وقاص احمد

ایسا ہرگز نہیں کہ عمران خاں صاحب کی ساری باتیں غلط ہیں۔ پاکستان میں کرپشن، اقربا پروری اور گورننس کے عمومی مسائل موجود ہیں (مگر یقیناً اس لیول کے نہیں جس کا ڈھنڈھورا پیٹا جاتا ہے). یہ بھی درست ہے کہ سیاسی اور ادارہ جاتی نظام میں جمود اور خرابیاں موجود ہیں اور انہیں اوور ہالنگ کی اشد ضرورت ہے۔
لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ سو فیصدی درست ہے کہ جو باتیں خاں صاحب اپنی تقریروں یا پارٹی منشور میں کرتے ہیں بعینہٖ وہی باتیں یا ان سے بھی بہتر باتیں تھوڑے سے لفظی ہیر پھیر کے ساتھ ن لیگ اور پی پی پی جیسی بڑی جماعتوں سے لیکر درمیانے اور چھوٹے سائز کی پارٹیاں اور ان کے لیڈران بھی کرتے ہیں۔ تو کیا خاں صاحب سمیت یہ سب لوگ ہی ہم سے جھوٹ بولتے ہیں؟ یہ لوگ بلند و بانگ نعرے اور تارے توڑ لانے جیسے وعدے کر کے ہم سے ووٹ مانگتے ہیں اور جب اقتدار میں آتے ہیں تو ناں ان سے زرداری سڑکوں پر گھسیٹا جاتا ہے، ناں ہی روٹی کپڑا مکان دیا جاتا ہے اور ناں ہی ان سے 45 روپے لیٹر پٹرول اور 200 ارب ڈالر ملک میں لانے کے وعدے پورے ہوتے ہیں۔ چلیں آج اس معاملے کو ایک اور زاویہ سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
میرے خیال میں پاکستان کا وزیراعظم پاکستان کا مجبور ترین بندہ ہوتا ہے۔ خصوصاً ایسا وزیراعظم جس کی حکومت دو، تین یا چار سیٹوں کی اکثریت پر ٹکی ہوئی ہو۔ اسکو اپنے اتحادیوں کو وزارتیں اور فنڈ خوش رکھنا ہوتا ہے اور اپنی پارٹی کے اصل مستحق ورکرز کو خالی تسلیاں دیکر مطمئن رکھنا ہوتا ہے۔ اس کے سامنے ادارہ جاتی کشمکش کے بکھیڑے بھی ہوتے ہیں اور اپوزیشن جماعتوں کی سیاسی چالیں بھی۔ یہ کسی پر کوئی الزام نہیں دھر سکتا لیکن سب اس پر کوئی بھی الزام دھر سکتے ہیں۔ اس کو بعض ایسے فیصلے بھی لینے ہوتے ہیں جو اس کے بنیادی ووٹ بنک کی ترجیحات اور خواہشات کے بالکل برعکس ہوتے ہیں۔ اس کو میڈیا کی پھٹکار بھی سہنی پڑتی ہے اور طاقتور اداروں کی خواہشات بھی۔ اس کو ان پالیسیوں یا ان پالیسیوں کے نتائج پر عوام کے سامنے جوابدہ بھی ہونا پڑتا ہے جو پالیسیاں اس نے بنائی ہی نہیں بلکہ کہیں اور بنائی گئیں۔ الغرض وزارت عظمیٰ پھولوں کا بستر نہیں بلکہ کانٹوں کی سیج ہے۔ مگر دوسرے ممالک خصوصاً ہمارے پڑوسی ممالک میں ایسا کیوں نہیں ہوتا؟
پاکستان میں بدقسمتی سے جمہوریت کے درخت کو پنپنے نہیں دیا گیا، جو بیج تھوڑا سا بھی پتے ٹہنیاں نکالے اسے اکھاڑ کر نیا بیج لگا دیا جاتا ہے۔ بار بار کی اس روک ٹوک نے جمہوریت کے فلٹریشن سسٹم کی کارکردگی آدھی سے بھی کم کر دی۔ اگر آپ پاکستان کی پہلی اسمبلی اور آج کی اسمبلی دیکھیں تو آپ کو واضع طور پر نظر آئے گا کہ پہلی اسمبلی میں جاگیرداروں، پیروں، نوابوں اور دیگر رؤسا کی واضع اکثریت کے برعکس موجودہ دور کی اسمبلیوں میں مڈل کلاس، محنتی، صاف ستھرے اور پڑھے لکھے لوگوں کی تعداد قابل ذکر ہے۔ اگر جمہوریت کا قدرتی فلٹریشن سسٹم چلتا رہتا تو یہ تمام پیروں، گدی نشینوں، جاگیرداروں اور بالخصوص کرپٹ عناصر کو آہستہ آہستہ سسٹم سے باہر کرتا رہتا اور آج ہم ایک ایسی سیاسی جمہوری فضا میں موجود ہوتے جس میں جمود کا شائبہ نا ہوتا۔ مگر بوجوہ اس سسٹم کو اس ملک کی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے چلنے نہیں دیا اور یہیں سے اس “شیطانی چکر” کا آغاز ہوا جس کو توڑنے کی کوشش میں اس ملک کا ہر وزیراعظم ناکام ہوا اور ہر سسٹم و ادارہ تباہ ہوا۔
یہ سسٹم کام کیسے کرتا ہے اس کو سمجھنے کے لیے آپ کو اپنے ممبران قومی و صوبائی اسمبلی کی تاریخ جاننا ہوگی۔ زیادہ گہرائی یا ماضی بعید میں بھی جانے کی ضرورت نہیں۔ نوازشریف کے 1999 والی دو تہائی مینڈیٹ والی حکومت کی فراغت سے شروع کرلیں۔ مشرف نے اپنی سہولت کے لیے ایک کنگز پارٹی بنائی۔ اس پارٹی میں ن لیگ سے قریباً 140 سے اوپر ایم این اے ٹوٹ کر شامل ہوئے۔ مشرف کی ق لیگ کے بعد پی پی پی کی اٹھان کے دور میں ان میں سے زیادہ تر پیپلز پارٹی اور کچھ ن لیگ کی طرف لڑھک گئے۔ پیپلز پارٹی کی زبوں حالی کے بعد ان میں سے اکثر ن لیگ اور چند ایک تحریک انصاف میں شامل ہوئے اور 2018 کے الیکشن سے چند ماہ قبل جب انہی لوگوں نے اقتدار پی ٹی آئی کے سر پر منڈلاتے دیکھا تو یہ سب پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے۔ یہ لگ بھگ 80-100 کے تعداد میں لوگ ہیں اور یہی لوگ سسٹم کا ناسور ہیں لیکن یہی لوگ بدقسمتی سے سسٹم کے کرتا دھرتا ہیں۔ آپ ان لوگوں کا ریکارڈ چیک کرلیں ان میں زیادہ تر آپ کو کرپٹ ترین لوگ ملیں گے۔ اپنی کرپشن کو بچانے کے لیے ان لوگوں کا اقتدار میں رہنا ان کی مجبوری ہے اور اسی مجبوری کی وجہ سے یہ اکثر مقتدر حلقوں کے اشاروں پر ناچتے ہیں۔ کوئی ایک سیاسی پارٹی دوسری سیاسی پارٹی کے انہی عناصر کی کرپشن کو لوگوں کے سامنے اچھال کر اپنا ووٹ بنک مضبوط کرتی ہے مگر آخر میں اقتدار تک پہنچنے کے لیے انہی لوگوں کو “ایلیکٹیبلز” قرار دیکر اپنے ساتھ ملا بھی لیا جاتا ہے۔ انہی لوگوں کی بدولت ہماری سیاسی لغت میں لوٹے، ڈرائی کلیننگ فیکٹری وغیرہ جیسے الفاظ شامل ہوئے۔ ان کی دو بنیادی خصوصیات ہیں۔
1- ان لوگوں کو جیتنے کے لیے کسی پارٹی کی مدد نہیں چاہیے ہوتی۔
2- ان میں سے اکثر کی کرپشن کی فائلیں کسی نا کسی ادارے میں کھلی ہوتی ہیں۔
