ولید بابر ایڈووکیٹ

پاکستان میں پچھلے ستر سالوں سے حکمران طبقات کے درمیان ایک کشمکش چل رہی ہے جس میں گزشتہ دو برس کے دوران ایک اُبھار اور شدت آ گئی ہے۔ حکمران طبقات کے درمیان جاری اس کشمکش کی شکل سول فوجی بالادستی میں زیادہ واضح انداز میں دیکھی جا سکتی ہے۔ اس طبقاتی کشمکش کے تضادات کو سمجھنے کے لیے ہمیں طبقہ اور پاکستان کے طبقات کو سمجھنا پڑے گا۔
ذرائع پیداوار (جاگیر’فیکٹری’کارخانہ)سے امتیازی تعلق ایک طبقہ بناتا ہے (یعنی ذرائع پیداوار کے مالک اور اس سے محروم)۔دنیا بھر کے عمومی سماجی تجزیہ کی طرح پاکستان میں بھی آٹھ طرح کے طبقات وجود رکھتے ہیں۔

پہلے نمبر پر جاگیر دار طبقہ ہے جس میں بڑے جاگیردار ‘وڈیرے’نواب’خانین’زمیں مالک وغیرہ ہیں یہ طبقہ ملکی معیشت کے بڑے حصے پر قابض ہے اس کی سیاسی نمائندہ جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے کچھ دہڑے ہیں۔

دوسرے نمبر پر سرمایہ دار طبقہ آتا ہے جس کی ملکیت میں فیکٹری ‘کارخانہ و دیگر صنعتی پیداوار کے ذرائع ہیں۔ یہ طبقہ بطور طبقہ ابھی منظم نہیں ہوا البتہ شراکت داری (سول و فوجی) میں سیاسی اقتدار میں شامل رہا ہے اس کی نمائندہ پارٹی پاکستان مسلم لیگ (ن) ہے۔ان دونوں طبقات کو حکمران طبقہ کہا جاتا ہے۔(ان دونوں طبقات میں پاکستانی فوج بحثیت ادارہ ایک بڑا طبقہ اپنا وجود رکھتی ہے)
تیسرے نمبر پر درمیانی طبقہ آتا ہے۔درمیانہ طبقہ بذات خود تین ذیلی طبقات میں تقسیم ہے۔( الف) اپر مڈل کلاس (اوپر والا درمیانی طبقہ) جسمیں درمیانے درجے کے صنعت کار’ زمین مالک’ بڑے کاروباری حضرات’ نامور وکیل’سائنس دان’کھلاڑی’بڑے فنکار وغیرہ لوگ آتے ہیں۔(ب) مڈل کلاس (درمیانہ طبقہ) اس میں پروفیسر ‘ڈاکٹر’اوسط درجہ کے وکلاء’ڈاکٹر’انجئیر’ کاروباری حضرات’نامور صحافی’ بیرون ملک مقیم افراد’ وغیرہ ہیں (جن کی اوسط آمدنی ستر ہزار سے ڈیڑھ لاکھ تک ہوتی ہے)۔(ج) لوہر مڈل کلاس (نچھلا درمیانی طبقہ)اس طبقہ میں سکول اساتذہ ’عام وکلاء’ڈاکٹر ‘دوکان دار’کاشتکار’پولیس و دیگر سول ملازمین’پیرا میڈیکل سٹاف وغیرہ شامل ہیں (جن کی اوسط آمدن تیس ہزار سے ستر ہزار تک ہے)۔

درجہ بالا طبقات کا سیاسی کردار غیر متعین ہوتا ہے اس طبقہ کے اقتدار اور (حکمران طبقہ) سرمایہ دار ‘جاگیردار طبقہ میں شامل ہونے کی خواہش دیدانی ہوتی ہے۔ان کا آئیڈیل اپنے سے اوپر کے طبقات ہوتے ہیں جب کے نیچے والے طبقات سے انھیں نفرت ہوتی ہے۔انھیں جاہل’گوار ‘ان پڑھ اور نہ سمجھ’ سمجھا جاتا ہے مگر جب کبھی نیچے والے طبقات کی جدوجہد منظم اور جیت کے امکان واضح’یقینی اور مضبوط ہوں (جو کے انقلابی صورتحال میں ہی ہو سکتے ہیں) تو درمیانہ طبقہ نیچے والے طبقات کے ساتھ ملکر اوپر والے طبقات سے انتقام لیتا ہے۔ درمیانے طبقہ کی نمائندہ پارٹیان پاکستان تحریک انصاف’ اے این پی’ بی این پی’ متحدہ قومی مومنٹ (مذہبی سیاسی جماعتیں مثلاً جماعت اسلامی’ جمعیت علماء اسلام’ تحریک لبیک’ عوامی تحریک ‘مہناج القرآن ) وغیرہ ہیں جو اب تک برائے راست اقتدار کی مالک نہیں رہی ہیں بالکل صوبائی اور مرکز میں مخلوط حکومت کا حصہ رہی ہیں۔

