عورت کو کیا پہننا چاہیے؟

0
421

عاطف توقیر کا متبادل کے لیے وی لاگ

کچھ برس قبل میری ملاقات ایک مصری لڑکی سے ہوئی۔ اس نے جرمنی میں حجاب پہننا ترک کیا تھا۔ میں جاننا چاہتا تھا کہ اس نے سر ڈھانپنے کی اس روایت کو کیوں ترک کیا۔ میرا خیال یہ تھا کہ شاید وہ مصر میں ایک قدامت پسند معاشرے سے نکل آنے کے بعد جرمنی میں شاید شخصی آزادی کا فائدہ اٹھا رہی ہے اور اسی لیے اس نے حجاب کو اتار پھینکا ہو گا، مگر اس سے بات چیت میں معاملہ بالکل الٹا نکلا۔

کہنے لگی کہ میرا تعلق مصر میں ایک نہایت لبرل خاندان سے ہے اور ہمارے گھر کا ماحول کوئی مذہبی نہیں۔ مگر ایک دن میرے والد میرے پاس آئے، کہنے لگے کہ جب تک یونیورسٹی جاتی ہو، تو مجھے فکر ہوتی ہے۔ مصر میں حجاب نہ کرنے والی لڑکیوں پر گلی میں لوگ جملے کستے ہیں۔ ان کے بارے میں عجیب عجیب باتیں کی جاتی ہیں اور کبھی کبھار ان لڑکیوں پر حملے تک ہوتے ہیں۔ والد کی یہ پریشانی درست تھی، اس لیے میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی حجاب لینا شروع کر دیا۔

میں جرمنی میں آئی، تو مجھے کئی مواقع پر امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ خاص طور پر اس وقت جب ایک دن میں اپنی یونیورسٹی کے دوستوں کے ساتھ شاپنگ سینٹر میں گئی، تو ساری لڑکیوں اندر چلی گئیں مگر وہاں محافظ نے حجاب کی وجہ سے مجھے روک کر میری اور میرے پرس کی تلاشی شروع کر دی۔ تو بات یہ ہے کہ حجاب نہ میں نے اپنی مرضی سے کرنا شروع کیا تھا اور نہ اپنی مرضی سے اتارا۔ جب میں نہیں کرنا چاہتی تھی، تو مجھے معاشرے کی وجہ سے حجاب کرنا پڑا اور جب کرنا چاہتی تھی تو مجھے معاشرے کی وجہ سے اتارنا پڑ گیا۔

عاصمہ جہانگیر کے انتقال اور پھر ویلنٹائنز ڈے جیسے مواقع پر ہمارے معاشرے میں پائی جانی والی دراڑیں بہت واضح ہو کر سامنے آ جاتی ہیں۔ اس میں ایک بیانیہ خواتین کی آزادی اور لباس کا بھی تھا۔ ایک خاص طبقہ ہے، جو اپنے نگاہ میں درست لباس تمام خواتین پر نافذ کرنا چاہتے ہے۔ یورپ میں وہ طبقہ خواتین سے برقع چھیننا اور ہمارے معاشرے میں وہ طبقہ ان پر کپڑے پھینک کر اپنے نظریے اور روایات کی تسکین چاہتا ہے۔

ان دونوں طبقوں جو بہ ظاہر ایک دوسرے کے خلاف مگر عملی طور پر ایک دوسرے سے مکمل ہم آہنگ ہیں، کے تمام افعال یہ بتاتے ہیں کہ عورت کوئی چیز ہے، جس کے ساتھ برتاؤ شے کی ملکیت کی طرز کا ہونا چاہیے۔ یورپ میں عمومی بیانیہ ہے کہ مسلمان عورتوں کو برقع ان کے مرد زبردستی پہنا دیتے ہیں۔ یہ بیانیہ کسی حد تک درست بھی ہو گا مگر اس بیانیے میں وہ خواتین جو اپنی مرضی سے برقع یا حجاب کرنا چاہتی ہیں، پس کر رہ جاتی ہیں۔ اسی طرح ہمارے معاشرے میں اگر کوئی خاتون جینز پہن لے یا کوئی اور غیرروایتی لباس پہنے، تو اس پر بھی اسی انداز کے جملے سننے کو ملتے ہیں۔

یہ بدقسمتی ہے کہ انسانی تہذیبی ارتقا کے باوجود آج بھی عورت کو اپنے جیسا انسان سمجھنا ممکن نہیں اور اس سے بھی زیادہ گھناؤنا رویہ یہ طے کر لینا کہ عورت اپنے لباس کا فیصلہ خود نہیں کر سکتی۔

لباس کسی بھی انسان کا انتہائی ذاتی معاملہ ہے، وہ جو درست سمجھے، وہ پہنے۔ انسانوں کا قد اور کردار لباس سے ناپنے کی بجائے، ان کے علمی اور عملی افکار سے طے کیا جا سکتا ہے۔

