ولید بابر ایڈووکیٹ

زندگی کی پندرہ بہاریں ساتھ گزارنے والا اچانک داغ مفارقت دے کر چلا جائے تو آپ پر کیا گزرے گئی؟ چشم فلک ماضی کے دریچوں میں کھو کر خوابوں کی حسین وادیوں میں ڈوب جائے گئی۔سکھ دکھ کے پل اور غمی خوشی کی یادیں کسی بلیک اینڈ وائیٹ فلم کی طرح آنکھوں کے سامنے تیرتی دکھائی دیں گی۔ایک ایک لمحہ آنکھوں کے سامنے گردش کرتا محسوس ہو گا۔ حسرت و ارمان ششدر کر دیں گے۔ہم نے ایک ساتھ کئی منصوبے بنائے تھے۔ایک دوسرے کی موت پر کالم لکھنے اور جنازے پر تقریر جیسے بے ہودہ مذاق کیے تھے۔ اب جب تم الودع ہو گئے ہو ہزاروں میل دور ماتمی نوحوں کے بجائے انقلابی گیتوں کی گن گرج میں دوست تمہیں کارڈ آف آئنر دے کر دھرتی ماں کے سپرد کر رہے ہیں تو دماغ ماؤف ہو چکا ہے۔تمام توانائیاں مجتمع کر کے بھی چند سطور تحریری نہیں ہو پا رہیں ۔ پندرہ سال تھوڑا وقت نہیں۔5475 دن اور 131400 گھنٹوں کا ساتھ ہے۔پندرہ سال کا سفر ہم نے اپنے بہترین دوست،نظریاتی ساتھی’سیاسی راہبر آفتاب احمد کے ساتھ گزارہ۔ پندرہ سال کیسے گزر گئے کبھی احساس ہی نہ ہوا۔دن مہینوں اور پھر سالوں میں کیسے بدل گئے اب محو حیرت ہوں۔اس کی شخصیت ہی ایسی تھی۔وہ وقت کو مقید کر دیتا تھا۔ایک دفعہ مل لینے والا بار بار ملاقات کا مشتاق ہوتا۔زمانہ طالب علمی سے ترقی پسند ‘سیکولر اور متحدہ خودمختار کشمیر کی سیاست شروع کی۔اپنی طلباء تنظیم کا صدر منتخب ہوا اور طلباء سیاست کا محور۔ہزاروں طلباء نظریاتی پیاس بجھانے اس کے پاس آتے کوئی اس کے در سے خالی نہ گیا۔ بیش قیمت کتب خرید کر طلباء کو طوفاً دے دیتا کہ یہی مستقبل کے معمار ہیں۔عملی زندگی میں قدم رکھا تو شعبہ صحافت سے وابستہ ہو گیا۔خودداری’ دیانتداری‘ بہادری ‘بے باکی’سچ کی تلاش اور پیشہ وارنہ مہارت کے باعث خوب نام کمایا۔کاروبار شروع کیا تو دن دگنی رات چگنی ترقی کی۔سیاست میں واپس متحرک ہوا تو آٹھ سالوں میں کشمیر کی پہلی سیکولر’ترقی پسند’ اشتراکی ‘مارکس وادی تنظیم جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کا سکیرٹری جنرل منتخب ہوا۔سیاست اس کی رگ رگ میں شامل تھی۔ اخباری بیانات’تنظیمی دورے’حالات حاضرہ پر تبصرے اور متواتر کالم ایسی انتھک محنت پر اسے ملکہ حاصل تھی۔