چھٹے نمبر پر صنعتی مزدور (پرولتاری) اور کسان آتے ہیں۔ ان کا گزر بسر بمشکل ہوتا ہے۔ زندگی کا ایک حصہ قرض میں گزر جاتا ہے۔ اکثریت میں ہونے کے باوجود اقتدار میں ان کا کوئی حصہ نہیں اور نہ ہی بحثیت طبقہ انہیں پارلیمنٹ میں کوئی نشست مختص کر کے اقتدار میں نمائندگی دی گئی ہے۔حد درجہ محرومی کے باعث اسی طبقہ میں انقلابی خیالات جنم لیتے ہیں اور اکثریت میں ہونے کے باوجود اقتدار سے محرومی انہیں انقلابی جدوجہد پر اکساتی ہے۔

ساتواں نمبر لمپن پرولتاری (دوسروں کی محنت پر گزارہ کرنے والے) کا ہے جس میں گدا گر’ سیکس لیبر( جنسی مزدور یعنی وحشیاں’ دلال وغیرہ) ہیں۔ یہ لوک سماجی نفرت کا شکار ہوتے ہیں۔اکثریت بے روزگاری’بے ہنر مندی’اور ان پڑھ ہونے کے باعث ایسے غلیض کام میں ملوث ہوتے ہیں۔ سماجی نفرت اور تضحیک کے باعث ایسے افراد میں انتقام کا جذبہ بہت شدید ہوتا ہے اور تھوڑی محنت’ پیار اور ہمدردی سے ایسے افراد کو انقلابی عمل کی طرف راغب کیا جا سکتا ہے۔

آٹھواں نمبر دیہاڑی دار مزدور کا ہے یہ لوگ چھوٹی موٹی مزدوری کر کے اپنا دن گزارتے ہیں جس دن دیہاڑی (ایک دن کا کام) مل جائے اس سے ان کا چولا چلتا ہے ورنہ فاقہ کشی پر ہی اتفاق ہوتا ہے۔ایسے لوگ سماج کے سب سے محروم طبقات میں شمار ہوتے ہیں اور یہ ہر تبدیلی کے لیے ہمیشہ تیار رہتے ہیں کیونکہ ان کے پاس کھونے کے لیے کچھ بھی نہیں ہوتا۔

پرولتاری(مزدور)’ لمپن(دوسروں کی محنت پر پلنے والے) اور دیہاڑی دار مزدور کو بحثیت مجموعی محنت کش طبقہ کہا جاتا ہے ۔ اس طبقہ کی نمائندہ پارٹیاں مزدور کسان پارٹی’ عوامی جمہوری تحریک’عوامی ورکر پارٹی’کیمونسٹ پارٹی وغیرہ ہیں مگر سیاسی طور پر یہ جماعتیں منظم نہیں جس باعث عوام کی حمایت حاصل نہیں ہے جس کا نقصان ان سیاسی پارٹیوں اور محنت کش عوام دونوں کو ہو رہا ہے۔پاکستان میں 1960 کی دہائی میں یہی طبقہ منظم ہو کر حکمران طبقہ کو مزاحمت دے رہا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے روٹی’کپڑا’ مکان کا نعرہ مستعار لے کر’محنت کش طبقہ کی اپنی سیاسی جماعت نہ ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسی طبقہ کو استعمال کر کے اپنے لیے اقتدار کی راہ ہموار کی۔یہی طبقہ ملک کی ستر فیصد آبادی ہے اس لیے اس طبقہ کے مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے ‘منظم سیاسی معاشی پالیسی تشکیل دے کر ایک حقیقی عوامی پارٹی کی قیادت میں جدوجہد کرتے ہوئے ایک متبادل عوامی نظام میں اس طبقہ کے حالات بدلے جا سکتے ہیں-

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here