عاطف توقیر

(یہ تحریر کئی برس پرانی ہے۔ اس تحریر کو دوبارہ پڑھیے اور دیکھیے کہ آیا حالات اسی طرف جا رہے ہیں یا نہیں)

گاؤں میں گرمی کا موسم آنے کے انتظار کی واحد وجہ آموں کی آمد ہوا کرتی تھی۔ سطح مرتفع پوٹھوہار میں واقع ہمارا گاؤں جہاں پینے کے پانی کا ایک گھڑا گھر سے کنوئیں اور پھر گھر واپسی تک کوئی چار کلومیٹر کا پڑتا تھا۔ ماں سر پر دو اور بغل میں ایک گھڑا تھام کر یہ فاصلہ کچھ کم کرنے کی کوشش کرتی، تو ایک قدم ایک جست جیسا لگتا، فاصلہ جوں کا توں ہی رہتا۔ ہماری پیاس ختم ہوئی نہ ماں کی یہ یاترائیں۔ گرمی بڑھتی تو پانی کا صرفہ اور ماں کے یہ دائرہ وار چکر اور بھی بڑھ جاتے۔ دھوپ جسم پر کھرونچے ڈالتی رہتی، جلد کا رنگ پک پک کر جھلسی لکڑی میں بدلتا رہتا مگر آم آتے تو یہ ساری کتھائیں ایک طرف ہو جاتیں۔ دادی ایک بڑی پرات میں جسے وہ ترامی کہا کرتیں، برف میں آم لگا چھوڑتیں اور گرمی میں وہ برف پانی ہونے میں ذرا دیر نہ لگاتی۔ مجھے اس ترامی میں بس پگھلتے اولے دکھائی دیتے یا وہ پکے ہوئے میٹھے آم۔

میں نے آم کی ایک گٹھلی گھر کے آنگن میں ایک طرف دفن کر دی اور آموں کے پیڑ کا انتظار کرنے لگا۔ میں نے یہ بھی کئی بار سوچا کہ اب تک کسی کو آموں کا پیڑ لگانے کی کیوں نا سوجھی؟ اس کم عمری میں میرے لیے یہ سمجھنا شاید مشکل تھا کہ پوٹھوہار کا خطہ آموں کی سرزمین نہیں، یا کم از کم ہمارا گاؤں تو ہرگز نہیں، جہاں پانی زمین میں سو گز تک نہیں ملتا۔ نلکے کا بازو کتنی دیر تک ہلاتے رہنے (مقامی زبان میں اسے نلکا گیڑنا کہا جاتا تھا)کے بعد کہیں دوسرے بازو سے پانی کی چند بوندیں برآمد ہوتی تھیں اور وہ پانی بھی پینے لائق نہ ہوتا۔ ماں کو جانا پھر بھی کنوئیں ہی پڑتا۔ کہیں کوئی پودا نکل بھی آئے، تو اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہوتا کہ وہ پھل دار درخت بھی بن جائے گا۔ رہا نہ گیا تو میں پوچھ بیٹھا، دادی یہاں کسی نے کبھی آم کیوں نہیں اگایا؟

دادی میرے سوال پر مسکرائیں، مگر حسبِ عادت براہ راست جواب دینے کی بجائے ایک قصہ سنانے لگیں۔ دادی کی بتائی ہوئی باتیں تو یاد نہ رہیں، مگر برسوں بعد بھی وہ قصے حرف بہ حرف اور کردار بہ کردار یاد ہیں، جو انہیں نے بڑی آسانی سے سنائے تھے۔

کہنے لگیں، بہت دن پہلے کی بات ہے کہ ہمارے گاؤں میں ایک خاتون رہتی تھی۔ اس کا شوہر دبئی میں کام کیا کرتا تھا اور دو چار ماہ ہی میں کچھ عرصے کے لیے گھر لوٹتا۔ ایک بار وہ گھر لوٹا، تو اس نے دیکھا کہ گھر کے آنگن کے بیچ و بیچ اس کی بیوی نے اینٹیں لگا کر ایک پودے کو سخت دھوپ سے بچانے کے لیے ایک منارہ بنا رکھا ہے۔ اس کے پوچھنے پر بیوی نے بتایا کہ یہ آم کا پودا ہے۔ وہ آدمی کہنے لگا کہ ہمارے گاؤں میں آم کیسے۔ وہ کہنے لگیں، آپ تو میری کوئی بات مانتے ہی نہیں۔ یہاں دِلّی سے ایک عورت آئی ہیں، انہوں نے بھی کہا ہے کہ یہ آم کا پیڑ ہے۔ اس آدمی نے اس پودے کو جا کر دیکھا، تو کہنے لگا کہ یہ تو دریک (نیم کی طرز کا ایک عمومی مقامی پودا) ہے اور اس پر تو درکُنوں (نبولی) اُگتے ہیں۔ وہ عورت اپنے میاں سے بحث کرنے لگیں تو شوہر نے خاموشی ہی میں عافیت جانی۔ کچھ عرصے وہ اپنے گھر رہا اور پھر دبئی چلا گیا۔ جب پھر کچھ ماہ بعد وہ گاؤں لوٹا تو وہ پودا بڑا ہو چکا تھا اور وہ دریک تھا۔