زندگی میں جب کوئی پیارا بچھڑ جائے تو بھائی’باپ’بہن ‘ ماں’جیسے مختلف رشتوں کا نام لے کر دکھ کا مداوہ کیا جاتا ہے۔رو کر سکون میسر آ جاتا ہے۔مگر آپ کا نظریاتی ‘دوست’رفیق’راہبر’کامریڈ بچھڑ جائے کس نام کے رشتے کا سہارا ڈھونڈ کر اسے یاد کیا جائے؟کیا بتائیں ہمارا کون جدا ہو گیا؟ کتنے لوگ اس رشتے’تعلق اور ساتھ کو سمجھ پائیں گئے؟ نظریاتی ساتھی کے دکھ کو سمجنھے کے لیے نظریات کی سوجھ بوجھ ضروری ہے۔جب ایک سوچ و فکر کے لوگ کسی راستے کا تعین کرتے ہیں اور اس سوچ و فکر کی دل و جان سے عقیدت انسان کے درمیان ایسا تعلق پروآن چڑھاتی ہے جس کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔انسان جو بات اپنے ساگھے رشتے داروں کو نہ بتا پائے اس کی خبر سجنوں کو ہوتی ہے۔یہ نظریات ہی ہیں جن کہ لیے انسان ایک لمحہ میں جان تک کی قربانی کے لیے آمادہ ہو جاتا ہے۔انہی نہتے بے خوف نظریات نے بڑی بڑی سلطنتوں کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکا۔ آفتاب احمد بھی سرخ نظریات کا حامل نوجوان تھا جس نے اپنی زندگی’آسائشیں اور آسانیاں اپنے وطن کی آزادی کے لیے قربان کرتے ہوئے جرت مندی اور دلیری کے ساتھ اصل مسائل کی طرف توجہ مبذول کری۔طبقات کیا ہیں؟ سماج کیا ہے؟ آزادی سے مراد کیا ہے؟ قوی جمہوری انقلاب کے تقاضے کیا ہیں؟ قدر زائد کے اصول کیا ہیں؟ چند لوگ دولت مند اور اکثریت غریب کیوں ہے؟ جیسے سوالات نوجوانوں کے دماغوں میں چھوڑتا تھا جو انھیں جھنجھوڑ کر سیاست پر آمادہ کرتے۔اس کے یہ سوال بالادست حاکموں کے اختیارات کو چیلنج کرتے اس لیے وہ اس کے دشمن تھے۔

ریاستی تشدد جھوٹے مقدمات اور گھوس اسے راستے سے ہٹا نہ سکی۔میں ذاتی شائد ہوں کہ اسے زباں بندی کے لیے اسلام آباد میں گھر’ معروف ٹی وی چینل کی میزبانی اور پر کشش تنخواہ آفر ہوئی ۔ راہبری کے نام پر رازنی ‘ تحریک کے نام پر چندہ اور مزدور کے نام پر عیاشی کرنے والے گلے میں برائے فروخت کے کتبے لٹکائے ایسے موقع کی تاگ میں رہتے ہیں مگر ایک لمحہ توقف کیے بغیر آفتاب اس سودہ بازی سے انکاری ہو گیا۔آفتاب پر کشش زندگی چھوڑ کر مزدور طبقہ کی نمائندگی کے لیے میدان عمل میں آیا تھا اس نے مزدور تحریک اور مزدور ثقافت کو دل و جان سے اپنایا اور کبھی تنگ دستی کا شکوہ زباں پر نہ لایا۔اسے علم تھا کے شکم سیر بیٹ بھوکے انسان کا وارث نہیں ہو سکتا۔خوبصورت زندگی بد صورت نظام میں انسان کو چکڑے ہوئے ہے اس لیے فلاح انسانیت اور بقاء کی جدوجہد اسکا متع نظر رہی۔

اس کے فلیٹ میں دوستوں کا ہجوم لگا رہتا۔معشیت’سیاسیات’ادب’فلسفہ’شاعری’ترقی پسندی’مزدور تحریک’سیاسی پارٹی جیسے موغوعات زیر بحث رہتے۔ہفت روزہ سٹڈی سرکل باقاعدگی کے ساتھ ہوتا۔ہم دونوں ایک دوسرے کے استاد و شاگرد خود ہی تھے۔اسے کتب سے شگف تھا۔ ارتقاء’ سنگ میل’ قندھارا’ جمہوری پبلیشرز کا باقاعدہ قاری و خریدار تھا۔خود پونچھ ٹائمز کا ایڈیٹر انچیف تھا۔مختلف علاقائی ‘ قومی اور بین القوالامی اخبارات میں اس کے کالم کی اشاعت ہوتی۔

