عاطف توقیر

جیسے عموماﹰ کسی محبوبہ کی جانب سے شکوہ کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ آپ بہت بدل گئے ہیں۔ ویسے ہی کچھ روز سے مجھے یہ جملہ اپنے بہت سے دوستوں سے سننے کو ملا۔ وجہ یہ تھی کہ عمران خان اور ان کی جماعت پی ٹی آئی کی فتح سے قبل میں نے بہت پرزور انداز سے اس کی مخالفت کی اور جیت جانے کے بعد نہ صرف میں نے اس جماعت کو سکون سے کام کرنے پر زور دیا بلکہ دھاندلی کے معاملات کو بھی احتجاج، دھرنوں اور مظاہروں کی بجائے تحقیقات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
شاید بہت سے دوستوں کو یہ امید تھی کہ میں پاکستان تحریک انصاف کی جیت پر نوحہ کناں ہو جاؤں گا اور اس جیت کے درپردہ قوتوں کو گالیاں دے کر پی ٹی آئی کی فتح تسلیم نہ کرتے ہوئے یا اس فتح کو مکمل طور پر عوامی رائے قرار دینے کے بجائے کڑی تنقید کا سلسلہ شروع کر دوں گا۔

سن 2011 کی بات ہے جب مصر میں انقلاب کے ذریعے حسنی مبارک کی طویل اور مطلق العنان حکومت کا خاتمہ ہوا۔ اس پر ہمارے بہت سے لبرل دوستوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اب مصر ایک جمہوری اور ترقی یافتہ ریاست میں تبدیل ہو جائے گا، مگر وہاں تاریخ میں پہلی بار باقاعدہ طور پر انتخاب ہوئے تو اخوان المسلمون کے محمد مرسی صدر بن گئے۔ اس پر ہمارے مذہبی دوست جشن منانے لگے کہ جیسے مصر اب ایک ’اسلامی‘ ریاست میں تبدیل ہو جائے گا، جب کہ لبرل دوست اس فتح کو تسلیم کرنے سے ہی کتراتے رہے۔ صرف ایک ہی سال کے اندر دوہزار تیرہ میں وہاں فوجی پشت پناہی میں احتجاجی تحریک شروع ہو گئی اور اسی سال جولائی میں فوج نے حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ اس دوران ہم مسلسل چیختے رہے کہ عوامی رائے کا احترام کیا جائے اور محمد مرسی اگر صدر بن گئے ہیں، تو انہیں حکومت کرنے دی جائے، مگر ہمارے لبرل دوست مصر میں کسی مذہبی شخصیت کے صدر بننے کو گوارا کرنے پر آمادہ ہی نہیں تھے۔ انہوں نے فوجی سربراہ عبدالفتاح اللہ سیسی کی جانب سے حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد اخوان المسلمون کے ہزار ہا افراد کو قتل کیا یا جیلوں میں بند کر دیا۔ اس پر لبرل حلقوں نے کچھ سکون کا سانس لیا اور اسے جانے کس دلیل کے تحت قبول کر لیا۔ یعنی محمد مرسی کے غلط اقدامات پر تنقید کرنے مگر ان کے جمہوری صدر کے طور پر دفاع کرنے کی بجائے مکمل طور پر الٹ راستہ اختیار کیا گیا اور وہ یہ کہ غلط اقدامات پر تنقید کرنے کی بجائے دستور ہی کو توڑ کر اقتدار کا خاتمہ کرنے والے جنرل سیسی کو صرف اس بات پر قبول کر لیا گیا کہ وہ کم از کم کوئی مذہبی شخص تو نہیں۔ ہم اس دوران چیختے رہے کہ محمد مرسی جمہوری طریقے سے صدر بنے ہیں، انہیں حکومت کرنے دیں۔ وہ نادرست ہوں گے، تو آئندہ انتخابات میں مصری عوام انہیں اقتدار سے باہر پھینک دیں گے۔ مگر ایسے میں الٹا مجھے سننے کو ملا کہ عاطف صاحب آپ مذہبی شدت پسندوں کا ساتھ کیسے دے سکتے ہیں؟
ترکی میں اسی طرح رجب طیب ایردوآن کی صدارت کے دوران وہاں مذہبی شدت پسندی میں اضافے اور ترکی کے مجموعی طور پر سیکولر دستور میں تبدیلیوں، وہاں جمہوری روایات کی پامالی، آزادیء رائے پر قدغنوں یا دیگر معاملات میں آمرانہ طرز حکومت پر تنقید کی بجائے ہمارے لبرل دوستوں کا بنیادی مدعا ایردوآن کے اسلام پسند نظریات رہے اور وہ تنقید جو ایردوآن کے اقدامات پر ہونا چاہیے تھے، وہ ان کے نظریات اور شخصیت پر مرکوز رہی۔

