عاطف توقیر

سابق وزیراعظم نواز شریف پر ملک دشمنی اور غداری تک کے القابات اور منظم میڈیا مہم کے تناظر میں نواز شریف نے کہا کہ اس سلسلے میں ایک قومی کمیشن بنایا جائے، جو واضح کرے کہ اس ملک کا اصل دشمن کون ہے اور کون ہے جو حقیقی معنوں میں ملک اور قوم کے ساتھ غداری کرتا آیا ہے۔

گو کہ غدار ساز فیکٹری سے پاکستان کی تخلیق کے کچھ ہی عرصے بعد اسناد جاری ہونا شروع ہو گئی تھیں، جن سے فاطمہ جناح تک نہ بچ پائیں، مگر حالیہ کچھ دنوں میں غدار ساز فیکٹریوں کی کارکردگی اور سرگرمی میں نمایاں تیزی دیکھنے کو ملکی ہے۔

پشتونوں نے اپنے حقوق کے لیے تحریک شروع کی تو اس فیکٹری نے دستوری اور جمہوری حقوق مانگنے والوں کو “غدار” اور “غیرملکی ایجنٹ” اور ملک دشمن کہنے میں دیر نہ لگائی۔ اس دوران اپنے ہی ملک کے شہریوں کو “افغان”، “افغانی” اور جانے کیا کیا کچھ کہہ دیا گیا۔ پاکستان کی تاریخ کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ لقب اب تک کسی غیر پنجابی ہی کے حصے میں آیا تھا۔ جب غلام مصطفیٰ کھر نے کہا تھا کہ وہ بھارتی ٹینکوں پر بیٹھ کر پاکستان میں داخل ہوں گے، تو بھی عجیب بات یہ ہے کہ اس پنجابی رہنما کو “غدار” کا سرٹیفیکیٹ نہیں دیا گیا تھا۔

مگر اب لگتا یوں ہے کہ معاملہ نہایت سنگین اور سنجیدہ ہو چکا ہے۔ نواز شریف سن 2013 میں وزیراعظم منتخب ہوئے، تو لگتا تھا کہ اپنی سابقہ وزارت عظمیٰ، فوجی بغاوت کے نتیجے میں اقتدار سے محرومی، جلاوطنی، تضحیک، میثاق جمہوریت، بے نظیر بھٹو کے قتل اور دیگر عوام کے تناظر میں وہ ملک میں سویلین سپریمیسی کے لیے کام کریں گے، تاہم ان کا ساڑھے چار سال کا دور اقتدار مکمل طور پر سمجھوتوں کی نذر ہو گیا۔ ان کی جانب سے ہر معاملہ میں کوشش صرف حکومت بچانے پر مرکوز رہی اس دوران اقتدار اور اختیار دونوں ان کے ہاتھوں سے نکل گئے۔

اپنے اقتدار کے نصف کے بعد انہوں نے کسی حد تک کچھ اقتدار ہاتھ میں لینے اور عسکری اسٹیبلشمنٹ سے اختلاف کرنے کی کوشش کی، جس کی واضح مثال “ڈان لیکس” تھا، تو نتیجہ یہ نکلا کہ جرنیلوں نے اس کا مطلب “بغاوت” اور “غداری” لیا۔

ڈان لیکس کا واقعہ کچھ یوں تھا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کئ جانب سے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوششوں کا آغاز ہوا تو پاکستانی حکومت نے بھی دنیا کے مختلف دارالحکومتوں میں اپنے سفیروں کو سرگرم ہونے اور پاکستان کا دفاع کرنے کا کہا گیا۔ اس کے بعد ان سفیروں کا اسلام آباد میں اجلاس ہوا، تو تمام سفیروں نے حکومت کو بتایا کہ عالمی سطح پر قریب تمام ممالک یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستانی ریاست دہشت گرد گروپوں کی بالواسطہ یا بلاواسطہ مدد کرتی ہے اور کوئی بھی ملک پاکستانی موقف سننے کو تیار نہیں ہے۔

اس تناظر میں نیشنل سکیورٹی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا گیا جس میں نواز شریف کی صدارت میں اس اجلاس میں فوجی حکام اور آئی ایس آئی کے اس وقت کے سربراہ کو صورت حال بتائی گئی۔ اس اجلاس میں سویلین عہدیداروں نے زور دیا کہ دہشت گردوں کی ہشت پناہی اب ختم کرنا ہو گی کیوں کہ دوسری صورت میں پاکستان مزید تنہا ہوتا جائے گا۔ اس اجلاس کی کچھ معلومات ڈان اخبار میں شائع ہو گئی، اور وہی ہوا جیسا پاکستان میں ہوتا ہے۔ اس موضوع پر بحث کرنے کہ ریاستی عناصر ان دہشت گرد تنظیموں کی معاونت ختم کریں اور ملک کو پچھلے چالیس برس سے لگی آگ سے باہر نکالیں جو ساٹھ ہزار پاکستانی شہریوں اور اربوں ڈالر کی اقتصادیات کو تباہ کر چکی ہے، گفتگو اس طرف نکل گئی کہ یہ اندر کی خبر باہر کیسے نکلی۔

