شدت پسند مسلمان اور شدت پسند اسلام مخالف

0
167

 عاطف توقیر

شدت پسند اور عسکریت پسند مسلمانوں اور اسلاموفوک یا اسلام مخالف شدت پسندوں میں ایک چیز مشترک ہے۔ یہ دونوں طبقے صرف اور صرف نفرت انگیزی کو ہوا دیتے ہیں۔ ان دونوں کا اصل مذہب نفرت ہے۔ جی ہاں نفرت خود ایک مذہب ہے اور اس کے ماننے والے بھی کروڑوں کی تعداد میں موجود ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ اِس مذہب کے کسی پیروکار کو اپنے عقیدے کا علم نہ ہو، مگر اس کا ایک ایک عمل اس بات کی دلیل دیتا ہے۔ مزے کی بات یہ ہےکہ یہ دونوں طبقے عوام کے سامنے ایک دوسرے کے آمنے سامنے نظر آتے ہے، مگر اندرون خانہ یہ دونوں ایک دوسرے سے نہ صرف جڑے ہوئے ہیں بلکہ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں، کیوں کہ ان دونوں کی طاقت کا انحصار ایک دوسرے پر ہی ہے۔ اور دونوں کا ہتھیار نفرت اور ہدف خوف پیدا کرنا ہے۔ انسانوں کے درمیان نظریے کی بنا پر نفرت اور انسانوں کے درمیان مخالف نکتہ ہائے نظر رکھنے والوں سے خوف۔

اس کی ایک مثال یہ ہے کہ پاکستان میں کوئی شدت پسند مسلمان کسی ہندو شدت پسند کی کسی کارروائی کی مثال دے کر اپنی درندگی کو جواز دے گا اور ہندوستان میں کوئی ہندو انتہاپسند کسی پاکستانی شدت پسند مسلمان کی مثال دے کر کسی انسان کی کھال اتارے دے گا۔ میانمار میں کوئی شدت پسند بدھ بھکشو کسی مسلمان کا گھر جلا کر اسے مار مار کر ہلاک کرے گا تو کوئی چینی شدت پسند تبت میں بدھ مت کے ماننے والوں پر چڑھائی کر کے وہاں بدلہ اتارے گا۔

 

جرمنی میں انتہائی دائیں بازو کے نیونازی عوامی سطح پر مسلمانوں اور خصوصاﹰ شدت پسند سلفیوں کے خلاف خوب بیان بازی کرتے ہیں، اسی طرح سلفی شدت پسند یہاں بسنے والے دیگر مسلمانوں کو نیونازیوں کی مثال دے کر تمام عام جرمن باشندوں سے نفرت سکھاتے ہیں، مگر حالت یہ ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ بہت گہرا تعلق رکھتے ہیں اور ابھی کچھ روز قبل میں نے اپنے ایک لکھاری دوست سے بات کی، جس نے ابھی حال ہی میں دہشت گردی کی آماج گاہوں کے نام سے جرمن زبان میں ایک کتاب لکھی ہے، اس کے مطابق یہ دونوں گروہ ایک دوسرے سے اپنی کارروائیوں کی تفصیلات تک بانٹتے ہیں کیوں کہ ان کی کارروائیوں کا فائدہ ایک دوسرے کو پہنچتا ہے۔

ایسی ہی ایک اور مثال شاید آپ نے صرفِ نظر کر دی ہو، مگر کیا یہ صرف اتفاق تھا کہ ایک ایسے وقت جب ہالینڈ میں انتخابات ہونے جا رہے تھے اور وہاں انتہائی دائیں بازو کے مسلم اور تارکین وطن مخالف گیرٹ وِلڈرز کو ووٹ درکار تھے،ایسے میں ترک صدر رجب طیب ایردوآن کی جانب سے وہاں اپنے متنازعہ ریفرنڈم کے لیے اپنے لیڈر بھیجنے، ہنگامہ آرائی کروانے اور تعلقات میں کشیدگی پیدا کرنے کی سوجھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلم مخالف لیڈر کو متوقع نشستیوں سے زیادہ نشستیں حاصل ہو گئیں۔