یہاں سے وہ شیطانی چکر شروع ہوتا ہے جس سے ہمارا ملک باہر نہیں نکل پا رہا۔ ہوتا کچھ یوں ہے کہ یہ لوگ آنے والی ہوا کا رخ بھانپتے ہیں اور متوقع جیتنے والی پارٹی کو اپنی سیٹ اس شرط کے عوض پیش کرتے ہیں کہ ان کے کیسز سرد خانے سے باہر نہیں آئیں گے۔ انکار کی صورت نہیں ورنہ یہ مخالف پارٹی کو یہی آفر دیکر ان کے ساتھ مل جائیں گے اور جیتنے والی پارٹی اپنی عددی برتری کھو بیٹھے گی۔ اسٹیبلشمنٹ کے لیے یہ لوگ سونے کی کان ہیں۔ اسمبلی کا کل تعداد کا 25-30٪ “کوٹہ” ان کے مستقل استعمال میں ہے۔ فوج وہ ادارہ ہے جو ان کو ہر طرح کے تحفظ کی نا صرف مکمل ضمانت دیتا ہے بلکہ مخالفین کو نتھ ڈالنے کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کو جب ضرورت پڑتی ہے، انہی لوگوں کو آگے پیچھے کرکے حکومتیں گرانے اور بنانے کا کام کرتی ہے۔ یہ لوگ اس سسٹم کی مجبوری بن گئے ہیں۔ پی پی پی سے فوج کو مسئلہ ہو تو یہ ن لیگ کے ساتھ کھڑے ہوں جائیں گے۔ ن لیگ اگر فوج کو حدود میں رکھنے کی ذمہ داری نبھائے تو فوج ان کو حکومت سے نکال کر ایسے ہی پی ٹی آئی کا حصہ بنا دیتی ہے جیسے جنوبی پنجاب کی 40 نشستوں پر کیا۔ کل کلاں اگر فوج کو تحریک انصاف کو “فکس” کرنا ہوا تو عثمان بزدار جیسے خاں صاحب کو اطلاع دیے بغیر آئے تھے ویسے ہی اطلاع دیے بغیر چلے جائیں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بیک وقت بذات خود “اسٹیٹس کو” ہیں اور “اسٹیٹس کو” کے خلاف سب سے بلند آواز بھی۔ یہ لوگ جمہوری فلٹریشن پراسس کو اس وقت تک بائی پاس کرتے رہیں گے جب تک ان کے سرپرستان ان کی سرپرستی نہیں چھوڑتے۔ یہ لوگ وہ 25 فی صد گند ہیں جو 75٪ بہتر پارلیمنٹیرینز کا نام بھی خراب کرتے ہیں۔ آپ جاننا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں کچھ لوگوں کا احتساب کیوں ممکن نہیں، گھوم پھر کر وہی چہرے آپ کو بلاناغہ اقتدار میں کیوں نظر آتے ہیں اور حکومتیں کیسے بنائی اور گرائی جاتی ہیں تو ان سو سوا سو لوگوں کے بارے تحقیق کر لیں، یہ ہر آمر کا ہراول دستہ اور ہر سولین حکومت کا دم چھلا ہوتے ہیں۔ کرپشن، نااہلی اور اقربا پروری کی مثالیں بھی یہی قائم کرتے ہیں اور این آر اوز بھی انہی کو ملتے ہیں۔ آپ احتساب چاہتے ہیں تو شروعات انہی سے کریں۔ تمام سیاسی پارٹیاں طے کرلیں کہ ان کو اپنے پاس پناہ نہیں دیں گے، مطلب یہ اس پارٹی میں شامل تو ہوسکتے ہیں مگر احتساب سے ماورا نہیں ہوں گے۔ یہ احتساب سے بچنے کے لیے چاہے ایک سے دوسری پارٹی میں چلے جائیں مگر احتساب جاری رہے گا۔ اسٹیبلشمنٹ سے خیر کی توقع چیل کے گھونسلے میں ماس تلاشنے کے مصداق ہے، مگر ہم آپس میں کم از کم یہ تو طے کرسکتے ہیں ناں کہ ان بغل بچوں کو ان کے کیے کی قانونی سزا مل جائے۔ یکدم نا سہی مگر آہستہ آہستہ سیاسی شطرنج کے یہ مخالف پیادے ختم ہوتے جائیں گے۔ ایک دفعہ ایلیکٹیبلز کا یہ شیطانی چکر ختم ہو تو پھر “بادشاہ” آپ کو سامنے بے بس کھڑے نظر آئیں گے۔ اور وہی دن حقیقتاً نئے پاکستان کا پہلا دن ہوگا۔