وقاص احمد

(گزشتہ سے پیوستہ)
تو خواتین و حضرات! معاملہ یہ ہے کہ آپ نے ان “اعتراضات و مسائل” کو تو دیکھ ہی لیا جو کہ پچھلی حکومت یا پچھلے وزیراعظم پر اٹھائے جاتے رہے، اب اپنے ملک کے اصل مسائل پر آتے ہیں۔ میں اس موضوع پر ایک تفصیلی کالم پہلے لکھ چکا ہوں کہ ہمارا بنیادی مسئلہ ہے کیا؟ سو ان باتوں کو دوبارہ دہرانے کی ضرورت نہیں۔ ہم صرف ٹو دا پوائنٹ بات کر لیتے ہیں۔

پاکستان اپنی پیدائش سے لیکر 80 کی دہائی سے پہلے ایک مستحکم، معاشی طور پر خوشحال، معتدل، روشن خیال، ترقی پسند اور تیزی سے ترقی کی منزلیں طے کرتا ہوا ملک تھا۔ پھر 80 کے دہائی کے بعد کیا تبدیلی آئی۔ اگر اس سوال کا جواب ڈھونڈیں تو سوائے ایک جواب کے اور کچھ سامنے نہیں آتا۔ ہم نے ایک جنگ “اپنے اوپر مسلط” کی. ہم نے اس جنگ کو آگ اور ایندھن دیا، ہم نے اسکو کفر و اسلام کی جنگ بنایا اور ہماری پرلے درجے کی نالائقی اور نااہلی نے پڑوسی ملک میں “کفار کے امداد” پر لڑی جانی والی “کفار کے خلاف جنگ” کو اپنے ملک تک پھیلا لیا۔ ہم نے مڈل ایسٹ کا انتہا پسند کچرا پیسے لیکر اٹھایا، ان کو اپنے ملک میں بٹھایا، کھلایا، پلایا، تحفظ دیا، ٹریننگ دی اور پھر ان کو اس جنگ میں جھونک دیا۔ اور یہ سب کرتے ہوئے ہم یہ بھول گئے کہ ساتھ والے گھر میں لگائی جانے والی آگ اپنے گھر تک لازماً پہنچتی ہے۔ (یہاں “ہم” سے مراد ہر گز کوئی نالائق، کرپٹ، غدار، جاہل اور کافر سیاستدان نہیں)۔ پاکستان اسلامی جمہوریہ سے سکیورٹی سٹیٹ میں تبدیل ہوگیا اور ایک معتدل معاشرہ انتہا پسند جنونیوں میں۔ اس جنگ نے پاکستان میں وقتی طور پر ڈالروں کی ریل پیل کر دی، یار لوگ ایسی مصنوعی ریل پیل کو “خوشحالی” کا نام بھی دیتے ہیں۔

میں اس فکر کا بھرپور ادراک رکھتا ہوں کہ ہر دور کی ایک مختلف ضرورت، ایک فہم اور ایک اپروچ ہوتی ہے جو کہ اس دور کے حساب سے شاید درست ہو مگر زمانہ حال میں ان کو غلط تصور کیا جاتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ 80 کی دہائی میں کئے گئے فیصلے چاہے غلط ہوں مگر نیک نیتی سے اشد ضرورت کے تحت کیے گئے ہوں اور آج اس زمانہ حال میں بیٹھ کر جب ہم ان کو غلط کہتے ہیں تو اس دور کے معروضی حالات، مجبوریوں اور ضرورتوں کو سمجھ نہیں پاتے مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم ماضی کی غلطیوں کے اسیر ہی رہیں؟ کیا ہمیں کسی نے روکا ہے کہ ہم ان غلطیوں کا تدارک نا کرسکیں؟ کیا ہمیں کوئی ممانعت ہے کہ ہم اس دور کے غلط کو غلط کہہ کر درست کی سمت قدم نا اٹھا سکیں؟ محترمین، بات یہ ہے کہ میں یہ ماننے کو تو تیار ہو سکتا ہوں کہ ضیاء دور میں کی گئی ہماری فاش غلطیاں کسی لالچ کے اثر یا اقتدار کی ہوس میں نہیں بلکہ خلوص نیت سے پاکستان کے استحکام کے لئے کی گئی تھیں (غلطی کسی سے بھی ہو سکتی ہے)۔ مگر میں یہ کسی بھی صورت ماننے کو تیار نہیں کہ مشرف کی طرح ماضی کی ثابت شدہ غلطیوں پر ہمارا ڈھٹائی کے ساتھ اڑے رہنا بھی “خلوص نیت” کے باعث ہے۔ یہ واضع طور پر مقتدر قوتوں کی پاکستان میں اپنی اثر انگیز موجودگی اور دہشت کی اس فضا میں سے ڈالر اور روپے کشید کرنے کی ننگی کوشش ہے۔

