بشریٰ  اقبال ملک

دکھ کا سِمبل، غم کی علامت ایک مشرقی خاتون جو شرم، پردہ،  غیرت، عزت اور بےعزتی کی سب صلیبیں اٹھائے اپنے اپنے پابند معاشروں میں باخوشی  دھرم،  بھرم  اور حرم کے نام پہ قربان ہو رہی ہے اور ایک مشروط زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔  

 یہ معاشرہ چاہے مسلم کا پاکستانی ہے یا ہندو کا ہندوستانی، کوئی بدھ مت  یا افریقہ کا، کوئی مذہبی ہے یا کوئی لامذہب معاشرہ،  تمام ہی میں  زیادہ ترخواتین صرف روٹی کپڑا اور مکان کے لیے اپنی ذہانت اور شخصیت کا سرعام  مول لگاوا رہی ہیں، وہ  اپنی خوشی، شوق اور آزادی کو دریا بُرد کر کے ستی ساوتری اور ’نیک عورت کا تمغہ‘ حاصل کرنے کے لیے کسی مرد رشتےدار کی مرہون منت  رہتی ہیں جہاں باعزت زندگی گزارنے کی گارنٹی کسی مرد کی آشیرباد سے وابستہ ہے۔

 اس کی وجہ معاشرتی سے زیادہ معاشی ہے۔ بہ ظاہر اس کی وجہ  مذہبی احکامات بتائے جاتے ہیں، جن کےمطابق صنفِ نازک  بھی مال اور جائیداد  کی طرح  سے ہے، جن کی کفالت اور حفاظت  مرد کی ذمہ داری ہے۔ یعنی عورت مرد کے برابر انسان نہیں ہے اس سے کم تر ہے۔

کمانے یا کفالت  کا یہ رواج ان معاشروں کا ہے، جہاں عورت نے مرد کو اپنے لیے شکار لانے اور کاشت کاری کے لیے پالنا شروع کیا تھا۔ وہاں کچھ خواتین ایسی بھی رہی ہوں گی، جو خود اپنا کام کرتی ہوں گی، جو ان دوسری خواتین کی سُستی اور تن آسانی کو چیلنج کرتی ہوں گی۔ جس طرح  آج کل کے معاشروں اگر کوئی عورت ہیں، جو کہتی ہے کہ وہ اپنی روٹی کپڑے اور مکان کا بندوبسے اپنے زورِ بازو سے کریں گی، بس اس کے بدلے میں مجھے میرے شوق، ہنسی، خوشی انا، خود داری اور خود اختیاری دے دو،  تو ایسا مطالبہ کرنے والی خاتون اپنی ہی ہم صنف کے عتاب کا شکار ہو جاتی ہے۔

سزا دینے والا بے شک مرد ہی ہوتا مگر مرد کو غیرت کے انجکشن لگانے والی اس مرد کی ماں اور بہن ہی ہوتی ہے جو کہتی ہیں، ’’بھائی بےغیرت ہوگیا ہے‘‘ یا ’’بیٹا تو نامرد ہے کیا‘‘ یا ’’کیسے باپ ہو‘‘۔

یہ ہیں وہ جملے جو مرد کو انسانیت سے الگ کوئی مریخی مخلوق بنا دیتے ہیں۔ مرد کے جذبات احساسات اور خوشیاں سب چھین کر اس کے ہاتھ میں غصے، رعب، غیرت اور عزت کا ڈنڈا پکڑا دیتے ہیں۔  عورت خود بھی ذمہ دار ہے، جو کسی مرد سے اس کا انسان ہونے کا فطری حق چھین لیتی ہے۔ مرد جو ہنسنا خوش ہونا چاہتا ہے، اسے اپنے خاندان کی عورت کا چوکیدار سپاہی اور دیکھ بھال کرنے والا روبوٹ بنا دیا جاتا ہے۔

کیا مشرق  کی خاتون مظلوم ہوتی ہے یا بلاوجہ بنتی ہے۔ کیا یہاں مرد ظالم ہے یا اس کو ظالم بننے کی تربیت دی جاتی ہے۔ اگر مرد حضرات کو فطری انداز میں رہنے والا ماحول میسر آجائے، جیسا مغربی اور اشتراکی معاشروں نے میسر کیا، جہاں  ہر مرد وعورت کو خود اپنا روزگار پیدا کرنا ہے، وہاں  ماحول ہی بدل گیا ہے، حالات  کے تقاضے ہی بدل گئے ہیں۔

سیاحت، ادب،  فلم،  میڈیا اور اخبار نے ایک معاشرے کو دوسرے سے متعارف کروا کر ان پابند معاشروں کے باشعوروں کو عورت دشمن قوانین  کے خلاف بولنا سکھا دیا ہے۔ دوسری طرف روایت پسند طبقہ رواج، روایت اور مذاہب کو خطرے  میں ہونے کا اعلان کر رہا ہے، جس میں عورت برابر کی حصہ دار ہے۔

ہر باشعور خاتون  جب تک اپنی تقدیر کو خود اپنے ہاتھ میں نہیں لے گی، تب تک وہ خود کو قانون کی نظر میں مکمل انسان اور شخصیت ثابت نہیں کر پائےگی۔ اس کی حثییت اک شے کی ہی رہے گی، جس کا مالک ایک مرد ہوتا ہے۔

