈاکٹر عاصم اور شرجیل میمن جیسے افراد کے خلاف کیسز کیوں بند ہو گئے؟

بات نہایت سادہ سی ہے، یہ سارے سیاست دان جی ایچ کیو میں بیٹھے لوگ اسی شرط کے ساتھ عوام کے سامنے لاتے ہیں کہ وہ نام کے وزیراعظم اور حاکم رہیں اور دوسری جانب ملک کی پالیسیاں پنڈی ہی میں بنتی رہیں۔ کوئی تنقید کرے تو کہیے دنیا کے کسی ملک میں فوج پر تنقید نہیں ہوتی۔ یا جنہیں ووٹ دیا ہے تنقید ان پر کریں۔ کوئی سرپھرا کہے کہ تنقید پالیسیوں پر ہے ادارے پر نہیں، تو فورا اپنی ہی پالیسیوں کے ہاتھوں مرنے والے کسی نوجوان فوجی کی لاش کی تصویر جاری کر کے کہیے ہم قربانی دے رہے ہیں۔

اس سے بھی زیادہ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ جب مصنوعی سیاست دانوں کی جگہ حقیقی معنوں میں عوام کے اندر سے کوئی عام شخص ابھرے، تو میڈیا، عدلیہ، وسائل، صحافیوں اور تمام تر قوت کا استعمال کر کے اسے غدار یا ایجنٹ قرار دلوایا جائے اور اس کا راستہ بند کر دیا جائے۔ مزے دار بات یہ ہے کہ نعرے لگانے والوں میں سب سے آگے ہوتے بھی وہی لوگ ہیں، جو زور و شور سے یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ سیاست دان کرپٹ اور عوامی مسائل کے حل سے عاری ہیں اس لیے فوج مداخلت کرتی ہے۔

یعنی بات یہ ہے کہ کسی عام عوامی شخص کے لیے سیاست میں کوئی جگہ نہیں۔ ملک ستر سال سے جس طرح چل رہا ہے، اسی طرح چلتا رہے گا۔ جی ایچ کیو ملکی سیاست کے دھارے پر قابض رہے گا۔ جرنیل اس ملک کی پالیسیاں بناتے رہیں گے۔ انتخابات میں دھاندلی ہوتی رہے گی۔ عوام کو بریانی کی پلیٹ کی گالی دی جاتی رہے گی۔ فیصلے اپنے ہاتھوں میں رکھے جائیں گے اور ملکی وسائل اور قوم کا مستقبل لوٹ لیا جائے گا اور سوال کرنے والوں کی تصویریں پریس کانفرنس میں ملک دشمن قرار دے کر پیش کی جاتی رہیں گی۔