وقاص احمد

مثال کے طور پر آپ اپنا گھر بنوا رہے ہیں۔ آپ نے ایک ٹھیکیدار سے کنٹرکٹ کیا، وہ ٹھیکیدار 20-25 مزدور لے کر کام پر جت گیا۔ زیر تعمیر مکان کے پاس سے گزرتے کچھ پڑوسیوں نے کہا کہ ٹھیکدار اچھا کام کر رہا ہے اور چند نے کہا کہ کام تسلی بخش نہیں۔ آپ ابھی گومگو کہ کیفیت میں تھے کہ ایک دن ایک اور ٹھیکیدار آپ کے گھر آ دھمکا اور شور ڈالنے لگا کہ یہ ٹھیکدار تو آپ کو لوٹ کر کھا گیا، اس کے مزدور تو انتہائی اناڑی، نالائق اور سست و کاہل ہیں۔ آپ گھبرا گئے، بجائے اس کے کہ آپ کام کی نگرانی خود کرتے اور اپنا دماغ استعمال کرتے ہوئے اپنی رائے بناتے، آپ نے چند لوگوں کی باتوں اور اس نئے ٹھیکیدار کی چکنی چپڑی باتوں میں آکر پرانا ٹھیکدار نکال دیا اور نیا رکھ لیا۔ پرانا ٹھیکیدار آپ کو سمجھاتا رہا کہ آپ کی بالکل برابر والی گلی میں اس نئے ٹھیکدار نے ایک گھر بنایا ہے، آپ اس کا معائنہ تو کریں تاکہ آپ کو اس کے بارے کچھ جانکاری ہو۔ ساتھ میں پرانے ٹھیکدار نے اپنے پرانے کلائنٹس اور منصوبوں کی لسٹ آپ کے حوالے کی کہ میرا پرانا کام بھی چیک کریں۔ مگر آپ نے اسے نکال دیا۔

اب اگر، نیا ٹھیکدار، آپ کے زیر تعمیر مکان کو گرا کر، اسی کی پرانی اینٹوں سے، پرانے نقشے پر، اسی لاگت پر اور پرانے ٹھیکدار کے ہی مزدوروں کی مدد سے آپ کا گھر دوبارہ تعمیر کرنے لگے تو سوال یہ ہوگا کہ آپ کو فائدہ کیا ملا؟
1- میٹیریل تبدیل ہوا؟
2- ڈیزائن بہتر ہوا؟
2- مزدور تبدیل ہوئے؟
3- لاگت تبدیل ہوئی؟
4- یا پھر ایک ٹھیکیدار کی جگہ چکنی چپڑی باتیں کرنے والا دوسرا ٹھیکیدار آگیا؟؟
سوال یہ بھی ہے کہ آپ نے کیا کچھ گنوایا
1- آپ کے وقت کا ضیاع ہوا۔
2- پرانی کنسٹرکشن کے پیسے ڈوب گئے
3- جو مکان آپ کو ایک سال میں تیار حالت میں ملنا تھا وہ اب ڈیڑھ پونے دو سال میں ملے گا۔

ان تمام سوالوں کے جواب ڈھونڈیے اور مجھے سمجھائیں کہ اس ڈیل میں آپ کو فائدہ کیا ہوا؟ چلیں چھوڑیں اس مثال کو جو ہماری ملکی سیاست سے بہت ملتی جلتی ہے۔ مجھ سے بار بار سوال کیا جاتا ہے کہ میں پی ٹی آئی کا مخالف کیوں ہوں۔

اور میرا جواب یہ ہوتا ہے کہ میں پی ٹی آئی کا مخالف بالکل نہیں ہوں۔ میں صرف اس بے کار مشق کا مخالف ہوں جس کی مدد بیچ کام کے ایک ٹھیکیدار کی جگہ دوسرا ٹھیکیدار آ جائے یا زبردستی لایا جائے اور اس میں میرا کوئی فائدہ نا ہو۔ میں کوشش کروں گا کہ پچھلے 10 سال میں، میں نے جو وجوہات بھی انصافیوں کے منہ سے سنیں ہیں ان کا احاطہ کر سکوں تاکہ ہم یہ فیصلہ کر سکیں کہ کیا ہمیں واقعی کوئی فائدہ ہوا یا وقت کا ضیاع ہی ہوا۔ وجوہات زیادہ ہیں اس لیے یہ کالم قسط وار لکھا اور شائع کیا جائے گا۔

