عاطف توقیر

عمران خان نے سن 2002 میں آمر جرنیل پرویز مشرف کے غیردستوری ریفرنڈم میں ووٹ ڈالتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں امید ہے کہ جنرل مشرف ’کرپٹ‘ سیاست دانوں اور پارٹیوں کو سیاست سے دور رکھیں گے۔

پرویز مشرف کے بہ قول ڈیل یہ تھی کہ انتخابات کرائے جائیں گے اور ان میں عمران خان کو ساتھ ملا کر مطلق العنان حکومت قائم کر لی جائے گی۔ مشرف کے بہ قول اس سلسلے میں تنازعہ وہاں کھڑا ہوا، جب عسکری اطلاعات کی بنا پر فوج نے دیکھا کہ عمران خان کی جماعت کو عوام میں چار یا پانچ نشستوں کے برابر حمایت حاصل ہے اور اسی تناظر میں انہوں نے عمران خان کو یہ سیٹیں دوگنا کر کے ’آٹھ دس‘ دینے کا سوچا، تاہم مشرف کے بہ قوم عمران خان اس مخمصے میں تھے کہ ان کی جماعت کو 90 تا 100 نشستوں پر عوامی حمایت حاصل ہے۔

سیٹوں کی اسی بندر بانٹ اور قوم کے ووٹ کی بجائے اس اشرافیہ کے اپنے فارمولوں کی بنیاد پر ان دونوں افراد کے درمیان تنازعہ پیدا ہوا اور ایک آمر کو وردی میں صدر بنانے کے لیے ریفرنڈم میں ساتھ دینے والے عمران خان نے مشرف سے راستہ الگ کر لیا۔ مشرف کے مطابق ان کے اور عمران خان کے درمیان نہ کوئی نظریاتی مسئلہ حائل تھا اور نہ سیاسی بصیرت پر اختلاف تھا بلکہ واحد اختلاف زیادہ نشستوں کے معاملے پر تھا۔

عمران خان نے اس تناظر میں پرویز مشرف سے علیحدگی اختیار کی۔ قوم کو حقائق تو خیر کیا بتائے جانے تھے، وہ آج تک اس ملک کو پیش آنے والے دیگر سانحات کی طرح کسی بوسیدہ الماری کے آہنی قفل والے درازوں میں ڈال دیے گئے۔ مگر عمران خان نے عوام کے سامنے ایک وردی زدہ شخص کو دستورِ پاکستان کے خلاف صدر قرار دلوانے کے لیے ریفرنڈم میں ووٹ ڈالنے پر معذرت کر لی۔

اس کے بعد عمران خان نے ہر ہر عالمی فورم پر فوجی پالیسیوں پر تنقید کی اور مشرف کی پالیسیوں پر مسلسل بات کرتے رہے۔ ملک میں انتخابات کے ساتھ جو کچھ ہوتا رہا ہے اورخاص طور پر ایک آمر کی سرپرستی میں انتخابات کس انداز کے ہو سکتے ہیں، وہ 2002 کے انتخابات کی صورت میں سب نے دیکھا۔ ان انتخابات میں عمران خان اپنی جماعت کے واحد لیڈر تھے، جو انتخاب جیت پائے اور ٹھپہ پارلیمان میں ایک آمر کو رہنما قرار دینے والے چوہدریوں کی جماعت ق لیگ نے حکومت بنا لی۔ ایک آمر کے اقتدار کو جائز قرار دینے میں اپنی پرانی روایت پر عمل کرتے ہوئے جماعتِ اسلامی اور مولانا فضل الرحمان سمیت ایم ایم اے نے بھی عمران خان والے راستے ہی کا انتخاب کیا اور اسی کی بخشش کے طور پر ’’لبرل پرویز مشرف‘‘ نے ’انتہاپسندوں‘ کو خیبرپختونخوا (جو اس وقت شمال مغربی سرحدی صوبہ تھا) کی حکومت دے دی۔

اگلے انتخابات تک نہ ایم ایم اے بچی تھی، نہ قاف لیگ اور نہ ہی آمر کی محبت میں گرفتار رہنما۔ اس دوران عمران خان کو اپنی جماعت کی تنظیم کا بھی علم ہو چکا تھا اور اپنی حقیقت کا بھی، سو انہوں نے سن 2008 کے انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا۔

اس کے بعد یہ گمان تھا کہ اب شاید تحریک انصاف فطری راستے سے چلتے ہوئے ایک باقاعدہ سیاسی جماعت کے بہ طور کھڑی ہو جائے گی اور کچھ عرصے تک ایسا ہوا بھی، مگر سن 2013 کے انتخابات سے قبل عمران خان نے ایک مرتبہ پھر اپنا راستہ تبدیل کر دیا اور مکمل طور پر جرنیلوں اور جی ایچ کیو کے زیراثر ہو گئے۔

