ماہ زاد سعید

طوائف ایک ایسا کردار ہے، جس کے بارے میں ہر دور میں نفرت اورتعصب پایا گیا ہے۔ وہ مرد و زن بھی جوپہلی نظر ڈالنے کے بعد دوسری نظر تعریفیہ انداز میں ڈالتے ہیں اور اپنی آنکھوں کے ذریعے ہر منظر کو اپنی ذہن کی گرفت میں لینا چاہتے ہیں، کسی نہ کسی طور سے اس کے وجود کی تضحیک سے اپنے آپ کو روک نہیں پاتے۔ امر حقیقت یہ ہے کہ طوائف جتنی بھی تنقید اور نفرت کا نشانہ بنائی جائے وہ بہرحال ایک خوبصورت اور طاقتور کردار ہے۔ آپ ہزارجتن کر لیں مگر تاریخ آپ کو ہر بار جھٹلا کر طوائف کو ایک غیر یقینی اعلیٰ مقام دے گی۔

اس ضمن میں پائی جانے والی سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ طوائف کو ہمیشہ جسم فروش گنا گیا ہے۔ ہندوستان سے لے کر چین اور جاپان تک کی تاریخ دوقسم کی طوائفوں کی نشان دہی کرتی ہے، ایک وہ جن سے جنسی تعلقات قائم کیے جاتے ہیں اور دوسری جو انتہائی اعلیٰ، نفیس اور تعلیم یافتہ خواتین ہوا کرتی تھیں۔ اکثر حکم ران طبقے ان کی سرپرستی کیا کرتے تھے لہٰذا ان کا رہن سہن انتہائی شاہانہ اور لباس فاخرانہ ہوا کرتے تھے۔ وہ فنون لطیفہ کی ماہر ہوا کرتی تھیں لہٰذا ذہنی اور ذوقی لحاظ سے دوسری تمام عورتوں سے فروتر ہوا کرتی تھی۔

چونکہ مردوں سے مباحثہ، ادبی گفتگو غرض کہ ہر طرح کی سخن فہمی میں بے نظیر ہوتی تھیں لہٰذا امراء اور اہل علم کے محفلوں میں قبل احترام، دلکش اور دل لبھانے والی شمار ہوا کرتی تھی۔ ہندوستان میں کام شاستر میں دی گئی تفصیلات کے مطابق طوائف کی سماجی حثیت ایک گھریلو عورت کے لحاظ سے برتر تھی اور اس کی صحبت امراء کے لیے باعثِ فخر ہوا کرتی تھی۔ قدیم ہندوستان میں اعلیٰ قسم کی طوائف کو گانیکا کہا جاتا تھا۔ ان کے چاہنے والوں میں بادشاہوں اور رئیسوں سے لے کر شاعر اور ادیب بھی شامل ہوتے تھے۔ اسی قسم کی صورت حال چین اور جاپان میں بھی دیکھنے کو ملتی تھی چین میں بیوی کا مقصد محض خراسانی خانہ داری اور نسل بڑھانےکا تھا۔ طوائف کے پاس مرد ذہنی سکون اور لطف و حظ کے لیے جایا کرتے تھے۔ جاپان میں گیشا کا ادارہ وجود میں آیا۔ گیشا درحقیقت دو الفاظ کا مرکب ہے، گائی یا  ماہرِ فنون لطیفہ اور شا یعنی فرد، عام معانی میں وہ فرد جو ہر قسم کے فن جیسے رقص، موسیقی، گانا، مصوری اورادب پر مکمل دسترس رکھتا ہو۔ اس ادارے کا آغاز مردوں سے ہوا بہرحال کچھ عرصے کے بعد صرف عورتیں بھرتی کی جانے لگیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا کہ ایسے معاشرے میں جہاں عورت صرف پاکیزگی اور تقدس کا دوسرا نام گنی جاتی تھی، جہاں پر سات پردوں میں بٹھانے کے باوجود اس کی عصمت محفوظ نہیں سمجھی جاتی تھی، وہاں طوائفوں نے اتنا اعلیٰ مقام کیسے حاصل کر لیا کہ امراء کی نظر خاص کا مرکز بن گئیں۔ اب اگر تاریخ پر سرسری ہی نظر ڈالی جائی تو کسی بھی عہد میں بیوی یا عورت کا ذکر نہیں آتا حتی کہ مورخین نے بھی بادشاہوں کی بیگمات کے ناموں کاخاص ذکر نہیں کیا سوائے اس کے کہ چند احترامی جملے لکھ دیے گئے ہوں۔ ان تمام ادوار میں بیوی کا رتبہ بہت گِرا ہوا تھا، وہ مرد کے تابع اوراس کی ملکیت سمجھی جاتی تھی۔ عورت کو چار دیواری میں مقید رکھنے کو غیرت مندی سمجھا جاتا تھا۔ اسے مختلف پیرایوں میں بار بار اس بات کی یاد دہانی کرائی جاتی تھی کہ وہ کسی طور بھی مرد کے برابر نہیں۔ علم و عمل سے محرومی نے اس کی ذاتی شخصیت کو کچل کر رکھ دیا تھا اور وہ گم نامی کے اندھیروں میں کھو کر رہ گئی۔ ان حالات میں طوائف کا کردار ابھر کرسامنےآتا ہے کیونکہ اس کی بلند حوصلگی، شہامت ، آزادہ روی ، حریت فکر اورحق گوئی جیسی صفات اسے مردوں کی نظر میں ممتازکر دیتی ہیں۔ ایک عام گھریلو عورت شرم و جھجھک کے با عث ایک مرد کے دبی خواہشات، جنسی Fantasy  یا تصورات اور جذبات کو کھل کر سامنے لانے میں ناکام رہتی ہے مگر ایک طوائف اپنی سخن فہمی، نکتہ دانی اورآداب کی وجہ سے مردوں کو ذہنی غذا فراہم کرتی ہے اور انہیں خوش ومطمئن رکھ سکتی ہے۔