1- “معیشت تباہ ہوگئی”
یہ وہ ٹیپ کا جملہ ہے جو ہم کم و بیش پچھلی 6 دہائیوں سے سن رہے ہیں۔ عجیب معیشت ہے جو تباہ ہو کر بھی چل رہی ہے۔ شہزاد رائے کے ایک گانے کے مصداق یہ ملک تو اپنے جنم دن سے ہی “تاریخ کے ایک نازک موڑ” پر کھڑا ہے۔ خیر آئیں اس کا تجزیہ کر لیں۔ نوازشریف اقتدار میں پہلی مرتبہ نومبر 90 سے لیکر جولائی 93 تک ڈھائی پونے تین سال کے لیے آیا۔ ٹرم مکمل نہیں ہوئی، اور بی بی کی حکومت نے منصوبے چلنے نہیں دیے۔ پھر یہ اقتدار میں آئے فروری 97 سے اکتوبر 99 تک دوبارہ ڈھائی سال کے لیے۔ چھوڑے ہوئے منصوبے پھر شروع ہوئے، کام پھر شروع ہوا اور ٹرم پھر بھی پوری نا ہوسکی۔ کل ملا کر 5 سال کے قریب یہ عرصہ جس میں زیادہ تر عرصہ سازشوں سے لڑنے میں گزرا پھر بھی بہت کچھ ڈیلیور کر گئے کہ ٹوٹے پھوٹے دور اقتدار اور چلتی سازشوں میں اتنا ہی ممکن تھا۔ اس کے بعد 99 سے لیکر 2013 تک ن لیگ پالیسی ساز اقتدار سے باہر رہی۔ کیا اس کا الزام بھی ن لیگ کو دے دیں؟ 2013 سے شروع ہونے والے دور میں دھرنوں لاک ڈاؤنز، ہڑتالوں، جلاؤ، گھیراؤ، آگ لگاؤ کے سیاست کے باوجود پاکستان کے معاشی اشاریے مثبت سے مثبت ترین رہے (یہ تجزیہ نہیں، عالمی مالیاتی اداروں کے اعدادوشمار بتاتے ہیں). تو پھر معیشت کی ایسی کون سی تباہی ہے جس کا مدعا آپ ن لیگ پر ہر صورت ڈالنا چاہتے ہیں؟ ڈالر کے مقابلے میں روپیہ مستحکم ہوا، ریٹنگ بڑھی، معاشی اشاریے درست ہوئے، ٹیکس بیس بڑھا، صنعتیں چلنا شروع ہوئیں، انرجی کے شعبے میں کمال ہوگیا، ایکسپورٹس بہتر ہوئیں، غیر ملکی سرمایہ کاری آئی، سٹاک مارکیٹ اپنی انتہاؤں کو چھونے لگی۔۔۔یہ سب کل کی باتیں ہیں اور ابھی یاداشت تازہ ہے۔

2- “ہر پاکستانی 125,000 کا مقروض کر دیا”۔
یہ ڈائیلاگ انصافیوں سے شروع ہوا تو زیادہ تکلیف نہیں پہنچی مگر جب ملک کے منصف اعلیٰ کے منہ سے یہی بات سنی تو سر پیٹ لینے کا دل کیا۔ آئیے کچھ حقائق جانتے ہیں۔
– قرض آپ تب لیتے ہیں جب آپ کی آمدنی اور اخراجات میں فرق ہو۔ ملک کی آمدنی ٹیکس سے منسلک ہے اور ہم بحیثیت اس ملک کے شہری کتنا ٹیکس دیتے ہیں یہ شرمناک ہے
– دنیا کے ترقی یافتہ ترین ملک بھی قرض لیتے ہیں کیونکہ موجودہ سرمایہ دارانہ سسٹم میں یہ ممکن ہی نہیں کہ آپ اپنے کاروبار یا اپنی اکانومی کو اس کے بغیر ایک بڑا boost دے سکیں.
– یہ سارا قرض ایک حکومت نے نہیں لیا۔
– پاکستان کے قرضوں کا ایک بڑا حصہ پچھلے قرضوں کی ادائیگی میں بھی جاتا ہے۔
– پاکستان کے قوانین میں قرضوں اور مجموعی قومی پیداوار کے تناسب کی ایک حد موجود ہے جہاں تک حکومتیں قرضہ لے سکتی ہیں، مطلب یہ قوانین بنانے والوں کو بھی ادراک تھا کہ یہ وقت کی ضرورت ہے اور فی الوقت پاکستان اس حد کے اندر ہے۔

– قرض سے زیادہ اہم یہ ہے کہ یہ خرچ کہاں اور کیسے ہوا۔ اور اس بات کا احتساب لازماً ہونا چاہیے اور یہ احتساب اس کام سے متعلقہ اداروں کو کرنا ہے نا کہ سوشل میڈیا پیجز کے ایڈمنز اور نیم خواندہ اینکر پرسنز نے۔
– یہ جاننا بھی اشد ضروری ہے کہ 100 روپے کی دیہاڑی لگانے والے گل خان کی رائفل اور گولیوں پر اخراجات کتنے چل رہے ہیں، قبل اس کے کہ ہم اس کو اس درجن بھر بچوں کی تعلیم و صحت پر مناسب رقم خرچ نا کرنے کا طعنہ دیں۔
– قرضہ کس ریٹ اور کن شرائط پر لیا گیا یہ قرض دینے والے کی صوابدید ہوتی ہے نا کہ لینے والے کی۔ یقین نا آئے تو کل کسی مقامی بنک میں جا کر اپنے سالگرہ دھوم دھڑکے سے منانے کے لیے اپنی شرائط پر 30000 روپیہ ہی لیکر دکھا دیں۔ اور اگر ناکام ہو جائیں تو پھر ان نیم خواندہ جغادری اینکر پرسن، صحافیوں اور دانشوروں پر تین حرف بھیجیں جو آپ کو مہنگے قرض اور سستے قرض کی الف لیلوی داستانیں سناتے ہیں۔

