حمزہ سلیم

سرسبزمیدان کے چاروں اطراف درخت ہی درخت تھے۔زمین پھولوں کی کیاریوں سے سجی ہوئی تھی ،درختوں سے پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ جب آسمان پر اڑتے ،تو فضا کی فطرت کی حسین موسیقی سے چہک اٹھتی،سرسبزمیدان میں بہت سی جگہوں پر لکڑی کے بینچ نصب تھے، خوبصورت وجدید جھونپڑیاں بھی اس میدان کی خوبصورتی کو چارچاند لگائے ہوئے تھی۔میدان کے اندر سے باہر کی دنیا بھی خوبصورت نظر آرہی تھی۔سامنے دوسرے گراونڈ میں لال ،پیلی شرٹس زیب تن کئے نوجوان لڑکے فٹبال کے کھیل میں مدحوش تھے ۔دائیں طرف جھیل تھی ،جس میں کشتیاں ٹہلتی نظر آرہی تھی، ان کشتیوں میں بیٹھے خوبصورت لڑکے اور لڑکیوں کی مسکراہٹیں میرے کانوں میں سر بکھیررہی تھی، دور ایک مصنوعی پہاڑ تھا،جس کی چوٹی پر نصب اکلوتے بنچ پرنوجوان جوڑا محبت بھری راز و نیازکی باتیں کررہا تھا ۔میدان کے اندر خوبصورت خاتون اور مرد کی بیباکی معاشرے کی تنگ نظری کو چیلنج کررہی تھی۔ مرد کا سر خاتوں کی گود میں تھا، وہ بالوں میں انگلیاں پھیر رہی تھی، ایک نوجوان لڑکا گرانڈ کے سبزے پر آسمان کی طرف منہ کئے ہوئے فضاٗ میں رقص کرتے پرندوں کی طرف نظریں جمائے ہوئے تھا۔ اس کے کانوں میں ہینڈ فری تھا ،شاید وہ اس وقت کوئی نغمہ سن رہا تھا۔ بائیں طرف کالجز کی لڑکیاں اور لڑکے گروپ اسٹڈی کرتے نظر آئے ۔ لڑکے اور لڑکیوں سے کچھ دور گرانڈ کے باہر ٹریک تھا جہاں پر بہت سے لوگ واک کررہے تھے۔میں اس حسین منظر کی دلکشی کو انجوائے کررہا تھا۔

اسی دوران وہ بولی،اس خوبصورت زمین کی عورت کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ میں نے کہا، اگر کوئی انسان عورت کی عزت نہیں کرسکتا، تو پھر وہ کسی کی بھی عزت نہیں کرسکتا۔ وجہ صاف ہے، عورت سے ہی کائنات کی خوبصورتی ہے، ان کی وجہ سے ہی ہم انسان اس دنیا میں آتے ہیں۔ عورت محبت ہے، زندگی ہے، اسی عورت کی وجہ سے دنیا میں دلکشی ہے۔ اس زمین پر زندگی بہت تکیلف دہ بن چکی ہے، عورت ہی ہے، جو اس تکلیف کی شدت کو ختم کرتی ہے اور انسانوں کو خوش رکھتی ہے۔ معلوم نہیں یہ عورت کتنی صدیوں سے محبت کرتی چلی جارہی ہے۔

اس نے کہا، کیا تم ابھی تک عورت کو سمجھ سکے ہو؟ میں نے کہا کہ عورت کو سمجھنا ہے تو اس سے سچا پیار کیا جائے۔ ۔یہ عورت کو سمجھنے کا بہترین اور منفرد، دلفریب اورخوبصورت انداز ہے۔ مردوں، عورتوں، پرندوں، پھولوں، درختوں، جانوروں کو سمجھنا سائنس کا کام ہے۔ انسانوں کو صرف محبت کرنے کا فطری انداز آنا چاہیے میں کوئی سائنسدان نہیں ہوں۔ اس نے کہا ہمارے معاشرے میں محبت کا فقدان کیوں ہے؟ میں نے کہا، انسان اب اس دنیا میں صرف مشاہدہ کار بن کر رہ گئے ہیں، یہ محبت نہیں کرتے، یہ پروفیشنل بن گئے ہیں، اس لئے انسانیت تکلیف میں ہے۔ انسان اب محبت کو صرف ٹی وی ڈراموں اور فلموں میں دیکھتا ہے، لیکن محبت کرنے کے آرٹ سے بے خبر ہے۔ محبت کو دیکھنا اور محبت کرنا دو مختلف چیزیں ہیں۔ ہم انسان محبت فلموں میں دیکھ کر خوش ہوجاتے ہیں ،محبت کرتے نہیں ۔یہی بہت بڑی ٹریجیڈی ہے۔اور جن کو ہم محبت کرتے ہوئے فلموں اور ڈراموں میں دیکھتے ہیں ،وہ بھی پروفیشنل اداکار ہیں ،وہ بھی محبت کرتے نہیں ،صرف محبت کی اداکاری کرتے ہیں ۔وہ بھی دھوکے باز ہیں ،وہ جو دیکھاتے ہیں وہ بھی حقیقت نہیں ۔

ان کا رونا ،مسکرانا ،ان کا غصہ ،ان کا پیار بھی فراڈ ہے ۔یہ ہم نے تباہی والی کیسی دنیا پیدا کی ہے۔جہاں صرف مشاہدہ ہی زندگی ہے ۔جو محبت کررہے ہیں وہ اداکار ہیں ۔اور باقی انسان بھی محبت نہیں کررہے ،صرف محبت کو اسکرینوں پر دیکھ رہے ہیں ۔ہم یہاں زندگی کو انجوائے کرنے آئے ہیں ،صرف زندگی گزارنے نہیں آئے ۔لیکن بدقسمتی سے زندگی کو گزارنا ہی ہمارا اولین مقصد بن چکا ہے ۔بیچاری موت بھی انسانوں سے آخر کیا لے جاتی ہے ،سوائے ٹی وی ڈرامے ،فلمیں اور نیوز شو ۔۔کبھی موت انجوائے کرتے انسان کو ساتھ لیکر نہیں گئی ۔ٹی وی ڈراموں ،بریکنگ نیوز،فلموں اور پروفیشنلزم کے سوا اب انسانوں کے پاس رہ ہی کیا گیا ہے ۔یہ انسانوں کی ایگو ہے جس نے زندگی کے سارے نظام کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے ۔انسانوں کواب اس لائف اسٹائل کو بدلنا چاہیئے ۔انسانوں کو اب حقیقی ،سچا اور ایماندار ہونا ہوگا ۔اس کے بعد میں اور وہ اس گراؤنڈ کے منظر سے باہر نکل گئے ۔یہ آج سے 4سال پہلے کا ایک حقیقی واقعہ ہے ۔جب میں اور وہ  کالج  سے فر ہی ہوتے تھے اور اسطرح پارکوں ،گرانڈوں اور درباروں پر چلے جایا کرتے تھے ۔آجکل وہ آسٹریلیا میں ہے اور اپنی زندگی خوشی سے گزار رہی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here