مہناز اختر

مذاہب ایمانیات کے علاوہ تاریخ کا موضوع بھی ہیں. اس لیئے دنیا بھر کے محققین مذاہب کا تحقیقی جائزہ لیتے رہتے ہیں اور علم کی بنیاد پر کسی بھی فلسفے کی حمایت یا مخالفت کرتے دکھائی دیتے ہیں. آج کے زمانے میں مہذب اقوام اپنے نظریاتی اختلافات علمی مکالمت کے ذریعے حل کرنے پر یقین رکھتی ہیں لیکن بدقسمتی سے ہم پاکستانی ابھی تک اس ذہنیت سے باہر نہیں آسکے جہاں مسلمان خود کو حاکم اور دوسری مذہبی اقلیتوں کو محکوم سمجھتے تھے. سب سے خوفناک بات یہ ہے کہ آج بھی یہ سوال مدارس کے نصابوں کا حصّہ ہے کہ کیا قادیانی یا مرتد کا قتل جائز ہے؟

لفظ “قادیانی” سے میرا پہلا تعارف شیزان جوس کیوجہ سے ہوا تھا. بچپن میں مجھے یہ جوس کڑوی دوا کھانے کے عوض بطور انعام ملا کرتا تھا. ایک مرتبہ میڈیکل اسٹور سے دوائیں لیتے ہوئے ابو نے اسٹور والے سے شیزان جوس کے تین ڈبے مانگے توجواب ملا کہ شیزان نہیں ہے یہ دوسرا والا لے لیں. اس وقت ابو اور اسٹور والے کی گفتگو سے اتنی بات سمجھ آسکی کہ یہ قادیانیوں کا جوس ہے اسلیئے اسکا بائیکاٹ ضروری ہے.

کچھ سالوں بعد دوسری مرتبہ میری اس لفظ سے ملاقات جمعہ کے روز ہوئی جب ایک پمفلٹ مین گیٹ سے اندر کی طرف پھینکا گیا . یہ پمفلٹ قادیانیوں کی مصنوعات کے بائیکاٹ اور قادیانیت کے مکمل خاتمے کے حوالے سے تھا. میں نے ابوسے پوچھا “ابو قادیانی کون ہیں ,کیا مسجد والے سارے قادیانیوں کو مار دیں گے, انکے بچوں کو بھی؟ اس وقت لفظ خاتمے سے میرے ذہن میں یہی تاثر ابھرا کے انہیں مار کر ہی قادیانیت کا خاتمہ ہوگا. ابو نے اطمینان سے جواب دیا ” نہیں , قادیانی بھی ہماری طرح ہوتے ہیں , بس انکا عقیدہ ہم سے مختلف ہے . جیسے زیادہ تر مسلمان یہ مانتے ہیں کہ عیسیٰ عليه سلام قیامت سے پہلے دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے تو یہ ایسا مانتے ہیں کہ انکے پیشوا ہی مسیح موعود ہیں”۔

ابو کے جواب سے مجھے ہمارے اور انکے درمیان کا فرق اچھی طرح معلوم ہوگیا لیکن ان سے نفرت ہرگز نہیں ہوئی اسکی وجہ ہمارے گھر کا ماحول اور ابو کی شخصیت میں پائی جانے والی مذہبی سمجھ بوجھ تھی .

قادیان ہندوستانی پنجاب کے ضلع گْرداسپور کا ایک قصبہ ہے. یہ قصبہ سن 1530 میں ثمرقند سے تشریف لانے والے بزرگ مرزا ہادی بیگ نے آباد کیا تھا. مغلیہ حکومت سے انکے قریبی تعلقات تھے. ابتداءً اس قصبہ کا نام “اسلام پور قاضی” رکھا گیا جو “قاضیان” اور پھر “قادیان” میں تبدیل ہوگیا. یہ قصبہ ابتدا ہی سے ہندو, مسلمان اور سکھ آبادی پر مشتمل تھا. قادیان کی موجودہ وجہ شہرت مرزا غلام احمد کی جائے پیدائش ہونا ہے. سن 1834 میں کشمیر میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی مسلح مدد کے عوض قادیان اور اس سے ملحقہ پانچ دیہات مرزا غلام احمد کے والد مرزا غلام مرتضٰی کو مہاراجہ رنجیت سنگھ کی طرف سے بطور تحفہ ملے تھے. اسی نسبت سے احمدی جماعت قادیانی کہلاتی ہے.

احمدیوں کا بنیادی عقیدہ مرزا غلام احمد کو مسیح موعود تصور کرنا اور کشمیر کو مسیح علیہ السلام کا مدفن قرار دینا ہے. انکے مطابق سری نگرکشمیر میں واقع درگاہ حضرت بَل یا روضہِ بَل درحقیت عیسیٰ عليه السلام کا مدفن ہے. اس سلسلے میں مرزا غلام احمد کے دعوؤں, مذہبی وتاریخی حوالوں اور دستاویزات پر مبنی کتاب “مسیح ہندوستان میں” سن 1901 میں شائع ہوئی تھی. مرزا غلام احمد سے چند سال پہلے ایسا ہی دعو ایک یہودی سیاح اور محقق نکولس نوٹاوچ نے اپنی کتاب The Unknown Life of Christ میں کیا تھا. اسکے مطابق مسیح نے یہودیوں کے بارہویں گمشدہ قبیلے کی تلاش میں فلسطین سے شام ,عراق و ایران ,افغانستان,سندھ اور جنوبی ہند سے ہوتے ہوئے نیپال پھر تبت تک کا سفر کیا تھا. تبت میں قیام کے دوران بدھ راہبوں سے رہبانیت کی تعلیم حاصل کی اور فلسطین واپس جاکر 29 سال کی عمر میں مسیحیت کی تبلیغ کا آغاز کیا اور جب انہیں صلیب پر لٹکائے جانے کی سزا دی گئی تو وہ وہاں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے اور واپس کشمیر آکر گوشہ نشین ہوئے اور 80 سال کی عمر میں انتقال فرمایا. نکولس کے مطابق عیسٰی علیہ السلام نے کافی وقت بنارس اور جگن ناتھ پوری میں بھی گزارا اور ویدوں کی تعلیم حاصل کی. اسی طرح ایک اور روسی محقق نے بھی دعوی کیا کہ مسیح یہودی تاجروں کے ساتھ دریائے سندھ سے ہوتے ہوئے پنجاب پہنچے اور کچھ وقت آریانی اقوام کے ساتھ گزارا اور پھر یہاں سے جگن ناتھ پوری کا رخ کیا. ان تین شخصیات سے قبل بھی ایسے دعوے کیئے جاچکے ہیں کہ روضہ بل درحقیقت مزار مسیح ہے. واضح رہے کہ یسوع مسیح کے سفر ہندوستان سے متعلق دعوؤں کا مرزا غلام احمد کے دعویٰ مسیحیت سے کوئی تعلق نہیں لیکن احمدیت میں یہ دونوں نظریات یکجا کردئیے گئے ہیں.