یہ موقع تھا کہ نواز حکومت سنجیدہ ہوتی اور واضح انداز سے کہتی کہ اب پرانی پالیسیاں تبدیل کرنا ہوں گی اور فوج کو پالیسی سازی سے روکا جائے گا، تاہم یہاں بھی حکومت بچانے کی فکر میں ایک کے بعد ایک وزیر کی قربانی دی جاتی رہی۔

نواز شریف کی حکومت کے خاتمے کو عوامی سطح پر بھرپور قوت سے چلائی جانے والی مہم کے تحت کرپشن سے جوڑا جاتا ہے، حالاں کہ ان کی نااہلی سپریم کورٹ نے آرٹیکل باسٹھ کے تحت اقامہ معاملے میں “جھوٹ” بولنے پر کی اور کرپشن کے مقدمات بدستور ابھی فیصلے سے دور ہیں۔ تاہم حکومت کے خاتمے کی اصل دجوہات دو تھیں، ایک تو یمن میں فوج بھیجنے کے معاملے پر راحیل شریف اور نواز شریف کے درمیان اختلاف۔ جنرل راحیل شریف پاکستانی فوج کو سعودی اتحاد میں شامل کروا کر یمن بھیجنا چاہتے تھے، تاہم نواز شریف حکومت وہ معاملہ پارلیمان میں لے گئی اور پاکستان اس جنگ میں براہ راست شامل نہ ہوا۔ اس معاملے پر تاہم جی ایچ کیو حکومت سے ناراض تھا۔
دوسرا معاملہ ڈان لیکس کی صورت میں نکل آیا، جس میں فوجی قیادت عسکری پسند عناصر کی پشت پناہی جاری رکھنے کی حامی تھی جب کہ حکومتی عہدیداروں نے اس کی مخالفت کی۔

ان دونوں معاملات میں جو شے مشترک ہے وہ ہے کہ سویلین حکومت نے اختیار لینے کی کوشش کی، جو جی ایچ کیو کو قبول نہیں تھا۔

اب معاملہ یہ ہے کہ نواز شریف پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایسے پہلے وزیراعظم بن چکے ہیں، جنہیں براہ راست”غدار” اور “وطن دشمن” قرار دینے کی عوامی مہم جاری ہے۔ اس پر نواز شریف سے عمومی توقع یہی کی جا رہی تھی کہ وہ ماضی میں سمجھوتے کرنے والی سیاست کی طرح پھر سمجھوتہ کریں گے اور خاموش ہو کر ایک طرف ہو جائیں گے، لیکن نتیجہ کچھ اور نکلا۔ شاید یہ پہلا معاملہ تھا کہ نواز شریف نے واضح انداز سے نہ صرف اس مہم کو مسترد کر دیا بلکہ اور زیادہ جارحانہ نکتہ ہائے نگاہ اختیار کر لیا۔

ان کا مطالبہ ہے کہ ایک قومی کمیشن بنایا جائے جو یہ طے کرے کہ اس ملک کا اصل غدار کون ہے۔ اس مطالبے کو فوج اور پی ٹی آئی نے فوراً رد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نواز شریف کسی کمیشن کی بات کیسے مانیں گے، جب وہ عدالت کی بات ماننے کو تیار نہیں۔ حالاں کہ صورت حال اصل میں مختلف ہے۔ نواز شریف بیانات دیتے رہیں مگر عدلیہ نے وزارت عظمیٰ اور پارلیمان کی ممبر شپ چھینی تو وہ اقتدار سے الگ ہو گئے، انہیں پارٹی صدارت کے لیے نااہل کیا، تو انہوں نے اس فیصلے کو بھی تسلیم کیا جب کہ ان پر کرپشن کے مقدمات چلائے گئے تو وہ پیشیوں بھگتے بھی نظر آ رہے ہیں۔ جرنیلوں کا خیال یہی تھا کہ اس دباؤ کے تحت نواز شریف ملک سے فرار ہو جائیں گے تاہم معاملہ الٹ ہو چکا ہے۔

آئندہ چند روز میں نواز شریف مزید سخت بیانات دے سکتے ہیں۔ نواز شریف کا ماضی سمجھوتوں سے پر ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ پھر کوئی سمجھوتہ کر کے اپنے لیے آسانی حاصل کر لیں، مگر لگتا یوں ہی کہ شاید اب معاملہ ماضی کے برعکس ہو۔ اگر نواز شریف سمجھوتہ کر لیتے ہیں یا نہیں کرتے تو دونوں صورتوں میں یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس ملک کا “اصل دشمن” اور عوام کا “غدار” کون ہے۔