– حکومت کی ترجیحات کیا ہیں یہ خالصتاً ایک منتخب حکومت کی صوابدید ہے۔ یہ صوابدید اس حکومت کو ووٹ کی طاقت سے ملتی ہے۔ اگر کسی دوسری پارٹی کے پاس بہتر پلان موجود ہے تو سو بسم اللہ لیکن کسی بھی صورت کوئی چیپ جسٹس، کوئی سوشل میڈیا ایڈمن اور کوئی نیم خواندہ اینکر اس پر “حتمی رائے” دینے کا مجاز نہیں۔

– نہیں۔۔۔بالکل نہیں۔ غیر ملکی قرضہ یا امداد لاوارث ریڑھی پر پڑی گنڈیریاں نہیں ہوتیں کہ جس کا دل چاہے جیب میں ڈال لے یا چوستا پھرے۔ یہ غلط العام اہل انصاف میں برسوں کی محنت کے بعد بٹھایا گیا ہے کہ فلاں قرض یا فلاں ایڈ فلاں فلاں بندے کے اکاؤنٹ میں پہنچی اور پھر غائب ہوگئی۔ یہی غلط فہمی کئی پڑھے لکھے لوگوں کو فارن کرنسی اکاؤنٹس کے بارے میں بھی ہے کہ 99 میں وہ پیسہ سیدھا نواز شریف کی جیب میں چلا گیا۔ خیر اب تو سٹیٹ بنک بھی بتا چکا ہے کہ وہ اکاؤنٹ اور پیسے ہمیشہ سے اسی کے کنٹرول میں تھے اور ہیں۔

“ایکسپورٹس کم اور امپورٹ بڑھ گئیں”

اچھا یہ بہت فنکارانہ جملہ ہے جس سے اچھا بھلا پڑھا لکھا شخص بھی گڑبڑا جائے۔ (یہاں پڑھے لکھے سے مراد وہ حضرات ہیں جن کا مطالعہ فیس بک کے صفحات تک محدود ہیں)۔ حقیقت کیا ہے؟ پاکستان کی بنیادی ایکسپورٹس ٹیکسٹائل کے شعبے سے وابستہ ہیں اور 2013 سے پہلے بجلی کے شدید ترین بحران اور گیس کی قلت سے یہ انڈسٹری تقریباً دم توڑ گئی تھی۔ میں آپ کو انگلیوں پر ہی کئی ایسی بڑی ٹیکسٹائل ملز گنوا سکتا ہوں جنہوں نے اپنا کاروبار بنگلہ دیش منتقل کر دیا۔ 2013 کے بعد بجلی کی بتدریج بہتر فراہمی اور پھر انڈسٹری کے لیے گیس لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے بعد ٹیکسٹائل ملز دیگر انڈسٹری کی طرح دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑی ہوئیں اور ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ اسی دوران بجلی کے بڑے بڑے منصوبے لگانے کے باعث غیر ملکی مشینری کی درآمد میں اضافہ ہوا جو کہ ایک مستقل اضافہ نہیں بلکہ وقتی اضافہ تھا۔ اب یہیں ان فنکاروں کی اعداد و شمار کی منافقانہ فنکاری سامنے آتی ہے۔ مثال دیکر سمجھاتا ہوں۔ مثال کے طور پر پہلے اگر ہم ایک روپے کی برآمدات اور ڈیڑھ روپے کی درآمدات کر رہے تھے تو پچھلے پانچ سال میں میں وہ 2 روپے کی برآمدات اور 4 روپے کی درآمدات ہوگئیں (یہ صرف مثال ہے)۔ اب واضع طور پر برآمدات میں اضافہ نظر ارہا ہے مگر اوپر بتائی گئی وجوہات کی بنیاد پر درآمدات کا ایک وقتی لوڈ بھی موجود ہے۔ لیکن فنکار آپ کو برآمدات بڑھنے کا نہیں بتائیں گے جو ترقی کا اشاریہ ہے، مگر وہ آپ کو درآمدات و برآمدات کا بگڑا ہوا تناسب دکھائیں گے جو کہ دراصل مشینری اور ٹیکنالوجی کی خرید کا ایک وقتی ابھار تھا۔
(جاری ہے۔۔۔)