جولائی 2016 میں جب وہاں فوج نے تختہ الٹنے کی کوشش کی۔ ایسے میں ہمارے بہت سے لبرل دوستوں کی رائے یہ تھی کہ فوجی بغاوت ایک احسن قدم ہے، کیوں کہ اس سے ترکی کو دوبارہ اس کے اصل راستے کی جانب لایا جا سکے گا۔ اس دوران میں یہ دلیل دیتا رہا کہ ایردوآن ترکی کے جمہوری صدر ہیں۔ ان کے حق حکم رانی کو ختم کرنے کا اختیار ترک عوام کو ہے اور اگر ترک عوام انہیں اقتدار دینے میں کوئی مضائقہ محسوس نہیں کرتے، تو ہمیں ایردوآن کے جمہوری حق کا تسلیم کرنا چاہیے۔ البتہ اسی جمہوری راستے کا تقاضا ہے کہ وہ جہاں جہاں کوئی آمرانہ اقدام کریں ہم کھل کر ان کی مذمت کریں اور ان سے اختلاف کریں۔ اس موقع پر کم از کم مجھے یہی سننے کو ملا کہ عاطف صاحب آپ ایک مذہبی شدت پسندکی حمایت کیسے کر سکتے ہیں؟

جمہوریت ایک طویل اور صبر آزما عمل ہے۔ ہم جمہوریت کے قیام میں اب تک ناکام رہے ہیں اور وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں پچھلے ستر سال میں ایک ادارہ بچانے کے چکر میں دیگر سویلین ادارے برباد ہوتے چلے آئے۔ عدلیہ، میڈیا، صحافت، پارلیمان، انتظامیہ ہر ہر ادارے سے ہم بار بار غلط پر غلط کام کرواتے چلے گئے، اس امید کے ساتھ کہ شاید اس میں ہماری ریاست زندہ رہ سکتی ہے۔ سویلین اداروں کی عدم فعالیت بڑھتی چلی گئی اور بدقسمتی سے اس کو دوش بھی ہم سویلین اداروں ہی کو دیتے چلے گئے۔

عمران خان اور پی ٹی آئی کا معاملہ میری نگاہ میں قریب نوے فیصد نوے کی دہائی کے اسلامی جمہوری اتحاد یا آئی جے آئی جیسا ہے۔ بیس پچیس برس گزرنے کے بعد ہمیں معلوم ہوا تھا کہ کس طرح سیاسی انجنیئرنگ کر کے نواز شریف کی قیادت میں ان تمام قوتوں کو جمع کیا گیا، جو جمہوریت کے نام پر جاری اس عسکری کھیل کو جاری رکھنے اور سیاست کے پورے میدان کو کم زور بنانے میں استعمال ہو سکتی تھیں۔

بیس پچیس برس گزرنے کے بعد ہمیں معلوم ہو گا کہ الیکشن 2018 میں اصل میں ہوا کیا تھا اور کس طرح عوام کی رائے انتخابات سے قبل میڈیا کا استعمال کر کے تبدیل کرائے گئی۔ کس طرح ماس میڈیا پروپیگنڈا کا استعمال کیا گیا اور کس طرح انتخابات کے دن بھی چیزیں غیرمعمولی انداز سے اس طرح تبدیل کی گئی کہ سب ہکے بکے رہ گئے۔

اس صورت حال میں اب سویلین اداروں کی حالت یہ ہو چکی ہے کہ وہ فالج زدہ جسم میں تبدیل ہو گئے ہیں اور ایسی صورت میں اب اگر فوج کو ایک دم اس پورے عمل سے نکال دیا جائے، تو بھی ریاست اپنی فعالیت کھو سکتی ہے۔ اب فطری راستہ یہی ہے کہ رفتہ رفتہ ادارے مضبوط بنائے جائیں اور فوج کے ہاتھوں سے ریاست کی باگ ڈور رفتہ رفتہ واپس حاصل کر کے سویلین اداروں کو سونپی جائے۔ اس میں کوئی بھی شارٹ کٹ میری نگاہ میں ممکن نہیں ہے۔

