عاصہ جہانگیر عجیب غدار تھیں؟

0
1065

عاطف توقیر

ایک معاشرہ جہاں جمہوریت کو گالی دینا والا جمہور سینا پھلا کر آمریتوں کا استقبال کرتا ہو۔ ایک معاشرہ جہاں دستور کو کاغذ کا پلندہ سمجھا کر گالی دی جاتی ہو۔ ایک معاشرہ جہاں پوری ریاست صرف ایک بیانیے پر چلائی جا رہی ہو، عاصہ جہانگیر پورے معاشرے سے لڑنے نکلیں تھیں۔ وہ ضیاالحق کی مقدس آمریت کو شاباش دیتے ہجوم میں کھڑے ہو کر داد بٹورنے اور اپنی زندگی جینے کی بجائے دستور کی بحالی اور جمہوریت کے احیا کی تحریک میں مجرم بننے کو بہتر سمجھتی تھیں۔

وہ درندوں کے معاشرے میں انسانی حقوق کے نعرے بلند کرنے کے سفر پر نکلیں تھی۔ انہیں دھمکیاں دی گئیں، جیل بھیجی گئیں، نظربند کی گئیں، دھمکائی گئیں، حملوں کی زد میں آئی، گریبان سے پکڑی گئیں، مگر عجیب ضدی عورت تھی، کسی طور پر جھکنے پر آمادہ نہیں تھی۔ کسی طور بادشاہ سلامت کے دربار میں سرنگوں ہونے پر تیار نہیں تھیں۔

جب ضیاالحق نے ڈالر لے کر امریکا کے لیے مقدس جہاد کا بیڑا اٹھایا، تو تمام ملک ششدر تھا، دانش ور یا تو جرنیلی خوف سے چھپ چکے تھے یا ایوانِ عالم پناہ میں واہ واہ کر کے اپنے اپنے لفظوں کی قیمت وصول کر رہے تھے۔ عاصمہ جہانگیر لیکن ان چند سرپھروں میں شامل تھیں، جو نہ بندوق سے خوف زدہ تھیں اور نہ ڈالروں کی چمک سے مرعوب ہونے پر آمادہ تھیں۔

وہ پاگلوں کی طرح چیخ چیخ کر نقار خانے میں شور مچا کر ضیاالحق کو منہ چڑھاتی رہیں اور مذہب کا نام استعمال کر کے جہادی فیکٹریوں کو گالی دیتی رہیں۔ وہ فیکٹریاں جن کو غلط سمجھنے اور فتویٰ لگانے میں ہمیں چالیس برس لگے۔

وقت سے آگے دیکھنے والوں کو کوئی حق نہیں کہ وہ ہجوم میں رہیں۔ لوگ کہتے رہے کہ درندوں میں رہنا خوف ناک عمل ہے اور ملک چھوڑ دیجیے، مگر وہ عجیب ہٹ دھرمی سے ملک کے اندر موجود رہیں اور خوف کھائے بغیر وہ سب کچھ بھی کہتی رہیں، جو لاکھوں روپے لینے والے اینکرز اور خواب بیچنے والے دفاعی اور عسکری تجزیہ کار کہنے کا سوچ تک نہیں سکتے تھے۔

سپاہی کا لباس پہن کر آرام دہ کرسیوں اور ایوان اقتدار کی رعنائیوں میں کھو جانے والے جرنیلوں کو ان کی اصل تعلیم یاد دلانا ہو یا آمروں کی گودوں سے پیدا ہونے اور پروان چڑھنے والے سیاست دانوں کو اوقات بتانا، عاصمہ بولتے ہوئے جھوٹ سے اپنے الفاظ آلودہ نہیں کرتی تھیں۔

