عاطف توقیر

ابھی کل کی بات ہے۔ ایک واقف شخص سے کچھ کام تھا۔ اس نے گھر ہی میں دفتر بھی بنا رکھا ہے اور دستاویزات کو اردو اور عربی سے جرمن زبان میں ترجمہ کرتا ہے۔ مہاجرین کی بہتات کی وجہ سے آج کل خاصا مصروف رہتا ہے اور خدائے عزوجل اور انگیلا میرکل کا شکرگزار بھی۔ خدا کا یوں کہ مہاجرین کا سیلاب امڈا آ رہا ہے اور اس کی آمدن میں اضافہ ہو رہا ہے اور میرکل کا یوں کہ جرمن چانسلر نے مہاجرین کے لیے ہی نہیں اس کی آمدنی کے لیے بھی دروازے کھول دیے ہیں۔ دعا کرتا رہتا ہے کہ اس کی روزی میں برکت کا سلسلہ جاری رہے (یہ الگ بات ہے کہ اس کی روزی انتشار اور معصوم افراد کی بےگھری سے زیادہ جڑی ہے، یعنی زیادہ خانہ جنگی، زیادہ ہجرت، زیادہ دستاویزات کا ترجمہ اور زیادہ پیسے) میری دعا رہی ہے کہ خدا ہرگز اس کی روزی میں (کم از کم ان وجوہات پر) برکت نہ فرمائے۔ یہ تو یوں ہی ہو گیا کہ کوئی ڈاکٹر اپنے رزق میں اضافے کی دعا مانگنے لگے۔ خیر مجھے کچھ دستاویزات کا ترجمہ درکار تھا، موصوف سے بڑی منت سماجت سے کچھ وقت ملا اور میں پہنچ گیا۔

دروازہ کھٹکھٹایا تو کچھ توقف اور سخت تحمکانہ لہجے میں کسی عورت سے کہا گیا کہ دروازہ کھولو اور آنے والے کو گھر کے دفتر والے حصے میں بٹھاؤ۔ کچھ لمحوں بعد ایک برقعہ پوش خاتون نمودار ہوئیں اور تقریباً اشارے سے ہی مجھے اندر آنے کا کہہ کر دروازہ کچھ زیادہ کھول دیا۔ میں ان کے بتائے ہوئے کمرے میں جا بیٹھا۔ اس دوران دروازہ کھولنے میں اس تاخیر کی وجہ بھی معلوم ہو گئی کہ یہ ٹھیک وہی درکار وقت تھا جو اس خاتون کو برقعہ اوڑھنے میں لگا ہو گا۔ خاتون نے پھر اشارے ہی سے بتایا کہ وہ (غالباً ان کے میاں یا بھائی یا شاید والد صاحب) نماز ادا کر رہے ہیں اور آتے ہیں۔

کچھ دیر بعد موصوف نمودار ہوئے۔ پنجاب سے تعلق ہے اور ذات کے گجر ہیں مگر نہایت عربی لہجے میں انہوں نے مجھے “اسلام و علیکم” سے نوازا اور میں نے جواب میں تسلیمات کہہ کر اپنے عجمی ہونے کا ماتم کیا۔ موصوف کے چہرے پر اچانک فخریہ چمک بیدار ہو گئی۔ موصوف شاعری کو حرام سمجھتے ہیں اور فیس بک پر نجی پیغامات میں مجھے بارہا تنبیہ کر چکے ہیں کہ ان خرافات سے باز رہو سو ایک عجیب سی آشنائی بھی ہے، پھر سرراہ دو ایک مرتبہ ٹکرا بھی چکے ہیں اسی لیے کسی حد تک جان پہچان کا سا بھی سلسلہ ہے۔

ایسے میں اندرونی کمرے سے کسی بچے کے رونے کی آواز آئی، تو موصوف کے چہرے ہر اچانک غصے کی لکیریں برآمد ہوئیں اور نہایت بدتمیزی اور ناشائستہ انداز سے غالباً اپنی بیوی کو جھاڑ پلائی اور ساتھ ہی چائے بنانے کا حکم بھی صادر کر دیا۔ اندر سے کوئی جواب نہ آیا۔

پھر مسکرا کر اور نہایت فخریہ انداز سے (جیسے کوئی نہایت مشکل معرکہ سر کر لیا ہو) مجھ سے کہنے لگے عاطف بھائی آپ کی فیس بک پر پوسٹ دیکھی تھی۔ میرے چہرے پر تعجب کے تاثرات برآمد ہوئے۔ ارے عاطف بھائی وہی عورت کی آزادی والی۔ وہ جس میں آپ کو ہلکے پھلکے تشدد ہر اعتراض تھا۔ میں نے کہا صاحب! ظاہر ہے اعتراض اب بھی ہے۔ میری ذاتی رائے میں کسی مرد کو کسی بھی صورت کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی عورت پر کسی بھی طرح کا تشدد کرے۔ کہنے لگے عاطف بھائی، اہل ایمان کو اپنی بیویوں کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا گیا ہے۔