گھناؤنا عمل یہ ہے کہ ایک معاشرہ جہاں ہماری بچیاں اسکول جاتی ہیں، تو انہیں بے ہودہ جملے سننے کے ملتے ہیں۔ یونیورسٹی جاتی ہیں، تو انہیں گندی نظریں چیر پھاڑ کر رکھ دیتی ہیں۔ بس میں بیٹھتی ہیں، تو نشستوں پر انگلیاں اور ہاتھ اُگ آتے ہیں۔ ایسے معاشرے میں بے ہودہ جملوں، گندی نظروں، شہوت کی ماری انگلیوں اور ہاتھوں کو روکنے کی تدبیر کرنے کی بجائے، عورت پر کپڑوں کے تھان پھینکنے سے کام نہیں چلتا۔

ہم ایک ایسا گھناؤنا معاشرہ بنتے جا رہے ہیں، جہاں ہمارے بچے اور بچیاں اسکولوں اور مدرسوں میں محفوظ نہیں، جہاں ہماری گلیاں اور چوراہے ان قریح جملوں کی بازگشت سے گونجتے رہتے ہیں، جہاں دیواروں پر لکھے اشتہارات ہماری جنسی گھٹن کی کہانی چیخ چیخ کر سناتے ملتے ہیں اور جہاں بوہوس اپنی بدکرداریوں کو جواز دینے کے لیے فلاں ملک میں بھی تو یہی ہوتا ہے کی گردان کر کے ایسی کسی بھی معاملے پر وطن کے تشخص کو نقصان پہنچانے کا نعرہ لگا دیتے ہیں اور ٹھیک ایسے لمحے میں ہماری کسی بہن کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا جاتا ہے، کسی بچی کو کاری کر دیا جاتا ہے، کوئی لڑکی ونی ہو جاتی ہے، کہیں باپ یا بھائی کا قصور اس کے برہنہ جسم پر لکھا جاتا ہے، کہیں جائیداد کے تنازعے پر اس کے بدن چھید دیا جاتا ہے، کہیں قرآن اور درخت سے شادی کر کے اس سے زندہ رہنے کے فطرت حقوق چھین لیے جاتے ہیں۔

تعفن زدہ معاشرے کا بنیادی رویہ یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنے گھناؤنے کرتوتوں پر نگاہ ڈالنے کی بجائے، اپنے جیسے کسی اور بدبودار رویے کا حوالہ اٹھا لاتا ہے۔ یورپ میں کوئی روایت پسند تعفن زدہ ذہن برقع پوش خاتون کے لباس پر تنقید کرتے ہوئے حوالے کے طور پر یہ کہتا سنائی دے گا کہ ان کے ملک میں بھی تو بِکنی نہیں پہننے دی جاتی اور ویسے ہی قریح ذہن کا ہمارے معاشرے کو کوئی انسانیت دشمن کسی جینز پہننے والی عورت یا سرنہ ڈھانپنے والی کسی لڑکی کا تمسخر اڑانے کی دلیل کے طور پر کہے گا کہ فرانس میں بھی تو برقع پر پابندی لگائی گئی ہے، ہم ان کا لباس کیوں پہننے دیں۔

عورتو! تم طاقت ور ہو اور طاقت ور بنو۔ کسی مرد یا معاشرے کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ تمہارے لباس کا فیصلہ کرے۔ ان معاشرتی رویوں کو مسترد کرنا خود تمہارے اپنے ہاتھ میں ہے اور اپنے لیے لباس کا انتخاب صرف اور صرف تمہارا ذاتی معاملہ ہے۔ تم انسان ہو اور تمہیں اپنے شعور سے خود فیصلہ کرنا ہے کہ تمہیں کیا پہننا درست لگتا ہے اور یہی وہ روایت ہے، جو تمہیں اپنی بیٹیوں کو بھی منتقل کرنا ہے اور اپنے بیٹوں کو بھی۔ تمہاری بیٹیوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ لباس کا انتخاب ان کا ذاتی فعل اور حق ہے اور تمہارے بیٹوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ لباس کی بنا پر کسی عورت کی کردار کشی انتہائی گھناؤنا عمل ہے۔

یہ دنیا آپ کی اتنی ہی ہے، جتنی کسی مرد کی اور آپ کی زندگی اور عمل پر صرف اور صرف آپ کو اختیار ہونا چاہیے۔ اپنے حقوق حاصل کرنا ہیں، تو اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑی ہوں۔ مرد آپ کو برابری کبھی تھالی میں رکھ کر نہیں دیں گے۔ آپ کو خود پہلی صف میں کھڑے ہونا ہو گا، جنسی امتیاز کو خود مسترد کرنا ہو گا بالکل ویسے ہیں، جیسے آپ نے عاصمہ جہانگیر کے جنازے میں کر کے دکھایا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here