یہ بھی صرف اتفاق نہیں ہے کہ فرانس میں نیشنلسٹ پارٹی اور مسلم مخالف رہنما مارین لے پین کبھی مقبول نہیں رہی تھیں۔ مگر وہاں پے در پے ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کی وجہ سے لے پین کی مقبولیت میں اس حد تک اضافہ ہوا کہ وہ پچھلی بار کے صدارتی انتخابات کے دوسرے اور حتمی مرحلے تک پہنچ گئیں۔

پاکستان میں بھی صورت حال پر غور کیا جائے، تو حالات اور زیادہ گھمبیر ہیں۔ یہاں معاملہ شدت پسندوں کا اقلیتوں کے ساتھ روا رکھے جانے والا بدترین سلوک ہیں نہیں بلکہ یہاں ایک مکمل طور پر اسلام بیزار طبقہ بھی پیدا ہو چکاہے۔ یہ بہ ظاہر دو متضاد سمتوں میں دکھائی دینے والے طبقے یعنی مذہبی اور لادین اسی طریقے کو اختیار کر کے ڈایرکٹلی یا انڈائریکٹلی یعنی بالواسطہ یا بلاواسطہ ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں۔

ایک طرف وہ ہیں جو مذہبی شدت پسند ہیں، جو کسی بھی بات کو سننے پر تندو تیز جملوں کی بوچھاڑ کر کے یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اسلام کا ان سے بڑا محافظ کوئی نہیں اور دوسری جانب وہ ملحد اور لادین ہیں، جو ان شدت پسندوں کی بے ہودگی اور انسانیت سوز باتوں کو بنیاد بنا کر اسلام اور پیغمبر اسلام کو گالیاں دے کر یہ ثابت کرتے ہیں کہ ان سے بڑا اسلام کا مخالف کوئی نہیں۔ اس تند و تیز تکرار کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ دونوں شدت پسند ہمارے معاشرے میں پہلے سے موجود فرقہ واریت، مسلک، مذہب، رنگ، نسل اور جانے کون کون سی دراڑوں کو مزید وسعت دیتے ہیں اور ہم اصل مسائل پر سوچ اور فکر کر کے ان کا حل ڈھونڈنے کی بجائے، جذباتی ہو کر ان مداریوں کے پیدا کردہ ماحول کا حصہ بن جاتے ہیں۔

بہ طور صحافی میرا ان دونوں ہی طبقوں سے سامنا رہتا ہے اور میں نے اب تک یہی نتیجہ نکالا کہ اگر سوشل میڈیا پر آپ کسی مذہبی شدت پسند کی پوسٹ دیکھیں، تو وہاں آپ کو صرف اور صرف پھول بوٹے والا اسلامی مواد دکھائی دے گا۔ عملی طور پر چاہے ان کا کردار دو ٹکے کا نہ ہو، مگر اپنی باتوں اور پوسٹس میں یہ افراد صرف یہ بات ثابت کرنے میں مصروف دکھائی دیں گےکہ مزہب کے علاوہ انسان کا کوئی اور مسئلہ نہیں ہے، گھر سے باہر نکلیں گے، تو خواتین پر جملے بھی کسیں گے، جھوٹ بھی بولیں گے اور پیسہ بنانے کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیں گے۔

دوسری جانب وہ لادین افراد ہیں، جو سارا دن انٹرنیٹ پر وہ احادیث ڈھونڈیں گے، جن سے اسلام یا پیغمبر اسلام کو نیچا دکھایا جا سکے۔ ان کا مقصد صرف اور صرف یہ نظر آئے گا ان کی زندگی کا واحد مسلہ اسلام کو نیچا دکھانے سے ہی عبارت ہے اور مذہب کے علاوہ اس دنیا میں انسان کا کوئی اور مسئلہ نہیں ہے۔

یہاں اگر آپ دیکھیں تو تمام تر فرق کے باوجود دو باتیں مشترک ہیں۔ ایک یہ کہ ان کا کردار کبھی انسانوں کے درمیان فرق کے خاتمے کی کوششیں کرتا یا کسی بہتر مثال لائق نہیں ہو گا اور دوسرا ان دونوں کے نذدیک مذہب کے علاوہ اس دنیا میں انسان کا کوئی اور مسئلہ نہیں ہو گا۔