میرے کانوں میں چند لمحے پہلے ان کی وہ آوازیں اور لہجہ گونجنے لگا، جو انہوں نے غالبًا اپنی بیوی کے تخاطب میں روا رکھا تھا۔
میں نے کہا حضور میرا مسئلہ یہ ہے کہ آپ عورت کو اپنی طرح کا انسان سمجھیں کیوں کہ وہ کسی بھی اعتبار سے آپ سے کم تر نہیں۔

کہنے لگے کہ اسلام نے عورت کو جتنا اعلیٰ و ارفعٰ مقام تجویز کیا ہے، کسی اور مذہب نے نہیں کیا۔ اسلام میں عورت آزاد ہے۔ اسے برقع پہننے کا اسی کی بہتری کے لیے کہا گیا ہے تاکہ وہ مرد سے محفوظ رہے۔ اسے مرد کی مرضی کے بغیر گھر سے نکلنے کا اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ محفوظ رہے۔ اسے مرد کے حکم کی بجاآوری کے لیے اسی لیے کہا گیا ہے کہ وہ مرد سے محفوظ رہے۔ اسلام نے عورت کو محفوظ بنایا ہے۔

ظاہر ہے اس صورت حال میں میں مزید کوئی جرح کرنے کی بجائے بس سنتا رہا۔ کیا الجھے کوئی ایسی بحث میں جس کا نہ کچھ حاصل نہ وصول۔ عاطف بھائی جہنم میں عورتوں کی تعداد مردوں سے کہیں زیادہ ہو گی، اور وہ ساری مردوں کی نافرمانی کرنے والیاں ہوں گی۔

پھر وہ جوش سے بولے، اسلام میں عورت کی عزت محترم ہے اور عورت کی عزت اسی میں ہے کہ وہ مرد کی عزت اور فرماں بردار رہے۔ بولے، ’’لڑکیاں اکیلی گھر سے نکلتی ہیں، جبھی تو ریپ کے واقعات ہوتے ہیں۔ اور ریپ کی صورت میں بھی چار گواہوں کا اس لیے کہا گیا کہ تاکہ وہ اپنا منہ بند رکھے اور اپنی عزت کا قیمہ نہ بنائے، جو ہونا تھا ہو گیا۔ چار گواہ تو ظاہر ہے ملنے کے نہیں۔ عاطف بھائی ایسے معاملات میں خاموشی ہی بہتر ہے۔‘‘

میں نے پوچھا، حضرت گھر میں بھی کئی خواتین ریپ ہوتی ہیں، ان ہر تشدد ہوتا ہے، کہنے لگے عورت مرد کی ملکیت ہے، وہ جیسے چاہے اسے استعمال کرے مگر حکم حسن سلوک ہی کا ہے۔

میں نے کسی طرح جسارت کر کے پوچھا کہ اس طرح تو کسی جنسی درندے کو سزا نہیں دی جا سکے گی، بولے سزا اللہ دے گا۔
ایسے میں اس کی غالباً اہلیہ نے کمرے کے دروازے سے ایک طرف ہٹ کر دروازے کو ہلکی سی دستک دی کہ چائے تیار ہے۔ حضرت نے میری جانب ایک فخریہ انداز سے دیکھتے ہوئے کہا یہ ہیں نیک بیویاں جو اللہ کے حکم کی فرماں برداری کر رہی ہیں۔
کمرے میں اچانک آکسیجن ختم ہو گئی۔ میری سانس اکھڑنے لگی تو میں یہ کہتا ہوا باہر نکل آیا کہ کاغذ ترجمہ کر کے پوسٹ کر دیجیے گا، میری طبیعت ٹھیک نہیں۔
ایک بات ضروری ہے، میں وہاں اس موضوع پر خاصی بحث کر سکتا تھا مگر میرا ایک بھی جملہ ان موصوف کے مذہبی جذبات کو مجروح کر سکتا تھا، اسی کا خیال کر کے میں یہ سب سنتا چلا گیا۔ اس دوران اپنی ماں، بہن اور بیوی کی تکریم کے حوالے سے میرے جو جو جذبات مجروح ہوئے وہ ان موصوف کے لیے ظاہر ہے ذرا اہم نہیں تھے۔

اس کے گھر سے باہر آ کر میں نے نہایت بے بسی سے پہلے آسمان اور پھر سامنےایک چھوٹی سی بچی کو دیکھا، جسے معلوم بھی نہیں ہو گا کہ وہ کس دنیا میں جنی گئی ہے اور اس کے سامنے کیسی بڑی بلا اپنے جبڑے کھولے منتظر ہے۔ دم پھر سے گھٹنے لگا تو میں اپنا سانس بحال کرنے کی مشق میں مصروف ہو گیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here