خیبر پختونخوا میں خواتین پر گھریلو تشدد کو روکنے کے لیے قانون حکم ران جماعت اور جماعت اسلامی کی طرف سے تیار تو کر لیا گیا ہے لیکن اسمبلی میں پیش ہونے سے قبل ہی اس پر شدید اعتراضات سامنے آئے ہیں ہیں۔ یہ بل ابھی قانون بننے کے مراحل میں ہے تاہم کئی سالوں کی مسلسل محنت کے بعد جس شکل میں یہ قانونی مسودہ ہمارے سامنے آیا وہ کسی بھی بہن، بیوی، بیٹی کے ساتھ ہونے والے ظلم کی داد رسی کے بجائے ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ ستمبر 2017 خیبر پختونخوا اسمبلی میں پیش کیے جانے والے اس گھریلو تشدد کے  بل  کے نکات  کے آرٹیکل نمبر 22  میں تشدد کے معاملے پر شوہر اور والدین کی طرف سے کیے جانے والے ’اصلاحی اقدامات‘ کے خلاف قدم نہ اُٹھانے کی تاکید کی گئی ہے۔

عورت فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری ہونے والی سالانہ رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا کہ 2016 میں خواتین کے خلاف تشدد کے تقریباً سات ہزار آٹھ سو باون کیسز رجسٹرڈ کیے گئے تھے اور یہ بل انہی شواہد کی بنیاد پر پیش کیا گیا تھا، تاکہ خواتین  کو بھیڑ بکری  سمجھنے والی سوچ کا خاتمہ ہو  اور تادیب یا تدارک ممکن ہو۔ مگر  لگتا ہے نتیجہ، دھاک کے تین پات والا ہی آنے والا ہے

 کیونکہ اس بل میں لڑکی کی بلوغت کی عمر کا تعین 18 سے کم کر کے 15 سال کرنا، اصلاح کی غرض سے والد اور شوہر کو خواتین اہل خانہ کے خلاف ’اقدامات‘ کرنے کی اجازت دینا اور گھریلو تشدد کی تعریف سے نفسیاتی اور معاشی تشدد کو حذف کرنا شامل ہیں۔

 سوچنے کا مقام یہ ہے کہ  یہ بل جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے  والی ایک متحرک خاتون رکن صوبائی اسمبلی راشدہ رفعت نے پیش کیا ہے۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس بل میں انہوں نےجو تجاویز پیش کی ہیں، وہ شریعت کے مطابق ہیں۔ ’’ہم نے شریعت کی حدود کے اندر رہ کر جو بل تیار کیا ہے، وہ احکامات الہٰی کے مطابق ہے۔‘‘

اگر اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے  توتقریباً ہر مذہب میں عورت ذات کو شیطان ہی تصور کیا گیا ہے، ایسی شیطان جو مرد ذات میں جنسی خواہشات پیدا کروانے کی ذمہ دار ہے۔ یہاں تک کہ اس کی آواز بھی کسی مرد میں جنسی شہوت پیدا کر سکتی ہے کہ وہ اس سے مباشرت کرنے کے لیے ہر حد سے گزر سکتا ہے اور گناہ پر مجبور ہوسکتا ہے۔ لہذا عورت کو اکثر مارتے پیٹتے رہنے ہی سے معاشرے سے یہ برائی ختم ہوتی ہے۔ یعنی عورت کو خوف زدہ رکھنا ضروری ہے تا کہ وہ پھول کی چھڑی سے پٹنے پر ہی اتنی خوف زدہ ہوجائےکہ اس کے اندر محبت، لگاوٹ اور جنسی خواہش کبھی نہ جاگے۔ بلکہ اگر کوئی مرد زیادتی کر کے اس کے ساتھ اپنی جنسی خواہش پوری کر بھی لے تو تب بھی اسے خاموشی اختیار کرنا چاہیے۔ اس کا شور باعث شرم ہے، اس کا بولنا احتجاج کرنا، قابل سزا ٹھہرے گا اور اس کے احتجاج  کرنے پر اس کے گھر کے مرد اسے مار پیٹ کرنے کا حق رکھتے ہیں کیونکہ وہ معاشرےمیں شرم وحیا کے ذمہ دار ہیں، اس لیے وہ گھر کی عورت پر تشدد کا حق رکھ سکتے ہیں کہ وہ عورت لڑکی یا بچی  معاشرےمیں بیباکی اور بےحیائی پھیلانے کی قصور وار  ہو رہی ہے۔

اگر ہم پاکستان خاص طور پر خیبر پختونخوا کے دارالامان اور مختلف شیلٹر ہومز کا دورہ کریں اور وہاں پناہ لینے والی خواتین کی بڑی تعداد کا جائزہ لیں تو  پاکستانی معاشرے اور پاکستانی مرد کی غیرت، حیا اور عزت کی کلی کھل جاتی ہے۔ کتنی بیوائیں، بیویاں، بہنیں اور مائیں معاشی مسائل کی وجہ سے گھرانوں میں ظلم  و تشدد کا شکار ہونے کی وجہ سے مجبوراً یہاں پناہ لیے ہوئے ہیں ۔ ان میں سے بیشتر کو قانونی مشکلات کا سامنا ہے، جس کی پہلی وجہ مرد  وکلاء  کی فطرت  کے خلاف کی گئی، تربیت اور دوئم قانون کی بے رحمی ہے۔

خواتین کا خود ہی شریعت کی اپنے ہی خلاف تشریح کرنا یا اس قسم کی تشریحات کو حکمِ الہٰی تسلیم کرلینا کیا ہم کو یہ کہنے پر مجبور نہیں کرتا کہ عورت ری عورت کیا تیری عقل اب 2018میں بھی گھاس چرنے گئی ہوئی ہے، اسے واپس بلا لے ایسا نہ ہو کہ وہی بھائی، بیٹا، باپ یا شوہر جس کو وہ کسی اور عورت کے خلاف استعمال کر رہی ہے، خود اس پر ہی تشدد کرے گا اور وہ قانون اور مرد ذات میں اسی انسانیت کا مطالبہ کرے جو دارلامان اور اصلی جیل خانوں میں اور گھریلو جیل خانوں میں مقید خواتین کر رہی ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here