مشرف کی جانب سے چیف جسٹس کی برطرفی پر جس انداز کی مزاحمت ہوئی، میڈیا نے جس انداز سے اپنا کردار ادا کیا، سن 2007 کے ایک اور مارشل لا کو جس طرح معاشرتی سطح پر رد کیا گیا اور جس طرح عوام نے جنرل مشرف کو دھتکار کر اقتدار سے باہر پھینکا، ساتھ ہی سن 2011 میں اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں ہلاکت کی وجہ سے ملکی سطح پر فوج کی جس انداز کی سبکی  ہوئی اس انداز کے واقعات نے وجہ فراہم کی کہ یہ جرنیل ایک مرتبہ پھر اس ملک کے مستقبل کو مفلوج بنائیں اور اس ریاست کو جمہوریت سے دور کر کے اقتدار اور اختیار اپنے ہاتھوں میں رکھیں۔ اس کے بعد غور کیا جائے تو ہر وہ عنصر جس نے اس وقت مشرف کے خلاف اور بعد میں سیاست میں فوجی مداخلت کے خلاف اپنا کردار ادا کیا، جی ایچ کیو کا ہدف بنا۔

میڈیا اداروں کو دھونس، لالچ اور اشتہارات کے ذریعے مرعوب کیا گیا۔ صحافیوں کو آئی ایس آئی کی جانب سے لفافے دے کر خریدا گیا، عدالیہ کے اعلیٰ ججوں کو ایک مرتبہ پھر ’پی سی او‘ زدہ کیا گیا، سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو پھر سے ان کی کم زوریوں کی فائلیں دکھائی گئیں اور کچھ کی نئی فائلیں تیار کی گئیں اور ایسے میں عمران خان صاحب اس پورے غیرجمہوری اور غیرسیاسی عمل میں ساتھ ساتھ رہے۔

دو ہزار تیرہ کے انتخابات سے قبل لاہور جلسہ ہو یا انتخابی شکست کے بعد دھاندلی کے نعرے کے ساتھ جی ایچ کیو کی ہدایات پر جمہوری حکومت کو کم زور کرنے اور اقتدار پر جرنیلوں کی گرفت مضبوط بنانے کے لیے طویل دھرنا، ہر ہر شعبے میں عمران خان اور ان کی جماعت ایک مرتبہ پھر جمہوریت، دستور اور اقدار کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس ملک کے مستقبل سے کھیلتی نظر آئی۔

مسلم لیگ نواز کی اپنی تاریخ ایسی ہی ہے اور چوں کہ وہ ٹھیک ایسے ہی راستے سے ہو کر یہاں تک پہنچی ہے اور میاں نواز شریف چوں کہ خود ماضی میں انہیں جرنیلوں کی ہدایات پر ملک میں جمہوریت اور دستور کو نقصان پہنچانے والوں میں شامل رہے ہیں، اسی لیے ان کی فائلیں پہلے سے تیار تھیں۔ تاہم اس دوران کسی حد تک چوں کہ مسلم لیگ نواز ایک باقاعدہ سیاسی جماعت بنتی جا رہی تھی اور نواز شریف کو یہ گمان ہونے لگا تھا کہ شاید حالیہ واقعات کے تناظر میں اقتدار پر فوجی جرنیلوں کی گرفت کچھ ڈھیلی پڑی ہے، اب وزیراعظم کسی حد تک اختیارات کا حامل ہو سکتا ہے، ایسے میں عمران خان کے دھرنے نے جنرل راحیل شریف کے ذریعے اس ڈھیلی گرفت پر ایک مرتبہ پھر فوجی کنٹرول قائم کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔

اس تمام امر کا اندازہ اس بات سے لگا لیجیے کہ اس دھرنے کے بعد ملک کے ہر ہر علاقے میں اچانک ہی ’نامعلوم افراد‘ نے ایسے بینرز اور بورڈز آوایزاں کر دیے، جن میں ایک طرف بانی پاکستان محمد علی جناح، دوسری جانب علامہ اقبال اور درمیان میں راحیل شریف کی تصاویر آویزاں نظر آئیں۔

اس کا پھل عمران خان کو جرنیلوں کی جانب سے یہ دیا گیا کہ ان کی ایما پر عدلیہ کا استعمال کرتے ہوئے ایک طرف تو ملکی وزیراعظم کو پاناما پیپرز (جن میں نواز شریف کا نام نہیں تھا بلکہ ان کے بچوں کی آف شور کمپنیوں کا ذکر تھا) کی بنیاد پر مقدمہ شروع کروایا گیا اور چند ہی ماہ کے اندر اندر تیز رفتاری کے ساتھ جے آئی ٹی بھی تشکیل پا گئی، اس جے آئی ٹی نے رپورٹ بھی پیش کر دی، کرپشن کے مقدمات ابھی چل رہے ہیں، تاہم اقامہ کی بنیاد پر اقتدار سے نواز شریف کو باہر بھی کر دیا گیا، ان کی پارٹی صدارت بھی ختم کر دی گئی، بلوچستان میں نواز لیگ کی حکومت گرا دی گئی اور سینیٹ میں نواز لیگ کے مقابلے میں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے تعاون سے سنجرانی کو چیرمین بھی بنوا دیا گیا۔

