وقاص احمد

اہل یوتھ کے ہاں خاں صاحب ویسی ہی حیثیت رکھتے ہیں جیسے کسی خاتون کے لیے اس کا نومولود پہلا بچہ۔ وہ ماں اپنے بچے کی ایک ایک ادا پر واری صدقے ہوتی ہے۔ بچہ روئے تو صدقے، بچہ ہنسے تو کیوٹ لگے، بچہ پیمپر بھی بھر دے تو خوشی سے تالیاں بجائیں، بچہ اس پر الٹی کردے تو کہے کوئی بات نہیں میرے چاند خیر ہے، یہاں تک کہ بچہ ڈکار مارے یا گیس خارج کرے تو اس کی سریلی آواز پر بھی واہ واہ۔
اپنے خاں صاحب بھی اس ممتا بھری یوتھ کے پیار کا پورا پورا فائدہ اٹھاتے ہیں اور اسی لیے دودھ پینے، سونے اور رونے کے علاوہ کوئی اور کام نہیں کرتے۔
کچھ عرصہ گزرا ہے اپنے کچھ اہل یوتھ حضرات سے گفتگو ہو رہی تھی۔ چلیں پہلے میں آپ کو یہ بتا دوں کہ میں انہیں “اہل یوتھ” کیوں کہتا ہوں۔ دیکھیں جیسے اہل اسلام ہوتے ہیں، اہل ہنود ہوتے ہیں یا اہل کتاب ہوتے ہیں بالکل اسی طرح اہل یوتھ بھی ایک مذہب سے تعلق رکھتے ہیں جس کا نام فرقہ عمرانیہ ہے۔ مذہب میں چونکہ سوال کی گنجائش نہیں ہوتی اور ایمان بالغیب/ یقین کامل بنیادی شرائط ہوتی ہیں اس لئے اہل یوتھ بھی آپ کو سوال پوچھتے نظر نہیں آئیں گے۔ سوشل میڈیا کی پوسٹ اور ٹویٹس وغیرہ ان کے لیے آسمانی صحیفے اور زرد صحافت کے بدنام ترین نام ان کے لیے بزرگان کا درجہ رکھتے ہیں. منگو اعظم کی ذات کو یہ اپنے دیوتا کا درجہ دیتے ہیں جو ان کے خیال میں مہان ہے، پوتر ہے، غلطیوں سے مبرّا ہے اور ہر پکڑ سے ماورا ہے۔ خیر بات کہیں سے کہیں نکل جاتی ہے، میں اپنے انہی اقلیتی بھائیوں کے ساتھ گفتگو کر رہا تھا اور ظاہر ہے گفتگو کا موضوع سیاست کے علاوہ کیا ہوتا۔ میں نے انہیں کہا کہ یار منگو اعظم کی نااہلی کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہے کہ 20-22 سال میں آپ جیسے مجاروں، مریدوں اور پیروکاروں کی موجودگی کے باوجود بھی اس قابل نا ہوسکا کہ اپنے بل پر الیکشن جیت سکے۔ اگر اہل یوتھ جیسے پیروکار مجھ جیسے عامی کو بھی نصیب ہوتے تو میں یہ دنیا بیس سال میں دو دفعہ فتح کر چکا ہوتا۔ ظاہر ہے انہوں نے مائنڈ تو کرنا تھا۔ ان میں سے ایک بولا کہ یار اس کو سنو تو سہی، آخر وہ کہتا کیا ہے جو تمہیں اس سے اتنی خار ہے۔ میں نے کہا بھائی یہی تو مسئلہ ہے کہ وہ کچھ کہتا بھی نہیں۔ اللہ بخشے مجاہد اسلام ضیاء الحق اور پیر الطاف حسین جیسا سیٹ اپ بنا رکھا ہے۔ ضیاء الحق صاحب حکم صادر فرما کر اپنی شوریٰ کو کہتے تھے کہ اب اس حکم کی قرآن و حدیث میں سے توجیہہ ڈھونڈو اور پیر الطاف صاحب مستی میں کچھ بھی بول جاتے تھے اور بقیہ رابطہ کمیٹی کی ذمہ داری ہوتی تھی کہ اس اول فول کو حکایات لقمان کے ہم پلہ ثابت کریں مگر اس آرٹ میں جو نام منگو اعظم اور ان کے جملہ مریدین نے کمایا ہے اس کے سامنے سب ہیچ ہے۔ لطائف اور دروغ گوئی کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جو منگو اعظم کی باکمال ذات سے پھوٹتا چلا آرہا ہے، بعض اوقات تو لطائف کی آمد اس قدر بہتات سے ہوتی ہے کہ دن میں تین تین چار چار لطیفے سرزد ہوجاتے ہیں۔ مگر کمال ہے کہ اہل یوتھ کبھی بدمزہ ہوں، تھک جائیں یا ہار مان لیں۔ زہر کو قند، بغلول کو لقمان، رنگیلے کو تیمور اور شیخ چلی کو بل گیٹس ثابت کرنے کا مشن زور شور سے جاری رہتا ہے۔