یہاں یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ مرد اورعورت میں پیدا ہونے والی ذہنی ہم آہنگی، جنسی تعلقات سے اہم ہوتی ہے اورایک صحت مند تعلق کی بنیاد بنتی ہے۔ بہرحال طوائف چونکہ علم و حکمت سے بہرہ ور ہوتی تھی تو اس کے لیے معاشرے میں ایک خاص مقام بنانے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی۔

تاریخ ایسی شہادتوں سے بھری پڑی ہے جہاں امراء اور ادیب طوائفوں کے پرستار ہوا کرتے تھے جیسے کہ نور بائی (1766) جس سے ملاقات کو خاص طبقے کے لوگ اپنی عزت شمار کرتے تھے۔ یا حکیم مومن خان دھلوی کی ’’صاحب جی‘‘ جن سے تعلقات کو آپ نے کبھی اخفاء نہیں کیا یا نواب مصطفیٰ خان شیفته جنہوں نے ’’نزاکت‘‘ کے ساتھ کو کبھی اپنے لیے وقار کے منافی نہ جانا اور اس طرح طوائف ثقافت، خوبصورتی اور طاقت کی اہم علامت بن گئی۔ عورت کا یہ روپ زیادہ تر مغربی اور ترقی یافتہ ممالک میں دیکھنے کو ملتا ہے، جہاں وہ ہر طرح کی شخصی آزادی کی مالک ہے اور ہر طرح کے فن کے عبور کو اپنی زندگی کا نصب العین سمجھتی ہے۔ ایسی عورت جو خود مختار اور باصلاحیت ہو، ان میں مرد زیادہ جنسی کشش محسوس کرتے ہیں کیونکہ مرد اب بھی عہد قدیم کی طرح ایک شکاری کی فطرت رکھتا ہے اور جو عورت اسے چلینج کر سکے، اس کی طرف اس کا جھکاؤ زیادہ ہوتا ہے۔

پڑھا لکھا اور باذوق مرد ایسی عورت کے ساتھ معاشرت کرنے میں زیادہ لذت محسوس کرتا ہے، جو اس کے ہم پلہ ہو اور اس کی ذہنی اور جنسی fantasy کو تسکین بخش سکے۔ انسان طبیعتاﹰ جدت پسند واقع ہوا ہے اور ایک ہی زندگی سے اکتا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں طوائف جو اپنی زندگی کے ہر لمحے کو سیاسی ثقافتی اورادبی لحاظ سے ترقی دیتی جاتی ہے، دلکش اور پرکشش محسوس ہوتی ہے۔

وہ وقت آگیا ہے کہ جہاں یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ مثالی بیوی اور ایک  مثالی عورت بننے کے لیے طوائف جیسی خصوصیات کا ہونا بہت ضروری ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here