میڈیا پر ایک زبردست مہم کے ذریعے ایک طرح سے یہ ثابت بھی کر دیا گیا کہ نواز شریف کو کرپشن ثابت ہونے پر اقتدار سے ہٹایا گیا ہے، حالاں کہ نہایت سیدھا سادھا سا سوال ہے کہ ابھی تو مقدمات چل رہے ہیں؟ اور کیا اقامہ معاملے پر کسی وزیراعظم کو اس طرح برطرف کیا جا سکتا ہے؟ اور اگر آپریشن کرپشن ہی کے خلاف ہوتا، تو پاکستانی معاشرے میں یہ آپریشن ہر جماعت اور ہر سیکٹر کے خلاف ہوتا نظر آتا۔ مگر ہوا یہ کہ زرداری بھی ہر مقدمے سے باعزت بری ہو گئے اور عمران خان کو بھی عدلیہ نے صادق اور امین قرار دے دیا۔

ایسے میں ہر کرپٹ شخص، جسے نے اس غیردستوری عمل کے خلاف سر اٹھانے کی بجائے، بوٹوں پر سر رکھ دیا، اسے کھینچ کر پی ٹی آئی میں شامل کروا دیا گیا۔

اس کی تازہ مثال سوات کے اس کرنل حیدر کی ہے، جسے بلوچستان میں اربوں روپے کی کرپشن پر میڈیا پر رپورٹیں چل جانے اور اندرونی انکوائری میں کرپشن ثابت بھی یو جانے کے بعد راحیل شریف کے دور میں چند دیگر افسروں کے ساتھ فوج سے نکالا گیا تھا، تاکہ عوام کو یہ بتایا جا سکے کہ فوج میں کرپشن کے انسداد کا نظام موجود ہے اور فعال ہے۔ (یاد رکھیے اس کرنل سمیت کسی افسر کو کرپشن کی کوئی سزا نہیں دی گئی، نہ سرکاری مراعات واپس لی گئیں اور نہ ہی پینشن رکی) وہ کرنل بھی گزشتہ روز اپنے اہل و عیال کے ساتھ پی ٹی آئی میں شامل ہو گیا۔ یہ کرنل مئی کے مہینے میں سوات میں پی ٹی ایم کے جلسے سے قبل ایک طرف تو منظور پشتین اور ان کی تحریک کے خلاف بینرز آوازاں کرنے والی عسکری مہم میں پیش پیش تھا اور دوسرا اسی کرپٹ کرنل نے پی ٹی ایم کے جلسے سے قبل پاکستان تحفظ موومنٹ کے نعرے کے ساتھ اپنا ایک جلسہ بھی منعقد کیا تھا۔ مراد سعید صاحب کے ساتھ اس کرپٹ شخص کی تصاویر اور مراد سعید کا اظہار تشکر اور کرنل حیدر کے ساتھ ’نیا پاکستان بنانے کا عزم‘ اس بات کا ایک واضح ثبوت ہے۔

عمران خان صاحب اور ان کی جماعت نے اپنے اقدامات سے پاکستانی تاریخ کا وہ سنہرا موقع پاکستانی قوم کے ہاتھوں سے نکلوا دیا، جس کے تحت اگر سیاسی جماعتیں اور رہنما عسکری اشرافیہ کے سامنے کھڑے ہو کر ایک بار واضح انداز میں طے کر سکتے تھے کہ اب فوج کی سیاست میں مداخلت کے دروازے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند کیے جا رہے ہیں، تاہم عمران خان نے وہی کچھ کیا، جو فوجی جرنیلوں نے مجیب الرحمان کے مقابلے میں بھٹو سے اور بے نظیر کے مقابلے میں نواز شریف سے کروایا تھا۔

اس وقت حالت یہ ہے کہ فوج کے تمام تر سوشل میڈیا صفحات ہوں یا اس کا سائبر ونگ وہ دن رات عمران خان کے لیے مہم بازی میں مصروف ہے اور دوسری جانب عمران خان کی جماعت کا تمام تر سوشل میڈیا ونگ دن رات یہ ثابت کرنے میں مصروف ہے کہ سیاست میں فوج کی مداخلت کتنی ضروری ہے۔

مقامی میڈیا اور صحافیوں کی بڑی تعداد اس دوران اپنے ماضی کی پوری مزاحمتی تاریخ اور جدوجہد بھلا کر لفافہ لے چکی ہے اور اب چند ایک صحافی ہی باقی بچیں ہیں، جو پوری سچائی سے اپنی بات کر رہے ہیں۔ ان صحافیوں میں سے چند ایک کی تصاویر چند روز قبل فوج کے ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی ایک پریس کانفرنس میں دکھا کر واضح بھی کر دیا تھا کہ اس وقت انہیں کس سے خطرات لاحق ہیں۔ یہ تصاویر کم از کم ہمارے لیے یوں اہم تھیں کہ معلوم ہو جائے، کون کون اپنا کام سچائی سے انجام دے رہا ہے اور لفافہ نہیں پکڑ رہا۔