شدت پسند لادین اور نام نہاد لبرل

0
265

عاطف توقیر

ایسا ممکن ہے کہ شدت پسندی کا لفظ سامنے آتے ہی آپ کے سامنے کسی بے تحاشا بڑھی ہوئی داڑھی والا کوئی کلاشنکوف بردار مسلم انتہا پسند یا سر تا پا سفید لباس میں ملبوس کوئی سفید فام مسحی یا کوئی جھومتا جھامتا سیاہ پوش یہودی یا کسی نارنجی ملبوس والے لٹھ بردار ہندو کا چہرہ نمودار ہونے لگے، مگر شدت پسندوں کی ایک قسم ان لادین افراد کی بھی ہے، جو بہ ظاہر خود کو جدت پسند، لبرل یا مذہب بیزار قرار دے کر انسانیت کا دم بھرتے نہیں تھکتے۔

کوئی بھی خیال جب نظریہ بن جائے اور پھر وہ سوال سے ماورا ہوجائے تو اس کا نتیجہ استحصال کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔ جہاں کہیں کوئی شخص اپنی سوچ، فکر، سوال اور جستجو پس پشت ڈال دے اور خیالیوں کو مثالیہ قرار دینے لگے، سمجھ لیجیے کہ شدت پسندی جنم لے چکی ہے۔

یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ امریکا پر نو گیارہ کے حملوں کے بعد ایک طرف تو مغربی دنیا میں مذاہب خصوصاﹰ اسلام کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوا اور دوسری جانب ایسے طفیلیے بھی پیدا ہو گئے، جو ردعمل میں صرف اور صرف مذہب کو بیماری کی وجہ قرار دے کر اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔

پاکستان جیسے معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں افراد کو کرٹیکل تھنکنگ یا ناقدانہ سوچ سکھائی نہیں جاتی، اسی لیے یہاں کسی شخص کا مذہبی شدت پسندی کی جانب راغب ہونا عمومی بات ہے، تاہم یہ معاشرہ لادین افراد کی شدت پسندی کے لیے بھی نہایت عمدہ زمین فراہم کرتا ہے۔

یہ گفت گو کچھ یوں ہو رہی ہے کہ گزشتہ روز میرے ویڈیو بلاگ، جس میں آزادیء اظہار رائے کو مختلف مذاہب، ثقافتوں اور ریاستوں سے لاحق خدشات کا ذکر کیا گیا، تو اس دوران زیادہ تر افراد تک تو یہ بات ویسی ہی پہنچی جیسی پہنچنا چاہیے تھی، مگر اس پر دو دیگر آراء بھی سامنے آئیں۔ ایک وہ عمومی اور بازاری رائے تھی جو فوراﹰ ہی یہ کہتے سنائی دی کہ آپ نے اپنے اس بلاگ میں ہولوکاسٹ کا ذکر نہیں کیا۔ ہولوکاسٹ پر میں ابھی چند لمحوں میں تفصیلی بات کرتا ہوں، مگر پہلے میں اس دوسری رائے کا ذکر کر لوں جو پاکستانی لادین دوستوں کی جانب سے تنقید کی صورت میں آئی اور وہ یہ تھی کہ آپ نے عیسائیت اور یہودیت پر تو بات کی کیوں اسلام پر تنقید نہ کی۔ یہ وہی لادین افراد ہیں، جو عقل و شعور کا دم بھرتے نہیں تھکتے۔ کوئی شخص جو تمام مذاہب ترک کرتا ہے، اس کا اصل دعویٰ یہ ہوتا ہے کہ اخلاقیات کے لیے اسے کسی مذہبی ضابطے کی ضرورت نہیں کیوں کہ وہ عقل و شعور کی اس منزل کو پہنچ چکا ہے، جہاں انسان حتمی اخلاقیات خود طے کر سکتا ہے۔ ایسے افراد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کسی سزا کے خوف یا کسی جزا کی لالچ سے ماورا ہو کر انسانوں کی بھلائی یا درست راستے کا انتخاب ان افراد کے مثالی کردار کی ترجمانی کرتے ہیں۔ مگر ہمارے لادین افراد میں سے بہت بڑا وہ طبقہ ہے، جو اصل میں لادین نہیں بلکہ مخالفِ دین ہیں۔ ان کا کام صرف اور صرف یہ ہے کہ وہ اپنی مرضی بلکل اسی طرح دوسرے افراد پر ٹھونسیں، جیسے کوئی شدت پسند مذہبی اپنی بات دوسرے پر لاگو کرنے نکلتا ہے۔ ان افراد کی دیواروں پر اسلام کو گالیاں، پیغمبروں کو گالیاں اور مذاہب خصوصاﹰ اسلام پر پھتیاں دکھائی دیتی ہیں۔ ان میں سے اب تک جتنے بھی احباب سے میری گفت گو ہوئی ان میں سے زیادہ تر نہ صرف علمی طور پر نہایت پست تھے بلکہ اخلاقی طور پر بھی ان کا کردار نہایت چھوٹا اور گھٹیا تھا۔