پاکستانی معاشرہ اب ایک ایسے تباہ حال ڈھیر میں تبدیل ہو چکا ہے، جہاں قوم کے دماغوں سے علم، جستجو، سوالات، حقوق کا احساس، انسانیت سب کچھ چھین کر انہیں سرکاری سرپرستی میں بونا بنایا جاتا ہے۔ پھر اس پست قد اور بونے معاشرے پر راج کرنا اور روٹی روٹی پکارنے والے لوگوں کو کسی بھیڑ بکری کی طرح کبھی مذہب اور کبھی حب الوطنی کے نام پر لوٹا جاتا ہے۔ لاعلم اور اپنی ضرورتوں کی لڑائی لڑنے والے یہ افراد بہت آسانی سے بھیڑ بکری کی طرح ہانکے جا سکتے ہیں۔ عاصمہ جہانگیر ایسے تعفن زدہ معاشرے میں دستوری حقوق اور آئین کی بالادستی کا نعرہ بلند کرتی تھیں، بغیر گِھن کھائے، غدار غدار کے نعروں کا جواب دیے، ایجنٹ ایجنٹ پکارے بونوں کی جانب بنا دیکھے۔

دنیا کا کوئی بھی معاشرہ کسی ایک فن، کسی ایک ہنر، کسی ایک بیانیے یا کسی ایک نظریے سے زندہ نہیں رہ سکتا۔ صرف وہی معاشرہ ترقی پا سکتا ہے، جس معاشرے میں تنوع ہو، اختلاف ہو، بحث ہو اور مروجہ بیانیوں کو رد کرنے کی سکت ہو۔

ہماری بدنصیبی یہ ہے کہ ملک میں حاکموں، جرنیلوں اور مذہبیوں نے ایک خاص بیانیہ قائم کر رکھا ہے اور معاشرے میں کسی شخص، کسی گروہ کو یہ اجازت نہیں کہ وہ اس بیانیے پر سوال تک اٹھا سکے۔ ہماری ستر سال کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ آج تک جس جس شخص نے بھی ریاستی بیانیے سے اختلاف کیا، اسے کبھی غدار کہا گیا، کبھی ملک دشمن اور کبھی غیرملکی ایجنٹ۔

سوال یہ ہے کہ غدار کی تعریف کیا ہے؟ جواب یہ ہے کہ یہ تعریف پاکستان کے دستور میں درج ہے؟

کوئی بھی شخص جو طاقت کے استعمال یا طاقت سے یا دیگر غیر آئینی ذریعے سے دستور کی تنسیخ کرے ، تخریب کرے یا معطل کرے یا التواء میں رکھے سنگین غداری کا مجرم ہوگا۔ اس کے علاوہ جو ایسے کسی فعل میں مدد دے یا معاونت کرے یا شریک ہو، وہ بھی سنگین غداری کا مجرم ہو گا۔ یعنی کوئی شخص ہو، گروہ ہو ادارہ ہو یا جماعت، اگر وہ دستور پاکستان کی نفی کرے، تو اس کو غدار سمجھا جائے گا۔ یہ تعریف سامنے رکھیں، تو ملکی تاریخ میں دیس کے غداروں کو ڈھونڈنا کوئی مشکل کام نہیں اور زیادہ خوف ناک بات یہ ہے کہ ان میں سے زیادہ تر وہ ہیں جنہیں وردی اور بندوق دستور اور قوم کی حفاظت کے لیے دی گئی تھی۔

دستور کسی ملک یا ریاست میں اس سیمنٹ سے عبارت ہوتا ہے، جو مختلف برادریوں، قومیتوں، صوبوں، رنگوں، نسلوں، ثقافتوں، فرقوں یا مذاہب کی اینٹوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔ جہاں یہ سیمنٹ توڑا جائے، وہیں کوئی نہ کوئی اینٹ ریاست کی دیوار سے ٹوٹ کر الگ ہو جاتی ہے۔ یعنی دستور کاغذات کا پلندہ نہیں بلکہ ریاست کی مختلف اکائیوں کے درمیان ایک کلیدی معاہدہ ہے۔