خدا کا نام ہے، ہاتھ جوڑ کر کہتا ہوں لال ٹوپی والے جاہل کی طرح جہادی جیکٹ پہن کر بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑانے سے پہلے اپنے ملک پر رحم کھا لیں۔ آپ کے گھوڑوں کا چارہ بھرتے بھرتے میری نسلیں بھوکی، ننگی، غیر تعلیم یافتہ، بیمار، بے روزگار اور بے سائباں رہ گئیں۔ آپ کی سٹریٹیجک ڈیپتھ کا نظریہ بے شک “دشمنوں” کو گہرائی میں جا کر ان کے دانت کھٹے کرتا ہو گا لیکن پیچھے اپنے ملک کے ان معصوم شہریوں، ان بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کا بھی خیال کیجئے جن کے درمیان گھس کر “دشمن کا خودکش بمبار” آکر پھٹتا ہے اور ان کے چیتھڑے اڑاتا ہے۔ آپ کا مجاہدین کی مدد سے کشمیر فتح کرنے کا خواب پورا ہو نا ہو مگر آپ کا “دشمن انڈیا” جب جوابی کاروائی میں اپنے “مجاہدین” بنام کلبھوشن اور کشمیر سنگھ وغیرہ بھیجتا ہے تو خون آپ ہی کے ہم وطن شہریوں کا بہتا ہے۔

واہگہ بارڈر پر صبح آپ اور آپ کے ہم منصب دشمن ٹانگیں آسمان تک اٹھا اٹھا کر پٹخ کر اپنے اپنے عوام کا لہو گرماتے ہیں اور شام کو جب آپ اکٹھے بیٹھ کا چائے سموسے کھاتے پیتے ہیں اور قہقہے لگاتے ہیں تو سوچ لیا کریں کتنی نفرت، کتنی آگ آپ ان دونوں قوموں میں انڈیل چکے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے آپ جب جب اقتدار میں آئے آپ اس ملک میں امریکی مفادات کے ضامن بنے۔ امریکہ کا سیٹو سینٹو ہو، امریکہ کی سرد جنگ ہو، امریکہ کا افغان جہاد ہو یا چاہے امریکہ کا افغان جہاد کے خلاف جہاد ہو، ہر جگہ صف اول میں آپ ہی کھڑے نظر آتے ہیں۔ کبھی تو اس بیچاری قوم کے مفادات کے لیے بھی آپ نظر آئیں۔ جنگیں آپ کھیلتے ہیں، ڈالر آپ کو ملتے ہیں، بزنس ایمپائرز آپ کی کھڑی ہوتی ہیں، اسلحے خانے آپ کے بھرتے ہیں اور ہمیں ملے بھوک ننگ افلاس موت؟؟

خیر بات کہیں سے کہیں نکل گئی۔ خاں صاحب مجھے تو آپ سے ہی بات کرنا تھی۔ جناب! مختصر درخواست یہی ہے کہ آپ کی منشاء پوری ہوگئی، آپ اس کرسی پر بیٹھ چکے ہیں جس کے لیے آپ کے مطابق آپ نے 22 سال جدوجہد کی۔ آپ کا دعویٰ تھا کہ سول سپرمیسی اس لیے ممکن نہیں کیونکہ باقی لوگ ووٹ کی طاقت پر نہیں پیسے اور بوٹ کی طاقت پر آتے ہیں اس لیے جرنیلوں کے آگے آنکھ نہیں اٹھا سکتے۔ آپ کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ آپ دوسروں کے برعکس عوامی طاقت کے بل بوتے پر اس کرسی پر براجمان ہوئے ہیں۔۔۔۔ مان لیا۔۔۔۔سب مان لیا۔ تو میرے پیارے وزیراعظم، اب اس جن کو بوتل میں بند کرو، اب میری سپرمیسی کی حفاظت کرو، اب میرے مفادات کی بھی بات کرو۔ بہت بن گئے ان کے کارخانے اب میری چھوٹی سے کھڈی بھی چلا دو، بہت بن گئے ان کے ڈالر اب میرا روپیہ بھی بننے دو، بہت کھیل لی ہم نے جنگ اب مجھے امن میں بھی کھیلنے دو، بہت جانچ لی دوسرے ملکوں کی “تزویراتی گہرائی” اب مجھے اپنے ملک کے طول عرض بھی چھاننے دو۔ مجھے نا دشت کو فتح کرنا ہے نا ہی دریا کو، مجھے بحیرہ ظلمات میں گھوڑے دوڑانے کا بھی شوق نہیں۔ مجھے صرف اتنی گارنٹی دو کہ میری اپنی سرزمین کو میرے اپنے دوبارہ فتح نہیں کریں گے۔