ایک بار دادی نے ایک اور قصہ سنایا تھا، کہنے لگیں کہ جب انگریزکی حکومت تھی، تو ایک علاقے میں بڑے ڈاکے پڑتے تھے۔ گورا صاحب ڈی ایس پی تھا، اس نے اپنے ماتحت تھانے کو پیغام بھیجا کہ وہ فلاں تاریخ کو علاقے میں آئے گا اور اس سے پہلے تمام ڈاکوؤں کو پکڑ لیا جائے۔ پولیس نے چھاپے مارے ڈاکو تو خیر نہ پکڑے گئے مگر ڈاکوؤں کی ایک گھوڑی پکڑ لائے۔ گورا صاحب ڈی ایس پی تھانے پہنچا، تو پولیس والوں نے اسے وہ گھوڑی دکھا کر داد لے لی۔ گورا صاحب ڈی ایس پی نے سوچا کہ ڈاکوؤں کی اس گھوڑی پر بیٹھ کر علاقے کا چکر لگانا چاہیے تاکہ لوگوں کو اپنی طاقت دکھائی جا سکے اور ان پر چھایا ڈاکوؤں کا خوف کچھ کم ہو۔ وہ اس گھوڑی پر بیٹھا سواری کرنے لگے۔ ڈاکوؤں کی گھوڑی کی تربیت کچھ یوں ہوتی ہے کہ وہ غیرمانوس مقامات پر تو اپنے سوار کی ایما پر چلتی ہے، مگر جوں ہی وہ فرار کے مخصوص راستے پر پہنچے اپنے ٹھکانے کی جانب سرپٹ دوڑ پڑتی ہے۔ گورے صاحب کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ وہ جوں ہی گاؤں سے ذرا باہر کے راستے پر پہنچا گھوڑی بے قابو ہو کر جنگل کی طرف دوڑنے لگی۔ جنگل میں ڈاکو چھپے ہوئے تھے، انہوں نے ایک پولیس والے کو گھوڑی پر اپنی طرف آتے دیکھا تو گولی مار دی۔

عمران خان جب سیاست میں آئے تو میرے بہت سے ساتھی پورے جوش و خروش سے انہیں ’آم کا پیڑ‘ قرار دیا کرتے تھے۔ میں اس وقت بھی کہا کرتا تھا کہ آم کے پیڑ کے لیے ویسا ماحول درکار ہوتا ہے۔ دستیاب ماحول میں عمران خان بھی صرف دریک ہیں اور ان پر آم نہیں اُگ سکتے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ بات واضح ہوتی جاتی ہے۔ جمہوریت کی بنیاد عوامی شعور پر ہے، جو مضبوط تعلیمی ڈھانچے سے برآمد ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں حالت یہ ہے کہ ایم اے کیا ہوا شخص بھی ایک ہاتھ میں ڈگری اور دوسرے ہاتھ میں سوال اور دلیل سے عاری جذباتی جہالت کا ڈنڈا بردار وکیل دکھائی دیتا ہے، آم کیسے اُگیں؟

پاکستان کا نظام ڈاکوؤں کی گھوڑی کی طرح ہے، جس پر کوئی بھی بیٹھے وہ ڈاکوؤں کے اُسی جنگل کی طرح جا نکلتا ہے، جہاں اس سے پہلے دیگر ڈاکو پہنچ چکے۔ عمران خان کی اپنی نیت صاف ہو، تب بھی، وہ جس گھوڑی پر بیٹھے ہیں، وہ انہیں اسی جنگل کی طرف لے گئی ہے، جہاں اس سے پہلے آمریت اور جمہوریت ہر طرح کے لیڈر پہنچ چکے ہیں۔ ان کے ساتھ موجود مجمع اس اجتماع سے ہرگز مختلف نہیں، جو اس سے قبل دیگر ’گورا صاحب ڈی ایس پی‘ حضرات کے ساتھ دیکھا جا چکا۔

سیاسی جماعتوں کو اب ملکی جمہوری نظام اور ڈھانچے کی مضبوطی کے لیے کام کرنا چاہیے اور ’غیرجمہوری‘ یا ’وردی پوش‘ طاقت کی بجائے، عوام کو طاقت کا سرچشمہ بنانے کی کوشش کرنا چاہیے۔ عوام طاقت کا سرچشمہ صرف اسی وقت بن سکتے ہیں، جب قومی قیادت صرف ایک نکاتی ایجنڈے پر کام کرے اور وہ ہے، ملکی تعلیمی نظام میں نمایاں تبدیلیاں، جو بچوں کو ڈنڈا بردار بنانے کی بجائے سوال بردار بنائے۔ کسی بھی دوسرے شعبے سے زیادہ پیسہ انسانی ترقی کے شعبے میں خرچ کیا جانا چاہیے۔ بم، ، میزائل، پل اور سڑک سے پہلے قوم بنانے کا کام کریں۔ میٹرو اور ریلوے کی تعمیر سے پہلے قوم کی تعمیر پر توجہ مرکوز کیجیے۔ پاکستان سات لاکھ ستانوے ہزار ستانوے مربع کلومیٹر زمین کا نہیں، اٹھارہ کروڑ عوام کا نام ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here