اس سے زیادہ بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ اس کا کوئی فوری حل موجود نہیں ہے۔ میری نگاہ میں یہ معاملہ ہم تمام تر علم ہونے کے باوجود جاری رہے گا۔ عمران خان اب وزیراعظم بن رہے ہیں، تو انہیں وزیراعظم بننے دینا چاہیے اور انہیں کام کرنے کا موقع دینا چاہیے۔ جمہور کی اصل رائے تک پہنچنے کے لیے اس انداز کے اقدامات ہر معاشرے نے برداشت کئے ہیں۔ ہر معاشرے میں مخصوص قوتیں جمہوریت تک کے سفر کو کھٹن بناتی ہیں، مگر کوئی چاہے یا نہ چاہے ارتقا ایک حقیقت ہے۔ جو قومیں ارتقا کے ساتھ ساتھ سفر کرنے سے اجتناب برتتی ہیں یا ٹھہراؤ کی کوشش کرتی ہیں، ارتقا انہیں بالوں یا گردن سے پکڑ کے اپنے ساتھ لے جاتی ہے۔ ہم پچھلے ستر سال سے ایسے ہی ارتقا کا شکار ہیں۔ ہم پوری شدت سے کوشش کر رہے ہیں کہ ارتقائی منازل طے کر کے آگے نہ بڑھیں، مگر ارتقا ہمیں پوری قوت سے کھینچے جا رہی ہے۔

اس وقت عمران خان، دھاندلی (پری پول اور پوسٹ پول) ہی سہی، انہیں حکومت کرنے دیجیے۔ ان پر دباؤ جاری رکھیے، انسانی حقوق کی صورت حال ہو یا سویلین ادارے، ان کی مضبوطی کے لیے ایک مسلسل اور موثر آواز اٹھاتے رہیے۔ انتخابات میں جہاں جہاں اور جیسے جیسے گڑ بڑ کی گئی ہے، اس کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی اور جمہوری انداز میں کام کیجیے اور کوشش کیجیے کہ ارتقا کو گھسیٹ کر ہمیں اپنے ساتھ لے جانے کی ضرورت نہ پڑے اور ہم خود ہی اٹھ کر اس کے ساتھ ہو لیں۔ آہستہ قدموں ہی سے سہی، ساتھ چلنا شروع کریں۔

پاکستانی معاشرے میں اگر جمہوریت کا عمل جاری رہا، تو کئی دہائیوں بعد یہاں جمہوریت اصل روپ میں دکھائی دینا شروع ہو گی۔ اس لیے میری رائے یہی ہو گی کہ عمران خان کو تمام تر مخالفت کے باوجود حکومت کرنے دینا چاہیے۔

یہ الگ بات ہے کہ پوری سول سوسائٹی بھرپور طاقت کے ساتھ دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات پر زور دے۔ جہاں جہاں دھاندلی کے واقعات ہوئے ہیں، ان کے خلاف تحقیقات کرائیں اور جہاں جہاں عوامی رائے تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اس کے خلاف مربوط اور مضبوط آواز اٹھائیں۔ ملک میں انسانی حقوق کی صورت حال، لاپتا افراد، ماورائے عدالت قتل، جعلی پولیس مقابلوں اور ان جیسے دیگر مسائل پر پرزور آواز اٹھانے کا سلسلہ جاری رکھیں۔ موقف میں سختی یا نرمی کی بجائے ایک سیدھی لکیر پر قائم رہنا ضروری ہے۔ نہ کسی ایک پارٹی سے ایسی محبت میں مبتلا ہو جائیے کہ اس کے سارے غلط کاموں کا دفاع شروع کر دیں اور نہ کسی پارٹی سے ایسی نفرت میں لگ جائیے کہ اس سیاسی جماعت کو غدار ثابت کرنے پر آمادہ ہو جائیں۔

ہم سب پاکستانی ہیں اور سیاسی اختلافات کو عزت دینا سیکھیے۔ جہاں تلک معاملہ ہے فوج کا، تو وہ فوج بھی اپنا ہی ادارہ ہے۔ ایک ایسا ادارہ جس کی پالیسیوں پر ہمیں شدید نوعیت کے تحفظات ہیں۔ ہم پوری قوت سے آواز اسی لیے اٹھا رہے ہیں کہ یہ ادارہ مضبوط ہو اور غیردستوری کاموں میں پڑ کر اپنی تکریم اور طاقت نہ کھوئے۔

جن احباب کو مجھ میں بدلاؤ کا شکوہ ہے، وہ سمجھ لیں کہ اصولی راستہ کسی صورت نہ چھوڑیں دوسری صورت میں ہمیں بعد میں ہزیمت کا سامنا کرنا ہو گا۔