پھر آج کل تو اماں عظمیٰ کو بھی اپنے لاڈلے پر امڈ امڈ پیار آرہا ہے ناں۔ کوئی دوست اگر مجھے یاد کروا دے کہ کبھی اعلیٰ عدلیہ یا فوج کے ترجمان کی زبان سے سے کسی ایک وزیراعظم کے لیے کلمہ خیر تک نکلا ہو تو میں کان پکڑ کر معافی مانگوں گا۔ بلکہ اب تو محبت اس حد تک ہوگئی ہے کہ ابا وقار، بیٹے عمران اور عظمیٰ اماں کا نام ایک لائن میں رکھ کر ان کی عزت کرنے کا پیغام دیا جاتا ہے۔ ابھی چند روز قبل ہی “قوم کا درد” رکھنے والے جب ایک اور معزز جج صاحب نے بڑی دردمندی سے یہ کہا کہ یہ کیا مذاق بنا رکھا ہے کہ جس کا دل چاہتا ہے وہ آرمی چیف، وزیراعظم اور عدلیہ کو گالیاں دینا شروع کردیتا ہے تو مجھے یاد آیا کہ اپنے منگو اعظم نے ایک ہی تو ڈھنگ کا کام کیا ہے اور جی جان سے کیا ہے۔ وہ کام ہے قوم میں “شعور” پیدا کرنا. تھوڑا ٹائم ضرور لگ گیا لیکن ماشاءاللہ وہ شعور جس کا خواب علامہ منگو اعظم نے دیکھا تھا وہ شرمندہ تعبیر ہوچکا ہے۔ اب قوم کے بچے بچے تو کیا بچی بچی کا بھی “شعور جاگ” گیا ہے۔ ہر کوئی اس شعور سے “مسلح” ہے۔ یوتھ ہو، پٹوار ہو یا جیالا، منہ بھر بھر کر اپنے شعور کی فائرنگ سے لوگوں کی عزتوں کی دھجیاں بکھیرتا نظر آتا ہے۔ جج صاحب آپ اس شعور کو “مذاق” کہہ رہے ہیں؟ یہ مذاق شروع کس نے کیا تھا جج صاحب؟ یہ وہی مذاق ہے جو آپ کے ادارے کے سربراہ اور ان کے چند “برادر ججز” نے اپنی اپنی عدالت میں لوگوں کے ٹھٹھے اڑا کر اور ریمارکس کس کر شروع کیا تھا۔ یہ وہی مذاق ہے جس کو آپ کے لاڈلے “منگو اعظم” نے کنٹینر پر شروع کیا تھا۔ یہ وہی مذاق ہے جسے “اسطیبلشمنٹ” کے زیر سرپرستی اور زیر سایہ چلنے والے ٹی وی چینلز سے انہی کی آشیرباد اور ہدایت سے نشر کیا جاتا تھا۔ جج صاحب، آپ کو نہیں معلوم تو ہم بتا دیتے ہیں کہ آئی ایس پی آر کے اپنے سوشل میڈیا سیل میں بھرتی ہونے والے رنگروٹوں کے بھرتی ٹیسٹ میں سب سے اہم سوال پچھلے وزیراعظم کے حوالے سے اپنے “شعور” کے اظہار کے لیے مضامین یا پوسٹس پیش کرنے کے بارے ہوتا تھا۔ جو امیدوار اپنے شعور کے اظہار میں غلاظت، کراہت، جہالت اور بازاری پن سب سے “بہتر” استعمال کرتا تھا اس فوری طور پر اس سوشل میڈیا برگیڈ میں “ڈائیریکٹ حوالدار” بھرتی کر لیا جاتا تھا۔ حضور! گزارش ہے کہ یہ مذاق آپ ہی نے شروع کیا تھا اور اب یہ مذاق ڈراؤنا خواب بن کر آپ کو ہر جگہ ڈرا رہا ہے۔ اب تھوڑی گریس کا مظاہرہ کریں اور اس “مذاق” کو صبر سے برداشت کریں کہ شعور کہ یہ فصل آپ لوگوں نے ہی بوئی ہے اور اب اس کا پھل کاٹ کر اب آپ ہی اپنے گھروں کو لیکر جائیں گے۔