یہاں یہ بات اہم ہے کہ میری جانب سے عموماﹰ ایسے افراد کے لیے براہ راست کوئی سخت بات نہ کرنے کی وجہ صرف اور صرف یہ رہی ہے کہ یہ افراد اقلیت ہیں اور چوں کہ اقلیتیوں کو پہلے ہی پاکستان میں متعدد طرح کے مسائل کا سامنا ہے، اس لیے میں نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ کسی اقلیت کے بارے میں کوئی بھی بات، چاہے وہ سچ پر مبنی ہی کیوں نہ ہو، کرنے سے احتراز برتا جائے، کیوں کہ اس سے انہیں نقصان پہنچ سکتا ہے۔ وجہ صرف یہ ہے کہ میرا مقصد کبھی کسی فرد یا گروہ کے خلاف نفرت انگیزی کی بجائے علم و شعور کے راستے پر چراغ روشن کرنا رہا ہے۔

یہ انتہائی افسوس ناک بات ہے کہ ان افراد نے ’’مجھےکسی نظریے کی ضرورت نہیں‘‘ جیسے بیانیے کوئی ایک نظریہ بنا لیا ہے اور اب ان کا مقدر اور مقصد بھی صرف اور صرف استحصال ہے۔

اب ذرا بات ہولوکاسٹ کی۔ جب بھی آزادی اظہار رائے کی بات ہو تو ہمارے ہاں ایسے افراد جو ضیاالحق کی اسلامیات اور مسخ شدہ تاریخ سے بے پناہ متاثر ہیں ان کا بیانیہ یا تو یہ ہوتا ہے کہ ہندوستان میں بھی تو ایسا ہی ہوتا ہے؟ یا یورپ میں بھی تو ہولوکاسٹ پر بات نہیں ہو سکتی۔ جہاں تک ہندو شدت پسندوں کی کارستانیوں کا تعلق ہے تو ظاہر ہے ہر سطح پر ان کی مذمت کی جانا چاہیے اور کم از کم میں ہمیشہ کرتا ہوں تاہم کسی دوسرے شدت پسند کی گھٹیا حرکات کو دلیل بنا کر اپنے گھٹیا کام کو جائز قرار دینا ہر گز کوئی درست عمل نہیں ہو سکتا۔ ہولوکاسٹ کا ذکر کرنے والے افراد جن میں کئی ٹی وی چینل پر تجزیہ کاروں کے روپ میں بھی دکھائی دیتے ہیں، کو یہ تک سوچنے کی توفیق نہیں کہ ذرا خود ہی اٹھ کر دیکھ لیں کہ یورپ میں ہولوکاسٹ کا قانون ہے کیا۔

ہولوکاسٹ کا قانون نفرت انگیزی اور نسل پرستی کے خلاف بنایا گیا قانون ہے۔ گو کہ اس قانون پر بھی تنقید کی جا سکتی ہے، کیوں کہ کوئی بھی قانون انسانی سوال سے ماورا نہیں ہے اور نہ ہی ہونا چاہیے۔ ہولوکاسٹ کا قانون یہ ہے کہ ریاست تسلیم کرتی ہے کہ اس نے خود اپنے اعداد و شمار کے مطابق چھ ملین سے زائد یہودیوں کو صرف اور صرف نسل اور نظریے کی بنا پر قتل کیا اور یہ کہ چوں کہ ریاست خود نسل پرستی پر مبنی اپنی کارروائیوں کو تسلیم کر رہی ہے، اس لیے ریاست کا ہر شہری اسے تسلیم کرنے کا ذمہ دار ہے۔ دوسری بات یہ کہ اس قتلِ عام کو کسی بھی صورت کسی بہتر یا مستحسن عمل کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا، کیوں کہ یہ قتل ہونے والے لاکھوں انسانوں کے احترام اور ان کے قریبی رشتہ داروں کو اذیت دینے کے مترادف ہو گا۔ اور اسی قانون میں یہ بھی درج ہے کہ علمی اور تحقیقی مقاصد کے لیے ان اعداد و شمار پر سوالات ضرور کیے جا سکتے ہیں۔

خیر میں صرف یہ کہنا چاہوں کہ شدت پسندی کا خاتمہ صرف اور صرف ایک بیانیے سے ممکن ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر بیانیے پر سوال کرتے رہیے اور علم و تحقیق کا راستہ اختیار کرتے ہوئے سچ تک پہنچنے کی کوشش کیجیے۔ اس جستجو کا نتیجہ کچھ بھی نکلے علم ہر صورت میں حاصل ہو گا۔

کہتے ہیں دنیا میں دو ہی طرح کے افراد آباد ہیں ایک شکست خودہ اور دوسرے ناکام۔ شکست خوردہ وہ ہیں جنہوں نے لڑائی لڑی اور وہ شکست کھا گئے اور ناکام وہ ہیں، جنہوں نے کبھی لڑائی لڑی ہی نہیں۔ میں ناکام ہونے کی بجائے شکست کھانا پسند کرتا ہوں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here