مہناز اختر

ان دنوں ہر جگہ ہرفورم پر الیکشن سے متعلق بحث و مباحثہ جاری ہے. مجھے ذاتی طور پر اب اس بحث سے اکتاہٹ ہونے لگی ہے۔ میرا پاکستان کی سیاست میں بس اتنا ہی عمل دخل ہے کہ میں زیادہ سے زیادہ متبادل کے لیئے کوئی مضمون لکھوں یا الیکشن والے دن اپنی سوجھ بوجھ کے مطابق نسبتاً بہتر امیدوار کو ووٹ دے دوں۔ میں نے 26 جولائی کا عمران خان کا خطابِ فتح اور 27 جولائی کا شہباز شریف کا خطابِ شکست جس میں تخت لاہور کے سابق وزیراعلیٰ سیاسی مولویوں کے درمیان گھرے اپنی بے چارگی کا اظہار فرما رہے تھے بڑی توجہ کے ساتھ سنا اور دیکھا۔ شہباز شریف کی پسپائی فاتح ہونے کے باوجود چہرے سے عیاں تھی اور مولانا فضل الرحمٰن اینڈ کمپنی کی ڈھٹائی شکست خوردگی کے باوجود صاف دکھائی دے رہی تھی۔

اسی دوران میں اور علم فلکیات سے محبت کرنے والے میرے ساتھی مختلف سوشل میڈیا فورمز پر 27 جولائی کو ہونے والے سرخ چاند گرہن اور سرخ سیارہ مریخ کے ملن کے حوالے سے معلومات کا تبادلہ کرنے میں مصروف تھے۔ اس کے علاوہ تفریح کے طور پر علم النجوم کی روشنی میں اس اہم فلکیاتی واقعہ کےحوالے سے عالمی جریدوں میں شائع ہونے والے مضامین پر ہلکی پھلکی گفتگو بھی جاری تھی کہ سرخ چاند اور سرخ سیارے کا یہ ملن آیا دنیا کے لیے سعد ہوگا یا نحس۔ اسلام اسکے بارے میں کیا کہتا ہے یا مسلمانوں کی سائنس سے دوری کی وجوہات کیا ہیں اور دنیا بھر میں چاند گرہن کے حوالے سے کیا کیا توہمات اور عقائد پائے جاتے ہیں؟

اسی سیاسی اور سماوی منتشرالخیالی کے دوران خیالات کی سوئی بار بار اکتوبر 2015 پر پہنچ کر اٹک رہی تھی جب میں نے جامعہ کراچی سے اسلامک اسٹدیز میں ایم اے کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ میری اس خواہش کی سب سے زیادہ مخالفت میری والدہ نے کی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان دنوں فیکلٹی آف اسلامک اسٹڈیز کا نام ڈاکٹر شکیل اوج کے قتل، شدت پسند تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد کی گرفتاری اور تحقیقی سرقے کے حوالے سے بار بار سامنے آرہا تھا۔ بہرحال کورس کا پہلا سال یعنی سال 2016 اچھے برے تاثرات اور تجربات کے ساتھ گزر گیا اور تعلیمی اداروں میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی اور فکری جمود کی وجوہات بھی سمجھ میں آنے لگیں۔

سال 2017 میں غالباً فروری کے مہینے میں ڈاکٹر محمد اجمل کی جامعہ میں بحیثیت وائس چانسلر تقرری ہوئی۔ اس کے چند ہفتوں بعد ہی فیکلٹی آف اسلامک اسٹڈیز نے جامعہ میں ایک انتہائی اہم انٹرنیشنل اسلامک کانفرنس کا انعقاد کرایا اور وائس چانسلر کو بھی مدعو کیا۔ کانفرنس میں دوران خطاب ڈاکٹر اجمل کی کہی گئی دو باتوں کا ذکر یہاں ضروری ہے۔ ایک تو انہوں نے کہا، “میں اس طرح کی اسلامی کانفرنس میں شرکت سے اس خوف سے اجتناب برتتا ہوں کہ خدا نخواستہ کوئی ایسی بات منہ سے نہ نکل جائے جو توہین کے زمرے میں آتی ہو اور مجھے اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے”۔ اور دوسری بات جو انہوں نے کہی وہ یہ تھی، “ہمارا تعلیمی نظام اس لیے زوال پذیر ہے کہ ہم نے طالبعلموں کے سوچنے اور سوال کرنے پر پابندی لگائی ہوئی ہے۔ علمی ماحول علمی گفتگو اور مباحثوں سے پرورش پاتا ہے جو ہمارے یہاں ناپید ہے”۔ ان کے اس خطاب سے مجھے کچھ امید ملی کیونکہ مدارس تو دور خود جامعہ کراچی میں بھی شعبعہ چاہے اسلامیات کا ہو یا سماجی علوم کا ہر جگہ علمی موضوعات پر کھل کر بات کرنے پر پابندی عائد ہے۔