دنیا کے زیادہ تر ماہرین ادیان و تواریخ نکولس نوٹاوچ اور مرزا غلام احمد کے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہیں اور انہوں نے مسیح علیہ السلام کے حوالے سے اس قسم کے دعوے کو غلط قرار دیا ہے. کیونکہ یہ موضوع انتہائی دلچسپی کا حامل ہے اسلیئے صرف احمدی , یہودی یا مسیحی نہیں بلکہ کئی بودھ اور ہندو محققین نے بھی اس دعویٰ کے حق میں کتابیں لکھیں ہیں اور لکھ رہے ہیں. اس موضوع پر بنائی گئی ڈوکیومینٹری فلمیں بھی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔

ان دعوؤں کے پس منظر میں تجسس سے بھرپور تین مذہبی اور تاریخی عوامل موجود ہیں . اول, نبو کد نضر کا لاکھوں یہودیوں کو غلام بنا کر بابل لانا, دوئم کچھ یہودی قبائل کا ہندوستان میں پناہ لینا اور سوئم عہد نامہ جدید میں بدھ رہبانیت کے اثرات کا پایا جانا ہے. آخری نبی, اوتار ,امام یا مسیح موعود کا انتظار بہت ساری اقوام کو ہے . کئی بدھ راہب بھی قدیم بدھ دستاویزات سے اس نظریہ کو ثابت کرتے نظر آتے ہیں کہ مسیح دراصل گوتم بدھ کے بعد دوسرے بدھا تھے جنہوں نے فلسطین میں جنم لیا اور اب بدھ مت سے تعلق رکھنے والے لوگ آخری بدھا “مئیتریا” کا انتظار کررہے ہیں جنکا ظہور اخیر زمانے میں ہوگا.
اس جائزے کا بنیادی مقصد یہ بتانا تھا کہ احمدی عقیدے یا مسیح موعود کی آمد کا معاملہ سراسر علمی اور تحقیقی ہے اور اسکا رد بھی علمی اور تحقیقی انداز سے کیا جانا چاہیے دنیا بھر میں محقیقین اس موضوع کا احاطہ علمی انداز سے کرتے ہیں لیکن ہمارے یہاں ہر معاملے کا حل جہالت سے نکالا جاتا ہے . آج کل بھی احمدیوں کے خلاف نفرت کی منظم مہم اورانکی مصنوعات کے بائیکاٹ کی اپیلیں ہم تک سوشل میڈیا اور واٹس ایپ کے ذریعے پہنچائی جا رہی ہیں . مجھ سے اکثر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ آپ کو احمدیوں کی اتنی فکر کیوں ہے تو میرا جواب ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ مجھے ان کی نہیں بلکہ ہمارے معاشرے میں بڑھتی ہوئی نفرت اور عدم برداشت کی فکر ہے کہ اس نفرت کا انجام کیا ہوگا. اس لیئے میری ذاتی رائے میں اب وقت آگیا ہے کہ ہم احمدیوں سے مطالبات کے بجائے خود سے چند سوالات کریں.

1- ایک ایسی جماعت جس نے تقسیم کے وقت پاکستان کو منتخب کیا اور اپنا گھر بنایا, یہ برادری پاکستان کی معیشت میں اپنا حصّہ ملاتی ہے, یہ اہل زمین ہیں لیکن پھر بھی پاکستان کے الیکٹورل سسٹم سے باہر ہیں تو ان کے تئیں ریاست کی کیا ذمہ داری ہے؟

2- انکے خلاف چلائی جانے والی نفرت کی مہم میں ریاست خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی نظر آتی ہے تو انکی جان و املاک اور عزت نفس کی حفاظت کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟

3- احمدی برادری کو پاکستان میں عوامی سطح پر غدار قرار دیا جاچکا ہے . تو یہ طے ہے کہ پاکستان میں انہیں نہ مذہبی آزادی حاصل ہوگی اور نہ ہم انہیں کسی اہم عہدہ پر فائز کریں گےتو ایسے میں پاکستان میں انکا مستقبل کیا ہوگا ؟

4- قادیانیت کے “خاتمہ” سے کیا مراد ہے, کیا اسکا مطلب قادیانیوں کا معاشی بائیکاٹ اور قتال ہے ؟ کیونکہ ہم تسلیم کریں یا نہ کریں احمدیت ایک مذہب بن چکا ہے اور دنیا بھر میں موجود اسکے ماننے والے خود کو “احمدی مسلم” کہتے ہیں۔