عابد حسین

یہ تلخ تلخ حقیقت ہے کہ کرہء ارض پر جب سے خطوں کی تقسیم کا سلسلہ شروع ہوا ہے تب سے ان خطوں میں بسنے والی مختلف کمیونٹیز میں شروع سے اکثریتی اور اقلیتی فرق موجود رہا ہے اور یوں معاشرہ بنیادی طور پر دو حصوں اکثریتی مذہبی اور اقلیتی مذہبی اور غیر مذہبی حصوں میں بٹا رہا ہےـ۔

کسی بھی خطے میں موجود طاقتور اکثریتی حصہ نے کمزور اقلیتوں کو شک و شبے کی نظر سے دیکھا ہے اور تعصب کا رویہ روا رکھا ہےـ۔

پھر ان مظالم ـ ناانصافیوں اور بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کو کبھی خطے کے سربراہوں نے نافرمانی اور بغاوت کا کہہ کر تو کبھی مذہبی اختلاف کو ہوا دے کر بڑے ہی بہترین طریقے سے جعلی ملمع کاری سے کام لیتے ہوئے نمٹایا ہے۔

کبھی انسانوں کے سروں سے بنے میناروں کے جواز گھڑ لیے تو کبھی نیم زندہ معصوم انسانوں کو بھڑکتی آگ کے شعلوں کے حوالے کر دیا گیا۔

قصہ مختصر کہ کمزور طبقات چاہے وہ کسی بھی مذہب و مسلک یا ثقافت سے تعلق رکھتے ان سے زندگی گزارنے اور ان سے آزادی کا حق تک چھین لیا جانا کوئی جرم تک نہیں سجھا گیاـ۔

زیادہ تاریخ کی ورق گردانی یا ماضی میں جانے کی ضرورت ہی کیا ہے ایک برس قبل روہنگیا میں موجود مسلم اقلیتوں پر ہونیوالے مظالم اور ان کی نسل کشی کے واقعات یا انسانی حقوق کے دعویدار چین میں محض مذہبی اختلاف کی بنا پر وہاں کے اقلیتی مسلمانوں سے ان کے بنیادی حقوقِ آزادی ضبط کرلینا یہ سب انسانیت سے گرے ہوئے اقدام اب بھی دنیا کے مختلف خطوں میں مختلف صورتوں میں ہو رہے ہیں ـ
اور ان زیادتیوں کی مذمت ہوتی ہے یا متاثر اقلیتوں سے ہمدردی کا اظہار ـ یہ صرف عقیدوں کی ہم آہنگی کی وجہ سے نہیں بلکہ دراصل انسانیت اور انسانی ناطے کی وجہ سے ہے۔

اب ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ ہم خود اقلیتوں کے معاملات میں انصاف سے کام لیتے نظر آتے مگر غیر جانبدار ہو کر دیکھا اور لکھا جائے تو یہاں کی بسنے والی مذہبی اور غیر مذہبی اقلیتوں کو ان کے آئینی حقوق اور بنیادی انسانی آزادیاں تک مہیا نہیں کرتے اور صورتحال تو یکسر ویسی ہی ہے جیسی صوورتحال پہ اکثر ہم احتجاجاً سڑکوں پہ دھرنے دیتے ٹائر جلاتے یا نعرے لگاتے ہیں۔

ہمارے ہاں بھی شدت پسندی اقلیتوں کے حقوق اور معاملات میں رکاوٹ دکھائی دیتی ہے محض مذہبی اختلاف کی بنیاد پر ان کی عبادت گاہوں کو مسمار کرنا، ان کی خواتین کو ہراساں کرناـ، شادیوں کی خاطر زبردستی مذہب کا تبدیل کراناـ، جائیدادوں پر قبضے کی نیت سے مذہب کی توہین کے الزامات لگانا، یہ سب عام سی بات ہےـ۔

افسوسناک صورتحال کی نوبت اب یہاں تک آن پہنچی ہے کہ اب ہمارا انتخاب بھی علم اور اہلیت کی وجہ سے نہیں بلکہ عقیدوں کی ہم آہنگی پر ہوتا ہے اور شخصیتوں کی قدر کا پیمانہ بھی یہی اپنا لیا ہےـ۔

جبکہ دیکھا جائے تو دوسرے مذہب کے شخص سےعلم حاص کرنا یا اس کی کسی اچھی صلاحیت سے فائدہ اٹھانا کم از کم جہالت کی دلدل میں پھنسنے اور لعنت سے بہتر ہےـ۔

آئین سٹائن یا نیوٹن کو پڑھنا ان کے عقیدوں کو تسلیم کرنا ہرگز نہ ہے بلکہ ان کی تحقیق اور فلسفہ کی دلیل کو پرکھنا ہے جسے رد کرنے کیلئے بھی مضبوط دلیل کی ضرورت ہوگی نہ کہ محض مذہبی اختلاف کی بنا پر ان کی دلیل سے جان نہیں چھڑائی جا سکتی ۔

اسی طرح میاں عاطف کی تقرری ان کی مذہبی حمایت ہرگز نہ تھی میرا اور آپ کا ان سے مذہبی اختلاف اپنی جگہ برقرار تھاـ اور میاں عاطف کی متعلقہ فیلڈ میں اہلیت اور قابلیت کو اس وجہ سے تسلیم نہ کرنا کہ وہ جماعتِ احمدیہ سے تعلق رکھتے ہیں نا معقول وجہ ہے اور فکری پستی کا ثبوت ہےـ۔

البتہ میاں عاطف کی جگہ ان سے زیادہ قابل شخص لے آنے میں ضرور بہتر ہوتاـ۔

جب انتخاب یا اختلاف ـ علم اور قابلیت کی بجائے عقیدوں کی ہم آہنگی کی بنیاد پر ہوں تو اس بات پر کیسی حیرانی کہ ایک مسلم خطے میں ہر ساتویں روز سڑک پہ اسلام اور ایمان کے دفاع کیلئے نکلنا پڑتا ہےـ۔