خیر تقرری کے کچھ ہفتوں بعد وائس چانسلر نے مختلف کلیات کے دورے کا آغاز کیا تو میری فیکلٹی کی باری بھی آئی۔ فیکلٹی کے چھوٹے سے خستہ حال باغیچے کی صفائی کرائی گئی جو پچھلے سال سے یوں ہی بے یارومددگار پڑا تھا۔ باغیچے کے عین وسط میں ایک جگہ منتخب کی گئی اور پودے کے لیے گڑھا کھودا گیا حالانکہ یہ جگہ درخت کے لیئے انتہائی نامناسب تھی۔ تھوڑی دیر بعد جامعہ کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد اجمل فیکلٹی کے ڈین ڈاکٹر محمد احمد قادری کے ساتھ وہاں تشریف لائے اور فیکلٹی آف اسلامک اسٹڈیز کے اسٹاف اور طلبہ و طالبات کی موجودگی میں تلاوت قرآن کے بعد ڈاکٹر اجمل نے اس گڑھے میں یادگار کے طور پر ایک چھوٹا سا نیم کا پودا لگایا اور سب نے مل کر جامعہ اور پاکستان کی ترقی کے لیئے دعائیں کیں۔ بتاتی چلوں کہ فیکلٹی آف اسلامک اسٹڈیز کے تمام اساتذہ “عالم دین” ہیں اور اکثر تو میڈیا کی مشہور دینی شخصیات ہونے کا اعزاز بھی رکھتے ہیں۔

تیسرے دن سے ہی وہ تن تنہا نیم کا پودا مرجھانے لگا اور اگلے ہفتے اسے وہاں سے اکھاڑ کر زمین برابر کردی گئی کیونکہ آنے جانے والوں کو گڑھے کی وجہ سے پریشانی ہورہی تھی۔ نیم کے پودے کی موت والے دن مجھے میرے کئی سوالوں کے جوابات مل گئے۔ میری فیکلٹی میں “اسلام اور سائنس” کا مضمون علمی بدیانتی کے ساتھ ساتھ انتہائی معتصبانہ طریقے سے بھی پڑھایا جاتا ہے۔ اسی طرح مدارس میں بھی طلبہ کو سائنس سے دور رکھا جاتا ہے۔ صرف اس لیے کہ سائنس سوال سکھاتی ہے اگر یہ طلباء وطالبات سوال کرنا سیکھ جائیں گے تو وہ اپنے اساتذہ کے رویوں اور ان کے علم پر سوال اٹھائیں گے۔ اس دن ایک اور مسئلے کا خلاصہ بھی ہوگیا کہ فیکلٹی آف اسلامک اسٹڈیز کے ڈین ڈاکٹر احمد قادری فیکلٹی آف سوشل سائنس کے بھی ڈین ہیں جسمیں اکیس انتہائی اہم شعبہ جات ہیں اور ہر جگہ نئی سوچ اور سوال پر ایسے ہی پابندی عا ئد ہے جیسے کے فیکلٹی آف اسلامک اسٹڈیز میں۔

ڈاکٹر مورس بوکائیے نے اپنی کتاب The Bible, The Quran and Science میں بڑی اچھی بات کہی ہے کہ “مترجم اور مفسر قرآن کو سائنس کا علم ہونا نہایت ضروری ہے۔ ان علوم کو جانے بغیر کوئی بھی مترجم ان آیات کے ساتھ انصاف نہیں کرسکتا جن میں مظاہر فطرت کا بیان موجود ہے”۔ قرآن میں جابجا فطرت اور مظاہر فلکیات سے متعلق آیات موجود ہیں تو میرے خیال سے تو ہر مدرسے کو ایک چھوٹی موٹی سائنس گاہ بھی ہونا چاہیے جہاں astronomy, geology اور meteorology سے متعلق آیات کی تشریح جدید سائنس کی روشنی میں کی جانے کیونکہ جن ادوار میں قرآن کی شہرہ آفاق تفاسیر لکھی گئیں اور تراجم کیئے گئے اس وقت کی سائنسی معلومات آج کے مقابلے میں صفر کے برابر تھی . آج کم از کم پاکستان میں کوئی ایسا دارالعلوم یا مدرسہ موجود نہیں اور کسی جامعہ کی کوئی فیکلٹی آف اسلامک اسٹڈیز ایسی نہیں جہاں کوئی چھوٹی موٹی آبزرویٹری قائم ہو یا کم از کم ایک دوربین نصب ہو جہاں سے علم دین حاصل کرنے والوں کو کم از کم اتنی astronomy اور سائنس سمجھائی جاسکے جتنی قرآن میں موجود ہے۔

27 جولائی کی پریس کانفرنس میں شہباز شریف کو نام نہاد سیاسی مولویوں کے درمیان گھرا دیکھ کر مجھے ڈاکٹر اجمل کا اپنے فیکلٹی کا پہلا دورہ اور اس موقع پر نیم کے درخت کے اطراف کھڑے ہوکر دعا کرنے والا منظر یاد آگیا اور میں نے سوچا کے جب میری فیکلٹی کے اساتذہ جو جامعہ سے لاکھوں روپے تنخواہ و مراعات کی مد میں وصول کرتے ہیں ایک چھوٹی سی فیکلٹی کو دنیا کے لیئے علم و فن کا نمونہ نہیں بنا سکتے تو یہ سیاسی مولوی پاکستان کو کیا خاک سنبھال پائیں گے۔

ضیاء الحق کو بھی محمد علی جناح کا بنایا ہوا پاکستان کچھ خاص پسند نہ تھا اس لیے اس نے مولویوں کے ساتھ مل کر ایک نئے پاکستان کا تجربہ کیا۔ وہی مولوی مجھے اس دن شہباز شریف کے پیچھے کھڑے نظر آئے اس لیے میں خود سے ایک سوال کیا کہ اگر تمھیں عمران خان کے نئے پاکستان اور مولویوں کے پرانے پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے تو تم کونسے پاکستان کی طرف قدم بڑھاؤ گی؟ میں نے ایک لمحہ کے لیئے اپنی آنکھیں بند کیں تو مجھے نیم کے پودے کا انجام یاد آگیا اور میں فوراً عمران خان کے نئے پاکستان کا انتخاب کرلیا۔