کشمیر اولیا اور صوفیاء کی سرزمین ہے۔یہاں گرہوں’فرقوں’ مذاہب اور قومیتوں کے مابین یگانیت’ایثار اور بھائی چارے کی فضاء قائم ہے۔ہر فرد دوسرے کے لیے دل میں ہمدردی اور عملی برداشت کا مظاہرہ کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کے مذہبی عقائد سے لیکر دنیا کے ترقی یافتہ نظریات تک کی کشمیر میں موثر نمائندگی موجود ہے۔ 1990 کی دہائی میں قابضین کی ایماء پر کشمیر کی فضاء کو فرقہ بندی کی بنیاد پر آلودہ کرنے کی کوشش کی گئی۔بیرون ملک جہادی تنظیموں کو کشمیر میں لانچ کر کے قومی آزادی کی تحریک کو فرقہ واریت میں بدلنے کی مذموم کوشش کی گئی۔آفتاب اور اس کے ساتھیوں نے اس مکروہ عمل کے خلاف عَلم بغاوت بلند کرتے ہوئے ایسے عناصر کو عوام میں بے نقاب کیا۔نوجوانوں کو جدید ترقی پسند ادب و نظریات سے لیس کر کہ اس گروہی سیاست کا راستہ روکا گیا ۔جھوٹے مقدمات’تشدد اور جان سے مارنے کے لیے اس کے گھر میں بم دھماکہ (آفتاب کشمیری کا واحد سیاسی کارکن ہے جس کے گھر دہشت گرد تنظیم نے بم دھماکہ کیا ہے) بھی انھیں اپنے کام سے پیچھے نہ ہٹا سکا اور بلآخر ایسے عناصر کشمیر میں اپنی جڑیں پیوست نہ کر پائے۔یہ انہی قربانیوں کا ثمر ہے کہ کشمیر ایک کثیر المذہبی اور کثیر القومیتی خطہ ہے اور پورے جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کے عفریب کے باوجود اس اہندوناک خطرے سے لوگ بے خبر پر سکون زندگی بسر کر رہے ہیں۔

ترقی پسندوں کا ایک المیہ ہے۔ خوبصورت نظریات’ بے غرض جذبات اور لافانی اخلاقیات کے باوجود دوستوں سے اپنی محبت کا اظہار نہیں کر پاتے اور مرنے کے بعد بہترین الفاظ میں یاد کرتے ہیں۔ترقی پسندی درحقیقت فطری جمالیاتی حسن ہے زندگی کو زندہ دلی سے گزارنے اور اپنوں کے مستقبل سنوارنے کا نام ہے۔ہمیں چاہیے کے اپنے عزیزوں’پیاروں کی قدر و منزلت کا اظہار ان کی زندگیوں میں کریں وگرنہ خود غرضی کے اس قبرستان میں اپنا لاشہ اٹھائے ہم اکیلے رہ جائیں گے۔

نفی کی نفی کا اصول (the law of negation of the negation) جدلیاتی مادیت کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے۔ اس کے مطابق ہر شے اپنی نفی کرتی ہے اور اپنی ہستی فنا کر کہ نئے مظاہر کی پیدائش کرتی ہے اور یوں فنا ہو کر بھی نئے مظاہر میں زندہ رہتی ہے۔ گندم کا دانہ مٹی میں فنا ہو کر ایک کونپل کو جہنم دیتا ہے اس ایک غوشے سے کئی دانے زندگی پاتے ہیں یوں گندم ہر نئے دانے میں زندہ ہوتی ہے۔اس طرح ایک انقلابی سیاسی ورکر جب نوجوانوں کے دلوں میں انقلاب کی چھوالا مکھی بڑکاتا ہے تب موت کے بعد بھی خوابوں’ قربانیوں اور کامرانیوں میں زندہ رہتا ہے۔آفتاب کی زندگی جدوجہد سے عبارت ہے۔وہ تادم مرگ ایک متحرک سیاسی کارکن و راہنما کے طور میدان عمل رہا۔اس کی تحریر و تقریر سماجی تبدیلی اور مصنفانہ سماج کے قیام کے لیے وقف تھی اور ایک جانباز سپاہی کی طرح موت سے آنکھیں ملا کر رخصت ہوا۔ ایسے آفتاب جو سماجی روشنی کے لیے طلوع ہوں وہ زندگی کی ہر رمز میں موجود رہتے ہیں۔ جب تک بھوک’ جہالت’ننگ’ بیروزگاری’قومی و طبقاتی جبر کے خلاف ایک فرد بھی صف آرا ہے’آفتاب کی کرنیں اس کے دل میں دھڑکتے جذبے کو توانائی بخشتی رہیں گئی کیونکہ غروب آفتاب کے بعد طلوع آفتاب فطری قانون ہے۔

ہم صبح پرستوں کی یہ ریت پرانی ہے

ہاتھوں میں قلم رکھنا یا ہاتھ قلم رکھنا

مہناج برہنا