دنیا بھر میں ہر مہذب معاشرہ اپنے دستور کی بے انتہا تکریم کرتا ہے، کیوں کہ ہر باشعور شخص جانتا ہے کہ اگر دستور پر ضرب پڑے تو ریاست ایک منٹ زندہ نہیں رہ سکتی۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں بیانیہ بالکل الٹا ہے۔ آپ نے اکثر یہ جملہ سنا ہو گا کہ دستور نہیں ملک اہم ہے۔ یہ جملہ وہی شخص ادا کر سکتا ہے، جسے معلوم نہ ہو کہ دستور ہی ریاست کی بقا کی واحد ضمانت ہوتا ہے یعنی دستور ہے تو ریاست ہے، دستور ٹوٹا تو ریاست گئی۔

عاصمہ جہانگیر کے انتقال کی اندوہ ناک خبر پر پاکستانی معاشرے میں موجود تقسیم واضح ہے۔ ایک طرف تو وہ لوگ ہیں، جو اس عظیم عورت کی ملک، قوم، انسانیت، حقوق اور جمہوریت کے لیے انتھک خدمات کو خراج تحسین پیش کر کے اپنے دکھ کا اظہار کر رہے ہیں اور دوسرے طرف وہ جن کے تخیل اور شعور کی واحد اساس ٹی وی چینل کے ذریعے سنائی دینے والا وہ سرکاری بیانیہ ہے، جو ہر اس شخص کو دشمن، کافر، غدار، ایجنٹ اور جانے کیا کیا کہتا ہے، جو اس بیانیے کو مسترد کرے۔

جس معاشرے میں اختلاف رائے کی بنیاد پر کسی انسان کی ذاتی زندگی کو نشانہ بنانے، اس کے عقائد پر رائے قائم کرنے، اس کے افکار کو ہدف بنانے یا دلیل سے کسی بیانیے کو رد کرنے کی بجائے گالیاں دیے کر جذباتی انداز سے دل کی بھڑاس نکالنے کی راہ پر لگا دیا جائے، اس معاشرے میں داخلی تقسیم اسی انداز کی ہوتی ہے۔

عاصہ جہانگیر کے کسی بیان پر تنقید کی جا سکتی ہے، ان کے کسی عمل کو مسترد کیا جا سکتا ہے، ان کے کسی اقدام کی مذمت تک کی جا سکتی ہے، مگر فقط اختلاف کی بنا پر ان کی ذات سے نفرت اور موت پر شرم ناک حد تک خوشی محسوس کرنا، خود اس معاشرے کی علمی اور فکری پستی کا واضح عکس ہے۔

چند سوال اس قوم سے کرنے کے ہیں؟ کیا اس دیس میں ہر اس شخص کے موت پر جشن منایا جائے گا جو سرکاری بیانیوں سے اختلاف کرے؟ کیا اس دیس میں ایسے افراد کے خاتمے کی دعائیں ہوں گی، جو ملک میں جمہوریت کو اس کی اصل شکل میں لانے کے بات کریں؟ کیا اس دیس میں ایسے تمام افراد کو غدار قرار دیا جاتا رہے گا، جو اصل غداروں کے چہروں سے نقاب اتارنے کا گناہ کریں؟ کیا اس دیس میں ہر وہ شخص غیرملکی ایجنٹ قرار پائے گا جو ملک میں قانون کی بالادستی کی بات کرے اور افراد اور اداروں کو دستوری دائرے میں رہنے کا مشورہ دے؟ کیا اس دیس میں ہر وہ شخص بھارتی ایجنٹ کہلائے گا جو پڑوسی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کی بات کرے؟ کیا اس دیس میں ہر وہ شخص ملک دشمن ہو گا جو اس ملک کے اصل دشمنوں کے سامنے کھڑا ہو؟ کیا اس دیس میں ہر وہ شخص کافر قرار پائے گا جو ملک میں اقلیتوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائے؟ اور کیا اس دیس میں انسانی حقوق یا ملکی آئین کے مطابق جمہوریت کے حق کے لیے بولے گا، اس  کی موت پر جشن منایا جائے گا؟ عاصمہ جہانگیر کے جانے سے پیدا ہونے والا خلا شاید اب کوئی شخص کبھی پورا نہ کر سکے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here