مجھے پہلے بلوچستان چاہئے، سندھ چاہیے، کے پی کے چاہیے، پنجاب چاہیے، گلگت بلتستان چاہیے اگر اس کے بعد جب مجھ میں سکت ہوئی تو کشمیر بھی لے لوں گا۔ مگر میں کشمیر کے لالچ میں اپنا پنجاب، سندھ کے پی، بلوچستان قربان نہیں کرنا چاہتا۔ مجھے مت بتاؤ کہ تم کتنے ملازمین رکھو گے اور کتنی گاڑیاں کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا، مجھے یہ بتاؤ کہ تم نے گولہ بارود کے کتنے انبار کے پیسے کو صحت، تعلیم اور روزگار کے لیے مختص کیا ہے۔ میرا ملک میرے قائد نے بنایا تھا کسی جرنیل نے نہیں اور میرے قائد کا بیان تھا کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات امریکہ اور کینیڈا جیسے ہوں گے، میرے قائد کا واشگاف اعلان تھا کہ پالیسی ساز “ہم” ہیں اور اس پالیسی پر عملدرآمد “تمہاری” ذمہ داری۔ تم مجھے میرے قائد والا پاکستان لوٹا دو۔ اور اگر ان باتوں پر میں تمہیں غدار اور ملک دشمن لگتا ہوں تو منافقت چھوڑو, حوصلہ پکڑو۔ قائد اعظم کو غدار ڈکلیئر کرو، اس کی تصویر نوٹ پر سے نوچ ڈالو، پھر اس پر تم اپنا ایوب چھاپو یا یحییٰ، ضیاء چھاپو یا مشرف یا ہر نئے آنے والے “بڑے صاحب” کی تصویر. یقین مانو یہ بھی تمہارا احسان ہو گا اس کنفیوژ قوم پر۔ کسی ایک سائیڈ پر تو لگے۔

صرف ایک ہی کام کرنا ہے تمہیں۔ فیصلہ سازی کی طاقت اپنے پاس رکھو، پالیسیاں جیسی بھی ہوں تم بناؤ۔ ہم نے “تجربہ کاروں” کی پالیسیوں کے وجہ سے آدھا ملک گنوایا مجھے بقیہ ملک نہیں گنوانا۔
اگر تم یہ کر سکتے ہو تو میں تمہارے ساتھ ہوں. اگر تم اس ملک کے تمام اداروں کو ان کے اصل کام تک محدود کر سکتے ہو تو میں تمہارے ساتھ ہوں۔ کیونکہ تعمیر و ترقی اور سادگی و بچت کے کام تم سے پہلے والے تم سے بہت بہتر کر گئے، تم چاہ کر بھی اس کا مقابلہ نہیں کر پاؤ گے۔ اور اگر تم یہ نہیں کر سکتے تو یاد رکھنا کہ پاکستان کے ڈیڑھ درجن سے زائد وزرائے اعظم میں ابھی تک صرف تین نام ہیں جو لوگوں کے حافظے میں محفوظ اور دلوں میں زندہ ہیں، ذولفقار علی بھٹو، بے نظیر اور نوازشریف باقی کئی جمالی آئے اور کئی گیلانی گئے۔ فیصلہ تم نے کرنا ہے، کرکٹ کی طرح سیاست کی تاریخ میں امر ہونا ہے یا ان سینکڑوں کپتانوں کی طرح ریٹائر ہونا ہے جو بہترین پرفارمینس کے باوجود کبھی ورلڈ کپ جیت نا پائے۔