ہم جس دنیا میں رہتے ہیں وہ مسلسل ارتقا اور مسلسل تبدیلی کی دنیا ہے۔ سائنس ہر روز نئی تحقیق اور جستجو کے ذریعے نئی کہکشائیں دریافت کر رہی ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی دنیا میں انقلاب آ رہے ہیں، نفسیات نیورسائنسس میں گرتی جا رہی ہے۔ وہ مشکل مضامین جن پر کل سوچنا بھی محال تھا، آج ان پر سائنس کے نئے باب لکھے جا رہے ہیں۔ خوابوں کو ٹی وی اسکرین پر دیکھنے کی مشقیں ہو رہی ہیں۔ اسٹیم سیلز سے انسانی اعضا جانوروں کے جسموں پر اگائے جا رہے ہیں۔ لیزر گنز کے ذریعے گولی جیسے رفتار سے زمین کے گرد گردش کرتی سیٹیلائیٹس کو اندھا کرنے کا کام کیا جا رہا ہے۔ اسمارٹ ٹی وی حتیٰ کے مائیکروویوز کے ذریعے انسانوں کی جاسوسی تک کی جا رہی ہے۔ اور جوہر کے اندر مادہ رد مادہ اور ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی جیسی اختراہوں پر کام ہو رہا ہے۔ مگر ہماری حالت یہ ہے کہ صبح اٹھ کر سوشل میڈیا پر کوئی پوسٹ لکھتے یا کسی اسمارٹ فون کے ذریعے دنیا کے کسی دوسرے حصے میں بیٹھے کسی شخص سے ویڈیو یا آڈیو یعنی تصویری یا صوتی گفتگو کرتے یہ سوچنے کی بجائے کہ اس تمام عمل کے پیچھے کس طرح آواز روشنی کی رفتار پہن رہی ہو گی اور کس طرح سیٹیلائیٹ اسے ہمارے کرہ ارض کے دوسری جانب کسی مقام تک پہنچا رہی ہو گا، جمعہ مبارک کا پیغام ارسال کر کے ثواب کمایا جاتا ہے یا صرف اسلام کو نیچا دکھانے کے لیے کسی حدیث کے ساتھ کوئی بے ہودہ تصویر جوڑ کر اپنے نظریات کو سکون بخشا جاتا ہے۔

یاد رکھیے آپ کا مذہب یا نظریہ اگر آپ کو تحقیق سے روک رہا ہے، آپ کو سوال اور جستجو سے روک رہا ہے، آپ کو سوچنے اور مطالعہ کرنے سے روک رہا ہے، تو وہ ایک نادرست مذہب یا نظریہ ہے۔ کیوں کہ کسی درست نظریے یا مذہب کو آپ کے سوالات سے نہ تو خوف ہو سکتا ہے اور نہ ہی کوئی مسئلہ۔

خدا ہے یا نہیں ہے، یہ سوال اپنی پھول بوٹوں والی پوسٹوں کے ذریعے ڈھونڈنے کی بجائے کتب کا مطالعہ کرنے، غور و فکر کرنے، دنیا کی مختلف ثقافتوں اور فطرت کا مشاہدہ کرنے یا فلسفے کی گھنیری بحثوں کو پڑھ کر جواب حاصل کرنے یا کم از کم اپنے عمل سے ایک بہترین انسان کی صورت میں دوسرے افراد کے لیے مثالیہ اور انسانیت کے بہترین کردار کی ترجمانی سے ممکن ہے۔

اپنے بچوں کی بہتر تعلیم، انہیں سوالات سونپنے، ان میں مطالعے کی لگن پیدا کرنے، حکمرانوں سے تعلیم کا بنیادی حق مانگنے اور مستقبل کے ان معماروں سے انسانیت کو بہتر مستقل دینے کے لیے زیادہ سے زیادہ جستجو کی جانب مائل کر کے ہیں، ہم ان تمام مسائل سے باہر نکل سکتے ہیں، جن کی وجہ سے ہم آج وہاں ہیں کہ دو سو ملین افراد کے ملک کو وہ حیثیت بھی حاصل نہیں کہ ہم کسی دوسرے ملک کے سامنے پوری عظمت سے کھڑے ہو سکیں۔

نفرت کا مذہب اور نظریہ ترک کرنے کے لیے ہر طرح کی شدت پسندی، عسکریت پسندی اور فرقہ واریت کی تنسیخ کیجیے۔ عظیم ملک عظیم قوم نہیں بناتے، بلکہ عظیم قوم ایک عظیم ملک تخلیق کرتی ہے۔